سائنس    ( صفحہ نمبر 2 )

سگمنڈ فرائڈ اور انسانوں کا نفسیاتی ارتقاء۔۔۔۔ڈاکٹر خالدسہیل/قسط4

انسانی ارتقا ءکے کئی رخ’ کئی حوالے اور کئی جہتیں ہیں۔چارلز ڈارون نے انسانوں کے حیاتیاتی اور جسمانی ارتقا پر روشنی ڈالی۔ ڈارون کی سوچ اور فکر کو جن دانشوروں نے آگے بڑھایا ان میں سے ایک اہم نام سگمنڈ←  مزید پڑھیے

موت کیاچیز ہے؟۔۔۔۔ادریس آزاد

موت کو اس لیے خوفناک رکھاگیاہے کہ اگر اِس کی دلکشی حیاتِ ارضی پر عیاں ہوتی تو حیات کی  بقا ناممکن تھی ۔ ہرکوئی خوشی سے مرنا چاہتا اور یوں سب ہی مرجاتے۔ میں اکثر کہا کرتاہوں کہ خودکشی کو←  مزید پڑھیے

انسانی ارتقا کے راز۔ مذہب ’ فلسفے اور سائنس کے آئینوں میں۔۔۔۔ڈاکٹر خالد سہیل/قسط3

چارلز ڈارون اور زندگی کا ارتقا! پچھلی چند دہائیوں میں جب بھی میں نے مختلف مکاتبِ فکر کے مردوں اور عورتوں سے ڈارون کی زندگی اور نظریہِ ارتقا ء کے بارے میں تبادلہِ خیال کیا تو مجھے یہ جان کر←  مزید پڑھیے

معدومیت کی دریافت۔۔۔۔وہارا امباکر

ڈائنوسار کے کھلونے سے کھیلنے والا چھوٹا بچہ بھی جانتا ہے کہ دنیا میں ایسے جاندار موجود رہے ہیں جو اب نہیں۔ چند صدیاں پہلے تک ایسا کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ ارسطو کے “جانوروں کی←  مزید پڑھیے

انسانی ارتقا کے راز۔ مذہب ’ فلسفے اور سائنس کے آئینوں میں۔۔۔۔ڈاکٹر خالد سہیل/قسط2

1-سٹیون ہاکنگ اور کائنات کا ارتقا! سٹیون ہاکنگ اکیسویں صدی کے معزز اور محترم سائنسدانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان  کی سائنسی پیشین گوئی کہ بلیک ہول ایک خاص طرح کی ریڈئیشن خارج کرتی ہے، اب درست ثابت ہو گئی←  مزید پڑھیے

کورو، سست وائرس اور پاگل گائے ۔ کچھ نوبل انعام۔۔۔۔۔۔وہارا امباکر

آخر میں آ کر مریض چھوٹی سے چھوٹی بات پر ہنس پڑتا تھا۔ ہنس ہنس کر دہرا ہو جاتا تھا، گر پڑتا تھا۔ اس سے پہلے کی علامات سستی، سردرد، جوڑوں کا درد وغیرہ تھیں اور چلتے ہوئے بے ڈھنگی←  مزید پڑھیے

مستقبل کی دنیا کیسی ہو گی۔۔۔۔۔نیّر نیاز خان

آج سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کی وجہ سے ہماری دنیا بدل کر رہ گئی ہے۔ اطلاعاتی نظام سیکنڈوں میں ہزاروں میل کا سفر طے کرتے ہوئے باہمی اور اجتماعی روابط میں تیزی لانے کا سبب بن رہا ہے۔ مالیاتی←  مزید پڑھیے

انسانی ارتقا کے راز۔ مذہب ’ فلسفے اور سائنس کے آئینوں میں۔۔۔۔۔ڈاکٹر خالد سہیل/قسط1

انتساب دانائی کی تلاش میں اپنے ہمسفر ڈاکٹر بلند اقبال کے نام ؎ اپنی پہچان کرنے نکلا تھا ایک عالم سے روشناس ہوا عارفؔ عبدالمتین ؎ فیض تھی راہ سر بسر منزل ہم جہاں پہنچے کامیاب آئے فیضؔ احمد فیض←  مزید پڑھیے

سوچ کیا ہے؟۔۔۔وہارا امباکر

جانوروں کے پاس دماغ کیوں ہے؟ اس کا جواب کار پوپر کے الفاظ میں یہ ہے کہ “زندگی مسائل کا حل تلاش کرنے کا نام ہے”۔ پوپر کے یہ الفاظ بائیولوجی کے نقطہ نظر کے عکاس ہیں، جس میں جانوروں←  مزید پڑھیے

