ڈاکٹر مختار مغلانی کی تحاریر

خوشی کیا ہے ؟ (دوسری،آخری قسط)۔۔۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

گزشتہ قسط: ریاضی کے فارمولے سے اس بات کو آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے، مثلا ً اگر خوشی کے ان یارمونز کی سب سے بلند سطح کو دس نمبر دئیے جائیں تو کچھ لوگ جینیاتی طور پر ان ہارمونز←  مزید پڑھیے

خوشی کیا ہے ؟ (پہلی قسط )۔۔۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

آغاز میں یہ وضاحت کردینا ضروری ہے کہ دنیا میں جتنے بھی مذاہب ہیں(سوائے ایک کے) اور جتنے بھی فلسفہ ہائے زندگی ہیں (سوائے ایک کے)، یہ سب خوشی کی تعریف میں انسان کے احساسات کے قائل نہیں، بلکہ یہ←  مزید پڑھیے

دماغ و ہستی کی جدوجہد۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

انسان کی اصل حقیقت، اس کا وجود، اس کی ہستی ہے اور اپنے ہی وجود تک پہنچنے میں سب سے بڑی رکاوٹ انسان کا اپنا دماغ ہے، یہ بات مخلتف مذاہب نے اپنے اپنے رنگ میں انسان تک پہنچانے کی←  مزید پڑھیے

تخلیقی صلاحیتیں۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

قدیم یونانیوں کے مطابق انسانی روح دو حصوں میں منقسم ہے، ایک حصہ وہ خزانہ ہے جو خدائی وجدان سے بھر پور ہے، اسی کا نام تخلیقی صلاحیت ہے، اور دوسرا حصّہ اس خزانے یا صلاحیت کے اظہار کیلئے وقف←  مزید پڑھیے

نقوش۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

توہمات اور ایمان بظاہر ایک دوسرے کا متضاد ہیں، جہاں ایمان کا بسیرا ہو وہاں توہمات کیلئے کوئی جگہ باقی نہیں رہتی۔ اگر اس سادہ سے جملے پر یقین کر لیا جائے تو نتیجتاً ایمان کے دعویدار  کسی بھی قسم←  مزید پڑھیے

اندرونی تنازعات۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

انسانی ذات سات بنیادی ضروریات یا مطالبات کے گرد لپٹی ہے، یہ سات بنیادی ضروریات (مطالبات) – وجودِ فرد (ہونا )، عزتِ نفس ، خود انحصاری ، مظہرِ ذات ،احساسِ ملکیت ، سلامتی اور روحانیت ہیں، اس ہفت نکاتی نظام←  مزید پڑھیے

غوغائے مریضاں۔۔ڈاکٹر مختیار مغلانی

ایک آئینی سرکار ہے جس کی ذمہ داری ریاست کے مکینوں کو ان کے ریاستی حقوق فراہم کرنا ہے، ان حقوق کو سماجی، جسمانی یا کم از کم غیر روحانی کہا جا سکتا ہے، مگر یہ سرکار اپنی ذمہ داری←  مزید پڑھیے

پرواز کی کوتاہی۔۔۔ڈاکٹر مختیارملغانی

چالیس سالہ منیر بلوچ لگ بھگ دس سال اسلام آباد ائیر پورٹ پر پرندے مارنے , Bird shooter , کی ملازمت سے فارغ ہونے کے بعد اب گلگت بلتستان کے جنگلات میں جنگل دار ، Forester, کے فرائض انجام دینے←  مزید پڑھیے

صدارتی یا پارلیمانی نظام۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

نظامِ اقتدار سے مراد وہ ڈھانچہ ہے جس کے تحت کسی بھی ملک یا ریاست کے اعلی و مرکزی اداروں کا قیام، ان کی تنظیم ، ان کی ساخت، صلاحیت، کسی بھی جماعت یا گروہ کی معیادِ اقتدار، ان کے←  مزید پڑھیے

عالمی دہشت گردی کے اسباب۔۔۔۔ڈاکٹر مختیارملغانی

دہشت گردی کے اسباب کو مجرمانہ سرگرمیوں کی اقسام کے تناظر میں تقسیم کیا جانا چاہیے۔۔عام طور پر، وجوہات مندرجہ ذیل ہیں: 1۔ سماجی نا انصافی، قومی اور مذہبی پیچیدگیوں کا جمود ۔ لیکن یہاں ہر ناانصافی یا پیچیدگی الجھن←  مزید پڑھیے

