ادب نامہ

جہاں کیلاشے بستے ہیں ۔۔جاوید خان/14،آخری قسط

بے خار جھاڑیوں اور پتھروں پر چھوٹی چھوٹی چڑیاں اُچھل کود رہی تھیں اور چہک رہی تھیں۔مشرقی جنگل پوراانہی سے بھرا ہواتھا۔مشرقی سمت چڑیوں کی چہکاریں تھیں تو مغربی سمت نیچے پانیوں کی گونج۔سوائے اس کے یہاں زندگی سوئی ہوئی←  مزید پڑھیے

ہاں ! میں بے وفا تھا۔۔۔چوتھی آخری قسط/عثمان ہاشمی

لگا کہ وقت کچھ تھم سا گیا ہے ۔۔۔۔ میں جو صوفے پر اکڑوں بیٹھا تھا ،ایک دم پیچھے کو ہو لیا اور سر صوفے کی پشت کے ساتھ ٹکا لیا ۔۔ مگر نظریں اس کی نظروں سے آزاد نہ←  مزید پڑھیے

پیاری چھمی،سلام محبت۔۔۔محمد افضل حیدر

آج قلم اور کاغذ لے کر بیٹھا ہوں تو زندگی میں کبھی اتنے فکری انتشار کا شکار نہیں ہوا جتنا اس وقت ہوں۔یاد داشتوں کا ایک سمندر ہے جس میں غوطہ زن ہوں اور مسلسل ڈوب رہا ہوں, ایک جست←  مزید پڑھیے

قانون ِ باغبانیِ صحرا نوشتہ ایم۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

اپنے شکستہ جسم سے کہتا ہوں میں جھک کر باغ ِ ارم ہے، ایک خیاباں ہے یہ جہاں تو مرغزار زیست کا وہ مرزبان ہے جو ذوق وشوق و تاب وتواں میں تھا مستعد جس میں قرار تھا نہ تعطل←  مزید پڑھیے

غمِ دوراں بھی منا کر دیکھوں ۔۔۔فیصل فارانی

غمِ دوراں بھی منا کر دیکھوں رنگ میں بھنگ مِلا کر دیکھوں آنکھ مِلتے ہی مِلالوں دل بھی ہاتھ پہ سرسوں جما کر دیکھوں پیار گرچہ ہے مکمل اپنا جسم بھی اِس میں مِلا کر دیکھوں ؟ وہ بھی شاید←  مزید پڑھیے

کچھ رہ جانے والی باتیں۔۔۔۔روبینہ فیصل

وقت کی تنگی نہیں تھی کہ میں جو کہنا چاہتی تھی کہہ نہ پائی یا ٹھیک سے کہہ نہ پائی مگر حالات ضرور تنگ ہو گئے تھے۔ یہ قصہ ہے میری کتاب” گمشدہ سائے “کی تقریب ِ رونمائی کا۔ رونمائی←  مزید پڑھیے

جہاں کیلاشا بستے ہیں ۔۔جاوید خان/13

ایک پل پار کیا،مڑے تو چوکی پر رکے،چوکی کے چوکی دار نے کہا بھائی صاحب!انٹری کرانی  ہوگا۔چوکی سے بالکل جڑ کر،بائیں ہاتھ نشیب میں ایک ہوٹل تھا۔وقاص جمیل نے کہا کھانا کھا لیتے ہیں،آگے ممکن ہے کھانا نہ ملے۔گاڑی نیچے←  مزید پڑھیے

نہیں نہیں، ابھی جانا نہیں مجھے اے مرگ۔(گزشتہ نظم “میں چلا جاؤں گا” کا عاقبتہ الامر)۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

نہیں، نہیں، مجھے جانا نہیں، ابھی اے مرگ ابھی سراپا عمل ہوں، مجھے ہیں کام بہت ابھی تو میری رگوں میں ہے تیز گام لہو ابھی تو معرکہ آرا ہوں ، بر سر ِ پیکار یہ ذوق و شوق ،←  مزید پڑھیے

زخم۔۔نور ظہیر

کہہ نہیں سکتی یہ گھاؤ کب سے میرے سینے میں ہے۔ تکلیف کے ساتھ شروع ہوا ہو ،یہ بھی یاد نہیں۔ نہ کوئی پھوڑا یا چھالا تھا جو پھوٹ کر ناسور بن گیا ہو، نہ ہی کوئی چوٹ تھی جو←  مزید پڑھیے

ٹارگٹ ٹارگٹ ٹارگٹ ۔۔ کرنل ضیاء شہزاد/تبصرہ:ظفرجی

فوجی سدا کا مسافر ہوتا ہے- بلوچستان کی بے آب و گیاہ وادیاں ہوں یا سیاچین کی برف پوش پہاڑیاں ، اس کی مسافت ہمیشہ جاری رہتی ہے- زمانہء امن میں ہمارے تحفظ کےلئے وہ در بدر اپنی جان اٹھائے←  مزید پڑھیے

وفا جن کی وراثت ہو (باب دوئم ,پانچویں ،آخری قسط)۔۔سید شازل شاہ گیلانی

کانوائے کی تمام گاڑیاں بیک کورڈ ہونگی, صرف ایک ڈرائیور ہوگا جو گاڑی چلا رہا ہو ،اس کے علاوہ گاڑی میں کوئی  آدمی نہ ہو۔ ہر دو گاڑیوں کے درمیاں کم از کم دو میٹر کا فاصلہ ہونا چاہیے۔ اگر←  مزید پڑھیے

روبینہ فیصل کے افسانے” عورت اور محبت”۔۔۔۔ڈاکٹر خالد سہیل

عورت ایک ایسی پہیلی ہے جسے صدیوں سے ہر قوم ’ ملک اور عہد کے ادیب ’ شاعر اور دانشور بوجھنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن جونہی وہ پہیلی بوجھنے کے قریب ہوتے ہیں اس پہیلی کی کوکھ سے←  مزید پڑھیے

ترکش وفد کے ہمراہ وادی ء مہران کا دورہ۔۔۔(قسط4)محمد احمد

پیر جھنڈو آمد: اس عظیم الشان لائبریری کے بارے میں شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب زیدمجدھم رقم طراز ہیں: “یہ ہمارے لیے نعمت عظمیٰ سے کم نہیں جو نادر کتب، مخطوطات اس شخصی کتب خانے میں موجود ہیں،←  مزید پڑھیے

کل نَفسِ ذَائَقہ اُلمَوت۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

کل نَفسِ ذَائَقہ اُلمَوت (سورۃ ، ال عمران آ ئۃ 581، حصہ اولیٰ) میں چلا جاؤں گا ، میں جانتا ہوں میں چلا جاؤں گا، اس سے بہت پہلے کہ ہوا برف کی الکحل جلباب ا تارے سر سے بھورے←  مزید پڑھیے

کڑوی مسری۔۔نور ظہیر

کڑوی مسری۔۔۔اسے سب اسی نام سے بلاتے تھے۔ سچ مچ وہ تھی بھی بالکل ویسی۔ گوری تو اس کے اتنے خاندان بھر میں کوئی لڑکی نہیں تھی۔ بھورے بھورے، ہلکے گھونگرالے بال، اس کے پان جیسے چہرے کو گھیرے رہتے۔←  مزید پڑھیے

ترکش وفد کے ہمراہ وادی ء مہران کا دورہ۔۔۔(قسط3)محمد احمد

پیر جھنڈو آمد: سندھ کا بہت مشہور راشدی خاندان جو سید محمد راشد روضے دھنی رحمہ اللہ کی طرف منسوب ہے۔ ان کا نسب چھتیس پشتوں کے بعد امیر المؤمنین سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے جا←  مزید پڑھیے

استنبول!تجھے بُھلا نہ سکوں گا(سفرنامہ)۔۔۔قسط4/پروفیسر حکیم سید صابر علی

گزشتہ قسط: خاصی کشادہ جگہ میں خوبصورت فرشی گاؤ تکیے اور بعض جگہ آرام دہ صوفے اور کرسیاں رکھی گئی تھیں،حُقے سے لطف اندوز ہونے کے لیے خوبصورت شیشے کے حُقے جن پر قدرے بڑی ٹوپیاں تھیں،کچھ نوجوان حُقے کی←  مزید پڑھیے

ٹرانجٹ کی زندگی۔۔ڈاکٹر ظہیر

اتنا غصہ اسے اپنے اوپر کبھی نہیں آیا تھا۔ زندگی میں کئی بار اس نے غلط فیصلے لیے تھے اور ان کا نتیجہ بھگتنے کے ساتھ ساتھ اپنی بیوقوفی اور ناسمجھی پر غصہ بھی آیا تھا۔ لیکن اتنا کہ اپنا←  مزید پڑھیے

استنبول!تجھے بُھلا نہ سکوں گا(سفرنامہ)۔۔۔قسط3/پروفیسر حکیم سید صابر علی

EXIT کے کچھ دیر بعد ہوٹل تک جانے کے لیے متعلقہ ایجنسی کا کوئی آدمی نظر نہ آیا۔زبان کی ناواقفیت،ہوٹل تک رسائی کی لاعلمی،وقتی پریشانی ہوئی،ترکی کے شاندار اور وسیع ائیرپورٹ عملہ کی تیز رفتاری سامان کے حصول میں سہولت،اور←  مزید پڑھیے

سفر نامہ:ال صلاحیہ،جبل قاسیون اور یادگار۔۔ شام امن سے جنگ تک/سلمیٰ اعوان۔قسط35

محی الدین ابن العربی کا جبہ پہنے میں ماؤنٹ قاسم کی چوٹی سے نیچے اترتا ہوں شہر کے بچوں کے لیے آڑو،انار اور سیب کا حلوہ لیے اور عورتوں کے لیے فیروزے کے ہار اور محبت بھری نظمیں لیے میں←  مزید پڑھیے