ادب نامہ

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

قطرے میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کُل کھیل لڑکوں کا ہوا، دیدہ ٔ بینا نہ ہو ا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند میں نے دجلہ تو نہیں دیکھا، حضور ِ انور وسط مشرق میں کہیں ایک ندی ہے←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

جہاں میں ہوں غم و شادی بہم ہمیں کیا کام دیا ہے ہم کو خدا نے وہ دل کہ شاد نہیں ۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند نہ جانے آج تک میں کیوں سمجھ نہیں پایا یہ اک روایتی تفصیل اس حوالے←  مزید پڑھیے

دھندے والی( تیسری,آخری قسط) ۔۔عامر حسینی

تمہارے گھر کے سامنے گاڑی میں۔۔۔ میں نے جلدی جلدی کپڑے بدلے اور نیچے پہنچا تو سلیٹی کلر کی نئی ہنڈا گاڑی میں سلیم اوڈھ بیٹھا ہوا تھا۔وہ مجھے دیکھ کر گاڑی سے اتر آیا۔بہت دبلا پتلا نظر آرہا تھا۔میں←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

وضاحتی نوٹ! “روبرو غالب” کے تیس سے کچھ اوپر تعداد میں مکالماتی “نظم نا مے” لکھنے کے بعد خدا جانے کیوں یہ شوق چرایا، کہ اپنے استاد محترم کو دو صدیوں کے زمان کی اور امریکہ  /ہندوستان کے مکان کی←  مزید پڑھیے

دھندے والی(قسط 2)۔۔عامر حسینی

ایک نہایت ہی دلکش آواز کے ساتھ اندر سے جواب آیا میں نے دروازے کو آہستہ سے دھکا دیا تو دروازہ کھل گیا یہ سجا سجایا کمرہ تھا – دروازے کے دائیں جانب سامنے ایک بڑی سی مسہری پڑی تھی←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

ہیں زوال آمادہ اجزا آفرینش کے تمام مہر گردوں ہے چراغ ِ رہگذر ِ باد یاں ۰۰۰۰۰۰۰۰ ستیہ پال آنند پیشتر اس کےکہ مَیں تشریح میں کچھ بھی کہوں استعارہ اور پیکر کے لیے بھرپور داد مہر گردوں اور چراغ←  مزید پڑھیے

گیٹ نمبر نو کے چوکیدار اشرف نذیر کا اپنی بیٹی ثریا کے نام خط ۔

میری جان ، 1993 میں ڈبل میتھس فزکس میں بی ایس سی کرنے کے باوجود مجھے کوئی ڈھنگ کی نوکری نہ ملی تو یہاں سکیورٹی اسسٹنٹ کے طور پر ملازمت شروع کر دی کیونکہ تمھاری ماں رقیہ کی چھاتیوں میں←  مزید پڑھیے

دھندے والی(قسط 1)۔۔عامر حسینی

وہ مری اس وقت سے دوست ہے جب میں ایک ایسے رسالے کے لئے کام کرتا تھا جس کے سرورق پہ بڑی حد تک برہنہ دو عورتوں کی تصویریں ضرور شائع کی جاتی تھیں اگرچہ رسالے میں بہت سے سنجیدہ←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط24)۔۔۔سلمیٰ اعوان

شاید تمہیں یادہو، شاید کیا یقیناً یاد ہوگا۔ آپا مختاراں کی شادی میں دیہاتی عورتیں لوک گیت گا رہی تھیں۔ سفید سوت کے بان سے بنی ہوئی چارپائی پر بیٹھی میں یہ لوک گیت سنتے ہوئے سوچ رہی تھی اور←  مزید پڑھیے

آبنائے۔۔اقتدار جاوید

آنکھ کے آبنائے میں ڈوبا مچھیرا نہ جانے فلک تاز دھارے میں گاتی ‘ نہاتی ہوئی سرخ لڑکی کی جاں اس مچھیرے میں ہے لڑکی کے گیتوں میں لنگر انداز کشتی ہے ‘ لہروں کی کروٹ ہے ‘ ساحل کا←  مزید پڑھیے

دُور ہوں اہلِ کشمیر کے سارےغم ۔۔انیس ندیم

دُور ہوں اہلِ کشمیر کے سارےغم ملتجی ہم خدا سے دعاگو ہیں ہم ختم ہو یہ کٹھن دورِ ظلم و ستم دُور ہوں اہلِ کشمیر کے سارےغم آج مسلوب ہیں ساری آزادیاں کتنے مجبور ہیں تیرے پیرو جواں ہے کٹھن←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

خموشیوں میں تماشا ادا نکلتی ہے نگاہ دل سے ترے سرمہ سا نکلتی ہے —– ستیہ پال آنند نگاہ دل سے نکلتی ہے؟ “سرمہ سا” بھی ہے؟ نظر کا “سرمہ سا ” ہونا تو قول ِ صالح ہے نظر کا←  مزید پڑھیے

غزل۔۔ڈاکٹر صابرہ شاہین

تیرا جب ذکر ، تیری بات ہوگی تو رنگ و نورکی،برسات ہوگی یہی گر تلخیِ حالات ، ہو گی تو پھر کیا خاک ،ان سےبات ہوگی غضب کی پیاس ، ہونٹوں پر جمی ہے ترے آنگن میں تو ، برسات←  مزید پڑھیے

یہ نچلا حصّہ مرے بدن کا(ایک منظوم مکالمہ)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ترے لڑکپن کا شہد اے میرے سر میں بیٹھے ہوئے تشخّص جو قطرہ قطرہ ہی بنتا رہتا تھا میرے خلیوں کی پوٹلی میں نمود ِ عہد شباب کی صبح کا ستارہ وہ رزق سورج کا اب کہاں ہے؟ مجھے تو←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

ہے وہی بد مستی ٔ ہر ذرّہ کا خود عذر خواہ جس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند عذر خواہی ۔۔۔ حیلہ جوئی۔۔۔ ادعا ۔۔۔ کچھ لیپا پوتی عذر ۔۔۔ ، عذر ِ لنگ←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

بہ طوفاں گاہ ِ جوش ِ اضطراب ِ شام ِ تنہائی شعاع ِ آفتاب ِ صبح ِ محشر تار ِ بستر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند اگر بد گو نہ سمجھیں، محترم، مجھ کو، تو یہ پوچھوں کہ تنہائی ہے،←  مزید پڑھیے

مارخورکی عید۔۔عدنان چوہدری

مارخور(isi کا ایجنٹ) کی عید صبح عید ہے میں گاؤں کے باہر ٹیلے پر کھڑا غروب ہوتے سورج کی لالی دیکھ رہا ہوں مہاجر پرندے بیلے کو اپنا مسکن بنا چکے ہیں گزشتہ سات دنوں سے “شامی” کی نامکمل نظم←  مزید پڑھیے

فرید الدین عطار سے خوشہ چینی(نور کیا ہے)۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

نور کیا ہے۔۔ بھاپ سی اٹھتی ہے میرے ذہن کے تحت الثرا سے دھند کا محلول بادل الکحل کی نشہ آور گرم چادر سا مجھے چاروں طرف سے ڈھانپ کر للکارتا ہے گہری نا بینائی کے عالم میں آنکھوں کے←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط23)۔۔۔سلمیٰ اعوان

یہ شب وروز افسانوی سے،رُومانوی سے اور گلیمرس سے بھرے پُرے تھے۔ صبح جب وہ تیار ہوکر خود کو قد آدم آئینے میں دیکھتی تو وقتی طور پر سب کچھ بھول جاتی۔لباس کی خوبصورتی پر نظریں نہ ٹھہرتیں۔جوہرات کی چمک←  مزید پڑھیے

غزل۔۔اقتدار جاوید

یہ دریا ہے کوئی کہ پانی پانی گفتگو ہے ہوا کی ساحلوں سے بادبانی گفتگو ہے سمندر تیری لہریں ہیں کہ زیریں اور زبریں سمندر تیری ساری بے کرانی گفتگو ہے اکٹھے کر رہی ہے مامتا کومل سے تنکے شجر←  مزید پڑھیے