ڈاکٹر مختار مغلانی کی تحاریر

آپ کے امراض اور ان کا علاج۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

پہلی جنگ عظیم میں لڑنے والے فوجیوں کی نفسیاتی حالت پر محققین تشویش کا شکار ہوئے کہ جنگ ہمیشہ انسانی نفسیات پر غیر معمولی اثر رکھتی ہے، شروع میں ڈاکٹرز نے ان الجھنوں کو Battle Neuroses کا نام دیا، لیکن←  مزید پڑھیے

یادِ ماضی سے چھٹکارہ ،مگر کیسے؟۔۔ڈاکٹر مختیارملغانی

جذباتی حادثات وقت کے ساتھ چھوٹے عناصر میں تقسیم ہوکر دماغ کے ساحل سے ٹکراتے رہتے ہیں، نتیجے میں اس ساحل پر جذباتی حادثے سے متعلقہ جگہیں، شخصیات، جسمانی احساسات، بو ، رنگ، روپ وغیرہ اپنی اپنی علیحدہ زندگی جینا←  مزید پڑھیے

صارفیت ۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

سماج کو پیروی کیلئے ایک مثالی پیکر درکار ہوتا ہے، ایک وقت تھا جب مثالی شخصیت ایسی ہستیاں ہوا کرتی تھیں جو علم و ہنر میں ید طولی رکھتے تھے، آج ارب پتی افراد کو مثالی سمجھ کر ان کی←  مزید پڑھیے

حقیقت اور افسانہ۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

حقیقت کیا ہے اور کیا افسانہ ہے؟ اس سوال پہ لمبی بحثیں ہو سکتی ہیں اور ہوتی آئی ہیں، کسی محقق کا کہنا ہے کہ حقیقت کی ایسی کوئی شکل نہیں جو عقل سے پرے ہو، سائنس کے مطابق حقیقت←  مزید پڑھیے

سماجی ارتقاء کا سفر۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

معاشرے میں سائنسی انقلاب نے مذہبی بیانئے کا متبادل پیش کیا، اب امام یا پادری کی جگہ سائنسدان کی بات کو ذیادہ اہمیت دی جانے لگی، دانشور اشرافیہ کا جھکاؤ سائنسی محققین کی طرف ہونے لگا، یہ اور بات کہ←  مزید پڑھیے

موت کا سفر۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

زرخیز اذہان جنگ و اقتدار کے کھیل کو لے کر زندگی سے لڑتے آئے ہیں، یہ حیران کن امر ہے کہ ان کی اکثریت موت کے خلاف کیوں نہ اٹھ کھڑی ہوئی؟ اس سوال کے جواب کیلئے ہمیں موت کے←  مزید پڑھیے

کائنات اور انسان ۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

بیسویں صدی کے وسط میں اس نظریے کو حقیقت مان لیا گیا کہ کائنات جامد نہیں بلکہ متحرک ہے، لگ بھگ چودہ بلین سال قبل یہ ایک نقطے کی مانند تھی اور اپنے مخصوص اصولوں پر کاربند تھی، آج اس←  مزید پڑھیے

سپردگی ۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

سپردگی کا عمل فرد کی کامل زندگی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے، اس عمل کا ظہور صرف انفرادیت تک محدود نہیں بلکہ یہ سماج کی اجتماعی معاشرت میں بھی جڑ پکڑ سکتا ہے، مایوس کن بات یہ ہے کہ ایسے مظاہر ایک نسل سے اگلی نسل میں بھی منتقل ہوسکتے ہیں ۔←  مزید پڑھیے

سیاست، پروپیگنڈا اور شعوری انحراف۔۔ڈاکٹر مختیارملغانی

ہم خود سے جھوٹ بولتے ہیں اور ہمیں اس بات کا ادراک تک نہیں ہوتا, اس میں اچھنبے کی کوئی بات نہیں ، انسانی دماغ اسی طرح کام کرتا ہے۔ غلطیوں کو سمجھنا اور انہیں درست کرنا ہمارے اختیار میں←  مزید پڑھیے

خارجی ارادہ(2،آخری حصّہ)۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

ارادہ اپنی اصل میں خواہش اور عمل کا مرکب ہے، اپنی مدد آپ کے تحت مقصد کے حصول کی جدوجہد کا نام داخلی ارادہ ہے، ارادوں کی فعالیت کو بیرونی دنیا تک وسعت دینا البتہ مشکل تر ہے، یہی خارجی←  مزید پڑھیے

