سائنس    ( صفحہ نمبر 2 )

شیشہ ۔ ہر اہم چیز نمایاں نہیں ہوتی۔۔۔ وہارا امباکر

سلیکون اور آکسیجن سے مل کر بننے ولا سلیکا ریت کا سب سے بڑا جزو ہے اور دنیا میں وافر مقدار میں کوارٹز کی صورت میں موجود ہے۔ یہ ایک کرسٹل کی صورت میں ہوتا ہے۔ برف کو پگھلائیں تو←  مزید پڑھیے

سمارٹ فون ڈسپلے کی ”نیلی روشنی“آنکھوں کی تکلیف کا سبب۔۔۔حمزہ زاہد

آنکھوں کے ماہرین نے ایک نئی سائنسی تحقیق میں آنکھوں کے مسائل جیسے کہ سبز موتیا (glaucoma)، دبیدار اپکرش (macular degeneration)اور ڈیجیٹل ڈیوائسزکے ڈسپلے جیسے کہ سمارٹ فون وغیرہ میں براہ راست تعلق دریافت کیا ہے۔ انسانی آنکھ سفید روشنی←  مزید پڑھیے

ذہنیت کا شیرازہ۔۔اسکزوفرینیا۔۔۔۔۔۔۔گوہر تاج

ستر اور اسّی کی دہا ئی میں پروین بابی کا شمار بالی وڈ کی مقبول ترین اداکاراؤں میں تھا۔ شوخ و چنچل، گلیمر سے بھر پور، بے باک ہیروئن۔ باوجود شہرت کی بلندیوں پہ پہنچ جانے کے، وہ بتدریج پردہ←  مزید پڑھیے

انسانی ارتقا ءکے راز۔ مذہب ’ فلسفے اور سائنس کے آئینوں میں۔۔۔۔ڈاکٹر خالد سہیل/ساتویں ،آخری قسط

انسانیت ایک دوراہے پر! ایک امن پسند انسان دوست ہونے کے ناطے جب میں انسانوں کے صدیوں کے ارتقا ء کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انسانیت اکیسویں صدی میں ایک دوراہے تک آ←  مزید پڑھیے

وہمی کبوتر۔۔۔وہارا امباکر

بی ایف سکنر نے 1947 میں کبوتروں کے ساتھ بہت طرح کے تجربات کئے جو جانوروں کی نفسیات سمجھنے کے لئے بڑا اہم قدم تھا۔ ان میں سے ایک تجربے میں پنچرے میں بند کبوتروں کے آگے ایک بٹن لگا←  مزید پڑھیے

کیا مستقبل سبز ہے؟۔۔۔۔وہارا امباکر

ہم اپنی تاریخ میں ٹیکنالوجی کے ذریعے دنیا بدلتے آئے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی دو طرح کی رہی ہے۔ سبز اور گرے۔ سبز ٹیکنالوجی میں بیج اور پودے ہیں، باغ اور کھیت، گھوڑے اور بکریاں، دودھ اور پنیر، شہد اور ریشم،←  مزید پڑھیے

پہلے منگلیان، پھر چندریان اور اب گگن یان۔۔۔محمد شاہ زیب صدیقی

اس داستان کا آغاز 12 سال پہلے ہوتا ہے جب بھارت نے اکتوبر 2008ء میں “چندریان 1” لانچ کیا ، جس نے چاند کے گرد چکر لگاتے ہوئے چاند پہ موجود معدنیات کا جائزہ لیا، بعدازاں اسی ڈیٹا کی مدد←  مزید پڑھیے

انسانی ارتقا ءکے راز۔ مذہب ’ فلسفے اور سائنس کے آئینوں میں۔۔۔۔ڈاکٹر خالد سہیل/قسط6

انسانوں کا فلسفیانہ ارتقا میں ان تمام انسانوں کو‘ جو دوسرے انسانوں سے محبت سے پیش آتے ہیں اور ان کی خدمت کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں‘ انسان دوست سمجھتا ہوں اور ان کا تہہِ دل سے احترام کرتا←  مزید پڑھیے

ایجادات کا گڑھ۔ ساتھ والا کمرہ۔۔۔۔۔وہارا امباکر

زندگی کی پیچیدگی کہاں جنم لیتی ہے؟ اچھوتے خیالات کہاں سے آتے ہیں؟ زبانیں کہاں سے بدلتی ہیں؟ نئی رسمیں کہاں سے شروع ہوتی ہیں؟ ایجادات کہاں سے آتی ہیں؟ ان سب کا ایک ہی جواب ہے اور وہ ہے←  مزید پڑھیے

انسانی ارتقا کے راز۔ مذہب ’ فلسفے اور سائنس کے آئینوں میں۔۔۔۔ڈاکٹر خالد سہیل/قسط5

یووال ہراری اور انسانوں کا سماجی ارتقاء میری یہ خوش بختی ہے کہ میرے بہت سے ادیب، شاعر اور دانشور دوست ہیں جن کی تخلیقات اور مشوروں سے میں استفادہ کرتا رہتا ہوں۔ پچھلے دنوں میرے دوستوں نے مشورہ دیا←  مزید پڑھیے

