ادب نامہ

خلا ۔۔افضل حیدر

اس دن دوپہر کا کھانا اس نے معمول سے تھوڑا لیٹ کھایا۔کھانے کے بعد طبیعت میں بے چینی کو بھانپتے ہوئے اس نے کچھ دیر گھر سے باہر چہل قدمی کا فیصلہ کیا۔وہ اپنی گنجان اور پرانی آباد شدہ کالونی←  مزید پڑھیے

مہ جبین قیصر – مضامین اور افسانے۔۔۔فیصل عظیم

مضامین اور افسانے، یعنی ایک تیر سے دو شکار؟ نہیں، سستی اور کاہلی؟ نہیں۔خانہ پُری؟اس کی ضرورت نہیں۔ نہ مہ جبین قیصر صاحبہ نے مجھ سے کسی تحریر کا تقاضا  کیا ہے، نہ حکم دیا ہے۔ بلکہ وہ تو ان←  مزید پڑھیے

ROUGE POEMS۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ROGUE POEMS یعنی ـ’’شریر نظموں‘‘کی ایک شعری وبا سی انگلینڈ میں 1972-74کے برسوں میں پھیلی ،جب میں وہاں مقیم تھا۔ ؎ انگریزی میں یہ نظمیں اس قدر مقبول ہوئیں کہ ’’دی گارڈین‘‘ سمیت کئی  روزنامو ں  نے باقاعدگی سے اپنے←  مزید پڑھیے

پاپی:خط کہانیاں،آزاد خیال/ڈاکٹر خالد سہیل ۔مرزا یاسین بیگ(خط11,12)

خط۔ نمبر١١ کشتی’ سمندر’ جزیرہ ڈئیررضوانہ ! تمہارا خط پڑھ کر میں بہت اداس اور افسردہ ہو گیا۔ اگر یہ سب باتیں مجھے کوئی اور بتاتا تو میں بالکل یقین نہ کرتا۔ تم نے نوجوانی میں ہی کتنے دکھ سہے←  مزید پڑھیے

مجھے پڑھنے والوں کی آنکھیں سلامت رہیں۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

دعا بارگاہ حقیقی میں ہے یہ مری شاعری پڑھنے والوں کی آنکھیں سلامت رہیں تا کہ پڑھتے رہیں و ہ ! سبھی پڑھنے والوں کے شوق وتجسس کی خاطر مری طبع ِ تخلیق اُن کے لیےموتیوں کی یہ لڑیاں پروتی←  مزید پڑھیے

موت مجھ کو مگر نہیں آتی۔۔سعید چیمہ

میرا نام خدا بخش چدھڑ ہے، میرے بزرگوں نے یہی بتایا تھا کہ میں 1925ء میں ساون بھادوں کے مہینے میں پیدا ہوا، میری تاریخ پیدائش تو ٹھیک طور سے کسی کو یاد نہیں تھی مگر یہ بزرگوں کا خیال←  مزید پڑھیے

مکھی ۔ سجاد خالد

عین مزنگ چونگی پر واقع راجا چیمبرز کی چار منزلہ عمارت سے نیچے اتر کر المشہور چھہتر ماڈل مکھی نما ستر سی سی ہنڈا موٹر سائیکل جب اپنی جگہ پر نہ ملی تو ہمیں یقین نہیں آیا۔ اس لیے بھی←  مزید پڑھیے

آنکھ ہٹتی نہیں نظارے سے۔۔۔ شکور احسن ؔ

سن2004ء میں گورنمنٹ گورڈن کالج راولپنڈی کے سامنے قدیمی ادبی رسالے ماہنامہ”نیرنگ خیال“کے دفتر میں سلطان رشک کے پاس بیٹھا تھا کہ اتنے میں ایک نوجوان دفتر میں وارد ہوا،تعارف ہونے پر معلوم پڑا کہ نام فیصل عرفان ہے،آبائی تعلق←  مزید پڑھیے

پاکستانی ادب اپنا بیانیہ کھو چکا ہے، محمد نصیر زندہ

1:اظہار اور ابلاغ کی جتنی بھی صورتیں ہیں ان میں شاعری کو کیا امتیاز حاصل ہے؟واجبی تعلیم رکھنے والے لوگ یا کم پڑھے لکھے شاعری کو نہیں سمجھ سکتے،اس تناظر میں اظہار کا یہ ذریعہ کیوں کر دیگر ذرائع سے←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط33)۔۔۔سلمیٰ اعوان

”کِس سے ملنا ہے آپ کو؟“ کہنا پُوچھنا تو یہی تھا۔پر دروازے کے پٹ کو ہاتھوں میں پکڑے اور اُسے دیکھتے اُس کی زبان جیسے کچھ بولنے سے انکاری ہوگئی تھی۔ہاں البتہ آنکھوں نے کُھل کُھلا کر اس کا اظہار←  مزید پڑھیے

