ادب نامہ

درختوں سے جھڑتے خشک پتے۔۔جنید منصور

تیز ہوا   زرد اور خشک پتوں کی سوتن ہے۔  یہ دل جلے ، سوختہ پتے شاخوں کے طعنے برداشت نہیں کر پاتے۔حساس دل بھی کبھی شرم سے عاری ہوئے ہیں کیا! تیز ہو ا  کی سرگوشیاں، گھاس کی ہل ہل←  مزید پڑھیے

دھواں۔ ۔سویرا خان

ایسے موقع پر زیادہ تر مرد یہی سوال پوچھتے ہیں اس نے بھی پوچھ لیا “تم اس لائن میں کیوں آئی ہو؟” عورت مسکرائی, خود کو مزید ڈھیلا چھوڑتے ہوئے اس نے سگریٹ کا ایک گہرا کش لگایا “کوئی بھی←  مزید پڑھیے

ماں جی۔۔۔(خاکہ)اقتدار جاوید

ماں ٹوپی برقع پہنتیں اور پردہ کرتیں ،بعد میں ہمیں پتہ چلا اس کو شٹل کاک برقع بھی کہتے ہیں، مگر ہم اسے ٹوپی برقع ہی کہتے تھے۔چہرے والی جگہ پر باریک جالی لگی ہوتی تھی جس سے ان کا←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط12)۔۔۔سلمیٰ اعوان

چٹا گانگ کے اِس اعلیٰ درجے کے چینی ریستوران میں کھانا کھاتے ہوئے اُسے شدید خفّت کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ایسے کھانے اور کھانوں کے یہ ایٹی کیٹس بھلا اُس نے کب دیکھے اور کہاں سیکھے تھے؟ وہ تو←  مزید پڑھیے

ادھوری خوشی۔۔(افسانہ) انعام رانا

خبر اتنی اچانک تھی کہ حسن کو یقین ہی نہ  آیا اور وہ کچھ دیر خالی نظروں سے جویریہ کو تکتا رہا۔ اک ندی جس کی آبپاشی کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہوں، اگر اچانک اس کے کنارے پانی←  مزید پڑھیے

بیاض ِ عمر کھولی ہے۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

عجب منظر دکھاتے ہیں یہ صفحے جن پہ برسوں سے دھنک کے سارے رنگوں میں مرے موئے قلم نے گُل فشانی سے کئی چہرے بنائے ہیں کئی گُلکاریاں کی ہیں لڑکپن کے شروع ِ نوجوانی کے بیاض ِ عمر کے←  مزید پڑھیے

رشیدہ۔۔اُسامہ ریاض

رشیدہ سے سارا گاؤں ڈرتا تھا۔ وہ جب بھی اپنا آدھا پھٹا ڈوپٹہ لے کر گھر سے نکلتی سب جلدی جلدی گھروں کی کھڑکیاں بند کر لیتے۔ گلی میں کھیلتے بچے اپنے کھلونے چھوڑ کر بھاگ جاتے۔ کبھی کبھار کچھ←  مزید پڑھیے

وہ گدھا ہی تھا۔۔ربیعہ سلیم مرزا

پورب کی سمت ایک ہرابھرا جنگل تھا۔یہ جنگل اتنا گہرا تھا کہ مشکل سے سورج کی کرنیں زمین تک پہنچتیں ۔ اسی دھوپ چھاؤں جنگل کے ایک کونے میں سرمئی بابا کی جھونپڑی تھی۔ لمبے بانس کے تنوں اور پتوں←  مزید پڑھیے

زندہ مُردے۔۔رمشا تبسم

جب میں مر گئی  تو مجھے قبر میں اتارنے والے سب ہاتھوں سے مجھے الجھن ہو رہی تھی۔یہ ہاتھ مجھے نوچتے رہے ہیں۔یہ تمام وجود جو میرا جسم دفن کرنے آئے ہیں، مجھے ان سے گھن آ رہی تھی۔مجھے بس←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط11)۔۔۔سلمیٰ اعوان

علی الصبح جاگنے کے بعد اُس کا سب سے پہلا کام چٹا گانگ اپنی فرم کے مینجر شمس الدین عُرف گورا کو فون پر اطلاع دینا تھا کہ وہ آج تقریباً دو بجے چاٹگام پہنچ رہا ہے اور یہ کہ←  مزید پڑھیے

بدصورت۔۔عاطف ندیم

عورت کبھی  بد صورت نہیں ہوتی، واہ! کیا بات کہی منٹو نے۔آپی!سنا آپ نے؟عورت کبھی بدصورت نہیں ہوتی”۔ ” عورت ہی بدصورت ہوتی ہے۔سب افسانوی باتیں ہیں یہ۔سنا تم نے “۔ اس نے تلخ لہجے میں چھوٹی بہن کوجواب دیا،←  مزید پڑھیے

پارچہ،اک شعر بے چارہ(عابدہ وقار کی نذر)۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

پارچہ الوان، ست رنگا، چمکتا بھیگتے رنگوں کی ململ دھوپ اور برسات کا جیسے ملن ہو کھٹا میٹھا، آسمانی، سبز، نیلا، زرد، اُودا پارچہ رنگین، بو قلمون، روشن پارچہ جذبات کے سب رنگ اپنے دل کی دھڑکن میں سمیٹے، شاعرِ←  مزید پڑھیے

لاک ڈاؤن۔ حجامت اور بیگم۔۔احمد شہزاد

لاک ڈاؤن کی بدولت گھر میں بیٹھے بٹھائے جہاں وزن بڑھا وہاں بال بھی اپنی حدود سے تجاوز کرکے ادھر اُدھر بھٹکتے دکھائی دینےلگے۔ بچوں نے تو یہاں تک کہنا شروع کر دیا اب پونی باندھ لیں یا ہیئر کیچر←  مزید پڑھیے

رنگ اکثر بولتے ہیں۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

لگ بھگ نصف صدی پہلے جب میں نے اردو میں “رن۔آن۔لائنز” کا چلن شروع کیا تو اس کی بھرپور مخالفت ہوئی۔ یہ کیسے ممکن ہے، کہا گیا،کہ کسی مصرع کو کھینچ تان کر اگلی سطر میں ضم کر دیا جائے۔←  مزید پڑھیے

تین نظمیں۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

(۱) آسمانی ایلچی سے ایک سوال انت ہے کیا؟ سامنے کیا صرف اک اندھا اندھیرا لا مکان و لا زماں ہے؟ کیا ہم اپنے ارتقا کی آخری سیڑھی پہ پاؤں رکھ چکے ہیں؟ کیا یہی کچھ حاصل ِ لا حاصلی←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط10)۔۔۔سلمیٰ اعوان

اُس وقت جب تیزی سے مغرب کو جاتے ہوئے سورج کی سنہری کرنیں کنٹین کی دیواروں کے لمبے لمبے شیشوں کے دریچوں سے چھن چھن کر اندر قطار در قطار رکھے فارمیکا کی چکنی شفاف میزوں کی سطح پر بکھرتے←  مزید پڑھیے

یورپ جہاں زندگی آزاد ہے۔۔۔۔۔۔میاں ضیا الحق/قسط10

سویٹزر لینڈ زیوریخ ۔ زرمٹ سوئٹزرلینڈ کوالٹی آف لائف کے حساب سے دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر ہے، اس بات کا اندازہ تو کل آتے ہی ہوگیا تھا، جب نکھرے سنورے لوگ مائنس دو سنٹی گریڈ میں بھی ہنستے←  مزید پڑھیے

دل شبِ انبساط سے گزرا(حصہ اوّل)۔۔صائمہ نسیم بانو

شہریار یوسفِ ثانی تھا، مردانہ وجاہت کا شاہکار تھا، یونانی ایراس دیوتا، محبت کا دیوتا، اپنے کنٹری سائیڈ ہیملٹ کی تمام حسیناؤں کی دھڑکن روک دینے پر قادر، قادر الکلامی پر سند، حسن کو چانچنے، پرکھنے، پا لینے اور سنبھالنے←  مزید پڑھیے

غالب فہمی پر ایک اور نظم۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

بہ نیم غمزہ ادا کر حق ِ ودیعت ِ ناز نیام ِ پردہ ء زخم ِ جگر سے خنجر کھینچ ۔۔۔ ستیہ پال آنند جگر میں زخم ہے اور اس پہ ایک پردہ ہے نیام ِ پردہ میں خنجر ہے←  مزید پڑھیے

کشمیر۔۔اُصیب شاہ

اٹھائی تھی آواز مگر دبا دی گئی اس قوم کی بیٹی زندہ دفنا دی گئی انصاف کے ترازو سے ہٹا کر ہمیں نہ جانے کس غلطی کی ہے سزا دی گئی دکھ درد، مصیبت و تکلیف کیا ہمارے ہیں سبھی←  مزید پڑھیے