جینیات کی ابتدا۔۔۔۔۔وہارا امباکر

رف اور آگ۔ یہ انجام ان دو سائنسدانوں کے کام کا تھا جنہوں نے جینیات کی پہلی بڑی دریافتیں کی تھیں۔ ان دونوں میں کئی چیزوں کی مماثلت تھی۔ دونوں کی موت کسی کے لئے خبر نہیں تھی، کوئی آنکھ←  مزید پڑھیے

چند پہیلیاں ۔ سوچ کی لچک۔۔۔۔۔وہارا امباکر

اگر آپ پہیلیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں تو پہلے آپ کے حل کرنے کے لئے چار سوال۔ ایک شخص کتاب پڑھ رہا ہے کہ بجلی چلی جاتی ہے۔ کمرے میں گھپ اندھیرا ہو گیا ہے لیکن وہ شخص کتاب پڑھنے←  مزید پڑھیے

تاثر کیسے انسانی تعلقات میں مداخلت کرتا ہے؟۔۔۔۔ایم جبران عباسی

انھوں نے کوشش کی بات کو سمیٹیں ، مختصر لفظوں میں اپنا مدعا بیان کیا ، بے جا ’’ میں میں ‘‘ سے پرپیز برتا ، اپنی شخصیت کا مبالغہ آمیز تاثر چھوڑنے کی کوئی کوشش نہ کی ۔ اور←  مزید پڑھیے

سائیکل سے مریخ تک۔۔۔۔وہارا امباکر

کیرالہ کے ساحل پر مچھیروں، جھونپڑیوں، ناریل کے درختوں کے گاوٗں پر ڈاکٹر وکرم کی نظر پڑی۔ یہ تھمبا کا گاوٗں تھا جو خطِ استوا کے قریب ہے اور یہاں پر خطِ استوا کے الیکٹروجیٹ زمین سے 110 کلومیٹر اوپر←  مزید پڑھیے

پوئسان سپاٹ۔۔۔۔ادریس آزاد

اگرہم ایک ٹارچ سے سامنے والی دیوار پر روشنی ڈالیں تو ظاہر ہے دیوار روشن ہوجائےگی۔ اگر ہم ٹارچ کی روشنی کے راستے میں ایک فٹبال لے آئیں تو دیوار پر فٹبال کا سایہ بنے گا۔ اس کا مطلب ہے←  مزید پڑھیے

خزاں کے رنگ۔۔۔وہارا امباکر

گرمی ختم ہو رہی ہے۔ درخت اپنے سبز پتوں کو زردی میں بدلنے لگے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ تھک گئے ہیں اور موسم کے ختم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ اب آرام کا وقت ہے۔ جیسے بھالو←  مزید پڑھیے

آسٹریلیا کی آبادی کیوں کم ہے؟۔۔۔۔وہارا امباکر

آسٹریلیا رقبے کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا سب سے بڑا ملک ہے۔ انڈیا کے مقابلے میں دگنے سے بھی زیادہ اور پاکستان سے نو گنا بڑا ملک، جس کی آبادی اڑھائی کروڑ ہے۔ اتنا بڑا ملک اتنا غیر آباد←  مزید پڑھیے

چاکلیٹ ،کیمسٹری۔۔۔۔۔وہارا امباکر

ڈارک چاکلیٹ کا ایک ٹکڑا منہ میں رکھیں اور کچھ دیر رکھا رہنے دیں۔ کچھ دیر کو اس کے سخت کونے زبان اور منہ میں محسوس ہوں گے۔ اس کو چبانے کا دل کرے گا لیکن نہیں، ذرا ٹھہر چائیں۔←  مزید پڑھیے

زمین سو سال پہلے تک خوفناک سیارہ تھی۔۔۔ضیغم قدیر

وہ سیارہ جہاں صرف ہیضے کی وجہ سے سو سال میں چار کروڑ سے زائد لوگ مرے،جہاں صرف بیسویں صدی میں چیچک کی وجہ سے تین سو ملین جی ہاں تیس کروڑ لوگ مرے۔ وہ سیارہ جہاں مردہ خوری کی←  مزید پڑھیے

عیدی ۔ سائنس کی نگاہ سے۔۔۔۔وہاراامباکر

عید کا ایک مزا اور ایک روایت عیدی ہے۔ اس پر ملنے والے نئے اور کڑکتے نوٹ، جن کی اپنی ہی مہک اور آواز ہوتی ہے۔ اس کی خاص وجہ ان کا میٹیریل ہے جو کاغذ کی سب سے للچا←  مزید پڑھیے

حیاتیاتی ارتقا ۔ چند غلط فہمیاں۔۔۔۔۔۔وہارا امباکر

“جو آج حقیقت تسلیم نہیں کرتا، اس کے پاس ماضی تو ہو سکتا ہے، مستقبل نہیں” پہلی غلط فہمی ۔ ارتقا ۔ تھیوری یا فیکٹ؟ تمام جانداروں کا ایک مشترک جد سے نکل کر ایک لمبے عرصے میں زندگی کی←  مزید پڑھیے