ادب نامہ

گونگے سُر کی واپسی۔۔۔(18)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

(میری اپنی جیون کتھا ۔ خود نوشت ) کوکھ میں تھا جب میں سُنتا تھا اپنے دل کی دھڑکن ماں کے خون کی گردش کی موسیقی جیسے بانس کے جنگل میں اُڑتی آوازیں سُر سنگیت ۔۔۔ ہوا کے سانسوں کی←  مزید پڑھیے

اومارسکا کی اسٹرابیری۔۔۔۔حبیب شیخ

یوگوسلاویہ میں خانہ جنگی شروع  ہوچکی تھی۔ بہشت نما خوبصورت ہرنچی شہرمیں سرب دوسری نسل کے لوگوں کی مار دھاڑ کر رہے تھے اور ان کو اٹھا اٹھا کر کیمپوں میں لے جا رہے تھے ۔ سلام اور عذرا گھر←  مزید پڑھیے

لوٹا تو میرے پاس آیا۔۔۔محمد افضل حیدر

اس نے گھر سے نکلتے وقت ہمیشہ کی طرح دروازہ زور سے بند کیا اور پتہ نہیں کہاں چلا گیا۔ یہ سب اب اس کا معمول بنتا جا رہا تھا۔۔ وہ گھر میں موجود ہوتا تو خاموش رہتا یا پھر←  مزید پڑھیے

داستانِ زیست۔۔۔محمد خان چوہدری/قسط30

پیش لفظ۔ پچھلی قسط میں اِنکم ٹیکس کی وکالت کا اپنا مشہور کیس لکھتے ہوئے  شاید نظر لگ گئی، داستان زیست لکھنے کو بریک لگی۔ وقفہ طویل ہو گیا۔ ہم 1990 میں تھے، اسلام آباد کے سیکٹر جی۔ سکس ٹو←  مزید پڑھیے

خود وفاتیہ۔۔۔۔(17)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ستیہ پال آنند مر گیا تو دیکھا لوگوں نے کیسا عجب نظارہ تم بھی دیکھو اور “کتھا واچک” کی زباں سے تم بھی سن لو شاید اس کے سننے سے کچھ سبق ملے گا شاید تم بھی سیکھ سکو کچھ←  مزید پڑھیے

درمیاں فہم محبت۔۔۔(3)ماریہ خان خٹک

درمیاں فہم محبت۔۔۔ماریہ خان خٹک/قسط2 تم جانتی ہو شانزے جب ہم پانی بھر کر جاتے ہیں تو کیسے گھور گھور کر دیکھتا ہے وہ مجھے ۔ عریزے نے آئینے کے سامنے گھوم کر اپنا زاویہ عکس بدل کر دیکھا۔۔۔۔اور ہاتھ←  مزید پڑھیے

گرڑ پُران۔۔۔۔(16)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ہندوؤں کی قدیم ترین مقدس کتابوں میں جہاں وید اور شاستر ہیں، جنہیں الہامی کتابیں تسلیم کیا گیا ہے، وہاں پُران بھی ہیں۔ پُران رِشیوں کی تصنیف کردہ من گھڑنت کہانیاں ہیں، جو انہوں نے لوگوں کے جیون سُدھار کے←  مزید پڑھیے

پھول۔۔۔۔رابعہ الرَبّاء

وہ میری آنکھ سے پھول دیکھتی رہی میں پھو ل جس کو پہنا نہ سکا وہ بیچتا اک مالی کسی بازار میں وہ کسی چوک میں وہ کسی دربار میں کسی قبرستان کے باہر وہ بیچتا گجرے اور ہار کفن←  مزید پڑھیے

ختم ہونا شام کا۔۔۔(15)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

(1) ختم ہونا شام کا اک مرحلہ ہے رات کی اندھی چڑیلیں چیختی ہیں آسماں کی گیلی رسّی سےبندھے بے بس اندھیرے کالی قربانی کے بکروں کی طرح گردن بریدہ نزع کے عالم میں گرتے، ہانپتے ہیں ختم ہونا آج←  مزید پڑھیے

کہروڑ پکا کی نیلماں۔۔۔محمد اقبال دیوان/24،آخری قسط

نوٹ:سویرا کے مدیر اعلیٰ سلیم الرحمان صاحب نے شمارہ نمبر سو کی اشاعت میں غیر معمولی تاخیر کے پیش نظر مصنف کو کمال شفقت سے اجازت دی کہ یہ کہانی مکالمہ میں پہلے شائع کرلیں۔۔سو پیش خدمت ہے۔۔افسر و سیاست←  مزید پڑھیے

