مریخ کا انسان(1)-ڈاکٹر حفیظ الحسن

مریخ کے ملک “جزیرو” کے باسی اس وقت بقا کی جنگ لڑ رہے تھے۔ اُنکے پاس محض دو سال کا وقت تھا۔ دو سال بعد ایک شہابِ ثاقب جو زمین کے مدار میں گھوم رہا تھا، کو زمین کے چاند کی کشش نے دھکیل کر مریخ کی جانب بھیجنا تھا ،جو سیدھا انکے ملک کو تباہ کر سکتا تھا۔ یہ شہابیہ قطر میں 40 کلومیٹر کا تھا اور مریخ کی فضا گو کہ اب اس میں آکسیجن کا تناسب زیادہ تھا اور اسکی رگڑ سے بہت سے چھوٹے شہابیے ٹکڑے ٹکڑے ہو کر تباہ ہو جاتے، یہ شہابیہ اسکی فضا میں رگڑ کھا کر مکمل بھسم نہیں ہو سکتا تھا۔ فیصلے کا وقت کم تھا۔ جزیرو کے صدر ہیلیریا جو آرٹفیشل انٹیلیجنس کا حامل روبوٹ تھا، نے جلد فیصلہ کرنا تھا۔ اس روبوٹ کو جزیرو کے انسانوں اور روبٹس نے مل کر صدر بنایا تھا ۔ اس خوبی کے باعث کہ ہیلیریا نہایت سمجھدار اور ٹھیک فیصلے کرنے کی صلاحیتیں رکھتا تھا۔ ہیلیریا مریخ پر رہنے سے پہلے مشتری کے چاند یوروپا پر ایک شہر کا مئیر رہ چکا تھا۔ وہ نظامِ شمسی کے دیگر سیاروں اور چاند پر کئی منصوبوں کی سربراہی بھی کر چکا تھا۔ہیلیریا کا تجربہ 200 سال کا تھا۔ ہیلیریا کا موٹو مریخ کو زندگی کے لیے آئیڈیل سیارہ بنانا تھا تاکہ دیگر سیاروں اور کہکشاؤں سے بھی انسان اور روبوٹ وہاں آ کر بسیں اور مریخ کی ترقی میں کوشاں ہوں۔ اس حوالے سے ہیلیریا نے پچھلے برس مریخ کے سائنسدان روبوٹس اور انسانوں کے ساتھ مل کر ایک سپیس ایلیویٹر مکمل کی تھی جو مریخ سے لیکر اسکے سب سے بڑے چاند فوبوس تک جاتی تھی۔ یوں مریخ سے خلاؤں میں جانا آسان ہو چکا تھا۔
ہیلیریا نے مریخ کو بچانے کا ایک ہی راستہ ڈھونڈا تھا جو سب سے محفوظ اور قابلِ عمل تھا اور وہ یہ کہ زمین پر ایک مقام پر راکٹ نصب کر کے اسے اس شہابیے کے قریب سے گزار جاتا تاکہ اس راکٹ کی معمولی سی کشش ِ ثقل کے باعث شہابیے کا راستہ تبدیل ہو جاتا اور یہ مریخ سے نہ ٹکراتا۔ شہابیے تک مریخ سے راکٹ بھیجنا ناممکن تھا۔ وجہ یہ تھی کہ شہابیے کا راستہ مسلسل تبدیل ہو رہا تھا اور مریخ سے بھیجا جانے والا راکٹ کا شہابیے کے قریب سے گزرنے کا امکان مشکل ہو رہا تھا۔ اس لیے بہتر اور محفوظ راستہ یہی تھا کہ پہلے زمین پر لینڈ کیا جائے اور پھر وہاں سے راکٹ شہابیے کے قریب سے گزارا جائے۔

Advertisements
julia rana solicitors

زمین اب سورج کے زیادہ قریب تھی۔ وہاں زندگی ختم ہو چکی تھی۔ درجہ حرارت پانچ سو ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔اربوں سال پہلے انسان زمین پر ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث وہاں سے نقل مکانی کر کے مریخ پر بس چکے تھے۔ اب زمین پر جا کر وہاں کے وسائل سے ہی راکٹ بنانا تھا اور اسے خلا میں شہابیے کی جانب چھوڑنا تھا۔ یہ راکٹ بنانے کے لیے کاپر اور کرومائیٹ کی ضرورت تھی جو آج سے اربوں سال قبل زمین کے ایک علاقے میں وافر مقدار میں پائے جاتے تھے جو اُس زمانے میں زمین کے برِ اعظم ایشیا کے سب سے بڑے گلیشئیر کے نیچے بہتے دریا کی وادی میں تھا۔ یہ وادی سندھ کی وادی تھی۔جزیرو کے روبوٹ صدر نے دیگر اہم عہدوں پر فائز روبوٹس اور انسانی نمائندوں کی صدارت میں اہم اجلاس بلایا۔ اس مشن میں روبوٹ بھیجنا خطرناک تھا کیونکہ روبوٹس گو مصنوعی ذہانت کے حامل اور سخت حالات میں کام کرنے کے قابل تھے تاہم اس وادی میں موجود کرومائٹ کی خطرناک حد تک اضافی مقدار سے روبوٹ جلد خراب ہو سکتے تھے۔اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ وہاں انسانی مشن بھیجا جائے۔ ایک ایسا انسان جسکے آباؤاجداد اُس علاقے سے تعلق رکھتے ہوں۔ کیونکہ اُنکے ڈی این اے میں ایک جینز موجود ہوگا جو اس وادی میں موجود مٹی میں موجود کرومائٹ کی خطرناک مقدار سے انہیں بچائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حارث جزیرو پر اپنے کھیتوں میں روور سے کھیتی باڑی میں مصروف تھا۔ اُسکی بیوی آرمینہ روبوٹ کی مدد سے مریخ کی مٹی سے آلو نکال رہی تھی۔ اس سال فصل اچھی ہوئی تھی۔ جب سے سپیس الیویٹر بنی تھی، مریخ کے سب سے بڑے چاند فوبوس کا مریخ کے گرد مدار کچھ بدل گیا تھا۔ اب مریخ پر چاند گرہن اُنکی زمینوں کے قریب نہیں ہوتا تھا۔ اس لیے سورج کی روشنی زیادہ گھنٹے پڑتی۔
جاری ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply