ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 90 )

سڑکات

اس لمبی سی کالی شے کو سڑک کہتے ہیں۔ جو انسانوں کو ادھر ادھر لیجانے کے کام آتی ہے۔ پتھروں کو باقاعدہ کوٹ کر اور ان پر کول تارکی تہہ چڑھا کر موجودہ شکل میں سڑک بنانے کا آغاز بیسویں←  مزید پڑھیے

تتھاگت نظم (28)۔۔۔۔زنخا بھکشو

اور پھر جس شخص کو آنند اپنے ساتھ لے کر بُدھّ کی خدمت میں پہنچا اُس کا حلیہ مختلف تھا سر پہ لمبے بال تھے، ہاتھوں میں کنگن اور کانوں میں جھمکتی بالیاں تھیں صنفِ نازک کی طرح ۔۔ پر←  مزید پڑھیے

قصہ حاتم طائی جدید 2۔۔

قصّہ حاتم طائی جدید 2— ظفرجی حاتم نعرے مارتا ہوا اس بزرگ سے رخصت ہوا اور سرگودھا کی راہ پکڑی- سو ،دو سو کوس ہچکولے کھانے کے بعد اس نے ٹکٹ فروش سے اخلاقاً دریافت کیا: " اے اس بدبخت←  مزید پڑھیے

قصہ حاتم طائی جدید۔قسط1

ظفر جی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔۔ان کی تحریر آپ کو ایک ہی وقت میں رونے اور ہنسنے پر مجبور کردیتی ہے۔کفر کے ایوانوں میں زلزلہ بپا کردینے والی آفاقی سیریل ” قصّہ حاتم طائی جدید “کو←  مزید پڑھیے

اب مون سون میں سیلاب نہیں آئیں گے

مون سون کی آمد آمد ہے۔ ہر طرف گھٹائیں بادل اوربارش ہو گی۔ اردو میں لکھے “مون سون” کی وجہ تسمیہ جاننے کی کوشش کریں تو لگے گا کہ اسکا مطلب ہے ،”جلدی کا چاند”۔فہم لیکن پیہم مزاحم ہے کہ←  مزید پڑھیے

جنت دوزخ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (فکشن) ۔ قسط3

جنت دوزخ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (فکشن) ۔ قسط3 میں مرچکا تھا۔ میری روح عالمِ برزخ میں محوِ پرواز تھی۔ ایک شام جب میں جنت دوزخ کی درمیانی سرحد کی فضاؤں میں تیر رہا تھا تو اچانک میری نظر نیچے ایک ہجوم پر←  مزید پڑھیے

پہچان

“آپ کو لوگ پہچان لیتے ہیں۔” میری بیوی اکثر یہ کہتی ہے۔ سچ کہ راستہ چلتے لوگ مجھے روک لیتے ہیں۔ کبھی میری کہانی کی تعریف کرتے ہیں۔ کبھی کسی فیس بک پوسٹ کو سراہتے ہیں۔ کبھی سیلفی کی فرمائش←  مزید پڑھیے

ہاں بھئی ہاں

یہ جو ہم”ہاں”کہتے ہیں نا،یہ کئی طرح کی ہوتی ہیں۔۔مثال کے طور پر اگر کوئی پوچھے کھانا کھاؤ گے ؟ تو عزیز ہموطنوں کا جواب ہوگا “ہاں”.یہ اثباتی ہاں ہے۔ اسی طور اگر سوال ہو کہ مفتی پوپلزئی صاحب پاکستان←  مزید پڑھیے

خود نوشت،میں کون ہوں اے ہم نفسو،باب دوئم

خود نوشت” میں کون ہوں اے ہم نفسو۔۔۔”کا دوسرا باب پدرم سلطان بود ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمدخان خالص یوسف زی پٹھان تھے جو افغانستان سے آئے تھے اوربستی انہی کے نام پر محمد پور ہوئی ،ان کی تعمیر کردہ سرمی پتھروں کی←  مزید پڑھیے

پہلی جماعت دوسرا انعام، انعام رانا

فیس بک پر تھا کہ ایک پیغام موصول ہوا، کوئی انعام رانا تھا، پیغام کیا تھا، ایک عرضی تھی محبت کے آٹے میں سلیقے سے گوندھی ہوئی، پڑھا، لکھا تھا “آپ مکالمہ کے لیے لکھیں، عزت افزائی ہو گی”۔ سوچا←  مزید پڑھیے

مقدس درخت/مراکشی ادب سے ترجمہ

کچھ نیم خواندہ نوجوان مسکرا رہے تھے۔ ان کی ہنسی سے طنز و استہزا صاف جھلک رہا تھا۔ ان کی بلا سے اگر ایک درخت کو اس ویرانے سے کاٹ دیا جائے۔ چاہے یہ درخت باغ کا سب سے تناور←  مزید پڑھیے

جنت دوزخ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (فکشن) ۔ قسط 2

جنت دوزخ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (فکشن) ۔ قسط 2 اس سے پہلے کہ مارک کچھ بولتا، جنت کی ایک سمت سے زور زور سے ڈھول اور باجوں گاجوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ سب مڑ کر اس جانب دیکھتے ہیں۔ ایک سفید←  مزید پڑھیے

“مکالمہ”

“مکالمہ” اک دن میں نے فرشتوں سے، جو مرے کندھوں پر بیٹھے رہتے ہیں، کہا کہ میں کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔ وہ اک دوسرے سے مشورہ کر کے نیچے اتر آئے۔ “میں بھی آپ دونوں کی طرح رائیٹر ہوں”۔←  مزید پڑھیے

تتھاگت نظم 27..تیسری کتاب..3

تتھاگت نظم 27..تیسری کتاب..3 ’’دو کتابوں کا تو میں احوال نامہ دے چکا ہوں یاد ہے، وہ کیا تمہیں ، بھکشو؟‘‘ مسکرا کر، پیار سے، (لیکن تمسخر سے نہیں) آنند سے پوچھا تتھا گت نے ۔۔۔ تو بھکشو کے لبوں←  مزید پڑھیے

ڈکار

ہماری تمام اُردو لغتوں کے مطابق ”ڈکرانے“ اور ”ڈکارنے“ کا آپس میں کسی بھی قسم کا کوئی خاندانی رشتہ نہیں ہے۔ڈکار وں کی کئی ایک شکلیں ہیں مگر دو زیادہ معروف ہیں بدبودار اور بے بُودار۔ سائنس کی وہ تھیوریاں←  مزید پڑھیے

پردہ(یش پال)/ہندی ادب

ہندی ادب کے معروف افسانہ نگار اور ترقی پسند افسانہ نگار یش پال کے قلم سے شاہکار افسانہ۔ چوھدری پیر بخش کے دادا چونگی کے محکمے میں داروغہ تھے۔ آمدن اچھی تھی۔ انہوں نے ایک چھوٹا لیکن پکا مکان بھی←  مزید پڑھیے

شموں ۔( افسانہ )

شموں ۔ آصف وڑائچ میں نے اسے ایک بڑے گھر کی شادی میں دیکھا تھا۔ دراصل اس کی بیگم اسے اپنے ساتھ گھسیٹ لا|ئی تھی کیونکہ بیگم کو اپنا ڈیڑھ سالہ بچہ جو سنبھالنا تھا اور ظاہر ہے ایک بڑے←  مزید پڑھیے

شہید

وہ نماز روزے کا پابند اور اپنے والدین کا فرمانبردار ایک دین دار اور خوش اخلاق نوجوان تھا۔ اس کی تربیت ایک دینی ماحول میں ہوئی تھی جس کا اندازہ اس کے رکھ رکھاؤ سے بہ آسانی لگا یا جا←  مزید پڑھیے

میں کون ہوں اے ہم نفسو/سرگزشت

جناب”احمد اقبال” صاحب کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ،مکالمہ آج سے ان کی زیرِ طبع سرگزشت کی ہفتہ وار اشاعت کا سلسلہ شروع کر رہا ہے۔قارئین کی دلچسپی کے لیئے احمد اقبا ل صاحب کا مختصر تعارف پیش←  مزید پڑھیے

ٹارگٹ کلنگ

میری بیگم کئی دن سے مجھ سے شکایت کر رہی تھیں کہ گھر کا کچرا دان روز گرا ہوا اور کوڑا صحن میں بکھرا ہوا پایا جاتا ہے۔ ایک دفعہ آدھی رات کو اچانک میری آنکھ کھلی تو کھٹر پٹر←  مزید پڑھیے