ادریس آزاد کی تحاریر

دورِ حاضر کی ’’روشن خیالی کا خالق‘‘ ، جان سٹورٹ مِل، ایک تعارف۔۔ادریس آزاد

ہم فی زمانہ حقوق ِ انسانی، حقوقِ نسواں، تحفظ حیوانات، تحفظِ ماحولیات کے جس قدر بھی نعرے سنتے ہیں، جتنے قوانین اور دساتیر دیکھتےہیں اور جس قدر لبرل ازم سے ہماری واقفیت ہے اس کا زیادہ تر حصہ مِل کے←  مزید پڑھیے

اینٹروپی اور ٹائم کا جنم۔۔ادریس آزاد

آئن سٹائن نے نیوٹن کے مکانِ مطلق اور زمانِ مطلق کو ختم کرکے اضافی زمان و مکاں کا جو تصور پیش کیا، اس کی وجہ سے اب زمانے کے لیے بھی مکان کی اکائیاں استعمال ہوتی ہیں۔ زمانے کو آپ←  مزید پڑھیے

افسوس، کہ اقبال کو ہم سمجھ نہ سکے۔۔ادریس آزاد

اقبال کے نظام فکر میں خدا، انسان اور کائنات کا ربط و تعلق ’’مذہبی واردات‘‘ کا مرہون ِ منت ہے۔ کیونکہ شاعرانہ واردات قابل ِ اعتماد نہیں اور ’’فلسفہ نام نہیں کسی مسئلے کا حل دینے کا‘‘۔ فلسفے کا مطمع←  مزید پڑھیے

نیلمانہ(قسط5)۔۔ادریس آزاد

سارنگ کو ہوش آیا تو وہ لیبارٹری میں تھا۔ بوڑھاپروفیسراُس پرجھکاہواتھا۔ پروفیسر کے ہاتھ میں بڑاساعدسہ تھا۔ اور وہ کسی باریک سی نوک والی سوئی کی مدد سے سارنگ کے منہ میں شاید کوئی دوائی ڈال رہاتھا۔پہلے تو سارنگ کو←  مزید پڑھیے

نیلمانہ(قسط4)۔۔ادریس آزاد

کچھ نہ ہوسکا۔ وہ کچھ بھی تو نہ کرسکی۔ وہ اب ایک کمزور تتلی تھی۔ وہ اب ایک طاقتور انسان نہیں تھی۔ دِن پر دِن گزرتے چلے گئے۔ ہرگزرنے والے دن کے ساتھ اُس کی زندگی مختلف سے مختلف ہوتی←  مزید پڑھیے

نیلمانہ(قسط3)۔۔ادریس آزاد

شاؤزان یکایک خوش ہوگیا۔ ’’ارے کیوں نہیں؟ ایڈونچر اور وہ بھی تمہارے ساتھ؟ افف بہت مزہ آئیگا۔ بتاؤ! کہاں چلیں؟‘‘ ’’وہ ہ ہ ہ ہ وہاں‘‘ ماریہ نے دور سے پہاڑ نما عمارت کی دیوہیکل کھڑکیوں کی طرف اشارہ کیا۔شاؤزان←  مزید پڑھیے

نیلمانہ(قسط2)۔۔ادریس آزاد

’’ماریہ؟ یہ کیسا نام ہے؟ ایسا نام تو میں پہلی بار سن رہاہوں۔ کیا تم ’پُورماشانی تتلیوں‘‘ کے ساتھ نہیں آئی ہو؟ وہ جو پانچ تتلیاں آج سے کچھ دن پہلے ’’شردھان‘‘ میں وارد ہوئیں، تم انہی میں سے ایک←  مزید پڑھیے

آئن سٹائن کی تھیوری آف جنرل ریلیٹوٹی (قسط اوّل)۔۔ادریس آزاد

کششِ ثقل اور اسراع ایک ہی چیز ہیں۔ آئن سٹائن آئن سٹائن کے نظریہ اضافیتِ عمومی کا سب سے خوبصورت اور دلچسپ پہلو اس کا ’’اِکویلنس پرنسپل‘‘ ہے۔ اس پرنسپل کے مطابق گریوٹی اور اسراع (یعنی ایکسیلیریشن) دراصل ایک ہی←  مزید پڑھیے

نیند، تہذیب کا تحفہ ہے۔۔ادریس آزاد

ماہرینِ ارتقأ کا کہناہے کہ نیند تہذیب کا عطاکردہ تحفہ ہے۔ جنگلوں اور غاروں میں رہنے والا انسان ایک آنکھ سے سوتا اور دوسری سے جاگتا رہتاتھا۔ بالکل جنگلی جانوروں کی طرح۔ وحشت کی زندگی میں دہشت ہی دہشت ہوتی←  مزید پڑھیے

مدرسے کی کہانی۔۔ادریس آزاد

دنیا میں پہلے تعلیم وتدریس آزاد ہوا کرتے تھے، یعنی حکومتیں اپنے تعلیمی اداروں کو اپنے قابُو میں نہیں رکھتی تھیں بلکہ اُنہیں آزادانہ علمی سرگرمیوں کا موقع دیتی تھیں۔ لیکن نوآبادیاتی عہد میں استعمار نے اپنی ضرورتوں کے تحت←  مزید پڑھیے

