سائنس

چندریان ٹو اور پاکستان۔۔ذوالقرنین ہندل

بے جا تنقید تو ہر جگہ ہوتی ہے۔پہلے یہ تنقید گلی، محلوں اور دکانوں میں ہوا کرتی تھی۔دنیا میں سوشل میڈیا کا استعمال بڑھتے ہی، یہ تنقید تیزی سے پھیلنا بھی شروع ہوگئی۔ایسی ہی تنقید پاکستان کے زیر سمندر گیس←  مزید پڑھیے

چندریان، پانی سے چلنے والی گاڑی اور آدھ پاؤ کا ایٹم بم۔۔۔ضیغم قدیر

مجھے وہ وقت نہیں بھولتا جب آغا وقار نے پانی سے گاڑی چلانے کا اعلان کیا تھا۔ پوری قوم خوشی کی حالت میں تھی کہ اب ایک بوتل پانی کی گاڑی میں ڈالیں گے اور پورا پاکستان گھوم کر واپس←  مزید پڑھیے

شیئر کریں مکڑی کا جالا ۔۔۔وہارا امباکر

سوال: وہ کیا ہے جو فولاد سے مضبوط، انسانی بال سے باریک اور کپڑے سے زیادہ لچکدار ہے؟ جواب: مکڑی کے جالے کا تار سوال: تو پھر ہم اس کی مدد سے اب تک سپائیڈرمین کی طرح عمارتوں سے جھولتے←  مزید پڑھیے

اُڑنے والے ڈاکٹر۔۔۔وہارا امباکر

کیا آپ میموگرام دیکھ کر پہچان سکتے ہیں کہ چھاتی کا سرطان کس کو ہے اور کس کو نہیں؟ ساتھ لگی تصاویر ان کی مثالیں ہیں۔ اگر آپ تربیت یافتہ پیتھالوجسٹ یا ریڈیولوجسٹ نہیں تو آپ کا جواب نفی میں←  مزید پڑھیے

تعلق کی ڈور۔۔۔ندیم رزاق کھوہارا

کرّہ ارض کا سب سے بڑا گرم اور خشک ترین مقام صحارا کا ریگستان ہے۔ جہاں لاکھوں کلومیٹر تک ریت ہی ریت بچھی ہے۔ کئی کئی دن سفر کرنے کے بعد بھی سبزے یا نمی کا ایک قطرہ نظر نہیں←  مزید پڑھیے

سیلفی کا آغاز کیسے ہوا؟ – وہارا امباکر

آپ کے سامنے بہت سی تصاویر رکھی ہیں۔ کیا آپ ان میں سے اپنی تصویر پہچان سکتے ہیں؟ کیسے؟ اس کی وجہ ٹیکنالوجی ہے۔ وہ ٹیکنالوجی جو آج ہر گھر میں ہے اور جس نے معاشروں کی ہیئت بدل دی۔←  مزید پڑھیے

بلیک ہولز -ایک پُراسرار مقام۔۔۔۔۔۔محمد شاہ زیب صدیقی

ہماری کائنات حیرتوں سے بھری پڑی ہے، شاید اسی خاطر جے بی ایس ہیلڈین نے کہا تھا:”یہ کائنات اتنی پُراسرار نہیں جتنا تم سوچتے ہو، بلکہ یہ اس سے کہیں زیادہ پُراسرا ر ہے جتنا تم سوچ سکتے ہو!”۔ حضرتِ←  مزید پڑھیے

پاکستانی سائنسدانوں نے سائیکلوپیا مرض کا جانور ماڈل تیار کرلیا

پاکستانی ماہرین نے انسانی پیدائشی نقص پر مبنی ایک جانور کا ماڈل تیار کیا ہے جس سے اس مرض کو سمجھنے میں غیرمعمولی مدد ملے گی۔ اس پیدائشی نقص کو سائیکلوپیا کہا جاتا ہے جس کا ماڈل عام پھل مکھی←  مزید پڑھیے

اسا طیر ،مِتھ کیسے بنے؟۔۔۔۔۔۔اجمل صدیقی

کائناتی مظاہر کی حر کی قوتوں سے انسان کو ان کے ذی روح ہونے کا التباس ہوا۔۔۔ بادلوں کی گرج,ہوا کی سر سر اہٹ,بجلی کی چمک,سمندر کی دھاڑ,سورج کی شعلہ باری نے animism کو تحریک دی,زمین کی روئیدگی اور موسموں←  مزید پڑھیے

شیشہ ۔ ہر اہم چیز نمایاں نہیں ہوتی۔۔۔ وہارا امباکر

سلیکون اور آکسیجن سے مل کر بننے ولا سلیکا ریت کا سب سے بڑا جزو ہے اور دنیا میں وافر مقدار میں کوارٹز کی صورت میں موجود ہے۔ یہ ایک کرسٹل کی صورت میں ہوتا ہے۔ برف کو پگھلائیں تو←  مزید پڑھیے

