ادب نامہ

گیدڑ اور عرب۔۔۔فرانز کافکا/ترجمہ۔۔مقبول ملک

ہم نے ایک نخلستان میں پڑاؤ ڈال رکھا تھا۔ ہم سفر ساتھی سو چکے تھے۔ سفید رنگت والا ایک دراز قد عرب، جو اونٹوں کی دیکھ بھال کرتا تھا، میرے پاس سے گزرا اور خواب گاہ کی طرف چلا گیا۔←  مزید پڑھیے

قلندر کی ہیر۔۔۔محمد خان چوہدری/قسط2

کوہستان نمک کی گود میں پھیلی وادیوں پر مشتمل سطح مرتفع پوٹھوہار کا علاقہ اتنا خوبصورت ہے کہ بابر بادشاہ نے اسے کشمیر کا بچہ کہا تھا۔ آب و ہوا رومانس سے بھرپور ہے، روحانیت کا یہ عالم کہ ہر←  مزید پڑھیے

ملک ندیم کی نظم: میری عمر کی عورتیں۔۔۔۔۔۔ترجمہ: ڈاکٹر شہنازشورو

ملک ندیم، سندھی تجریدی نظم کا اہم نام تاریخ پیدائش: آٹھ اپریل ۱۹۴۶ وفات: ۹ مارچ ۲۰۱۰ 1۔میری عمر کی عورتیں جو میں نے دیکھیں جو مجھ سے ملیں کس قدر حسین تھیں من موہنی تھیں جوانی کے شجر سے←  مزید پڑھیے

کشمیری شال اور ایک کتاب۔۔۔۔رابعہ الرَبّاء

ہم تین لوگ تھے تین لوگ تھے اور ایک کتاب تھی ایک کتاب تھی اور کتاب پہ تین تصویر یں تھیں تین مصنف تھے ایک تکون تھی۔۔ مگر کرسیاں چار تھیں میں نے اسے تحفہ عزت کے طور  پر ایک←  مزید پڑھیے

کہروڑ پکّا کی نیلماں۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط7

سویرا کے سلیم الرحمان صاحب نے شمارہ نمبر سو  کی اشاعت میں غیر معمولی تاخیر کے پیش نظر مصنف کو کمال شفقت سے اجازت دی کہ یہ کہانی مکالمہ میں پہلے شائع کرلیں۔۔سو پیش خدمت ہے افسر و سیاست دانوں←  مزید پڑھیے

وحشت کی اسیری۔۔رمشا تبسم کی ڈائری “خاک نشین” سے “خود کلامی کی اذیت” کا اقتباس

وصل کا نومولود احساس جب بغل گیر ہونے سے پہلے ہی مار دیا جائے تو ہجر کا سانپ بن بلائے مہمان کی طرح گود میں آ کر پناہ لے لیتا ہے۔جانتے ہو اس نومولود وصل کی لاش ٹھکانے لگانے کے←  مزید پڑھیے

سوال بستی۔۔۔۔حبیب شیخ

کیا یہی سوال نامی بستی ہے؟ آ جاؤ آ جاؤ کیا تمہیں بھی نکال دیا ہے؟ ہاں، انہوں نے مجھے شہر بدر کر دیا ہے۔ یہاں کچھ شہر سے نکالے ہوئے باسی رہتے ہیں ۔ لیکن تم تو ابھی بالکل←  مزید پڑھیے

تبدیلی۔۔۔۔افسانہ/حسن کرتار

اسے جب اچھی طرح سے اندازہ ہوگیا کہ عظیم قوم بنانا ناممکن کام ہے تو اس نے ٹھانی کہ کیوں نہ ایک عظیم گروہ بنایا جائے۔ سب سے پہلے اس نے خود کو ٹھیک کر نے کا سوچا اور اچھی←  مزید پڑھیے

میرے موسیٰ۔۔۔۔رابعہ الرَبّاء

میرے موسیٰ میں مثل خضر ہوں تیرے ساتھ زمانہ فرعون ہے اور وقت نہیں میرے پاس میرے موسیٰ تیرا جلال کہ روشنی کی رفتار ہے لفظوں کی کشتی بے اختیار ہے تجھے کس کا انتظار ہے میرے موسیٰ تجھے جلدی←  مزید پڑھیے

خامہ بگوش غالب۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

پیکر ِ عشّاق ساز ِ طالع ِ ناساز ہے نالہ گویا گردش ِ سیارہ کی آواز ہے ستیہ پال آنند مت ہنسیں، اے بندہ پرور ، میرے استفسار پر جسم عاشق کا بھلا کیا اک سریلا ساز ہے جو کہ←  مزید پڑھیے

