مشق سخن

درویشوں کا ڈیرہ۔۔۔۔تبصرہ محسن علی

کل میں  نے  228 صفحات پر مشتمل ایک کتاب پڑھی،جس کا نام ہے “درویشوں کا ڈیرہ”۔۔اس کتاب کو بہت خوبصورت طرز پر  لکھا گیا ہے۔ یہ خطوط پر مبنی ہے ،دو معززین جناب ڈاکٹر خالد سہیل اور رابعہ الرباء کے←  مزید پڑھیے

وومین یونیورسٹی صوابی کی طالبات مری کے لئے مری جارہی تھیں۔۔۔کائنات خالد

خواب دیکھنے پر کوئی بھی پابندی نہیں لگا سکتا مگر کچھ خواب جب حقیقت کا روپ دھارتے ہیں تو بہت اچھا لگتا ہے ۔ ہم نے بھی یونیورسٹی میں داخلہ لے کر ایک خواب دیکھا تھا، کہ اپنے نئے کلاس←  مزید پڑھیے

وزیراعظم کا ملٹری سیکرٹری ۔۔۔۔مشتاق خان

میرا نام متالے ہے یہ افریقی  زبان کا نام ہے اور میں اپنی ذہانت ،حاضر دماغی اور مردانہ وجاہت کے بل بوتے پر اپنے ملک کے وزیراعظم کا ملٹری سیکرٹری ہوں، میری تعلیم تو زیادہ نہیں، لیکن میری بہترین تربیت←  مزید پڑھیے

خطبہ عید سننے والے دوبھائیوں کا قصہ۔۔۔بشریٰ نواز

مولانا صاحب عید کی نماز کے بعد خطبہ فرما رہے تھے۔ “مسلمانو! اگر تم نے رمضان کے بعد بھی بُری عادتیں نہ چھوڑیں،جھوٹ،غیبت،حرام کمائی نہ چھوڑی ،تو تمہارے روزے ضائع۔۔کسی کا حق مارا ہے تو اس کو واپس کردو، کسی←  مزید پڑھیے

مسکراہٹ۔۔ثمرہ حمید خواجہ

زرد زرد اور مرجھائے پتے ہوا کے بے رحم جھونکوں سے ٹوٹ کر خاک پر گِر رہے ہیں ان کے آنسو کوئی نہیں دیکھ پاتا یہ قیمتی موتی اس مسکراہٹ کی یاد میں بہہ رہے ہیں جو تازہ پتوں کے←  مزید پڑھیے

امیر العساکر، ناہنجار تاجر اور مجبور عوام ۔۔۔ کامران طفیل

ہر آنے والے دن کے ساتھ متوسط طبقے کی قوت خرید اور کم ہونے والی ہے۔ ابھی کل ہی سرکار نے اسی ارب روپے بجلی کے بلوں کی مد میں عوام کی جیبوں سے نکلوانے کا فیصلہ صادر کیا ہے۔ یقینی طور پر اپنے اہداف سے کوسوں دور ہونے والی ٹیکس وصولی کا غصہ بھی کسی پر تو نکلے گا۔ آئی ایم ایف یہ تو پوچھے گی کہ یہ کمی کہاں سے پوری کرنی ہے؟←  مزید پڑھیے

ریپ۔۔۔محسن علی/نظم

ریپ سے پیدا ہونے والوں میں شرمندہ ہوں تُم سے کہ تُم جبر کی آغوش میں پرورش پاکر حمل تک آئے جانتا ہوں تُم جنونی وقت میں فقط ہوس کا شکار کسی عورت یا لڑکی کے اَن چاہے پَل کی←  مزید پڑھیے

گفتار کا نیازی ۔۔۔ مہر ساجد شاد

یادداشت کا کمزور ہونا شخصیت کی ایک بڑی کمزوری بن جاتی ہیں، ہم لوگوں کی عمومی طور پر یاداشت کمزور ہے۔ اقوام متحدہ میں وزیراعظم پاکستان کا حالیہ خطاب زیر بحث ہے۔ اقوام متحدہ میں کسی بھی وزیراعظم کا بیان←  مزید پڑھیے

متفق، شدید متفق، میرے منہ کی بات ۔۔۔ محمد اشتیاق

اس سلسلے میں ذہن میں رکھنا ہے کہ موضوع متنازعہ ہو، اگر متنازعہ نہیں ہے تو کسی ایک گروہ کے مخالف ہو، یعنی اگر آپ مذہبی لکھاری ہیں تو ایک دن شیعہ کے حق میں اور اگلی دفعہ خلاف لکھیں۔ اگر آپ سیاسی لکھاری ہیں تو ایک دن پی ٹی آئی کے حق میں اور دوسرے دن ذرا کم حق میں لکھیں (سیاست کی حد تک اس کا اثر وہی ہو گا جو کسی دوسرے شعبے میں خلاف لکھنے پہ ہوتا ہے)۔←  مزید پڑھیے

