سیاہ چہرے/فضیلہ جبیں

11اکتوبر گرل چائلڈ کا عالمی دن منایا گیا۔گرل چائلڈ کا عالمی دن منانے کا مقصد لڑکیوں کے بنیادی حقوق کی طرف توجہ دلانا ہے۔ معاشرے میں لڑکیوں کا مقام اور اپنے بنیادی حقوق کے لئے آواز اٹھانا ہمیشہ سے زیر بحث رہا ہے۔اس دنیا میں آتے ہی انسان کو کچھ بنیادی حقوق ملتے ہیں خواہ وہ لڑکا ہو یا لڑکی۔لیکن افسوس ہم جس معاشرے میں زندگی بسر کر رہے ہیں وہاں لڑکی پیدا ہوتے ہی سب سے پہلا حق اس کے پیدا ہونے کی خوشی سلب کرنا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں لڑکی کے پیدا ہوتے ہی  زندہ درگور کر دیا جاتا تھا ۔لڑکی کا پیدا ہونا ہی باعث شرمندگی سمجھا جاتا تھا ۔اگر کسی لڑکی کا شوہر فوت ہو جاتا تو اسے ستی جیسی جاہلانہ رسم کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا تھا ۔لیکن دین اسلام نے عورت کو عصمت بخشی۔ ہر دور میں عورت کو ظلم کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کی شخصیت کو مٹانے کی کوشش ہر رشتے میں کی جاتی ہے ۔ ہم سب کا فرض ہے کہ اپنے گھر کو معاشرے کو تشدد سے آزاد رکھیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان نے شعور کی منزلیں طے کی ہیں۔ جہاں لڑکی پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کر دی جاتی تھی آج لڑکیاں ہر میدان میں کامیابی حاصل کر رہی ہیں۔ لیکن اب بھی  اس   معاشر ے میں  لڑکی پیدا ہونا اتنا تعصب سے کیوں دیکھا جاتا  ہے؟ لڑکیاں کسی بھی معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ ایک لڑکی کو تعلیم یافتہ بنانا ایک نسل کو سنوارنے کا ذریعہ ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں بچپن سے ہی ایک لڑکی کو غیر منصفانہ معاشرتی رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستانی معاشرہ معاشی بدحالی کا شکار ہے۔ جہاں معصوم بچیوں کو والدین غربت کے ہاتھوں تنگ آکر  کچھ پیسوں کے عوض گھریلو  ملازمت پہ رکھوا دیتے ہیں  ۔اس طرح قوم کے  مستقبل کا بڑا حصہ بچپن سے ہی محروم ہو جاتا ہے۔

مملکت خداداد کے قیام کو پچھتر سال ہو چکے ہیں لیکن اب بھی ہم لڑکیوں کے بنیادی حقوق اور معاشرے پر آواز اٹھا رہے ہیں۔ ہمارے لئے یہ کسی المیے سے کم نہیں ہے۔ اسی معاشرے میں ارفع کریم رندھاوا جیسی بیٹیوں نے بھی جنم لیا۔ ارفع کریم ایک ایسی لڑکی  جس کو بچپن سے ہی بنیادی  تعلیم ،سہولیات اور زندگی میں آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا گیا۔محض نو برس کی عمر میں ارفع مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ بنی۔ ارفع نے بین الاقوامی شہرت حاصل کی اور اپنے ماں باپ اور ملک کا نام پوری دنیا میں روشن کیا۔ حکومت پاکستان نے ارفع کریم کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا۔ لاہور میں ایک سائنس پارک ارفع کے نام پر بنایا گیا ہے۔ اس شہرت ،قابلیت اور خود اعتمادی کی وجہ زندگی میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا اور ایک لڑکی کو ایک احساس دلانا ہے کہ لڑکیاں کمزور نہیں ہوتیں۔

لیکن میں پاکستانی معاشرے کے ان سیاہ پہلوؤں کی طرف  آپ کو متوجہ کرنا چاہوں گی جہاں معصوم بچیوں کے بنیادی حقوق چھیننا اور عصمت دری کرنا ایک معمول ہے۔ ایک بچی سے کم عمری میں قلم اور کتابیں چھین کے مشقت بھری ملازمت کروانا اخلاقی تنزلی ہے۔ وہیں ان کو جنسی تسکین کی خاطر اپنی ہوس کا شکار بنانا بھی معمولی بات سمجھا جاتا ہے۔ حال ہی میں رانی پور کی فاطمی ،قصور کی زینب اور جج کی بیوی کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہونے والی رضوانہ ہمارے معاشرے کا سیاہ چہرہ بے نقاب کر رہی ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors london

پاکستان میں قانون تو موجود ہے  لیکن  جرم اور ہر ناانصافی  کو چھپانے کیلئے،غریب کو انصاف دینے کے لیے نہیں ۔ حکومت کو چاہیے کہ قانونی اداروں سے  قوانین کی پابندی کروائے اور بطور معاشرہ ہمارا یہ فرض ہے کہ اخلاقی اقدار کو اپنائیں اور اپنے اردگرد بچیوں پر ہونے والے مظالم کی طرف توجہ مبذول کرواتے رہیں۔ تاکہ یہ سیاہ چہرے بے نقاب ہوں۔ سب سے ضروری اقدام جو ہم کر سکتے ہیں وہ لڑکیوں کی اعلیٰ  تربیت اور ان کو یہ اعتماد دلانا ہے کہ ایک لڑکی کمزور نہیں ہوتی۔ اور اسی معاشرے میں رہتے ہوئے اپنے حقوق کی حفاظت کر سکتی ہے ۔   لڑکی کو مضبوط کرنا ایک پورے معاشرے کی تربیت کرنا ہے۔ بچیوں کو اعتماد دلانا ہے کہ وہ خود  کو ایک پُرامید ،بااعتماد اور مضبوط ثابت کریں۔لڑکیوں کے بنیادی حقوق دینا اور تعلیم سے آراستہ کرنا ہماری ضرورت ہے جس کا آغاز ہمیں اپنے گھر سے کرنا چاہیے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply