ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 3 )

باکو”آذربائیجان چلیں “(دوسری،آخری قسط)۔۔سید کلیم اللہ شاہ بخاری

آذربائیجان کے مقامی لوگ پاکستانیوں کی بہت عزت کرتے ہیں ۔ اگر آپ یہ بتائیں کہ آپ پاکستان سے آئے ہیں تو ضرور پیار بھرا ایک آدھ فقرہ بولنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن دیکھنے کی بات یہ ہے کہ←  مزید پڑھیے

بے روح۔۔عبداللہ خان چنگیزی

عظیم الشان محل میں چاروں طرف رنگینی بکھری ہوئی تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے وہاں موجود ہر شخص میری خوشی کے لئے ہی معمور کر دیا گیا تھا۔ میں ایک بڑی میز کے سامنے خوش پوش لباس میں ملبوس بیٹھا←  مزید پڑھیے

گل بوزا اور باقی چھ۔۔مشرف عالم ذوقی

کبھی آپ نے سوچا ہے کہ چلتے ہوئے ہم کہاں آ گئے ؟ یہ نئے ہندوستان کی کتھا ہے جہاں فرقہ واریت کے زہریلے شعلے نئی تہذیب کو جنم دے رہے ہیں ،آپ سے پڑھنے کی گزارش ہے۔۔ “How many←  مزید پڑھیے

انسداد دہشتگردی عدالت میں گواہی۔۔عزیز اللہ خان

یہ 1991 کی بات ہے تھانہ سہجہ میں نے بہت محنت کی جس کی وجہ سے ہر میٹنگ میں SSP رحیم یار خان اور DIG بہاولپور رینج کی طرف سے ہزاروں روپے نقد انعام اور تعریفی اسناد ملا کرتی تھیں۔اس←  مزید پڑھیے

ہم رنگِ مستان زیستن۔۔معین نظامی

فارسی کا ایک خوب صورت شعر بہت مشہور اور مقبول ہے۔ ضرب المَثَل کی حیثیت اختیار کر لینے والا یہ دل نشیں شعر گزشتہ تین چار صدیوں میں کسی نہ کسی مناسبت سے کئی قدیم و جدید صوفیوں، عالموں، شاعروں←  مزید پڑھیے

ماریشیس کے ساحل پر ​لایعنیت کی شاعری کا ایک نمونہ Absurd Poetry۔۔۔۔ڈاکٹرستیہ پال آنند

ایک لڑکا سر کے بل ایسے کھڑا ہے نرم گیلی ریت پر جیسے اسے آکاش کی اونچائی میں پانی سمندر کی اتھاہ گہرائی میں آکاش ساحل پر کھڑےلوگوں کے جمگھٹ سب کو اُلٹا دیکھنا ہے۔ آتے جاتے لوگ اس کے←  مزید پڑھیے

زن۔۔گُل رحمٰن

آج وہ دیوار گرا دی ہاں ! میں نے آخر ، وہ دیوار ہی گرا دی جو حصارتھی میرا اک طویل فصیل اونچی میرے شانوں سے قد آور ۔۔۔مجھے قید کیے جس میں مَیں ازل سے چُنی ہوئی تھی جہاں←  مزید پڑھیے

اے حَسَن کوزہ گر۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

اے حَسَن کوزہ گر کےReductio ad absurdum طریق کار سے ن۔ م راشد کی چار نظموں کے سلسلے کو سمجھنے کی ایک شعری کوشش۔(راشد کی نیک روح سے معذرت کے ساتھ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اے’’ حَسن کوزہ گر‘‘ کون ہے تُو؟ بتا←  مزید پڑھیے

روزہ نوش۔۔سلیم مرزا

روزہ خوری کے بھی اصول ہونے چاہئیں۔ چھ سالہ عائشہ میرے سامنے بیٹھی ڈبو بھگو کر بسکٹ کھارہی تھی، میں نے یونہی پوچھ لیا “آج روزہ نہیں رکھا “؟ اس نے مجھے حیرت سے اور ہاتھ میں پکڑے بسکٹ کو←  مزید پڑھیے

 بُک ریویو: نتھینیل ہاتھورن “سکارلٹ لیٹر۔۔۔جمال

یہ ایک ایسا معاشرہ ہے جو گنہگار کو ڈھکے چھپے نہیں رہنے دیتا۔ اس معاشرے کے مذہب  کا اصول تو یہ ہے کہ دوسرے کے عیوب اور برائیوں کی پردہ پوشی کی جائے لیکن ان لوگوں کی مذہبیت اس رواداری←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط7)۔۔۔سلمیٰ اعوان

”مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتی کہ اگر میں پیدا نہ ہوتی تو خدا کی اِ س وسیع کائنات میں کیا کمی رہ جاتی؟“ یہ دُھند اورکُہر میں ڈوبی ہوئی ایک صُبح تھی اور وہ  سکول جا رہی تھی۔ اُ←  مزید پڑھیے

عشق لاحاصل(دوسری ،آخری قسط)۔۔محمد خان چوہدری

شاہ جی کو ہر بزرگ کی طرح ایک برخوردار چاہیے تھا جو ان کی بیک گراؤنڈ سے واقف ہو اور ان کی کہانیاں شوق اور دلچسپی سے سنے۔ ہم ان کے سارے کولیگز  کو اپنے درجنوں فوجی انکلز کی معرفت ←  مزید پڑھیے

جو چلا گیا مجھے چھوڑ کے۔۔محمد اقبال دیوان

(مہمان تحریر) وضاحت: ہم نے یہ کہانی انسٹاگرام پر# quarantinestories @humansofnyکے ہیش ٹیگ کے سائے تلے انگریزی میں پڑھی۔ ایک کیفیت میں اسے لکھا سو بقول جگرمرادآبادی ع عشق کی داستان ہے پیارے میرا نام کیا ہے اس کی چنتا←  مزید پڑھیے

اس سے پہلے کہ۔۔۔رابعہ احسن

وینٹی لیٹر پر مشکل سے سانسوں کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے شخص کی آنکھیں آہستہ سے کھلیں مگر کمزوری کا ایسا حملہ ہوا کہ اس نے زبردستی زور سے آنکھیں بھینچ لیں۔ اکھڑتی سانسوں کے ساتھ سب سے آسان حل←  مزید پڑھیے

باکو”آذربائیجان چلیں “(قسط1)۔۔سید کلیم اللہ شاہ بخاری

آذر بائیجان کاکیشیاممالک میں سے ایک ہے جو یورپ اور ایشیا کے سنگم پر واقع ہے ۔ کاکیشیا کے باقی ممالک میں آرمینیا، جیورجیا، اور یوکرین  شامل ہیں۔ کاکیشیا در اصل ایشیا اور یورپ کے درمیان پہاڑی سلسلے کا نام←  مزید پڑھیے

عشق لاحاصل(قسط1)۔۔محمد خان چوہدری

پائیدار یاری اور دوستی تو طالب علمی کے زمانے کی ہوتی ہے، نہ کوئی غرض نہ مفاد بس ہم آہنگی، یکجا رہنے کی خواہش۔ ہم طالب علمی کا دور گزارنے کے بعد لاہور سے پنڈی آ گئے ۔ ہارلے سٹریٹ←  مزید پڑھیے

ساٹھ کی دہائی کی کچھ یادیں۔جدیدیت کی افرا تفری۔۔۔ستیہ پال آنند

۱۹۵۶ کے لگ بھگ میں بھی کچھ برسوں کے لیے جدیدیت کے ریلے میں بہہ گیا تھا ، میں نے بھی ایک نظم لکھی تھی ۔ میں نے جب اسے کناٹ پلاس میں کافی ہاؤس میں پڑھا، تو سریندر پرکاش←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط6)۔۔۔سلمیٰ اعوان

ماں جی کہا کرتی تھیں قیامت کے روز سُورج سوا نیز ے پر آ جائے گا۔ پر مجھے تو یہ آج ہی سوا نیز ے پر آیا ہوا لگتا ہے۔ جُون کی چلچلاتی دوپہر میں جب زمین بھٹی میں دانوں←  مزید پڑھیے

وائرس۔۔۔ربیعہ سلیم مرزا

سیاست کو گھر سے باہر رہنا چاہیے ،مگرعموماً  سیاست گھروں کے اندر بھی ہوتی رہتی ہے ۔عوامی سیاست سے صرف عوام کی جان جاتی ہے مگر خانگی سیاست ، دل اور جان دونوں کی بَلی لیتی ہے ۔گھر پہ زیاده←  مزید پڑھیے

ہم بے پردہ عورتیں۔۔ڈاکٹر شہناز شورو

عورت کی کوکھ سے نکلے حوروں کے پستان ناپتے مولوی بدکردار حاکموں کو نیکی کی سند بانٹتے مولوی ہمارے لباس سے ہمارے کردار جانچتے مولوی درباری مولوی، پیشہ ور مولوی جن کی زبان ہلتی نہیں بھوک سے بلکتےانسان دیکھ کر←  مزید پڑھیے