کہروڑ پکّا کی نیلماں۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط6

سویرا کے سلیم الرحمان صاحب نے شمارہ نمبر سو کی اشاعت میں غیر معینہ تاخیر کے پیش نظر مصنف کو کمال شفقت سے اجازت دی کہ یہ کہانی مکالمہ میں پہلے شائع کرلیں۔۔سو پیش خدمت ہے۔ افسر و سیاست دانوں←  مزید پڑھیے

کمراٹ۔۔۔۔توصیف ملک/قسط5

آبشار کی غلطی : جاز بانڈہ پہنچ کر ادھر ادھر دیکھا تو کچھ ہوٹل اور ان کے پاس خیمے لگے ہوئے نظر آئے ، چلتے ہوئے بائیں ہاتھ پر پہلا ہوٹل آتا تھا جس کی طرف بے اختیار قدم بڑھ←  مزید پڑھیے

کہروڑ پکّا کی نیلماں.۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/حصہ اول

افسروں کے معاشقوں پر مبنی ایک نیم حقیقی نیم افسانوی واردات قلبی کا احوال،اب تک شائع ہونے کی باقی چار اقساط کے لنک کہانی کے  آخر پر موجود ہیں ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسکی پول ائیر پورٹ۔ایمسٹرڈیم ارسلان آغا کو یہ دیکھ←  مزید پڑھیے

گھٹیا افسانہ نمبر 28۔۔۔۔کامریڈ فاروق بلوچ

میں صدارت کی کرسی پہ براجمان ہو چکا ہوں۔ پرنسپل کی سیٹ سنبھالنے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ میں کسی تقریب کی صدارت کر ریا ہوں۔ تمکنت میرے چہرے سے جھلکے یا نہ جھلکے مگر اُس کی پیدائش←  مزید پڑھیے

اختری۔۔۔۔نادیہ عنبر لودھی/افسانہ

اختری نے گھر کا کام ختم کیا اور سفید تکیہ پوش پر رنگ برنگے چھوٹے چھوٹے پھول کاڑ ھنے لگی – اس کے ہاتھ تیزی سے چل رہے تھے ۔ اسے یہ کام جلدی مکمل کرنا تھا  – اختری یتیم←  مزید پڑھیے

بڑھاپے کا بیڈ روم۔۔محمد خان چوہدری

حاجی صاحب بیڈ پہ لیٹے تھے۔ دھوتی لانگڑ متروک کر کے برمودا شارٹس کے اوپر بنیان البتہ موجود تھی، بڑھا ہوا پیٹ برہنہ تھا۔ ناف کے اوپر کی سلوٹ پہ آئی پیڈ ٹکا کر اس پہ رومانوی کہانی ٹائپ کرنےمیں←  مزید پڑھیے

اے شہر خاموشاں ۔۔۔رابعہ الرباء

اے شہر ِخاموشاں اے ہمارے خمیر کے گھر ہم تجھ سے کتنا دور دور بہت دور مگر اے شہر ِخاموشاں یوں تھا جیسے تو نے روک لیا تھا آسمان بھی تو رو پڑا تھا اے شہر ِخاموشاں رُکی سانسو ں←  مزید پڑھیے

نویدِ سحر کا پہلا ادبی محبت نامہ ڈاکٹر خالد سہیل کے نام۔۔۔ فکر اور قلم کو تحریک

کل سے بہت سوچا کہ کس موضوع پر قلم اٹھاؤں۔ اپنی ذات کا تعارف کرواؤں‘مٹی کی محبت میں کچھ لکھوں‘ انسانیت کو انفرادی اور اجتماعی سطح پر جن منافقانہ رویوں کا سامنا ہے اس کا دکھ بیان کروں‘ سیاست بازی←  مزید پڑھیے

دائمی محبت۔۔۔۔۔عنبر عابر

اس دن بھی بارش ہورہی تھی۔۔۔ جب وہ کسی بہار کی مانند میری زندگی میں آئی تھی اور میرا سارا وجود معطر کر گئی تھی۔۔۔میں ایک نئی دنیا میں بسنے لگا تھا۔۔۔خیالوں کی دنیا میں۔۔۔رنگ بدل گئے تھے۔۔۔لہجے شبنمی ہوگئے←  مزید پڑھیے

شام امن سے جنگ تک/حلب کے کھنڈرات میں پھول اُگانے والا ابوال ورد۔۔۔سلمٰی اعوان/قسط18

ڈاکٹر ہدا کی جانب سے ملنے والی اُس ای میل کو میں نے دنوں بعد کھولا ہے۔دراصل میں ان دنوں دہراکشٹ کاٹتی ہوں۔ بلادالشام پر اپنے سفرنامے کو لکھنے کے تخلیقی لمحوں میں شام کے گلی کوچوں میں پھرتی ہوں۔اس←  مزید پڑھیے