Salma Awan کی تحاریر

گھروندا ریت کا(قسط18)۔۔۔سلمیٰ اعوان

اب یہ کہیں ممکن تھا کہ جادُو اور وہ بھی عشق کا بھلا سر چڑھ کر نہ بولے گا تو پھر کیا قدموں میں آہ وزاریاں کرتا پھرے گا۔ وہ اِس میدان کی کوئی تجربہ کار کھلاڑی تو تھی نہیں←  مزید پڑھیے

ایک خط خان کے نام۔۔ سلمیٰ اعوان

وہ سب اس کی چاہنے والیاں تھیں پر اب بہت مایوس تھیں۔سماجی فاصلے کا خیال رکھتے ہوئے اس کی ہجو لکھنے ایک گھر میں اکٹھی ہوئی تھیں۔اظہاریہ کا طریقہ کیا ہوگا؟اس پر بحث ہونے لگی۔ ایک نے رنجور لہجے میں←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط17)۔۔۔سلمیٰ اعوان

”میں چاہتا ہوں تم میرے ساتھ ایک پوری رات گزارو۔“ اُس وقت وہ باہر نظاروں میں گُم تھی۔ تاحدّ نظر دھان کے سر سبز کھیتوں کے پھیلاؤ نے دھرتی پر گہر ے سبزے کے جیسے قالین بچھا رکھے تھے۔ اِن←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط16)۔۔۔سلمیٰ اعوان

ایسا ٹائٹ شیڈول تھا کہ جس نے دو دنو ں کے گھنٹوں اور منٹوں کو جکڑ کر رکھ دیا تھا۔ ذرا دم لینے کی فرصت نہیں مل رہی تھی۔ بہتیرا چاہا کہ تھوڑی سی گنجائش کسی نہ کسی طر ح←  مزید پڑھیے

طارق عزیز پاکستان کا فخر ۔۔سلمیٰ اعوان

پاکستان سے دیوانگی کی حد تک پیار کرنے والا پاکستان کا بیٹا،پاکستان زندہ باد کے نعرے کو حرز جان بنانے والا کس موسم میں،کن دنوں میں ہم سے جُدا ہوا۔لاہور شہر کیا پورا پنجاب املتاس کے کچے پیلے رنگے لانبے←  مزید پڑھیے

ابن عربی سے تھوڑی سی شناسائی۔۔سلمیٰ اعوان

اس تحریر کو لکھنے کا محرک حسن نثار کا،16 جون کا کالم ہے۔اُن کے قارئین اُن سے ابنِ عربی کے بارے کچھ جاننے کے خواہش مند تھے۔”ارے“خود سے کہا میں تو اُس عظیم ہستی کے مزار پر حاضری کی سعادت←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط15)۔۔۔سلمیٰ اعوان

کیسی طوفانی بارش تھی۔ لگتا تھا جیسے آسمان کے سینے میں چھید ہو گئے ہوں۔ گھُلے ہوئے بادلوں میں سارا ماحول دُھواں دُھواں ساہو رہا تھا۔ہوا کے تیز تھپیڑے کسی پاگل جنونی کی طرح جو بپھرا ہوا اپنے شکار کا←  مزید پڑھیے

ہمارے رونے ہی رونے ۔۔سلمیٰ اعوان

کیا کروں کوئی ایک سیاپا ہے۔کوئی ایک رنڈی رونا ہے۔جدھر دیکھتی ہوں ادھر کروناکی آگ ہے جو ہر گھر کے اندر داخل ہو گئی ہے۔ہسپتالوں کے حالات کا کیا ذکر کروں اب جلنا، کڑھنا اور اپنا خون آپ پیناوالا معاملہ←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط14)۔۔۔سلمیٰ اعوان

”ٹھیک سے بیٹھو۔گھبرا کیوں رہی ہو؟ اور ہاں شیشہ نیچے کرو۔ تمہیں ٹھنڈی ہوا لگے۔“ اُس نے شیشہ آہستہ آہستہ نیچے کیا۔ اُس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ سختی سے بھینچے ہونٹ یوں بند تھے جیسے کبھی نہیں کھُلیں گے۔←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط13)۔۔۔سلمیٰ اعوان

” تُف ہے اِس لُتری پر۔“ اتنی لگائی بُجھائی کی اُس نے رحمان بھائی سے کہ خود چیزیں پہچانے کی بجائے اُس نے اُنہیں اِس چھمک چھلّو کے ہاتھ بھیج دیں اور وعدہ کرنے کے باوجودخود نہیں آئے۔ ٹام بوائے←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط12)۔۔۔سلمیٰ اعوان

چٹا گانگ کے اِس اعلیٰ درجے کے چینی ریستوران میں کھانا کھاتے ہوئے اُسے شدید خفّت کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ایسے کھانے اور کھانوں کے یہ ایٹی کیٹس بھلا اُس نے کب دیکھے اور کہاں سیکھے تھے؟ وہ تو←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط11)۔۔۔سلمیٰ اعوان

علی الصبح جاگنے کے بعد اُس کا سب سے پہلا کام چٹا گانگ اپنی فرم کے مینجر شمس الدین عُرف گورا کو فون پر اطلاع دینا تھا کہ وہ آج تقریباً دو بجے چاٹگام پہنچ رہا ہے اور یہ کہ←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط10)۔۔۔سلمیٰ اعوان

اُس وقت جب تیزی سے مغرب کو جاتے ہوئے سورج کی سنہری کرنیں کنٹین کی دیواروں کے لمبے لمبے شیشوں کے دریچوں سے چھن چھن کر اندر قطار در قطار رکھے فارمیکا کی چکنی شفاف میزوں کی سطح پر بکھرتے←  مزید پڑھیے

نیپلزسے خط،گریٹ پیپل ٹو فلائی وِد۔۔۔سلمیٰ اعوان

ایک اور المناک حادثہ۔کتنے اور ستم میرے دیس، میرے  اِس نیم بسمل جسم و جان پر۔وہ بھی کِس کمال کا تخلیق کار تھا۔وہی عمر قریشی، جس نے اسے Great people to fly withکا سلوگن دیا۔اوروہ بھی کیا عظیم مسافر تھی←  مزید پڑھیے

میری اماں۔۔سلمیٰ اعوان

میں اور اماں دو پکی گوڑی سہیلیاں اوپر تلے کی جیسے دو بہنیں ایک گھر میں مثل دو سوکنیں میرے بہت سے رشتوں کی ابتدا اور انتہا ان کی ذات سے شروع ہو کر ان پر ہی ختم ہوتی تھی←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط9)۔۔۔سلمیٰ اعوان

یہ پابندیوں اور روک ٹوک سے آزاد ایک خودمختار سی زندگی تھی جو ماضی میں بہرحال اُسے حاصل نہ تھی۔ وہ خواہشیں اور آرزوئیں جو ہمیشہ سینے میں مچلتی رہتی تھیں۔ اُنہیں وہ اِس اجنبی سرزمین پر بُہت شان سے←  مزید پڑھیے

ہم کرونا سے کوئی سبق نہیں سیکھ رہے۔۔ سلمیٰ اعوان

یقین کیجیے یہ میرا بیانیہ ہرگز نہیں۔ اس لیے عنایت ہوگی اگر لعن طعن کی سان پر چڑھائی نہ جاؤں۔سچی یہ تو چند دن پہلے کی مکالمہ بازی ہے اُن پانچ نوجوان ڈاکٹر بچیوں سے جو لاہور کے نامی گرامی←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط8)۔۔۔سلمیٰ اعوان

موسم تو ستم ڈھانے پر اُترا ہوا تھا۔ اِس شاندار کالج کے لمبے چوڑ ے سرسبزوشاداب ہرسُو طراوت اور تازگی کافرحت آگیں احساس بخشتے لان و موسم کے حُسن اور رعنائی کو اور قاتل بنارہے تھے۔ پچھمی ہوائیں سرو کے←  مزید پڑھیے

ہم سب کی صدیقہ آپا ۔۔۔سلمیٰ اعوان

میں نہیں جانتی تھی لینا حاشر صدیقہ آپا کی صاحبزادی ہیں اور حاشر ارشاد اُن کے بھانجے اور داماد۔ نیشنل بک فاونڈیشن اسلام آباد کے کتاب میلے میں ہم لاہور سے کچھ ادیب لوگ بھی شرکت کے لیے گئے ہوئے←  مزید پڑھیے

کچھ غم مشترکہ ہیں۔۔سلمیٰ اعوان

میرا پاکستانی رمضان تو ہمیشہ ہی ڈھول ڈھمکوں، نعتوں، گیتوں اور رمضانی تہذیبی رکھ رکھاؤ سے لدا پھندا ہوتا تھا۔ دمشق کی مونا عمیدی کا رمضان بھی اپنے رنگ ڈھنگ میں بڑا رنگ رنگیلا اور خوبصورتیوں سے مزین ہوتا تھا۔←  مزید پڑھیے