مشق سخن    ( صفحہ نمبر 3 )

ڈئیر مایا ۔۔۔ کامران طفیل

ڈئیر مایا! تمہارا خط ملا،جواب دینے میں تاخیر ہوئی۔ دراصل خط کو ایک نشست میں پڑھنا دشوار لگ رہا تھا،پڑھائی والی عینک بھیگ جاتی تھی،لرزتے ہاتھوں سے شیشہ ٹوٹنے کے ڈر سے عینک سوکھنے کا انتظار کرنا پڑتا تھا۔ سامان←  مزید پڑھیے

الوداع۔۔مصنف:اعجاز احمد لودھی/تبصرہ:رحمٰن شاہ

“منقول ہے کہ سوچنے کی صلاحیت ہی علم کا اصل مقصد ہے،اور ظاہر ہے کہ بندہ اگر ایک جملہ بھی لکھے، اس کیلئے بھی سوچنا ہی پڑتا ہے، تو پھر ایک کتا ب لکھنے کیلئے کتنا سوچنا پڑے گا،اور کتاب←  مزید پڑھیے

انصاف یا تماشا ۔۔۔ راجہ فرقان احمد

میں جس دور جدیدیت میں رہتا ہوں   اس کو دنیا گلوبل ولیج کہتی ہے۔اگرچہ ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والی ترقی کی بدولت ہم چاند پر پہنچ چکے ہیں ،لیکن ابھی تک انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں خاطر خواہ←  مزید پڑھیے

اٹھ ۔۔۔ معاذ بن محمود

ابا جی کی وہ قبر۔ اس کے پیچھے ایک چھوٹا سا آنگن ٹائپ ہے۔ اور وہاں اس آنگن میں ہے ایک کنواں۔ موت کی خاموشی کے درمیان زندگی کا بنیادی عنصر پانی۔ کنواں نہ ہوتا تو شاید اس کے ارد گرد کی قبریں بھی ویسی ہی پلین سی پیسو سی حقیقت لگتیں۔ مگر کنویں پر زندگی ہمیشہ حرکت میں ہوتی ہے۔ یوں زندگی کے کنٹراسٹ کے باعث موت کا استعارہ وہ قبر مزید تنہائی کا احساس دیتی ہے۔ جیسے بھوکے کے سامنے کوئی کھانا کھا رہا ہو تو بھوک اپنا تشخص شدت کے ساتھ ظاہر کرتی ہے۔ بس ویسے ہی۔←  مزید پڑھیے

کتھا ایک سرکس کی ۔۔۔ رمشاء تبسم

ابھی یہ منظر جاری تھا کہ اسی اثناء میں گوالے کے ساتھ کئی لوگ پائریلو کو پکڑنے سرکس میں پہنچ گئے۔ اس سے پہلے کہ وہ اسے پکڑپاتے۔ رِکی نے گوالے سے پوچھا کہ وہ گھوڑے کوبیچنا چاہتا ہے؟ گوالے نے اثبات میں جواب دیا اور مزید کچھ سنے بغیر اپنی رقم لے کر چلتا بنا جو اس نے پائریلو کو خریدنے پر خرچ کی تھی۔ وہ اس گھوڑے سے مزید دودھ کا نقصان نہیں چاہتا تھا۔ اس کے جانے کے بعد رِکی نے کارلو کو بھی پائریلو کے ساتھ سرکس میں کام کرنے کی آفر کی جو اس نے خوشی سے قبول کرلی۔←  مزید پڑھیے

ایک نیا انقلاب۔۔۔عبداللہ خان چنگیزی

  سارے ملک میں جیسے کہرام برپا ہوچکا تھا۔ تبدیلی   سرکار پر طنز و تحقیر میں اپنا الثانی نہ رکھنے والوں کی زبان بھی جیسے گویائی سے محروم ہوگئی تھی۔ ہر طرف ایک وحشت نے ماحول کو اپنی  لپیٹ ←  مزید پڑھیے

احتساب یا انتقام ۔۔۔۔۔ راجہ فرقان احمد

ملک پاکستان میں تبدیلی کے دعویداروں نے اپنا قدم رکھا  تو سب سے پہلے احتساب کی بات کی۔ خان صاحب اور ان کے کھلاڑیوں نے احتساب کے عمل کو شفاف طریقے سے انجام دینے کے وعدے کیے۔ چاہے وہ اپوزیشن←  مزید پڑھیے

میں بکرا ہوں

میں ہنسی خوشی اپنے مالک کے ساتھ زندگی گزار رہا تھا۔ میرا مالک میرا بہت خیال رکھتا تھا۔ مجھے مختلف اقسام کا ترو تازہ چارہ کھلایا کرتا تھا۔مجھے روزانہ باہر گھمانے لے کر جایا کرتا تھا۔ ادھر میرے بہت سے←  مزید پڑھیے

ویڈیوز کی چھان بین کب ہوگی؟۔۔۔عبدالحنان ارشد

ن لیگ کی ایک ہفتہ پہلے ہونے والی پریس کانفرنس میں شہباز شریف کی باڈی لینگویج سے صاف ظاہر تھا انہیں ترلے واسطے کے ساتھ اُدھر بیٹھایا گیا تھا۔ میرا ماننا ہے شہباز شریف اس پریس کانفرنس کے بالکل بھی←  مزید پڑھیے

