Salma Awan کی تحاریر

گھروندا ریت کا(قسط31)۔۔۔سلمیٰ اعوان

سلور گرے بالوں والے اُس اجنبی ٹیکسی ڈرائیور نے یہ قطعاً جاننے کی کوشش نہیں کی کہ اُڑی اُڑی رنگت والی وہ لڑکی جو حددرجہ ہراساں اور خوف زدہ سی نظر آتی ہے جس کا پہناوا اُسے برصغیر کے کسی←  مزید پڑھیے

راجند ر سنگھ بیدی کے آخری ماہ وسال۔۔سلمیٰ اعوان

راجندر سنگھ بیدی اُردو ادب کا ایک بے مثال نام جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک ایسا حقیقت پسند افسانہ نگار ہے جس کے ہاں قوت مشاہدہ اور قوت متخیلہ دونوں جواہر اپنی بھرپور توانائی اور←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط30)۔۔۔سلمیٰ اعوان

دونوں وقت ملتے تھے جب وہ برآمد ے میں آئی اور کُرسی پر بیٹھی۔ا ُس وقت پروائی ہوائیں اُس کے لان میں اُگے کیلوں اور پپیتے کے پتوں پر دھیرے دھیرے بہہ رہی تھیں۔نیلا شفاف آسمان قدرے سیاہی مائل نظر←  مزید پڑھیے

اور اگر میں تب ریپ ہوجاتی تو۔۔سلمیٰ اعوان

موٹر وے گینگ ریپ حادثے کو ہفتہ بھر سے زیادہ ہونے کو آیا ہے پر دل سے ویرانی اور طبیعت پرچھایا ڈپریشن ختم ہونے میں نہیں آ رہا۔تین بچوں کی ماں جو فرانس جیسے آزاد اور ترقی یافتہ ماحول میں←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط29)۔۔۔سلمیٰ اعوان

میں یہ شادی ضرور ایٹنڈ کروں گی۔ اُس نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔ آرام کرسُی میں دھنسے رحمان نے اُسے مسکرا کر دیکھا اور کہا۔ اگر میں اجازت نہ دوں تو……… اُس نے نٹنگ مشین روک کر بڑی شوخی←  مزید پڑھیے

میرے درد کا کوئی درماں ہو۔۔سلمیٰ اعوان

بیل بجی تھی۔40 کے پیٹے میں ایک سنجیدہ سی لڑکی نما خاتون نے دروازہ کھولا۔ دروازے پر ادھیڑ عمر کے ایک اے ایس آئی کے ساتھ ہیڈ کا نسٹیبل کو کھڑے دیکھ کر گبھرا ئے ہوئے تاثر اور سوالیہ نظروں←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط28)۔۔۔سلمیٰ اعوان

ایک ڈر پوک دبّو اور سہمے سہمے چہرے والی بیوی کی خواہش کبھی کبھار اُس کے سینے میں اُس وقت مچلتی تھی جب طاہرہ زندہ تھی اور کلب میں برج کھیلتے۔پینے پلانے یا اپنی کسی گرل فرینڈکے ساتھ کسی ہوٹل←  مزید پڑھیے

گمنام گاؤں کا آخری مزار اوررؤف کلاسرا۔۔سلمیٰ اعوان

جہلم کی بہت سی امتیازی خصوصیات ہیں۔تاہم میں سمجھتی ہوں کہ آنے والے وقتوں میں جہلم بک کارنر اِس شہر کا لینڈمارک بننے جا رہا ہے۔خوبصورت کتابوں کی بہترین اور دیدہ زیب اشاعت اور اُن سے متعلق تمام انتظامی معاملات←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط27)۔۔۔سلمیٰ اعوان

بچوں نے اُس کا ناک میں دم کردیا تھا۔جناح ایونیو کی دُکانوں سے ڈھیر سارے کھلونے خرید کر بھی وہ مطمین نہیں ہوئے تھے۔ اب وہ بیت المکرم کی طرف جانا چاہتے تھے۔خوقان وہاں سے ماؤتھ آرگن خریدنا چاہتا تھا۔وہ←  مزید پڑھیے

بی بی زینب کے حضور حاضری اور میرے رونے۔۔سلمیٰ اعوان

دمشق میں پہلا دن، پہلا کام، پہلا نشہ مزار اقدس بی بی زینب پر حاضری کے سوا کیا ہو سکتا تھا۔ہوٹل سے نکلتے ہی طلائی گنبدوں کی چمک نے آنکھوں کو خیرہ کیا۔ روضہ مبارک میں داخل ہونے سے قبل←  مزید پڑھیے

فلسطینیوں کے گھائل کرتے لفظ۔۔ سلمیٰ اعوان

کیسا ستم ہے یہ بھی کہ جب غیروں سے کچھ دلاسا اوراشک شوئی کی امید پیدا ہوئی تو اپنوں نے تیر برسانے شروع کردیئے۔یہ وقت بھی آیا کہ یورپی یونین اسرائیل کو تنبیہ کرتی ہے۔رک جاؤ بس اب بہت ہوگیا۔بہتیرا←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط26)۔۔۔سلمیٰ اعوان

رحمان کے دونوں بچے چھٹیاں گذارنے گھر آرہے تھے۔رات کو کھانا کھاتے ہوئے اُس نے کہا۔ ”بی ہومز کی پرنسپل کا خط آج آفس آیا تھا۔بچے درگا پُوجا کی چھٹیاں گذارنے کل دو بجے آرہے ہیں۔لیکن ایک مسئلہ درمیان میں←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط25)۔۔۔سلمیٰ اعوان

چیزوں میں جاذبیت اور کشش شایداس وقت تک رہتی ہے۔جب تک کہ اُنکا حصول دسترس سے باہر ہوتا ہے۔پر جونہی وہ مل جائیں۔روزمرہ زندگی میں اُنکا عمل دخل شروع ہوجائے۔توپھر اُن کی کشش ختم ہوجاتی ہے۔اہمیت کم ہو جاتی ہے۔سب←  مزید پڑھیے

بورس، اوسپ مینڈل اور سٹالن کی ہجو۔۔سلمیٰ اعوان

انتونینا روسی جرنلسٹ پاکستانی نژاد انجنیئر منصور کی بیوی ہے۔ ماسکو جاتے ہوئے منصور مجھے جہاز میں ملا تھا۔دونوں میاں بیوی سے دوستی ہوگئی۔انتونینا پاکستان کو اپنا دوسرا گھر مانتے ہوئے اس کے کلچر اور لوگوں سے لے کر اس←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط24)۔۔۔سلمیٰ اعوان

شاید تمہیں یادہو، شاید کیا یقیناً یاد ہوگا۔ آپا مختاراں کی شادی میں دیہاتی عورتیں لوک گیت گا رہی تھیں۔ سفید سوت کے بان سے بنی ہوئی چارپائی پر بیٹھی میں یہ لوک گیت سنتے ہوئے سوچ رہی تھی اور←  مزید پڑھیے

ترکی آگے بڑھے گایا پیچھے۔۔ سلمیٰ اعوان

اِن دنوں اردوان کی انتظامیہ اعتراضات، سوالات اور ڈھیر سارے خدشات کی زد میں ہے۔عالمی اور داخلی دونوں سطح پر محاذ کھل گئے ہیں۔معترضین کا پہلا اعتراض ڈیڈ کے جعلی ہونے پر ہے۔ دوسرا مذہبی امور کے سربراہ ڈاکٹر علی←  مزید پڑھیے

ہمارے وقتوں کی عیدیں۔۔سلمیٰ اعوان

”ہمارے وقتوں کی عیدیں چھوٹی عید جو ہم بچوں کی میٹھی عید، بڑی عید نمکین عید پھر محرم اور رمضان کی رونقیں بھئی کیا بات تھی اُن کی۔ وائے افسوس کہ اِن خوبصورت تہواروں سے وابستہ ثقافتی قدروں پر جھاڑو←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط23)۔۔۔سلمیٰ اعوان

یہ شب وروز افسانوی سے،رُومانوی سے اور گلیمرس سے بھرے پُرے تھے۔ صبح جب وہ تیار ہوکر خود کو قد آدم آئینے میں دیکھتی تو وقتی طور پر سب کچھ بھول جاتی۔لباس کی خوبصورتی پر نظریں نہ ٹھہرتیں۔جوہرات کی چمک←  مزید پڑھیے

میری بشری کمزوریاں حج میں بھی ساتھ رہیں۔۔سلمیٰ اعوان

سچی بات تو یہی ہے کہ اب اگر مجھے اس شدنی کا علم ہوتا کہ جونہی میں باب اجیاد کے صحن میں قدم رنجہ فرماؤں گی۔ میاں کے دل و دماغ میں جانے کب کا پکتا ہوا گلے شکووں کا←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط22)۔۔۔سلمیٰ اعوان

وہ سرُخ عرُوسی لباس پہنے بیٹھی تھی۔ قیمتی طلائی زیورات بھی اُس کے بدن کی زینت بنے ہوئے تھے۔ خوبصورت ہیروں کا بریسلٹ کلائی کا حُسن بڑھا رہا تھا۔ نفاست اور عمدگی سے کئے گئے میک اَپ نے چہرے کو←  مزید پڑھیے