khansasaeed کی تحاریر

بوتل۔۔خنساء سعید

وہ کئی برسوں سے کرب کی ایک آندھی اور گہری کھائی میں گرتی ہی چلی جا رہی تھی۔ اذیت کی اس کیفیت کی کوئی حد ہی نہیں تھی۔ وہ مکمل کھائی میں گرتی بھی نہ اور، باہر بھی نہ نکل←  مزید پڑھیے

اور پرندہ اُڑ گیا۔۔خنساء سعید

وہ ایک لمبی اُڑان بھرنا چاہتی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اُس کے پَر بہت تندرست و توانا ہیں، جتنا مرضی چاہے اُڑ سکتی ہے۔ اُسے لگتا وہ ایک ایسے آزاد منش پرندے کی طرح ہے جو کھلی فضاؤں میں←  مزید پڑھیے

بیگم۔۔خنسا سعید

نوری اپنی زندگی کے اٹھائیس سال گزار چکی تھی مگر ابھی تک اُس کی شادی نہیں ہوئی تھی۔ اُس کی عمر گزرتی جا رہی تھی ،اس کی دوستوں میں سے کوئی بھی کنواری نہیں تھی۔ زوبیدہ، ہمیسا،پروین ،گل بانو، سب←  مزید پڑھیے

جشنِ آزادی کا وقت ہوا چاہتا ہے۔۔خنساء سعید

وہ ایک عرب تاجر کی بیٹی تھی ،جس کو بحری قذافوں نے قید کر لیا تھا۔ وہ قید خانے میں تڑپتی، سسکتی، مگر اس کی مدد کو کوئی نہ آتا۔زندان کے درودیوار اس معصوم کی سسکیوں سے گونج اُٹھے تھے۔اُس←  مزید پڑھیے

میں انساں ڈھونڈتی رہی۔۔خنساء سعید

میں اگر اپنے چشم ِ تخیل میں دیکھوں تو ہم انسانوں کو ایک ایسی دنیا میں بھیجا گیا تھا ،جہاں ہمیں اشرف المخلوقات کا درجہ ملا ۔دوسرے سارے جاندار وں کو چھوڑ کر صرف انسانوں کو عظمت ملی ،انسانوں کو←  مزید پڑھیے

مٹا دو فاصلے ایثارکر کے۔۔خنساء سعید

جولائی کی شدید حبس زدہ گرمی میں دوپہر تین بجے دروازے پر دستک ہوئی ۔وہ بیل بھی بجا سکتا تھا مگر اُس کے لیے اُسے تھوڑی محنت کرنی پڑتی کیوں کہ وہ ابھی قد میں بہت چھوٹا تھا بیل تک←  مزید پڑھیے

وہ جن کے لیے سفر ہی زندگی ٹھہرا۔۔خنساء سعید

انسانی تاریخ چھوٹی چھوٹی کڑیوں سے بنی ایک زنجیر کی طرح ہے جو آگے بڑھتی ہے پیچھے نہیں ہٹتی ،اس میں ہر ایک ترقی کی کڑی پچھلی تمام کڑیوں سے جڑی ہوتی ہے ۔یہی انسانی تاریخ جس کو ہم وقت←  مزید پڑھیے

مخنّث۔۔ خنساء سعید

زوبیہ بڑی کم گو ،خاموش طبع سی بچی تھی۔وہ ہر وقت ڈری سہمی رہتی اُس کا کوئی دوست نہیں تھا سوائے حسن کے ،حسن کی بھی زوبیہ کے علاوہ کسی سے دوستی نہیں تھی وہ اکھٹے سکول جاتے اور ایک←  مزید پڑھیے

نایا ب ہے اک اک بوند۔۔خنساء سعید

اللہ تعالی نے انسان کے لیے بے شمار نعمتیں پیدا کی ہیں، اُن تمام نعمتوں میں ایک ایسی نعمت بھی ہے جو انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ایک ہے اور وہ بے رنگ ،بے بو، بے ذائقہ نعمت “پانی”←  مزید پڑھیے

آئی ایم سوری پاپا۔۔خنساء سعید

وہ دیکھو ! سب دیکھو علیشا کے شوز پھٹے ہوئے ہیں اور بیگ بھی کتنا پرانا ہے علیشا تمہارا یونیفارم اُف بہت میلا ہے, بدبو آتی ہے تم سے ،کیا تمہارے پاپا تمہیں نئے    جوتے   نہیں لے کر دیتے←  مزید پڑھیے

