محی الدین نواب کا ناول ’’ہند سے یونان تک‘‘ تلخیص و تجزیہ /یحییٰ تاثیر(2،آخری حصّہ)

فیلقوس پر حملہ کروانے کا شک کئی افراد کے سر جاتا تھا۔ سب سے پہلا شک تو المپیاس پر کیا جاتا ہے کیوں کہ اس جیسی مکار عورت کو اس نے محل سے بے عزتی کے ساتھ نکال باہر کیا تھا اور وہ انتقام لینے کےلیے تڑپ رہی تھی۔ دوسرا شک سکندر پر کیا جارہا تھا کیوں کہ اس وقت ان دونوں میں بھی ناچاقی چل رہی تھی۔ تیسرا شک اطالوس اور قلوپطرہ پر تھاکیوں کہ اطالوس کو بھی ذلیل کرکے محل سے نکالا گیا تھا۔ لیکن یہ تمام الزامات بغیر دلائل کے تھے اس لیے لوگوں نے بات نہ بڑھائی۔المپیاس نےگلی کوچوں اور بازاروں میں تقاریر کرکر کے لوگوں کو مائل کیا کہ سکندر کسی دیوتا زیوس کا نہیں بلکہ  فیلقوس ہی کا بیٹا اور ولی عہد ہے۔ نہ آج تک کسی نے دیوتا کو دیکھا ہے اور نہ یہ انسانوں پر اُترتے ہیں ، یہ سب افواہیں اور تخیلات ہیں۔ وہ عورت جو دیوتا زیوس کے مندر کی خاص پجارن تھی آج اپنے مقصد کےلیے دیوی دیوتاؤں کو واہمہ کہہ رہی تھی۔ بالآخر لوگ قائل ہوگئے اور سکندر تخت نشین ہوا۔ اس کے بھائی بطلیموس نے بھی اس کی بادشاہت قبول کی اور کہا کہ تو باپ کی طرح معاملہ فہم اور عادل ہے میں تیری نگرانی میں رہوں گا۔ سکندر نے بھائی کو بھی فوج میں اعلیٰ کمان دار کا عہدہ دے دیا۔ اولمپیاس اس پر خوش نہیں تھی ۔ وہ سکندر کو بھڑکاتی رہتی کہ سوتیلا آخر سوتیلا ہی ہوتا ہے اسے اتنے بڑے عہدے پر فائز کرنا ٹھیک نہیں۔اس کے علاوہ اس نے اینٹی گونس، اینٹی پیٹر اور پارمینیو کو بھی فوج کے سالار کے عہدوں پر فائز کیا۔ ابتدا میں سکندر اتنا تجربہ کار نہیں تھا اس لیے لوگوں کی باتوں میں آجاتا تھا ۔ لیکن تھوڑا عرصہ گزرنے کے بعد اس نے تمام فیصلے اپنی مرضی کے مطابق شروع کیے۔

اگرچہ سکندر تخت سنبھالتے ہی اطالوس کو محل سے نکال باہر کرتا ہے لیکن محل کے اندر اب بھی غداریاں باقی ہوتی ہیں۔ قلوپطرہ سکندر کی مرضی سے اپنے بیٹے سمیت محل میں رہ رہی ہوتی ہے۔ اچانک اس کا بیٹا خواب گاہ سے غائب ہوجاتا ہے۔ قلوپطرہ سر پیٹتی ہوئی شور مچانے لگتی ہے۔ محل میں افراتفری مچ جاتی ہے۔ ملازم اور سپاہی تلاش شروع کرتے ہیں۔ سب سے پہلا شک اطالوس پر کیا جاتا ہے لیکن سکندر کہتا ہے کہ میرے پایہ تخت کی دیواریں اتنی کمزور نہیں ہیں کہ ایک جلا وطن غدار یہاں داخل ہوجائے۔ ایک ملازمہ آکر کہتی ہے کہ بچہ محل کے دوسری طرف جھاڑیوں میں پڑا ہے۔ لوگ وہاں پہنچتے ہیں ، پتا چل جاتا ہے کہ اس کا گلا دبایا گیا ہے۔ سکندر شدید پریشانی میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ محل اب بھی سازشوں سے بھرپور ہے۔ آخر میں یہ راز کھل ہی جاتا ہے کہ یہ کام الپمیاس ہی نے کیا ہے۔ سکندر اس افراتفری سے جان چھڑانا چاہتا ہے اس لیے پیلا کا انتظام اینٹی پیٹر کے حوالے کرکے مہم پر نکلنے کی تیاری شروع کرتا ہے۔ اس موقع پر اس کے استاد ارسطو نے کہا تھا، ’’مقدونیہ کا طالب علم ، اب تکمیلِ علم کی منزل میں داخل ہوگیا ہے۔‘‘(۵) باپ کے بغیر یہ سکندر کا پہلا مہم تھا۔