تو میری توبہ ہے زندگی سے۔۔گُل بخشالوی

یہ زلزلے شہر روشنی کے ،بدل گئے نالہ وفغاں میں نوائے غم ہے ہر اک صدا میں مہکتی شاموں کے پھول چہرے،دھویں کے بادل میں اَٹ گئے ہیں محبتوں کی امین دھرتی میں جامِ نفرت چھلک رہا ہے سہاگ کتنے←  مزید پڑھیے

روٹی کی کھوج۔۔محمد فیصل

وہ آج پھر روٹی کی کھوج میں نکا تھا۔ مملکتِ خداداد کا یہ باسی گزشتہ کئی ماہ سے پے در پے آنے والی آفتوں سے زندہ لاش کی شکل اختیار کرگیا تھا۔ کورونا وبا کے دوران لگائے جانے والے لاک←  مزید پڑھیے

پاپی:خط کہانیاں،آزاد خیال/ڈاکٹر خالد سہیل ۔مرزا یاسین بیگ(خط9،10)

ڈئیررضوانہ ! آپ اور برقعہ۔ مجھے پڑھتے ہوئے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا۔ میں یہ کیسے یقین کروں کہ آپ جیسی فنکارہ ۔۔۔۔آزاد خیال۔۔۔ایک برقعے میں پابند۔ پہلے میں دکھی ہوا ،پھر میری رگِ ظرافت پھڑکی اور جی←  مزید پڑھیے

یہ گداز رس بھری گولائیاں۔۔سیّد محمد زاہد

  سنگ تراشی اس کا خاندانی پیشہ تھا۔ وہ اس فن کو عبادت سمجھتے تھے۔ اس کا والد کہتا تھا ہرٹیڑھے میڑھے پتھرمیں  ایک مورتی چھپی ہوتی ہے جسے فنکار ایک نیا جنم دیتا ہے۔ نسل در نسل وہ  گندھارا←  مزید پڑھیے

ظلمت سے نور کا سفر(قسط1)۔۔۔محمد جمیل آصف ،سیدہ فاطمہ کی مشترکہ کاوش

اداس شام کی ڈھلتی روشنی میں گھر لوٹتے پرندوں کی اونچی اڑان دیکھتےہوئے اس نےکاپی پنسل سے کاغذ پر کچھ آڑی ترچھی لکیریں کھینچیں۔بے ربط لکیروں سے بنا عکس اس کی شخصیت کی الجھی ذہنی کیفیت کا پتہ دے رہیں←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط32)۔۔۔سلمیٰ اعوان

ماں نے غسل خانے سے چلّا کر کہا تھا۔ ”ڈوری ہوگئی ہوکیا؟کب سے شور مچا رہی ہوں کہ کپڑے دے جاؤ پر تمہارے حواس جانے کہاں ٹکے ہیں۔بات کی کوئی سُنوائی ہی نہیں۔ وہ گھبرائی ہوئی، پھولتے ہاتھ پاؤں سے←  مزید پڑھیے

واماندگئِ شوق تراشے ہے پناہیں۔۔عاصم کلیار

عمرِ رفتہ کے اوراق پلٹنے کی زندگی نے کبھی مہلت ہی نہیں دی، خود سے ہمکلام ہونے کی کبھی فرصت ملی بھی تو ہمسفروں سے بچھڑ جانے کا خوف،راستہ بھٹکنے کا اندیشہ،بغیر زادِ راہ کے اَن دیکھی منزلوں کے سفر←  مزید پڑھیے

جس نے ڈالی بُری نظر ڈالی/سائیں سُچّا کی کتاب “بھٰیڑی نزر” پر ایک تبصرہ۔۔۔شاہد اختر

زبانیں عام طور پر ارتقا کے طویل اور بتدریج مرحلہ وار اقدامات کے بعد کہیں جا کر اہم تبدیلیوں سے ہمکنار ہوتی ہیں۔ ان میں شعوری طور پر فیصلہ کُن تغیر کے امکانات کم ہی ہوتے ہیں۔ یا شاید میں←  مزید پڑھیے

کہتے ہیں۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

اگر مجھ جیسے شاعر کو مصرع طرح دے کر یہ کہا جائے کہ اس پر طبع آزمائی کرو تو وہ یہی کچھ لکھ سکے گا۔ کچھ بر س پہلے غالب اکادمی (مسی ساگا) کینیڈا کے مرحوم دوست اطہر رضوی کی،←  مزید پڑھیے

میں ڈورین گرؔے ہوں(دو شخصیتوں کا مر قع ایک شخص)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

اک مستغیث ، بد گو، تہمت تراشتا ہے کیڑے نکالتا ہے، کیچڑ اچھالتا ہے بدعت، دروغ حلفی اس کی شہادتیں ہیں دھوکا دھڑی میں ماہر، سب کو پچھاڑتا ہے سالوس، ڈھونگیا ہے، بکواس جھاڑتا ہے جھوٹا، دروغ گو تو ۔۔←  مزید پڑھیے