ریت میں کھلتے گلاب۔۔خنساء سعید

بچے پھولوں کی طرح نرم و نازک ہوتے ہیں پھولوں کی طرح ہی رنگین اور ہر طرف اپنی بھینی بھینی خوشبو بکھیرنے والے ۔ تتلیوں کے پروں پر لگے رنگوں کی مانند یہ بچےکہ اگر ذرا سی سختی سے پکڑو←  مزید پڑھیے

ملکہ کوہسار میں ننھے مزدور۔۔خنساء سعید

میدان ہوں یا پہاڑریگستان ہو یا صحرا ،دریا ہو یا سمندر ،ہر جگہ ہماری جمالیاتی حِس  کی تسکین کے لیے ذرائع موجود ہیں ،جو دیکھنے والوں کی آنکھوں کو تراوٹ  و تسکین اورروح کو مسرت و شادمانی بخشتے ہیں ۔پاکستان←  مزید پڑھیے

اک تم ہو کہ جم گئے ہو جمادات کی طرح۔۔خنساء سعید

اسلام کی عالمگیر اخوت یہ تھی کہ اس نے زمین کے دور دراز گوشوں کو ایک کر دیا تھا ۔اسلام کا ظہور ریگستان ِ حجاز میں ہوا مگر صحرائے افریقہ میں اس کی صدا بلند ہوئی، تاریخ کی نگاہیں جس←  مزید پڑھیے

ذہانت کی دنیا کے بے تاج بادشاہ۔۔خنسا سعید

صدیوں پہلے کا انسان سالہا سال لاکھوں کتابیں پڑھتا ،تحقیق کرتا ،محنت کرتا ،حکمت  پڑھتا  ،پھر  وہ ایک سائنس دان ڈاکٹر یا حکیم بن پاتا تھا ۔مگر جیسے ہی سوشل میڈیا وجود میں آیا، یوٹیوب آئی ،تو ہر گھر میں←  مزید پڑھیے

ہم ہیں مزدور !ہمیں کون سہارا دے گا۔۔خنساء سعید

قدرت اللہ شہاب لکھتے ہیں “بھوک کی اذیت دنیا کی تمام مصیبتوں سے بڑ ھ کرہے، بھوک سے مرنے والے کی روح ایک ہی دم قفس ِعنصری سے پرواز نہیں کرتی بلکہ مرنے والے  کے پور پور کو آہستہ آہستہ←  مزید پڑھیے

ہرلمحہ تغیّر سے عبارت ہے زمانہ۔۔خنساء سعید

یہ دنیا تضادات کا مجموعہ ہے ۔اس دنیا میں اگر زوال کا وجود ہے تو عروج بھی ہے ،پھول ہیں تو کانٹے بھی پھولوں کے ساتھ ہی ہیں ،سیاہ ہے تو سفید بھی ہے ،بہار ہے تو خزاں بھی ہے←  مزید پڑھیے

موجودہ عورت کے مسائل اور متنازع نعرے۔۔خنساء سعید

عورت گھر کی زینت، زمین کا زیور، دل کا سکون، قوموں کی عزت، ویرانے کی رونق، خلوت کی آبادی، گلشنِ ہستی کا سب سے خوبصورت پھول، عورت کتابِ زیست کا دیباچہ ہے، عورت کے متعلق مختلف مفکرین نے اپنی اپنی←  مزید پڑھیے

حسن کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے ۔۔خنساء سعید

ہم لوگ انسان ہونے کے ناطے حس ِلطافت سے بالکل محروم ہوتےجا رہے ہیں زندگی کی چیرہ دستیوں نے ہمیں بہت تلخ اور کڑوا بنا دیا ہے ۔ہماری بصارت حسن کے نظاروں کو دیکھنے سے بالکل قاصر ہو چکی ہے←  مزید پڑھیے

مسئلہ کشمیر رہا وہیں کا وہیں ۔۔ خنساء سعید

1947 میں دو قومی نظریے کو بنیاد بنا کرہندوستان کی تقسیم کے نتیجے میں نئے ملک پاکستان اور بھارت وجود میں آئے ،اور کشمیر پاکستان کے حصے میں آیا ۔مگر دہشت گرد بھارت نے نا حق کشمیر پر قبضہ کر←  مزید پڑھیے

انسان فطرت کو پامال کر رہے ہیں۔۔ خنساء سعید

اللہ تعالی نے جب کائنات تخلیق کی تو کائنات میں ہر طرف خو بصورتی ہی خو بصورتی دکھائی دیتی تھی ۔زمین پر سبزہ تھا ،لہلہاتے ہوئے کھیت کھلیان تھے ،دریا اپنی ہی موج میں بہتے تھے ،سمندروں کی شفاف ٹھاٹھیں←  مزید پڑھیے