بیگانگی۔۔۔رضی حیدر

ان الفاظ کا کیا جائے جو حلق تک آ کر رکے ہوئے ہیں، مگر ہائے وہ احترام کا رشتہ جس نے ہم سے بولنے کی صلاحیت چھین لی۔ یہ ناقابل بیان تکلیف ہے وہ ہمارے سامنے ہمیں بے بس کر←  مزید پڑھیے

رزقِ حلال۔۔۔۔۔فیضان متین

“حرام کماتا ہے ،تبھی تو دیکھو بیوی مسلسل بیمار ہے-” نسیم سیٹھ دکان پہ آئے ہوئے ایک جاننے والے کو اپنے رشتے دار کے متعلق بتارہے تھے۔ “ہاں نسیم بھائی صحیح کہہ رہے ہو اتنی جلدی کون بھلا گھر بناتا←  مزید پڑھیے

سفارش, رشوت اور میرا پیارا پاکستان۔۔۔۔راجہ فرقان احمد

دوسری جنگ عظیم کے دوران ایک امریکی جاسوس جرمن فوج میں شامل ہوگیا ۔جنگ ختم ہونے کے بعد ایک صحافی نے اس سے پوچھا کہ آپ نے جرمن فوج کا اتنا بڑا نقصان کیسے کیا۔  اس جاسوس  نے  کہا کہ←  مزید پڑھیے

ہر بچہ ہی ” شودہ ” ہوتا ہے ۔۔۔۔میا ں جمشید

بہت ہی ” شودہ” بچہ ہے تمہارا ۔ ۔ بہت ہی  شودے  ہو تم ۔ ۔ ایسے شودوں کی طرح کھا رہے جیسے پہلے کبھی کھایا نہ ہو یا آج آخری بار کھا رہے ہو ۔ آپ سب نے ایسے←  مزید پڑھیے

الوداع ۔۔۔ جابر ریان

"پکانے والے ہاتھ بھی لیلیٰ کے ہوں تو ہم یہ طعنہ سننے سے بچ جائیں گے"۔ میں نے بے دھیانی میں کہا۔ نہ مجھے اندازہ ہوا کہ کیا کہدیا اور نہ لیلیٰ کو خبر ہوئی کہ وقت ایک دم آگے بڑھ گیا ہے۔ آج یہ جملہ یاد آتا ہے تو حیرت ہوتی ہے کہ بے خبری میں کتنی بڑی بات کہہ گیا تھا۔ شاید لیلیٰ بھی اس کا مطلب سمجھ گئی ہوگی اور جانے کیا سوچتی ہوگی۔ یا پھر ایک بچے کی بڑ سمجھ کر بھول چکی ہوگی۔←  مزید پڑھیے

حاکم جس کی ڈور رعیت کے ہاتھوں میں ۔۔۔۔ماریہ خان خٹک

جس طرح اللہ اپنی مخلوقات پہ نعمت و عنائیت کرتا ہے ۔مخلوق کی حیثیت اور قابلیت دیکھے بنا اس کی سنتا ہے ،عطاکرتا ہے، اس کے گناہوں کو درگزر کرتا ہے۔۔اور اپنے بندے سے محبت کرتا ہے۔تو بندہ خطا کا←  مزید پڑھیے

گھبرانا نہیں۔۔۔۔راجہ فرقان احمد

محترم وزیراعظم عمران خان نے حلف اٹھانے کے بعد قوم سے خطاب کیا۔ دورانِ  خطاب بڑے بڑے دعوے اور وعدے کیے،مخالفوں پر تیر برسائے، تبدیلی کا نعرہ بلند کیا    اور آخر میں کہا “آپ نے گھبرانا نہیں ہے”۔ اس←  مزید پڑھیے

تاریخ سے سبق کب سیکھیں گے۔۔۔۔۔راجہ فرقان احمد

وقت گواہ ہے کہ جن قوموں نے تاریخ سے سبق نہیں سیکھا وہ تباہ وہ برباد ہوئیں، اگر یورپ کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یورپی ممالک کی ہر دوسرے ملک کے ساتھ جنگ    ہوئی←  مزید پڑھیے

سفید سنڈی، گلابی سنڈی، امریکن سنڈی ۔۔۔۔مشتاق خان

سارا دن  کے بعد دفتر سے تھک ہار کر گھر آتے اور سخت بھوک کے باوجود کوشش یہ ہوتی کے کھانا تب کھائیں جب من پسند ڈرامہ سریل آئے اس لئے کھانا تقریباً روز رات کو آٹھ بجے لگایا جاتا←  مزید پڑھیے

تُکے سے جیتنے کا مزہ نہیں آنا۔۔۔۔حسین مرزا

مجھے کرنا کیا ہے؟ سب سے پہلے تو  بڑا سوال یہ ہے، باقی باتیں بعد کی ہیں کہ  کون سی انڈسٹری میں اپنا  رنگ جمانا ہے۔ ایک دم پورا پکا کر کے، ایک سہی بات بتاؤں مجھے نہ آج اپنے←  مزید پڑھیے

ملک کیسے تباہ ہوتے ہیں؟ ۔۔۔ میاں منظور حسین

جہاں بولنے تنقید کرنے آزادی رائے کا اظہار کی آزادی نہ ہو وہاں تعمیری سوچ نہیں پنپتی۔ جہاں تعمیری سوچ نہ وہ معاشرہ تباہ ہوجاتا ہے۔ مسلسل تبدیل ہوتے رہنا زندگی کی علامت ہے ٹھہراؤ جمود موت کی نشانی ہے۔←  مزید پڑھیے