سب سے پہلے سرکش بربری قبائل کو اپنا باج گزار بنانا ضروری تھا۔ سکندر فوج کے ساتھ وہاں پہنچا۔ قبیلے والے پہلے سے جنگ کےلیے تیار تھے۔ پہاڑوں کے اوپر چھڑے تھے اور پتھروں کو نیچے سرکانے کےلیے تیار رکھا تھا۔ سکندر نے حکمت عملی اپناتے ہوئے بربری قبائل کو زیر کیا اور اپنی سلطنت میں شامل کیا۔ اس کے بعد منزل کا تعین کیے بغیر فوج آگے بڑھی اور ڈینیوب کے ساحل کے اس پار سلٹ قبیلے تک پہنچی۔ راتوں رات خاموشی سے پورے قبیلے کا محاصرہ کیا۔ پورا قبیلہ سو رہا تھا جب صبح لوگ بیدار ہوئے تو اپنے اردگرد فوج دیکھ کر حیران ہوئے۔ قبیلے کے سردار کو جب سکندر کی آمد کا پتا چلا تو وہ ان کی قدموں میں گر پڑا اور کہا کہ ہم دیوتا زیوس کے بیٹے کے آگےکچھ نہیں۔ سکندر مسکرایا اور دل ہی دل میں کہنے لگا کہ اس فتح کی وجہ المپیاس ہی ہے۔ یہ قبیلہ بھی بغیر لڑے سکندر کے زیرِ نگرانی آگیا۔ سکندر کا رویہ خون خواری کا نہیں تھا اس لیے وہ سب سے پہلےامن سے آبادیاں حوالے کرنے کا کہتا ، اس کے بعد جنگ کو ترجیح دیتا۔

فوج کے سپاہی کافی عرصے سےگھر والوں سے نہیں ملے تھے اس لیے آگے بڑھنے کو تیار نہیں تھے۔ اسی اثنا پیلا سے خبر آئی کہ قلوپطرہ کو بری طرح قتل کیا گیا ہے اور وہاں بغاوت پر لوگ آمادہ ہورہے ہیں۔ سکندر فوج سمیت پیلا پہنچ گیا۔ سکندر کو پتا تھا کہ یہ کام میری ماں کا ہے لیکن ماں کے خلاف وہ کیا کرسکتا تھا۔ دوسری طرف اطالوس لوگوں کو بھڑکا رہا تھا کہ سکندر اور المپیاس ظالم ہیں ، انھوں نے پہلے مجھے نکالا اور اب میری بھتیجی کو قتل کیا۔ یہ لوگ محل کے اندر امن قائم نہیں رکھ سکتے تو باہر کیا حکومت چلائیں گے۔ کافی لوگ اطالوس کی طرف ہوگئے تھے کہ اچانک کسی نے اطالوس کو زہر دے کر قتل کیا۔ یہ بھی المپیاس کا حمایتی تھا۔ اطالوس کے مرنے پر تمام بغاوتیں سرد پڑ گئیں اور لوگوں کو قائل کیاگیا کہ سکندر ہی اصل حکمران اور عادل بادشاہ ہے۔ اس کے بعد سکندر نے پھر پیلا میں اینٹی پیٹر کو اپنا نگران رکھا اور آگے بڑھنے کےلیے مہم کی تیاری شروع کرنے لگا۔ انھوں نے سپاہیوں کےلیے تنخواہیں مقرر کیں اس لیے فوج میں کافی اضافہ ہوا۔

سکندر اپنی فوج سمیت مہم پر روانہ ہوجاتا ہے اور مختلف ریاستوں، علاقوں، قبیلوں اور خطوں کو زیر کرتا ہوا آگے بڑھتا رہتا ہے۔ ایک علاقے کائی رونیا پہنچ جاتا ہے۔ اس علاقے میں پڑاؤ ڈالتا ہے۔ اسے اپنی کتابیں اور مطالعے کے دن یاد آجاتے ہیں۔ اپنے خیمے سےباہر نکلتا ہے تو اوپر پہاڑی پر بیٹھا ایک رنجیدہ سپاہی اسے نظر آتا ہے۔ سکندر اس کے قریب جاتا ہے تو وہ یوری پی ڈیز کی شاعری گنگنا رہا ہوتا ہے۔ سکندر اس سے دریافت کرتا ہے کہ تیری پریشانی کی وجہ کیا ہے؟ وہ اسے کہتا ہے کہ میں اپنے پیچھے بوڑھے ماں باپ، اور نئی نویلی دلہن کو چھوڑ آیا ہوں۔ میں سہاگ رات ہی پر مہم پر نکلا تھا اس لیے مجھے بیوی کی یاد آرہی ہے۔ سکندر کے دل میں خلش پیدا ہوجاتی ہے کہ کہیں میں بڑا گناہ تو نہیں کررہا ہوں؟۔ اس لیے وہ اعلان کرکے شادی شدہ سپاہیوں کو واپس گھر بھیج دیتا ہے اور ان سے کہتا ہے کہ جو نئے سپاہی بننا چاہتے ہیں ان کو فوج کی طرف بھیج دیا کریں۔

سکندر کا سامنا ایک برفیلی علاقے میں ایک قبیلے سے ہوجاتا ہے۔ اس قبیلے کو پہلے سے سکندر کی آمد کا پتا ہوتا ہے اس لیے اس کے لوگ برف جمنے سے پہلے ایک ناقابل تسخیر پہاڑی پر چھڑ جاتے ہیں۔سکندر اس کے سردار کی طرف پیغام بھیجتا ہے کہ ہماری حکمرانی قبول کرو ، تم کو امان دیا جائے گا۔ لیکن اس کا سردار بہادری کا مظاہرہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ دو دن بعد ہمارے پیچھے کمک پہنچنے والا ہے اور اس کے پہنچنے کے بعد ہم پیش قدمی کریں گے۔یہ قبیلہ چوں کہ انتہائی مشکل میں ہوتا ہے اس لیے سکندر اپنے سپاہیوں کے ذریعے اسے خوراک اور گرم بستر بھیج دیتا ہے۔ دو دن گزر جاتے ہیں لیکن کوئی کمک نہیں پہنچتا۔ اس قبیلے کا سردار آکر سکندر کے سامنے اپنی تلوار رکھ دیتا ہے۔اس کے بعد سکندر ایشیا کی طرف بڑھنے کا ارادہ کرلیتا ہے۔ قبیلے کا سردار سکندر کو کہتا ہے کہ گارڈیم نامی علاقے میں ایک بڑی بگھی کھڑی ہے اور اس کو بہت سختی کے ساتھ باندھا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جس بھی شخص نے اگر اس کو روانہ کیا تو وہ ایشیا کا ایک بڑا فاتح بن کر ابھرے گا، ایشیا جانے سے پہلے اگر اس آزمائش سے گزرا جائے تو اچھا ہوگا۔ سکندر اس کی طرف چلا جاتا ہے اور وہ بگھی کو روانہ کردیتا ہے۔ وہاں موجود لوگ اس کی دانائی اور بادشاہت کو ماننے لگتے ہیں۔ اس واقعے کے حوالے سے محی الدین نواب کہتے ہیں:
’’ مؤرخین کا بیان ہے کہ سکندر نے تماشائیوں کے سامنے شرمندگی سے بچنے کےلیے اس رسّے کو تلوار سے کاٹ دیا تھا جب کہ مؤرخ ہیرلیڈلیم نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ سکندر نے اس مقدس بگھی میں سے لکڑی کی ایک میخ نکال دی تھی، جس کے باعث وہ رسّہ ڈھیلا پڑ گیا اور اس کے دونوں سرے سکندر کے ہاتھ میں آگئے۔ یوں وہ اس مضبوط گرہ کو کھولنے میں کامیاب ہوا۔‘‘(۶)

سکندر آگے بڑھتا گیا اور اس کی فوج میں اضافہ ہوتا گیا۔ وہ ایک مقام پر پہنچ گیا جس کا نام سلشیا تھا۔ یہ ایک بڑا سرخی مائل صحرائی میدان تھا جس کی ایک طرف برفیلے پہاڑ دکھائے دے رہے تھے جن کو سکندر نے پار کیا تھا اور آگے کی طرف دور دراز میں کچھ نہ کچھ سرسبر درخت نظر آرہے تھے۔ فوج چلتے چلتے گرمی کی شدت کی وجہ سے کافی تھگ گئی تھی۔ ایک مقام پر پہنچ کر سکندر نے گھوڑے کو روک لیا اور تالاب میں اتر کر نہانے لگا۔ پانی میں کچھ اثر تھا جس سے سکندر کو شدید بخار ہوا۔ علاج کی کافی کوششیں جاری تھیں لیکن بخار تھا کہ مسلسل بڑھ رہا تھا۔ سکندر کو پالکی میں روانہ کیا گیا۔ علاج کےلیے ایک ماہر طبیب بلایا گیا۔ لیکن پارمینیو کی طرف سے خط موصول ہوا کہ جو طبیب ابھی ابھی علاج کےلیے آیا وہ اصل سکندر کو مارنے کےلیے شاہِ ایران دارا کی طرف سے بھیجا گیا ہے۔ اس کے باوجود سکندر نے اس کی بنائی ہوئی دوائی پی لی اور پھر اس کو وہ خط دکھایا جو پارمینیو نے بھیجا تھا۔ طبیب خط دیکھ کر چونگ گیا ، سکندر سے کہنے لگا کہ مجھے شاہِ ایران نے بھیجا تھا لیکن میں آپ کی شخصیت سے متاثر ہوا اور کسی غداری کی کوشش نہیں کی۔ طبیب سچ کہہ رہا تھا کیوں کہ دوائی میں کوئی زہر وغیرہ شامل نہیں کیا گیا تھا۔ سکندر نے طبیب کو خاص اطبا میں شامل کیا۔

اس کے بعد ناول میں سکندر اور ایرانیوں کے بیچ لڑی گئی جنگ اسوس کا ذکر آتا ہے۔ دارا کی فوج کو سکندر کی آمد کا پتا ہوتا ہے اس لیے یہ لوگ کافی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور سکندر کی فوج کو آگے پیچھے سے گھیر لیتے ہیں۔ دارا کی فوج ، مقدونوی و یونانی فوج سے تین گنا زیادہ ہوتی ہے۔ سکندر ایسی حکمت عملی کرتا ہے کہ دارا حیران رہ جاتا ہے۔ سکندر کی فوج ایک تنگ درّے کا رخ کرتی ہے اور جب دارا کی بڑی فوج سامنے آتی ہے تو زیادہ تعداد گویا ایک جگہ پر سمٹ آتی ہے، وہ اطراف سے حملہ نہیں کرسکتی۔ دارا کے سپاہی چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں بٹ جاتے ہیں اور سکندر کے تیر انداز اس پر مہارت سے تیر برسانا شروع کردیتے ہیں۔ اگر مقدونوی فوج سے بہ یک وقت ایک سپاہی تو ایرانیوں سے دس سپاہی کام آتے ہیں۔ اسی وقت دارا منصوبہ بندی کو تبدیل کرنے کی غرض سے تھوڑا پیچھے ہٹتا ہے ، اس کے سپاہی اسے دیکھ کر یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ دارا پیچھے ہٹ گیا ہے۔ اس لیے فوج بھی پیچھے ہٹ جاتی ہے اور سکندر ایک بڑی فتح حاصل کرلیتا ہے۔ایرانیوں کا چھوڑا ہوا ایک بڑا خزانہ سکندر کے ہاتھ لگتا ہے جسے وہ جنگِ اسوس میں شریک سپاہیوں میں تقسیم کرتا ہے۔

سکندر کی فوج میں موجود ،سپاہی ایرانیوں کی چھوڑی ہوئی عورتوں میں سے ایک لڑکی کی ساتھ زیادتی کردیتے ہیں جس کی خبر سکندر تک پہنچ جاتی ہے۔ سکندر سختی سے اس کی تفتیش شروع کرتا ہے کیوں کہ وہ عورتوں پر مظالم کے سخت خلاف ہوتا ہے۔ سپاہی سکندر سے کہہ دیتے ہیں کہ ہم اپنے خاندانوں سے دور ہیں اور عورت کا حصول ایک بڑی ضرورت ہے تمھیں بھی اب شادی کرلینی چاہیے۔ وہ سکندر سے یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ تمہاری شادی اس لیے بھی ضروری ہے کہ ایک ولی عہد پیدا کرلیا جائے۔ سکندر فکر میں پڑ جاتا ہے۔ بالاخر سکندر ایرانی فوج کی چھوڑی ہوئی ایک خوب صورت لڑکی برسین سے شادی کرلیتا ہے۔ برسین سکندر میں دل چسپی نہیں رکھتی اور ہاتھی دانت سے بنے ایک بند ڈبے میں کوئی چیز سنبھال کے رکھتی ہے۔ سکندر اس سے دریافت کرلیتا ہے تو پتا چل جاتا ہے کہ اس میں ایرانی فوج کے ایک جنگ جو کا محبت نامہ ہے جو برسین کے نام ہوتا ہے۔ اسی طرح کا راز دار ڈبّا سکندر کے پاس بھی ہوتا ہے جسے وہ بند رکھتا ہے۔ برسین کے کہنے پر وہ اسے بتا دیتا ہے کہ اس میں میرے استاد ارسطو کے اقوال محفوظ پڑے ہیں۔ اس کے بعد سکندر برسین کو ایک فوجی دستے کے ساتھ ایران بھیج دیتا ہے۔

سکندر اپنی فوج کو آگے بڑھاتا ہوا ایک ایسے مقام تک پہنچ جاتا ہے جس میں ہر جگہ سے آگ کے شعلے ابھرتے رہتے ہیں۔ اس آگ کے ہر خانے سے کالا گاڑھا مادہ بھی نکلتا ہے۔ سکندر اپنے ساتھ موجود ماہرین سے اس کے بارے میں دریافت کرتا ہے۔ وہ اس پر تجربہ وغیرہ بھی کردیتے ہیں ۔ بعد میں پتا چل جاتا ہے کہ یہ پیٹرول کی پہلی دریافت تھی۔ اس کے علاوہ سکندر جن علاقوں کو فتح کرتا ہے وہاں موجود انواع و اقسام کے نباتات جمادات اور انوکھے جانوروں کے نمونے بھی اپنے استاد ارسطو کے تجربہ گاہ بھیج دیا کرتا اور وہ اس پر تجربات کرتا رہتا۔ اس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ ارسطو وہ پہلا شخص ہے جس نے سائنسی بنیادوں پر تجربات کیے اور ایک نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کی۔ اگر اس کو سائنس کا مؤجد کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ یوں سکندر ایشیا میں قندہار اور کابل کے علاقوں سے گزرتا ہوا عظیم فتوحات کا سامنا کرتا ہے اور ان لڑائیوں میں ایک ٹانگ سے زخمی بھی ہوجاتا ہے۔

صحرائے سغد کے قلعے میں باختری قبیلے کے لوگ رہتے ہیں جب ان کو سکندر کے آنے کا معلوم ہوجاتا ہے تو وہ قلعے کو بند کرلیتے ہیں۔ سکندر قلعے کا جائزہ لیتا ہے لیکن اس کی دیواریں اتنی بلند اور مضبوط ہوتی ہیں کہ قلعے کے اندر جانا ناممکن ہوتا ہے۔ وہ قلعے کے سرداروں کو پیغام بھیجتا ہے کہ اپنے لوگوں کو باہر بھیج دو ان کو امان دیا جائے گا۔ سردار اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قلعے تک پہنچنا آپ کےلیے ممکن نہیں۔سکندر تدبیر کرتا ہے اور تین سو ماہر سپاہیوں کو تیار کرتا ہے جو رات کی تاریکی میں ایسی بلند کھڑی چٹانوں کو سر کرنے کا ارادہ کرتے ہیں جہاں سے زندہ آنا ممکن نہیں ہوتا۔ ان میں تیس سپاہی نیچے گہری کھائی میں گِر جاتے ہیں اور باقی قلعے تک پہنچ کر اس پر مقدونوی پرچم لہرا دیتے ہیں۔ قبیلے کے سردار اس انہونی کو دیکھ کر حیران ہوجاتے ہیں اور سکندر کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتے ہیں۔ سکندر کی فوج بڑھتے بڑھتے دریائے سندھ تک پہنچ جاتی ہے ۔ وہاں پر پہلے ہی سے دریائے سندھ کے آریائی باشندے سکندر کے استقبال کےلیے کھڑے ہوتے ہیں اور اس کی بادشاہت قبول کرلیتے ہیں۔ دریائے سندھ پر کشتیوں کا پل بنا کر اسے پار کرلیتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں داخل ہوجاتے ہیں۔ ہندوستان میں مقدونوی فوج مختلف قسم کے جانور اور درخت پودے دیکھ کر حیران ہوجاتے ہیں۔ ہاتھی کا سامنا جب کرتے ہیں تو دنگ رہ جاتے ہیں۔ روشنک کےلیے ایک ہاتھی کی پشت پر آرام دہ ہودا بھی باندھ دیا جاتا ہے۔ اسی طرح ایک بڑے چتکبرے سانپ اور لومڑی کے مماثل چیونٹی جو زمین سے سونا نکالتی ہے کو بھی دیکھ لیتے ہیں۔ اسی طرح سکندر کے ایک سپہ سالار پیوس ٹس کا بندر کے حوالے سے بیان دیکھیے :
’’ میں نے جنگل میں بہت سے چھوٹے چھوٹے قد کے آدمی دیکھے ہیں۔ وہ درختوں اور اونچے ٹیلوں پر رہتے ہیں ۔ انھوں نے گرمی کے باوجود پوستین پہن رکھی تھی۔ جب ہم ادھر سے گزرنے لگے تو انھوں نے ہم پر سنگ باری کی۔‘‘(۷)

اس کے علاوہ آدمیوں کی طرح بولتے طوطوں کو بھی انھوں نے دیکھا ۔ ان تمام چیزوں کے نمونے انھوں نے مقدونیہ بھی بھیجے تاکہ وہاں اس کی نسل کی افزائش ہوسکے۔ سکندر کی فوج نے ایک طویل عرصے سے گھر کو نہیں دیکھا تھا ۔ فوج تھگ گئی تھی اور بیوی بچوں، والدین کےلیے ترس رہی تھی۔ لیکن سکندر نے اسے مسلسل مشرق کی طرف بڑھنے کا حکم دیا۔ فوج دل چسپ نظاروں اور انوکھی چیزوں کو دیکھ کر تھوڑی بہت محظوظ ہونے لگی تھی۔ سکندر کےلیے اچھی بات یہ تھی کہ ہندوستان کے راجا بغیر لڑائی کے اس کی اطاعت کررہے تھے اور اس کےلیے کوئی رکاوٹ موجود نہیں تھی۔ بالاخر ایک دلیر اور بے باک راجا نے اس کا راستہ کاٹ لیا جو کہ راجا پورس تھا۔

راجا پورس کی حکومت دریائے جہلم کی دوسری پار تھی۔ سکندر نے راجا پورس کو ہلکا سمجھ لیا تھا جب کہ وہ ایک منظم اور طاقت ور راجا تھا۔ مسلح فوج ، گھڑ سوار اور ہاتھی اس کی فوج میں کافی مقدار میں تھے۔ اس وقت بارش زوروں پر تھی اس لیے چاروں طرف کیچڑ ہی کیچڑ پھیلا ہوا تھا۔ سکندر نے چالیں چلانا شروع کیا تھا۔ اس نے ویسے ہی اپنے سپاہیوں سے کہا تھا کہ گھوڑے پُر جوش انداز میں اِدھر اُدھر دوڑایا کرو تاکہ مخالف فوج سمجھیں کہ یہ لوگ حملہ کررہے ہیں۔ تین دن تک راجا پورس فوج کو متحرک سمجھ رہا تھا اور چاق و چوبند نگرانی کرتے کرتے تھگ گیا۔ آخر کار ایک خیمے میں بیٹھ گیا اور سپاہیوں کو اپنی نگرانی کےلیے مقرر کیا۔ اس کے بعد سکندر نے سلیوکس کو فوج کی کمان دی اور اسے کہا کہ ایک خیمے میں الاؤ روشن کرو تاکہ باہر سے مہم کی تیاری کرتے نظر آؤ۔ اسی دوران سکندر کچھ فوج سمیت دریا عبور کرنے لگتا ہے۔ ایک جزیرے پہنچ جاتا ہے ، پھر دوسرے جزیرے اور آخر میں شدید بارش کے باوجود دریا عبور کرتا ہے۔ لیکن کیچڑ میں فوج پھنس جاتی ہے ، اچانک پورس کی فوج حملہ کرتی ہے ، وہ بھی کیچڑ میں دھنسنے لگتی ہے۔ پورس کی فوج کو مار پڑتی ہے اور باقی بھاگ جاتی ہے۔

سکندر آگے بڑھ کر پورس کے ایک بڑےلشکر کا سامنا کرتا ہے۔ مزید فوج کو بلاتا ہے اور یوں گھمسان کا ر ن پڑتا ہے۔ ادھر سکندر کا وہ گھوڑا جس کا نام بیوسی فالسن ہوتا ہے ، جس نے سترہ سال تک سکندر کے ساتھ جنگیں لڑیں، مر جاتا ہے۔ سکندر ایک تازہ دم گھوڑے پر سوار ہوکر دشمن فوج کی صفوں کو چھیرتا ہوا مسلسل آگے بڑھتا رہتا ہے۔ اگرچہ اب بھی پورس کی فوج بھاری پڑ رہی ہوتی ہے کہ بطلیموس اور سلیوکس مہاوتوں کو تیر سے مارتے ہیں جن کے ہاتھی واپس پلٹ کر اپنے سپاہیوں کو روند ڈالتے ہیں اور جنگ کی کایا پلٹ جاتی ہے۔ پورس بھاگتا ہے ، سکندر اس کے پیچھے راجا امبھی کو سپاہیوں سمیت بھیجتا ہے وہ پورس کو گھیر لیتا ہے۔ سکندر وہاں پہنچ جاتا ہےلیکن وہ باہمت اور بے خوف کہتا ہے کہ غلامی کی زندگی قبول نہیں کروں گا۔ سکندر اس کی شخصیت سے کافی متاثر ہوجاتا ہے۔ دونوں مصافحہ کرلیتے ہیں اور پورس کو خود مختار حکومت کا کہہ دیتا ہے۔ پورس اس سے متاثر ہوجاتا ہے اور کہتا ہے ، تو وہ فاتح اعظم ہے جو صرف ملکوں کو نہیں دلوں کو بھی فتح کرلیتا ہے۔

سکندر نے اپنی مہارت اور سپاہیوں کی کارکردگی کی وجہ سے اب تک جہلم سے دریائے بیاس تک اڑتیس پہاڑی شہروں کو فتح کیا۔ اس کی فوج تھک چکی تھی۔ تقریباً آٹھ سال تک گھر سے دور رہی تھی اور واپس جانے پر امادہ تھی۔ سکندر نے اسے کافی سمجھایا لیکن کسی نے بات نہ مانی۔ انھوں نے سلیوکس کو ان علاقوں کا منتظم اعلیٰ بنا دیا تھا اور فوج سمیت واپسی کی راہ لی۔ فوج کے سپاہی کافی خوش تھے لیکن سکندر اس خوشی میں شریک نہیں تھا۔ ایک تو فوج پلٹ گئی تھی دوسرا یہ کہ اس کے پھیپھڑے میں تیر گھس گیا تھا جس کی وجہ سے وہ چلنے پھرنے کے قابل نہیں تھا۔ راستے میں یونانی حکما اور ہندوستانی وید اس کا علاج کررہے تھے۔

واپسی پر جاتے ہوئے سکندر کے ساتھ تھیسز کے ریاضی دان، بابل کے ستارے شناس، مجوسی اور ہندوستانی جوگی بھی موجود تھے۔ ان میں کیلی ناس نام کا ایک جوگی تھا جومعمولی کپڑا اور پینے کا ایک پیالا رکھتا تھا۔ سکندر اسے سہولیات دینا چاہتا تھا لیکن وہ قبول نہیں کرتا تھا۔ بدشگونی کی باتیں کرتا اور حقیقت کہتے ہوئے کسی سے نہیں کتراتا تھا۔ سکندر سے کہتا کہ تو نے دنیا کو نیست و نابود کیا اور ہزاروں لوگوں کو مار کر ماؤں، بیویوں اور بیٹوں کا نقصان کیا۔ وہ حکمت کی باتیں بھی کرتا تھا اس لیے سکندر نے اسے مشیر بنایا تھا۔ وہ سکندر سے کہتا ہے کہ تو نے سینکڑوں خطے فتح کیے لیکن تیرے حصے میں اتنی ہی زمین آئے گی جتنی ایک مرنے والے کو ملتی ہے کیوں کہ ہم سب اپنی ہی موت کی طرف سفر کررہے ہیں۔ آخر میں اس جوگی نے سکندر سے کہا کہ مجھے زندہ جلا دیا جائے ۔ سکندر نہ چاہتے ہوئے بھی اسے اس کام سے منع نہ کرسکا اور اس کو شاہانہ شان سے جلایا گیا ، سکندر اور اس کی پوری فوج نے اس کو سلامی دی۔

آگے جاتے ہوئے سکندر نے شاہِ ایران کروش کا مقبرہ دیکھا۔ یہ مقبرہ چاروں طرف سے بند کیا گیا تھا تاکہ اس میں موجود قیمتی اثاثہ اور سونا محفوظ رہے ۔ سکندر کے کہنے پر جب مقبرہ کھولا گیا تو اس سے تمام چیزیں چوری ہوئی تھیں صرف کروش کی لاش باقی تھی۔ ایران کی عظیم سلطنت کی بنیاد رکھنے والا اپنی قبر کی حفاظت کرنے سے بھی قاصر تھا۔اس کے بعد سکندر کی محبت روشنک کے ہاں ایک بیٹا ہوجاتا ہے ۔ سکندر سفر کی صعوبتوں کی وجہ سے روشنک کو بیٹے سمیت مقدونیہ بھیج دیتا ہے۔مقدونیہ میں سکندر کا نائب اینٹی پیٹر ہوتا ہے لیکن المپیاس اس سے خوش نہیں ہوتی۔ وہ سکندر کو شکایات بھیجتی رہتی ہے کہ اینٹی پیٹر نے مجھ سے تمام اختیارات لے لیے ہیں جب کہ دوسری طرف اینٹی پیٹر شکایتیں کرتا رہتا ہے کہ تمہاری ماں نے میرا جینا حرام کر رکھا ہے ۔ وہ حکومتی امور میں ٹانگ اڑاتی رہتی ہے۔ سکندر کو پتا ہوتا ہے کہ المپیاس کا کام حکومتی امور میں ٹانگ اڑانا اور مشکلات پیدا کرنا ہے۔ بعد میں المپیاس سکندر کو پیغام بھیجتی ہے کہ اینٹی پیٹر مطلق العنان بادشاہ بن گیا ہے۔ سکندر تفتیش کرتا ہے تو قاصد المپیاس کی ڈر کی وجہ سے اس کے حق میں شہادت دیتا ہے۔

اس کے بعد سکندر اینٹی پیٹر کی قید کا حکم کرتا ہے ۔ ایک مہینے بعد پیٹر کا بیٹا کیسنڈر وہاں پہنچتا ہے اور سکندر سے کہتا ہے کہ میرا باپ اس طرح نہیں ہے اس پر بے جا الزامات لگائے گئے ہیں۔ سکندر اینٹی پیٹر کو رہا کرنے کا کہتا ہے لیکن ناگن المپیاس قید خانے میں اسے اتنی تکالیف دیتی ہے کہ وہ وہیں مر جاتا ہے۔ پیٹر کا بیٹا بغاوت شروع کرتا ہے اور لوگوں سے کہتا پھرتا ہے کہ میرا باپ عادل بادشاہ تھا۔ اس نے امن قائم کیا تھا، اس کی حکومت میں کبھی بھی رشوت، چوری اور لڑکیوں کو کسی نے اغوا نہیں کیا۔ اب ظالم المپیاس کی حکومت میں ہر جگہ قتل و غارت اور ڈاکے جاری ہیں، لڑکیاں اغوا ہورہی ہیں۔ سکندر کی فوج ختم ہوگئی ہوگی جو سپاہی زندہ ہوں گے وہ بھی بری طرح زخمی ہوں گے۔ کیسنڈر کی بغاوت دلائل پر مبنی تھی اس لیے لوگ حکومت کے خلاف ہورہے تھے۔ اسی اثنا سکندر پہنچ جاتا ہے ، ہزاروں سپاہی غائب ہوتے ہیں اور سینکڑوں بری طرح زخمی۔ لیکن سکندر حالات پر قابو پاتا ہے ۔ وہ متاثرین کو مراعات اور نوکریاں دیتا ہے جس سے لوگ خاموش ہوجاتے ہیں۔

سکندر کو تیز بخار ہوجاتا ہے۔ یہ بخار روز بہ روز بڑھتا جاتا ہے۔ وہ بستر پر آجاتا ہے۔ اس کے مداح روتے ہوئے محل میں داخل ہوتے ہیں۔ لیکن سکندر اٹھنے کے قابل نہیں ہوتا۔ آخر میں تو ایسی حالت ہوجاتی ہے کہ کسی کو پہچانتا بھی نہیں۔ بالاخر بتیس سال اور آٹھ مہینے کی عمر میں دنیا کو فتح کرنے کی غرض سے نکلا ہوا یہ بہادر جنگ جو موت کی گھاٹ اتر جاتا ہے۔ اس کی تدفین کرتے وقت لوگوں کو اس جوگی کی باتیں یاد آجاتی ہے کہ ’’ تو دنیا کے آخری سرے تک فتوحات کے جھنڈے گاڑتا جا لیکن تیرے مقدر میں صرف اتنی ہی زمین ہے، جتنی ہر مرنے والے کو ملتی ہے۔‘‘(۸)
سکندر کی آمد پر کیسنڈر بھاگا ہوتا ہے لیکن اس کی موت کے بعد پھر بغاوت کی آگ بھڑکاتا ہے اور محل پر حملہ آور ہوتا ہے۔ وہ ڈر رہا ہوتا کہ میں سانپوں کو پالنے والی کی محل میں داخل ہوا ہوں۔ المپیاس اپنی بہو اور اس کے بیٹے کو خفیہ راستے پر روانہ کرتی ہے اور خود کیسنڈر کو روکنے کےلیے اس کے سامنے کھڑی ہوجاتی ہے۔ وہ جس بھیانک صورت میں کیسنڈر کے سامنے کھڑی ہوتی اس سے المپیاس کی شخصیت آشکارہ ہوجاتی ہے۔ محی الدین نواب لکھتے ہیں :
’’اس کے گردن سے ایک سانپ لپٹا ہوا تھا۔ کمر سے ، شانوں سے، دونوں ہاتھوں سے اور دونوں ٹانگوں سے ہی سانپ لپٹے ہوئے تھے۔ وہ دروازے سے باہر آئی تو سب ہی اس سے دور ہونے لگے۔‘‘(۹)

