منصور ساحل کی تحاریر
منصور ساحل
اردو لیکچرر گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج چارسدہ ایم فل اردو (ادب اور سماجیات) مدیر برگ ادب

ادب ادیب اور سیاست/منصور ساحل

ادب اور سیاست دونوں انسانی سماجی زندگی کے اہم حصے ہیں ان دونوں کی بنیادیں انسانی معاشرتی زندگی میں پیوست ہیں ۔ لفظ “سیاست کے لغوی معنی ملک کی حفاظت و نگرانی ،حکومت و سلطنت،انتظام ملک،بندوبست اور نظم و نسق←  مزید پڑھیے

ساز ہستی (دو ناولٹ) ایک مطالعہ/منصور ساحل

دوستو سکی نے کہا تھا “تاہم یہ سوال رہتا ہے کہ ایک ادیب عام لوگ یعنی بے حد معمولی قسم کے افراد کو کس طرح پیش کرے کہ اس کے قارئین ان میں دلچسپی لے سکیں یہ تو ناممکن ہے←  مزید پڑھیے

خالد سہیل ملک کی افسانوی شعریات (مون سون کے تناظر میں)-منصور ساحل

اکیسویں صدی کے آغاز میں بے قلعی منفیت ، ثنویت ،بے سمتی، یک منزلہ سفر کی تکرار ، ذہنی نارسائی ، شناختی بحران اور مختلف نفسیاتی کمپلیکس  انسانی ساخت کا مرکز بن کر تمام علمیاتی انقباض کی از سر نو←  مزید پڑھیے

ادب ،ادیب اور سماج /منصور ساحل

تاریخی اوراق پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان غاروں میں رہائش پذیر تھا اور اپنی ضروریات کومحدودپیمانے پر پورا کرتا تھا ۔اِن ضروریاتِ زندگی کو پورا کرنے کے لیےاِس انسان نے دوسرے انسانوں کے ساتھ میل جول←  مزید پڑھیے

شکور جان کی شعری کائنات(1)-منصور ساحل

جو لو گ حقیقی اور اور یجنل قابل ہوتے ہیں وہ حیات کے ہر میدان میں اتر جائے جیت ان کے قدم چومتی ہے استاد محترم شکور جان کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے۔شکور جان ظاہری و باطنی طور←  مزید پڑھیے

اردو نظم اور معاصر انسان ” از ڈاکٹر طارق ہاشمی/تجزیہ و تنقید: منصور ساحل

یہ کتاب اردو نظم میں انسان کی پیش کش کے تصورات پر مشتمل ہے پیش لفظ میں ڈاکٹر طارق ہاشمی نے پوری کتاب کا مختصر تعارف اور اردو نظم میں تصور انسان کے حوالے سے مختلف سوالات اور خدوخال واضح←  مزید پڑھیے

ناصر عباس نئیر کی کتاب “نئے نقاد کے نام خطوط”کا تجزیاتی مطالعہ/منصور ساحل(3)

 گزشتہ اقساط کا لنک ناصر عباس نئیر کی کتاب “نئے نقاد کے نام خطوط”کا تجزیاتی مطالعہ گیارھواں خط ابتدا میں مرزا عبد القادر بیدل کے شعر کے علاوہ اووڈ اور چارلس بادلئیر کی نظمیہ شاعری شامل ہے۔ پینٹنگ میں خشک←  مزید پڑھیے

خمیازہ کی تفہیم/منصور ساحل

ترقی پسند تحریک کے بعد آزاد نظم کی ترویج اور اس کو علامتییت کالباس پہنانا جدیدیت کی دین ہے۔ کیونکہ اس نئے رویے نے نہ صرف مروجہ ہیئت سے بغاوت کی بلکہ شعر کی نئی تفہیم و نئے شعور کا←  مزید پڑھیے

ناصر عباس نئیر کی کتاب “نئے نقاد کے نام خطوط”کا تجزیاتی مطالعہ/منصور ساحل(2)

پہلے حصّے کا لنک ناصر عباس نئیر کی کتاب “نئے نقاد کے نام خطوط”کا تجزیاتی مطالعہ/منصور ساحل(1) چھٹا خط خط کے آغاز میں بابا فرید کا شعر ترجمہ(میرا جسم تنور کی مانند تپ رہا ہے جس میں ہڈیوں کا ایندھن←  مزید پڑھیے

ناصر عباس نئیر کی کتاب “نئے نقاد کے نام خطوط”کا تجزیاتی مطالعہ/منصور ساحل(1)

یہ کتاب نئے نقاد کے نام خطوط پر مشتمل ہے اس کتاب میں شامل ہر خط تخلیقی ادب سے شروع ہوتا ہے چوں کہ فن/آرٹ بھی ان خطوط کا موضوع ہے، اس لیے اکثر خطوط کے آغاز میں تصویریں شامل←  مزید پڑھیے