لبِ خنداں سے نکل جاتی ہے فریاد بھی ساتھ۔۔۔ بشارت وارثی

بدقسمتی سے زمین کا وہ ٹکڑا ہمارا مسکن ہے کہ جس کی آبیاری کو ہم نے پانی نہیں اپنا لہو بھی پیش کیا ولیکن وہ ہنوز بنجر کا بنجر ہی رہا۔  یہاں پہ کوئی مذہبی ہوا یا ملد ہر دو طبقات اپنی اپنی انتہاؤں پہ ہی کھڑے پائے گئے، برداشت تو گویا ہم لوگوں میں مفقود ٹھہری۔ اس بونوں کی بستی میں اگر کوئی دراز قدر پیدا ہوا بھی تو اسے زمین میں گاڑ کر اپنے برابر ہونے پہ مجبور کیا گیا اور اگر اتفاق سے کوئی “نابغہ” اترا بھی تو اسے “کافر” یا اس نے دوسروں کو “کافر” قرار دینے کے سوا کچھ نہ کیا۔

میں الحاد کے کسی اگلے درجے سے لوٹا ہوا ایک ادنیٰ سا مسلمان ہوں جسے اللہ کریم کے فضل نے بچا لیا،

بخدا مجھے علماء کا دشمن مت سمجھا جائے لیکن کیا کروں ان خداوندانِ مکتب کی شکایت کس سے کروں ؟  یہاں مجھ ایسے ہزاروں لوگ ہیں جو اپنی جبینوں پہ الجھنیں لیے سراپا سوال بنے پھرتے ہیں۔ انکے سوالات عجیب و غریب ضرور ہوتے ہیں جن کے جواب ہمارے نام نہاد ملاؤں سے اگر نہ بن پڑی  تو انہیں ایک ہی چیز ملتی ہے اور وہ ہے کفر کا فتوی، ہمارے علماء (چند ایک کو چھوڑ کر) کو شلواروں کی لمبائی اور ہاتھ ناف سے اوپر یا ناف سے نیچے بندھوانے سے فرصت ملے تو وہ اس طرف توجہ فرمائیں، کوئی ہاتھوں میں ٹوکا لیئے “سلطان راہیانہ” تبلیغ میں مصروف ہے تو کوئی حسین لوگوں سے دعائیں کروانے میں مشغول، کوئی اپنے مسلک کے علاوہ باقی سب کو مشرک ٹھہرانے پہ بضد ہے تو کوئی پوری دنیا میں اسلام کو بزورِ شمشیر نافذ کرنے کا ٹھیکیدار بنا ہوا ہے

اسلام جس کے معنی ہی امن اور سلامتی کے ہیں اسکا وہ روپ دنیا کے سامنے رکھ چھوڑا گیا ہے کہ اسلام کا نام سن کر ہی مہذب دنیا کے لوگ ہم سے خوف زدہ ہو جاتے ہیں، اس میں قصور سرار ہمارا اپنا ہے ہم کب تک اسے “یہودیوں کی شازش” قرار دے کر اپنی جان چھڑاتے رہیں گے۔

جس رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کا ہم کلمہ پڑھ رہے ہیں اسکا فرمان عالیشان ہے کہ “مسلمان وہ ہے جسکے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ ہیں”

آئیں آج صرف اسی کسوٹی پہ خود کو تول کر دیکھ لیتے ہیں کلمہ نمازیں حج ذکاتیں ایک طرف رکھ کر اپنے ضمیر سے پوچھ کر دیکھیں کہ کیا ہمارے ہاتھ اور زبان سے کوئی نامحفوظ تو نہیں؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو آپکو مسلمانی مبارک ہو اور اگر نفی میں ہے تو شرم سے پانی پانی ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کیوں کہ “مسلمان” صرف وہی ہو سکتا ہے جسکے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ ہوں ، باقی معاملات تو دور کی باتیں ہیں، بقول شاعرے

“یہ شہادت گہہِ الفت میں قدم رکھنا ہے

لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *