Syed Mohammad Zahid کی تحاریر

جنم ورودھی۔۔سیّد محمد زاہد

سکھیا اس کی دیوانی تھی۔ وہ ہیر گاتا تو کسی پجارن کی طرح اس کے بولوں میں کھو جاتی۔  قالوا بلی دے دینہہ نکاح بدھا روح نبی دی آپ پڑھایا ای قُطب ہو وکیل وِچ آ بیٹھا حکم رب نے←  مزید پڑھیے

شوگر ڈیڈی اور ٹرافی وائف۔۔سیّد محمد زاہد

وہ جھوٹی تھی۔ سدا کی جھوٹی۔ محبت کے سب دعوے جھوٹے تھے۔ میں زوردیتا  تو کہنے لگتی“میں تم سے شدید محبت کرتی ہوں اور تم مجھ سے۔ یہ محبت ہی شک میں مبتلا کرتی ہے۔میں نظریں نیچی کیے سنتا رہتا۔←  مزید پڑھیے

جنگلی گلاب۔۔سیّد محمد زاہد

گرچہ اس کی موت کی خبر بہت بعد میں ملی لیکن میرے لئے تو وہ اس سے بھی  پہلے مر چکا تھا۔ وہ جو کبھی میرے خیالوں سے اوجھل نہ ہوا، اس کی موت کی خبر سن کر بھی میرا←  مزید پڑھیے

گل ریگزار۔۔سیّد محمد زاہد

ریگستان صحرا کے شمال مغربی کنارے پر واقع بی بی جان کلا کی چھوٹی سی منڈی میں صبح سویرے سنگلاخ ٹیلوں پر مال سجا دیا جاتا۔ دور دراز سے آنے والے خریداروں کا ہجوم سارا دن موجود رہتا پھر بھی←  مزید پڑھیے

بن بیاہی بیوہ اور معلق بوسہ۔۔سیّد محمد زاہد

Nobel laureate John Glasworthy`s SALTA PRO NOBIS written in 1923 during the interwar period is that much related to the recent Afghan conflict and its effects on society. ”مشری مورہ! وہ بہت غمگین ہے۔ اپنے ہاتھوں کے کاسہ میں منہ←  مزید پڑھیے

چپڑ چپڑ۔۔سیّد محمد زاہد

”میرا خیال تھا کہ  آج وہ مجھے نظر انداز نہیں کر سکتا۔ ہائے ہائے! مجھے تو بتایا گیا تھا کہ وہ بڑا پرہیز گار ومتقی  عالم ہے۔ صرف پڑھنا پڑھانا ہی اس کا  واحد شوق ہے۔  استادالاساتذہ ہے۔ اُف اللہ!←  مزید پڑھیے

یہ گداز رس بھری گولائیاں۔۔سیّد محمد زاہد

  سنگ تراشی اس کا خاندانی پیشہ تھا۔ وہ اس فن کو عبادت سمجھتے تھے۔ اس کا والد کہتا تھا ہرٹیڑھے میڑھے پتھرمیں  ایک مورتی چھپی ہوتی ہے جسے فنکار ایک نیا جنم دیتا ہے۔ نسل در نسل وہ  گندھارا←  مزید پڑھیے