مسئلہ کشمیر کا ممکنہ حل۔۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

بیسویں صدی کی تاریخ بین الاقوامی مسائل و تنازعات سے بھری پڑی ہے، ان تنازعات میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو آج دن تک حل طلب ہیں، لیکن ان تمام تنازعات میں سے کسی ایک کا بھی اس کے←  مزید پڑھیے

مارکسِزم، خونی یا معصوم ؟۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ لینن کے انقلاب و نفاذِ نظام میں موجود خونی عنصر کی بنیادی وجہ مارکس کے فلسفے کی “معصومیت” ہے، بنیادی سوال یہ ہے کہ مارکس سے کہاں غلطی ہوئی کہ جس کے نتائج←  مزید پڑھیے

برگِ تناسلی۔۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

کہانی کا آغاز آدم و حوا, بلکہ بنی نوعِ انسان، کے سقوطِ قسمت سے ہوتا ہے۔ اس اصطلاح ” سقوطِ قسمت “میں ہی کہانی کے تمام راز پنہاں ہیں۔ جب آدم اور حوّا نے معرفتِ خیر و شر کے مآخذ،←  مزید پڑھیے

فنونِ لطیفہ کی زبان۔۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

پیغام رسانی کے مقصد کے پورا ہونے کیلئے لازم ہے کہ پیغام بھیجنے اور پیغام وصول کرنے والے کے درمیان ایک مشترک وسیلہ یا ذریعہ ہو، اور یہ ذریعہ زبان ہے، اس بابت کوئی دو رائے نہیں، مگر یہاں ایک←  مزید پڑھیے

مچھلی سے گدھے تک ۔۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی/دوسری،آخری قسط

 جنرل ضیاءالحق کے دورِ اقتدار میں سب سے زیادہ نقصان نظامِ تعلیم کو پہنچا، عہدِ رفتہ کی عظمتوں اور امتِ مسلمہ کے سنہری دور کے گُن گانا ہی حقیقی قابلیت مانا گیا، جبکہ دورِ حاضر کے علمی تقاضے اور مستقبل←  مزید پڑھیے

مچھلی سے گدھے تک۔۔۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی/پہلی قسط

یہ ساٹھ کی دہائی کا اختتام تھا، رنگ پور گاؤں کے پانچ سو کے قریب گھرانے مقامی دریا کے کنارے آباد ،بلکہ شاد تھے۔ یہاں کی بہترین آب وہوا کا متبادل دنیا میں کہیں اور نہ تھا، مقامی افراد کا←  مزید پڑھیے

یورپ کا فرینکنسٹائن۔۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

اسٹیفن بنڈیرا (Stephen Bandera) نامی پولینڈ کا ایک نوجوان شہری، جو وزیرِ داخلہ کے قتل کی پاداش میں جیل میں اپنی زندگی کے دن گزار رہا تھا ، کہ دوسری جنگِ عظیم کے دوران جرمنی کے پولینڈ پر حملے کے←  مزید پڑھیے

حسِ رقابت۔۔۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

علامہ مرحوم کی یہ بات سر آنکھوں پر کہ تصویرِ کائنات میں رنگ، وجودِ زن کا مرہونِ منت ہے، مگر اس بات سے کون انکار کر سکتا ہے کہ وجودِ زن کی رنگینی میں عشّاق کا خونِ جگر شامل ہے،←  مزید پڑھیے

ابو جہل یا ابو لہب۔۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

ایک عمومی غلط فہمی یہ ہے کہ قرآن تمام انسانوں کیلئے ہدایت کا سرچشمہ ہے، ایسا ہرگز نہیں، قرآن کی ابتدائی آیت ہی اس فلسفے کی تردید کرتی دکھائی دیتی ہے ” ذلک الکتاب لاریب فیه هدی للمتقین ” یعنی←  مزید پڑھیے

جذباتیت اور نظامِ معاشرہ۔۔۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

انسانی جذبات کو ایک دلچسپ پہلو سے دو گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، جذبات کی ان دو میں سے کسی ایک قِسم کا اجتماعی اظہار معاشرے کی سمت کے تعین میں سب سے زیادہ پُر اثر واقع ہوا←  مزید پڑھیے