سمارٹ فون ڈسپلے کی ”نیلی روشنی“آنکھوں کی تکلیف کا سبب۔۔۔حمزہ زاہد

آنکھوں کے ماہرین نے ایک نئی سائنسی تحقیق میں آنکھوں کے مسائل جیسے کہ سبز موتیا (glaucoma)، دبیدار اپکرش (macular degeneration)اور ڈیجیٹل ڈیوائسزکے ڈسپلے جیسے کہ سمارٹ فون وغیرہ میں براہ راست تعلق دریافت کیا ہے۔ انسانی آنکھ سفید روشنی←  مزید پڑھیے

ذہنیت کا شیرازہ۔۔اسکزوفرینیا۔۔۔۔۔۔۔گوہر تاج

ستر اور اسّی کی دہا ئی میں پروین بابی کا شمار بالی وڈ کی مقبول ترین اداکاراؤں میں تھا۔ شوخ و چنچل، گلیمر سے بھر پور، بے باک ہیروئن۔ باوجود شہرت کی بلندیوں پہ پہنچ جانے کے، وہ بتدریج پردہ←  مزید پڑھیے

انسانی ارتقا ءکے راز۔ مذہب ’ فلسفے اور سائنس کے آئینوں میں۔۔۔۔ڈاکٹر خالد سہیل/ساتویں ،آخری قسط

انسانیت ایک دوراہے پر! ایک امن پسند انسان دوست ہونے کے ناطے جب میں انسانوں کے صدیوں کے ارتقا ء کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انسانیت اکیسویں صدی میں ایک دوراہے تک آ←  مزید پڑھیے

وہمی کبوتر۔۔۔وہارا امباکر

بی ایف سکنر نے 1947 میں کبوتروں کے ساتھ بہت طرح کے تجربات کئے جو جانوروں کی نفسیات سمجھنے کے لئے بڑا اہم قدم تھا۔ ان میں سے ایک تجربے میں پنچرے میں بند کبوتروں کے آگے ایک بٹن لگا←  مزید پڑھیے

کیا مستقبل سبز ہے؟۔۔۔۔وہارا امباکر

ہم اپنی تاریخ میں ٹیکنالوجی کے ذریعے دنیا بدلتے آئے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی دو طرح کی رہی ہے۔ سبز اور گرے۔ سبز ٹیکنالوجی میں بیج اور پودے ہیں، باغ اور کھیت، گھوڑے اور بکریاں، دودھ اور پنیر، شہد اور ریشم،←  مزید پڑھیے

پہلے منگلیان، پھر چندریان اور اب گگن یان۔۔۔محمد شاہ زیب صدیقی

اس داستان کا آغاز 12 سال پہلے ہوتا ہے جب بھارت نے اکتوبر 2008ء میں “چندریان 1” لانچ کیا ، جس نے چاند کے گرد چکر لگاتے ہوئے چاند پہ موجود معدنیات کا جائزہ لیا، بعدازاں اسی ڈیٹا کی مدد←  مزید پڑھیے

انسانی ارتقا ءکے راز۔ مذہب ’ فلسفے اور سائنس کے آئینوں میں۔۔۔۔ڈاکٹر خالد سہیل/قسط6

انسانوں کا فلسفیانہ ارتقا میں ان تمام انسانوں کو‘ جو دوسرے انسانوں سے محبت سے پیش آتے ہیں اور ان کی خدمت کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں‘ انسان دوست سمجھتا ہوں اور ان کا تہہِ دل سے احترام کرتا←  مزید پڑھیے

ایجادات کا گڑھ۔ ساتھ والا کمرہ۔۔۔۔۔وہارا امباکر

زندگی کی پیچیدگی کہاں جنم لیتی ہے؟ اچھوتے خیالات کہاں سے آتے ہیں؟ زبانیں کہاں سے بدلتی ہیں؟ نئی رسمیں کہاں سے شروع ہوتی ہیں؟ ایجادات کہاں سے آتی ہیں؟ ان سب کا ایک ہی جواب ہے اور وہ ہے←  مزید پڑھیے

انسانی ارتقا کے راز۔ مذہب ’ فلسفے اور سائنس کے آئینوں میں۔۔۔۔ڈاکٹر خالد سہیل/قسط5

یووال ہراری اور انسانوں کا سماجی ارتقاء میری یہ خوش بختی ہے کہ میرے بہت سے ادیب، شاعر اور دانشور دوست ہیں جن کی تخلیقات اور مشوروں سے میں استفادہ کرتا رہتا ہوں۔ پچھلے دنوں میرے دوستوں نے مشورہ دیا←  مزید پڑھیے

سگمنڈ فرائڈ اور انسانوں کا نفسیاتی ارتقاء۔۔۔۔ڈاکٹر خالدسہیل/قسط4

انسانی ارتقا ءکے کئی رخ’ کئی حوالے اور کئی جہتیں ہیں۔چارلز ڈارون نے انسانوں کے حیاتیاتی اور جسمانی ارتقا پر روشنی ڈالی۔ ڈارون کی سوچ اور فکر کو جن دانشوروں نے آگے بڑھایا ان میں سے ایک اہم نام سگمنڈ←  مزید پڑھیے