ہرا رنگ اور اقلیتیں۔۔۔عنبر ظفر

ہرا رنگ اور اقلیتیں۔۔۔۔۔۔۔ اقلیتی مذہب ایک اصطلاح ہے، یہ کسی ملک، ریاست، صوبہ یا علاقہ وغیرہ میں کل آبادی میں جس مذہب کے پیروکاروں کی تعداد کم ہو ان مذاہب کے لیےاقلیت کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔پاکستان کی←  مزید پڑھیے

گوگی گارڈن۔ایک پریم کتھا(2)۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر کاشف رضا

اتوار کی شام تھی۔ کل کی بارش کی وجہ سے آج موسم سہانا لگ رہا تھا۔ اس کے گھر کے لان میں پرندے چہک رہے تھے۔ ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ سب حمدوثنا کر رہے ہوں۔ وہ انہیں←  مزید پڑھیے

ہم شاپروں کے شاپر، شاپر نشاں ہمارا۔۔۔اسامہ اقبال خواجہ

شاپر ہماری قومی پہچان ہیں، یہ اس بیمار معاشرے میں زندگی کی علامت ہیں۔ زندگی کی حرارت انہی کے دم قدم سے ہے، مایوس چہروں پہ آنے والی مسکراہٹ انہی کی مرہون منت ہے۔ یہ نہ ہوں تو ہمارا معاشرہ←  مزید پڑھیے

سو لفظوں کی کہانی۔۔۔عبدالحنان ارشد

ُٗ بازار سامان خریدنے گیا تو دوکاندار نے کہا: بھائی ابھی زیادہ مقدار میں خریداری کرلو کیونکہ ہم ڈیڑھ ہفتہ دوکانیں بند رکھیں گے۔ دریافت کرنے پر اُس نے بتایا۔۔ اُن کے بڑے علامہ صاحب نے پورے علاقے میں منادی←  مزید پڑھیے

چند عوامی مطالبات ۔۔۔محسن علی

مجھے نہیں معلوم ان مطالبات سے   کتنے  پاکستانی ،کس قدر متفق ہوں گے، کس قدر نہیں مگر میرے نزدیک یہ ایک فریم ورک پلان ہے جس میں آئین کے تحت مزید وضاحت اسمبلی کے تحت کی جاسکتی ہے۔ مطالبہ←  مزید پڑھیے

گوگی گارڈن۔ایک پریم کتھا(1)۔۔۔۔۔ڈاکٹر کاشف رضا

آج جمعے کا مبارک دن تھا۔ کل سے عیدِ قربان کی چھٹیاں ہوجانی تھیں۔ طیبہ آج بہت پریشان تھی۔ اس کا دل یہ سوچ سوچ کر بیٹھا جا رہا تھا کہ کل کے بعد اگلے پانچ دن وہ حنان کو←  مزید پڑھیے

جواب طلب مسائل۔۔۔محسن علی

ہمارے سماج میں بہت سے مسائل ہیں مگر کچھ ایسے مسائل جن کے حل  پر شاید کسی کی نظر نہیں جاتی، وہ ہیں  ایسے لوگ جو معذور ہیں، ان کا  نوکریوں میں مسئلہ اور  شادی یا ازدواجی زندگی کے لئے←  مزید پڑھیے

سو لفظی کہانی۔۔۔عبدالحنان ارشد

آج استاد نے بچوں کو کلاس میں پورا ایک مہینہ تاریخی شخصیات کے بارے میں پڑھانے کے بعد پوچھا کہ اب آپ لوگ باری باری بتاؤ آپ ان میں  سے کیا بننا پسند کروں گے۔۔؟ ایک بچہ میں ہٹلر بننا←  مزید پڑھیے

ہم سب پاکستان ہیں۔۔۔عروہ ہرل

میں نے قلم پکڑا تو دل کیا لکھوں اور بے تحاشا  لکھوں اور لکھ تی جاؤں، اتنا لکھوں کہ  لکھتے لکھتے مر جاؤں۔ میرا دل کیا میں وطن پر لکھوں، میں حب الوطنی پر لکھوں، میں محبت پر لکھوں، میں←  مزید پڑھیے

افسانہ ۔۔۔ شاہ عالم

بطورِ نمونہ و عبرت ابتداءِ افسانہ ملاحظہ ہو: آج بھی ساون کی جھڑی لگی ہوئی تھی۔ تاحدِ نگاہ برفپوش پہاڑوں پر صحرائی پھول چاندنی رات میں چمکتی دھوپ کی روپہلی کرنوں کے انعکاس سے فسوں خیز نظارہ دے رہے تھے۔ "رعمیسہ مختار آفریدی" کی نگاہیں کیکٹس کی سرسبز بیلوں سے چھچھلتی ہوئی اماوس کی رات میں دور آسمان پر دمکتے ستاروں پر جاٹھہریں۔←  مزید پڑھیے

ایک کہانی یونیورسٹی سے۔۔۔ارسلان صادق

شیلف پر قدم جمائے ایک کپ پچھلے چھ منٹ سے مریم کو گھور رہا تھا۔ وہ انتظار میں تھا کہ کب گرما گرم کھولتا ہوا پانی اس کے تن کو اندر سے بھگوئے تاکہ اس جاڑے کی بڑھتی ہوئی سردی←  مزید پڑھیے