سگمنڈ فرائڈ اور انسانوں کا نفسیاتی ارتقاء۔۔۔۔ڈاکٹر خالدسہیل/قسط4

انسانی ارتقا ءکے کئی رخ’ کئی حوالے اور کئی جہتیں ہیں۔چارلز ڈارون نے انسانوں کے حیاتیاتی اور جسمانی ارتقا پر روشنی ڈالی۔ ڈارون کی سوچ اور فکر کو جن دانشوروں نے آگے بڑھایا ان میں سے ایک اہم نام سگمنڈ←  مزید پڑھیے

موت کیاچیز ہے؟۔۔۔۔ادریس آزاد

موت کو اس لیے خوفناک رکھاگیاہے کہ اگر اِس کی دلکشی حیاتِ ارضی پر عیاں ہوتی تو حیات کی  بقا ناممکن تھی ۔ ہرکوئی خوشی سے مرنا چاہتا اور یوں سب ہی مرجاتے۔ میں اکثر کہا کرتاہوں کہ خودکشی کو←  مزید پڑھیے

انسانی ارتقا کے راز۔ مذہب ’ فلسفے اور سائنس کے آئینوں میں۔۔۔۔ڈاکٹر خالد سہیل/قسط3

چارلز ڈارون اور زندگی کا ارتقا! پچھلی چند دہائیوں میں جب بھی میں نے مختلف مکاتبِ فکر کے مردوں اور عورتوں سے ڈارون کی زندگی اور نظریہِ ارتقا ء کے بارے میں تبادلہِ خیال کیا تو مجھے یہ جان کر←  مزید پڑھیے

معدومیت کی دریافت۔۔۔۔وہارا امباکر

ڈائنوسار کے کھلونے سے کھیلنے والا چھوٹا بچہ بھی جانتا ہے کہ دنیا میں ایسے جاندار موجود رہے ہیں جو اب نہیں۔ چند صدیاں پہلے تک ایسا کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ ارسطو کے “جانوروں کی←  مزید پڑھیے

انسانی ارتقا کے راز۔ مذہب ’ فلسفے اور سائنس کے آئینوں میں۔۔۔۔ڈاکٹر خالد سہیل/قسط2

1-سٹیون ہاکنگ اور کائنات کا ارتقا! سٹیون ہاکنگ اکیسویں صدی کے معزز اور محترم سائنسدانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان  کی سائنسی پیشین گوئی کہ بلیک ہول ایک خاص طرح کی ریڈئیشن خارج کرتی ہے، اب درست ثابت ہو گئی←  مزید پڑھیے

کورو، سست وائرس اور پاگل گائے ۔ کچھ نوبل انعام۔۔۔۔۔۔وہارا امباکر

آخر میں آ کر مریض چھوٹی سے چھوٹی بات پر ہنس پڑتا تھا۔ ہنس ہنس کر دہرا ہو جاتا تھا، گر پڑتا تھا۔ اس سے پہلے کی علامات سستی، سردرد، جوڑوں کا درد وغیرہ تھیں اور چلتے ہوئے بے ڈھنگی←  مزید پڑھیے

مستقبل کی دنیا کیسی ہو گی۔۔۔۔۔نیّر نیاز خان

آج سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کی وجہ سے ہماری دنیا بدل کر رہ گئی ہے۔ اطلاعاتی نظام سیکنڈوں میں ہزاروں میل کا سفر طے کرتے ہوئے باہمی اور اجتماعی روابط میں تیزی لانے کا سبب بن رہا ہے۔ مالیاتی←  مزید پڑھیے

انسانی ارتقا کے راز۔ مذہب ’ فلسفے اور سائنس کے آئینوں میں۔۔۔۔۔ڈاکٹر خالد سہیل/قسط1

انتساب دانائی کی تلاش میں اپنے ہمسفر ڈاکٹر بلند اقبال کے نام ؎ اپنی پہچان کرنے نکلا تھا ایک عالم سے روشناس ہوا عارفؔ عبدالمتین ؎ فیض تھی راہ سر بسر منزل ہم جہاں پہنچے کامیاب آئے فیضؔ احمد فیض←  مزید پڑھیے

سوچ کیا ہے؟۔۔۔وہارا امباکر

جانوروں کے پاس دماغ کیوں ہے؟ اس کا جواب کار پوپر کے الفاظ میں یہ ہے کہ “زندگی مسائل کا حل تلاش کرنے کا نام ہے”۔ پوپر کے یہ الفاظ بائیولوجی کے نقطہ نظر کے عکاس ہیں، جس میں جانوروں←  مزید پڑھیے

جینیات کی ابتدا۔۔۔۔۔وہارا امباکر

رف اور آگ۔ یہ انجام ان دو سائنسدانوں کے کام کا تھا جنہوں نے جینیات کی پہلی بڑی دریافتیں کی تھیں۔ ان دونوں میں کئی چیزوں کی مماثلت تھی۔ دونوں کی موت کسی کے لئے خبر نہیں تھی، کوئی آنکھ←  مزید پڑھیے