تصورِارضی پیوستگی:اقبال کے نظریۂ قومیت کا بنیادی محرّک(دوسرا،آخری حصّہ )۔۔۔ادریس آزاد

اقبال ارتقائے حیات کو ’’اینتھروپولوجی، آرکیالوجی، لسانیات یا نفسیات کی طرح فقط شعورِ انسانی کے ارتقا سے شروع نہیں کرتے بلکہ اِن سب کے برعکس بیالوجی کی طرز پر بہت پیچھے سے دیکھتے ہیں-اقبال کا طریقہ کار یہ ہے کہ←  مزید پڑھیے

جمال ِ پادشاہی۔۔ادریس آزاد

عام طورپرکہا جاتاہے کہ امریکی صدر بہت بااختیار ہے اور پاکستانی وزیراعظم بالکل بے اختیار ہے۔ جیسے ابھی اوبامہ نے جب اپنی کتاب میں لکھا کہ پاکستان (ایبٹ آباد) پر حملے کا آخری فیصلہ اُس کا اپناتھا، تو سب کہنے←  مزید پڑھیے

فیثا غورث کون تھا؟۔۔ادریس آزاد

تاریخ کے بڑے فلسفی اور مؤرخین بشمول ہیروڈوٹس، اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ فیثاغورث ایک مصری پیغمبر کا پیروکار تھا۔ فیثاغورث جو تاریخ علم میں ریاضی کا سب سےپہلا بڑا استاد ہے اور فیثاغورثی (Pythagorean) مذہب کا بانی←  مزید پڑھیے

خِفّت کیا شئے ہے؟۔۔ادریس آزاد

خفت کیسی کیفیت ہے؟ یہ توہین یا انسلٹ نہیں،بالکل مختلف چیز ہے۔بظاہر معمولی لیکن فی الحقیقت بہت شدید کیفیت ہے جس کے مضمرات میں بڑے بڑے حوادث اوربعض اوقات انتقام جیسے خوفناک عوامل پرورش پاتے ہیں۔ خفت کسی ایک لمحے←  مزید پڑھیے

جوش کردار سے کھل جاتے ہیں تقدیر کے راز۔۔ادریس آزاد

دیانت داری ایک عمل ہے جو فی الحقیقت تربیتِ کردار کے مراحل میں سب سے مشکل بلکہ قریب قریب ناممکن الحصول ہے۔ اس کے مشکل ہونے میں سب سے بڑا معاون فرد کا ذاتی ماحول ہے۔ اگر میں نے شادی←  مزید پڑھیے

انسانی چہرے اورجسمانی ڈیل ڈول پر ’’اعمال‘‘ کے اثرات۔۔ادریس آزاد

کسی مذہبی شخص کی دولت وہ عقائد نہیں جو اس کے دماغ میں بھرے ہوئے ہیں اور جنہیں وہ اپنی خوش فہمی کی وجہ سے پختہ ایمان کا نام دیتاہے بلکہ اس کی دولت اس کی وہ قلبی کیفیات ہیں←  مزید پڑھیے

ڈیماکریٹس۔ سائنس کا باوا آدم ۔۔۔ادریس آزاد

ڈیما کریٹس ایک قدیم یونانی فلسفی ہے جوطبعی علوم کا دیوانہ تھا۔اُسے ہم بجا طور پر پہلا فلاسفر آف سائنس کہہ سکتے ہیں۔اپنی زندگی میں وہ ایک بارسوخ شخص تھا۔ اُس کا سب سے بڑا کارنامہ سب سے پہلا ایٹمی←  مزید پڑھیے

اقبال کا تصوف۔۔ادریس آزاد

یہ جو ہم عموماً کہتے ہیں کہ اقبال نے عجمی تصوف کو اسلامی تصوف سے الگ کیا اور دونوں کی الگ الگ تشریحات پیش کرکے اوّل الذکر کو قوم اور فرد کے لیے یکساں قاتل اور ثانی الذکر کو حیات←  مزید پڑھیے

دنیا میں انفرادیت کا وجود قوتِ دفع کی وجہ سے ہے۔۔ادریس آزاد

یہ کتنی عجیب بات ہے کہ کائنات میں انفرادیت کا وجود فقط قوتِ دفع کی وجہ سے ہے۔ اگر قوتِ دفع یعنی ریپَلشن کی قوت نہ ہوتی تو کائنات کسی ایک کُل میں ضم پائی جاتی۔ کوئی انفرادی ہستی نہ←  مزید پڑھیے

روایت شکنی یا خودکش بمباری(دوسرا ،آخری حصّہ)۔۔ادریس آزاد

خیر تو جب اداکاری کی ایک تعریف ’’تقریباً مطلق‘‘ تعریف کے طور پر تسلیم کرلی جائے گی تو ہم اُس تعریف کی روشنی مین اداکاری کے فن اور اس کی تاریخ کا از سرِ نو جائزہ لیں گے۔ ہم دیکھتے←  مزید پڑھیے