داخلی و خارجی نیّت(1)۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

داخلی ارادہ اور خارجی ارادہ (داخلی اور خارجی نیت) اس قدر وسیع اصطلاحات ہیں کہ ان کا احاطہ کرنا آسان نہیں، فرد اور سماج کے درمیان تعلق کی اہم ترین کنجی انہی تصورات کی تہہ میں موجود ہے، یہ الگ←  مزید پڑھیے

خواب اور زندگیاں۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

جب زندگی میں میسر مواقع حقیقت کا روپ دھارنے لگتے ہیں تو دوجانبی آئینے کی سطح پر ایک سمیٹریکل تصویر ابھرتی ہے، آئینے کے ایک جانب مابعدالطبیعیات کی دنیا سے منسلک خواہشات و خیالات ہیں جبکہ دوسری طرف انہی خواہشات←  مزید پڑھیے

تخلیقی صلاحیتیں۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

قدیم یونانیوں کے مطابق انسانی روح دو حصوں میں منقسم ہے، ایک حصہ وہ خزانہ ہے جو خدائی وجدان سے بھر پور ہے، اسی کا نام تخلیقی صلاحیت ہے، اور دوسرا حصّہ اس خزانے یا صلاحیت کے اظہار کیلئے وقف←  مزید پڑھیے

صدارتی یا پارلیمانی نظام۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

نظامِ اقتدار سے مراد وہ ڈھانچہ ہے جس کے تحت کسی بھی ملک یا ریاست کے اعلی و مرکزی اداروں کا قیام، ان کی تنظیم ، ان کی ساخت، صلاحیت، کسی بھی جماعت یا گروہ کی معیادِ اقتدار، ان کے←  مزید پڑھیے

کتاب ۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

ایک استاد صاحب کا سنہری فرمان ہے کہ ٹھوس/ کاغذی کتاب گویا کہ ایک جسم رکھتی ہے جبکہ برقی کتاب اپنی ماہیت میں بے جسم ہے، اسی بنا پر مطالعہ ہمیشہ کاغذی کتاب کا کرنا چاہیے کہ جسم کی حرارت←  مزید پڑھیے

اَنا اور عقلی شعور۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

انسان کی انا اور اس کا عقلی شعور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے آگے چلتے ہیں، البتہ ان دونوں میں واضح فرق یہ ہے کہ عقلی شعور مکمل طور پر حواس خمسہ کا محتاج ہے، اور اسی کو←  مزید پڑھیے

وقت اور انسانی شعور۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

صبح کا وقت نصابی کاروائیوں کیلئے معین ہے، غیر نصابی سرگرمیاں شام کو عمل میں لائی جاتی ہیں، نصابیات اپنی فطرت میں ثقیل، بدمزہ، غیر دلچسپ بلکہ کسی حد تک ڈراؤنی واقع ہوئی ہیں کیونکہ ان کا تعلق روزمرہ زندگی←  مزید پڑھیے

طناب گیر۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

منفی سوچ رکھنے والا فرد سمجھتا ہے کہ حالات کبھی بھی انسان کے قابو میں نہیں رہتے، زندگی کے نشیب و فراز میں ایسا شخص کامیابی کے کسی ٹیلے پر چڑھ بھی جائے تو اس کی نظر نیچے بچھی دلدل←  مزید پڑھیے

صحت کا پہلا اصول ۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

انسان صرف خیر کی کرنیں بکھیرتا ایک روحانی وجود ہی نہیں بلکہ مادی بنیاد پر ہر انسان زندگی سے بھرپور مائع کا ایک قطرہ ہے اور بڑھاپے سے مراد اسی قطرے کا ایسے ہی خشک ہو جانا ہے جیسے انگور←  مزید پڑھیے

مارکسِزم، خونی یا معصوم ؟۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ لینن کے انقلاب و نفاذِ نظام میں موجود خونی عنصر کی بنیادی وجہ مارکس کے فلسفے کی “معصومیت” ہے، بنیادی سوال یہ ہے کہ مارکس سے کہاں غلطی ہوئی کہ جس کے نتائج←  مزید پڑھیے