وہ خود بھی ایک بادل بن گئی۔۔۔ڈاکٹر خالدسہیل

میں جب بھی کوئی اُڑتا ہوا بادل دیکھتا ہوں تو مجھے DANIELLE بہت یاد آتی ہے اسے بادل بہت پسند تھے وہ بادلوں سے باتیں کرتی تھی بادل اس سے سوگوشیاں کرتے تھے وہ بادلوں پر نظمیں لکھتی تھی اس←  مزید پڑھیے

سفر نامہ: شام امن سے جنگ تک۔ ۔مروہ ال ثوبانی/سلمیٰ اعوان۔۔قسط24

اُس گرم سہ پہر جب ہماری ٹیکسی پرانے حمص شہر کے مرکزی سکوائر کے چکر پر چکر کاٹ رہی تھی۔ ساتھ ساتھ میری ساتھی خواتین کی بڑ بڑاہٹ بھی جاری تھی۔ تب کہیں یہ میرے گمان کے کسی کونے کھدرے←  مزید پڑھیے

اگیانی نجومی کا کرسٹل بال۔۔۔۔(14)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

(چار حصّوں میں ایک نظم کہانی) (۱) تم بہت بے صبر ہو، واقف نہیں ہو ضابطوں سے زندگی کو چائے کے چمچوں میں بھر بھرکر تحمل، قاعدے سے لمحہ ، لمحہ ، مختصر وقفوں سے جینا ضابطہ ہے تم نہیں←  مزید پڑھیے

کہروڑ پکا کی نیلماں۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط23

  نوٹ:سویرا کے مدیر اعلیٰ سلیم الرحمان صاحب نے شمارہ نمبر سو کی اشاعت میں غیر معمولی تاخیر کے پیش نظر مصنف کو کمال شفقت سے اجازت دی کہ یہ کہانی مکالمہ میں پہلے شائع کرلیں۔۔سو پیش خدمت ہے۔۔۔افسر و←  مزید پڑھیے

حقیقت۔۔۔شاکرہ نندنی

مجھے اس سے بے پناہ محبت تھی۔ جب میں اس سے ملا تو پہلی ہی نظر میں اس کا ہو گیا۔ پھر میں نے کتنی ہی راتیں اس کی  پیار بھری آغوش میں گزار دیں۔ مجھے خبر نہیں ، وقت←  مزید پڑھیے

گیلاتیا سے کون بچے گا۔۔۔۔(13)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

(۱) کیا مورت تھی جس کے خال و خد چہرے کی وضع، بناوٹ شکل و صورت پتھر کی اک سِل سے یوں اُبھرے، جیسے اس کے اندرصدیوں سے مخفی ہوں اور اب جاگ اُٹھے ہوں کیا مورت تھی چہرہ، مہرہ←  مزید پڑھیے

چین نہیں ،صومالیہ سے سیکھیں۔۔۔جاوید چوہدری

کرسٹائین اسٹڈ ڈنمارک کی سرحد پر سویڈن کا چھوٹا سا ٹاؤن ہے‘ میرے صنعت کار دوست مخدوم عباس نے 2004ء میں اس ٹاؤن میں فیکٹری لگا ئی‘ مخدوم اس قصبے میں واحد مسلمان اور واحد پاکستانی تھا‘ حلال گوشت کوپن←  مزید پڑھیے

کون تھا عیسیٰ؟۔۔۔۔(12)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

خبر ہے کہ چین میں ایغور اور قازق مسلمان چینی باشندوں کو ان کے صدیوں پرانے گھروں سے اکھاڑ کر سینکڑوں میل دور تربیتی کیمپوں میں بھرتی کر دیا گیا ہے، جہاں انہیں اسلامی روایات (نماز، روزہ، وغیرہ) کی پیروی←  مزید پڑھیے

ہم سوچ کے آزاد پنچھی۔۔۔رابعہ الرَبّاء

ہم آوارہ کچھ ہواؤں کی طرح ہم نرم برف گالوں جیسے ہم رقصاں دھند لہروں کی طرح ہم اڑتے اکتوبر نومبر کے زرد پتے کبھی سڑکوں کبھی باغوں کبھی کوچوں میں ہر سو۔۔ کبھی کسی کے صحن، کبھی کسی کے←  مزید پڑھیے

کہروڑ پکا کی نیلماں۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط22

سویرا کے مدیر اعلی سلیم الرحمان صاحب نے شمارہ نمبر سو کی اشاعت میں غیر معمولی تاخیر کے پیش نظر مصنف کو کمال شفقت سے اجازت دی کہ یہ کہانی مکالمہ میں پہلے شائع کرلیں۔۔سو پیش خدمت ہے۔۔افسر و سیاست←  مزید پڑھیے