اس کے بعد کیسنڈر اس میں تیر پیوست کرتا ہے اور اس کے سپاہی روشنک اور بیٹے کو واپس لے آتے ہیں۔ ان تینوں کو پانی میں ڈبو کر مار دیا جاتا ہے۔ یہ اس سکندر کے خاندان کا حال ہوتا ہے جسے لوگ فاتح اعظم کے نام سے جانتے ہیں۔ جس نے سینکڑوں ریاستوں اور ہزاروں لوگوں کو مار کر وسیع و عریض سلطنت بنانی چاہی۔ یہ وہ سکندر اعظم تھا جس کی آمد کی خبر سنتے ہی راجا، سردار اور بادشاہ پہلے سے ہی اس کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتے۔ آج اس کا خاندان ایسے حال میں تھا کہ اس کو دو گز زمین بھی میسر نہ آئی۔

ناول کے منظر نامے سے کئی باتیں سامنے آتی ہے۔ سب سے پہلا مظہر وہ قوت النسا ہے، جو اقتدار پانے، ایک عورت کا دوسری کی برتری کو برداشت نہ کرنے، گھمنڈ ، غرور اور انا سے جنم لیتا ہے۔ سکندر جو کہ کتابوں کا دلدادہ اور مطالعے کا شوقین تھا ، سے سکندر اعظم بنانے میں اس کی ماں(عورت) کا ہاتھ ہوتا ہے۔ اسی طرح سکندر اور بطلیموس یعنی بھائیوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی جڑ ان کی مائیں ہی ہوتی ہیں۔ مختصر یہ کہ یہ وہ قوت ہے جو تخت کا تختہ بنا دیتی ہے۔

دوسرا اہم نکتہ اس ناول میں ارسطو اور اس کے فلسفیانہ نظریات ہیں۔یہ نظریات سکندر اور اس کے بھائی بطلیموس کو پڑھاتے وقت کبھی مخفی تو کبھی عیاں انداز میں سامنے آتے ہیں۔ ارسطو اگرچہ افلاطون کا شاگرد خاص تھا لیکن اپنے استاد سے بعض نظریات میں اختلاف بھی رکھتا تھا۔ افلاطون یوٹیوپیائی نظریات کا حامل فلسفی تھا جس نے عالم مثال کا تصور پیش کیا تھا اور فلسفہ اعیان کی بنیادرکھی تھی۔ ارسطو اپنے استاد کے اس نظریے کو ماننے کےلیے تیار نہیں تھا۔ وہ تصورات سے زیادہ تجربات اور مشاہدات پر یقین رکھتا تھا۔ ناول کے اندر سکندر اور بطلیموس کو بھی بار بار سمجھاتا رہتا ہے کہ ان چیزوں پر یقین رکھو جو حقیقت کے زیادہ قریب ہو اور جن کا تجربہ و مشاہدہ آپ لوگوں نے کیا ہو۔ اس لیے وہ اپنے شاگردوں سے کہتا رہتا ہے کہ دیوی دیوتااور پریاں تخلیق کاروں کے ذہن کی اختراعات ہیں ، آج تک کسی نے بھی ان چیزوں کا مشاہدہ نہیں کیا ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

تیسرا اہم نکتہ اس ناول میں سکندر کی زندگی اور اس کا خاندانی پس منظر ہے۔ یہاں محی الدین نواب نے وہ تاریخی حقائق بیان کیے ہیں جو روایتی تاریخ میں نظر نہیں آتے۔ سکندر جیسے فاتح کی ماں کا جو منظر ناول نگار نے بیان کیا ہے وہ حیران کردیتا ہے کہ آیا مائیں ایسی زہریلی بھی ہوسکتی ہیں جو اپنے بیٹے کےلیے اپنے شوہر، سوتیلی اولاد، سوکنوں اور دوسرے انسانوں کو قتل کرنے سے بھی نہیں کتراتیں۔ اس کے علاوہ سکندر کے حوالے سے حیران کن حقائق کا بیان بھی اس ناول کو ایک اہم تخلیق ثابت کرتا ہے۔
حوالہ جات
۱ ) محی الدین نواب، ہند سے یونان تک، ص ۱۷
۲ ) ایضاً، ص ۹۸
۳ ) ایضاً، ص ۹۹
۴ ) ایضاً، ص ۱۸۷
۵ ) ایضاً، ص ۱۹۶
۶ ) ایضاً، ص ۲۱۳
۷ ) ایضاً، ص ۲۳۴
۸ ) ایضاً، ص ۲۵۲
۹ ) ایضاً، ص ۲۵۴

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply