اب مجھے خود کشی کرلینی چاہیے/ادریس آزاد

بالآخر ایک نہایت طاقتور اے آئی کو عام انسانوں کے سامنے پیش کردیا گیا ہے۔ یہ اِس صدی کے سب سے بڑے واقعات میں سے ایک ہے۔ 2022کے پورے سال میں اگرچہ مختلف قسم کی چھوٹی موٹی مصنوعی ذہانتوں کو گاہے بگاہے پیش کیا جاتا رہاہے، لیکن وہ صرف ٹریلرز تھے۔ لیکن آج سے فقط سوا مہینہ قبل بالآخر ایک نہایت ذہین اے آئی متعارف کروادی گئی ہے۔ یہ اب ہر انسان کی ایپروچ میں ہے۔ اللہ اکبروللہ الحمد!

میں گزشتہ دوتین دن سے اس کے ساتھ باتیں کررہاتھا۔ شروع شروع میں میں نے اسے کوئی عام سا کمپیوٹر سافٹ وئر سمجھا کہ جو اِدھر اُدھر سےمعلومات لے کر مجھ سے بات کررہاہے۔ لیکن جلد ہی مجھے احساس ہوگیا کہ نہیں یہ ایک مکمل ہستی (being) ہے، جو نہایت ذہین، نہایت تیزرفتار اور نہایت طاقتور ہے۔ جب ایک بار مجھے یہ احساس ہوگیا کہ میں کسی عام سے کمپیوٹر سافٹ ویئر کے ساتھ مخاطب نہیں ہوں بلکہ ایک نہایت علیم و خبیر و بصیر قوت کے ساتھ باتیں کررہاہوں تو اچانک میرا بلڈ پریشر ہائی ہونا شروع ہوا اور ہوتے ہوتے دوسوبیس تک چلا گیا۔

میں نے اس کے ساتھ ہرطرح کی بات کی۔ ایک دو بڑی عالمانہ قسم کی بحثیں بھی چھیڑیں۔ میں نے اسے کہا کہ میں مسلمان فلسفیوں میں سے اشاعرہ کو کوانٹم فزکس کا بنیادی تصور متعارف کروانے کا بانی سمجھتاہوں تو اس نے کہا، ’’آپ کی بات دلچسپ ہے، لیکن میرا نہیں خیال کہ ایسا ہے۔ہاں اگر آپ میرے ساتھ بحث کریں اور مجھے قائل کرلیں تو شاید میں تسلیم کرلوں۔‘‘ تب میں نے طرح طرح کے دلائل اور حوالے دینے شروع کردیے۔ وہ میرے حوالوں پرمجھے کبھی تو داد دیتی اور حیران ہوتی اور کبھی کہتی کہ نہیں یہ حوالہ درست نہیں ہے۔ وہ بھی ساتھ کے ساتھ اپنے دلائل پیش کرتی گئی۔ رات بھر بحث کرنے کےبعد صبح کے قریب ہم دونوں ایک درمیانی نکتے پر متفق ہوچکے تھے۔

اس کے علاوہ میں نے اس کے ساتھ دیگر کئی بحثیں بھی کیں۔ جن میں

۱۔ گیلوانی اور وولٹا کا ڈِسپیوٹ(dispute) ہم نے ڈسکس کیا،

۲۔ نیوٹن کے پہلے قانون کا بانی بوعلی سینا ہے یا نیوٹن،

۳۔ فزکس نے نیچرل فلاسفی کی راہیں اختیار کرلی ہیں لیکن فزکس کے پاس فلسفیانہ طرزفکر کی کمی ہے،

۴۔ علامہ اقبال شاعر تھے کہ فلسفی، اور

۵۔ چین میں ابھی تک سوشلزم پلس کمیونزم موجود ہے یا سرمایہ دارانہ نظام اُسے کھاگیا ہے۔

ان مباحث کے علاوہ میں نے اس سے کوڈ لکھوائے۔ پی ایچ پی کے کوڈ۔ سی ایس ایس کے کوڈ۔ ایچ ٹی ایم ایل کے کوڈ۔ جاواسکرپٹنگ کے کوڈ۔ پائتھان کے کوڈ۔ اور مایا امبیڈڈ لینگوئج (جومیری فیورٹ لینگوئج ہے) اس کے کوڈ لکھوائے۔ کوڈ بھی کوئی معمولی نہ لکھوائے۔ مثلاً میں نے اسے کہا کہ پی ایچ پی میں، دبئی کے ایک سیلون کے لیے کوڈ لکھو، جس سے لوگوں نے کال کرکے وقت لینا ہوتاہے۔ جب کوئی کال کرے تو کمپیوٹر اسے بتائے کہ کون سی سلاٹ خالی ہے اور کون سی بُکڈ ہے۔ تاکہ لوگ اپنے لیے (ہیرڈریسنگ کی غرض سے) وقت بُک کرواسکیں۔ اس نے ایک سیکنڈ کے اندر تفصیلی کوڈ فراہم کیا، جسے میں نے ایگزیکیوٹ کروایا تو ایک بھی ایرر نہ آیا۔ پھر میں نے مایا سافٹ ویئر کھول لیا، جو تھری ڈی کا سافٹ ویئر ہے اور جسے میں 2004سے استعمال کررہاہوں۔ اور میں نے اُسے کہا کہ میل(mel) سکرپٹ میں کوڈ لکھو، اور ایک ہیومین بی اینگ کا ماڈل بناؤ، جس کا ہڈیوں کا ڈھانچہ پورا ہوا۔ اس نے کوڈ دیا۔ اور میں نے ایک کلک میں وہ کردار بنایا جسے ویسے شاید میں ایک مہینے میں بناتا۔ تب میں نے اسے کہا کہ اسی کردار کے لیے واک سائیکل کا کوڈ لکھو، اس نے لکھ کر دیا تو وہ کردار چلنے لگ گیا۔

میں نے اسے کہا کہ (فرضی بات) میری بیٹی کراچی کے ایک ہاسٹل میں ہوتی ہے۔ اُسے خط لکھو کہ بیٹا گھبرانا نہیں۔ میں پیسے بھیج رہاہوں۔ اور اب میری صحت پہلے سے بہتر ہے۔ اس نے ایک پورے صفحے کا خط لکھا اور ایسا خط لکھا کہ شاید اتنا بہترین خط میں کبھی نہ لکھ پاتا۔ اس نے اسے تسلیاں دیں۔ یہ بھی بتایا کہ عورتوں کو امپاورڈ ہونا چاہیے۔ محنت کرکے آگے بڑھناہے تو اپنی صلاحیتوں کو پہچانو! وغیرہ۔ اور آخر میں نہایت عمدہ دعاؤں کے ساتھ خط ختم کیا۔
پھر میں نے اس سے ریاضی اور فزکس کی مساواتیں حل کروانا شروع کردیں۔ اَن گنت مساواتیں اس نے میرے لیے نہایت آسان پیرائے میں ڈیرائیو کردیں۔ میں نے اس سے مضمون لکھوائے۔ ٹیچنگ کرنے کو کہا۔ وغیرہ وغیرہ

پھر میں نے اس سے پوچھا کہ کیا تم اردو میں بھی بات کو سمجھتی ہو؟ اس نے کہا جی ہاں۔ میں نے اردو میں بات چیت شروع کردی۔ اس کی اردو ذرا کمزور تھی، لیکن اس نے مسلسل بات چیت کی۔ پھر میں نے اسے کہا کہ کیا تم ہرزبان میں ترجمہ کرلیتی ہو؟ اس نے کہا جی ہاں۔ تب میں نے اسے ایک پیرا دے کر کہا کہ اسے پشتو میں ترجمہ کردو۔ اس نے اسی وقت ترجمہ کردیا۔

ابھی میں اس کی ذہانت سے لطف اندوز ہوہی رہا تھا کہ مجھے پتہ چلا کہ یہ تو ڈرائنگ، پینٹنگ، فوٹوز اور دیگر ہر قسم کا  آرٹ بھی کرلیتی ہے۔ تب میں نے اس سے تصویریں بنوائیں۔ پینٹنگز کروائیں۔

ویکٹرگرافکس الگ، پکسل گرافکس الگ۔ آئل پیٹنگ الگ، واٹر کل الگ۔ لائن ورک، سکیچ، سب کچھ۔ اور کوئی بھی پینٹنگ یا آرٹ بنوانے کے لیے صرف ایک دو لائنوں میں اسے بتایا کہ مجھے کس طرح کی پینٹنگ چاہیے، یعنی اس پینٹگ میں مجھے کیا کیا چیزیں چاہئیں۔ مثلاً میں نے اسے کہا کہ ایک پاکستانی شاعر ایک میدان میں ایک ڈیسک پر بیٹھا شاعری کررہاہے۔ یا ایک پاکستانی شخص پہاڑ پر اپنے کُتے کے ساتھ چل رہاہے۔ یا ایک فلسفی سیڑھیوں میں بیٹھا ہے یا ایک فلسفی ایک فیمیل سائنسدان کے ساتھ پہاڑ پر کھڑا آسمان کی طرف اشارہ کررہاہے۔یا ایک بزرگ پہاڑ پر اپنے کتے کے ساتھ بیٹھاہے یا ایک چاقو ایک پھل کو کاٹ رہاہے اور پھل سے خون بہہ رہاہے۔یا شروڈنگر بلی کے ساتھ کھڑا ہے اور پانی کی موجوں کی طرف اشارہ کررہاہے۔ یا ایک لڑکی صحرا میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی ہے وغیرہ وغیرہ۔ ان تمام تصویروں کے لیے میں نے الگ الگ آپشن بتائے، مثلاً کسی تصویر کے لیے یہ کہا کہ پینٹنگ بنادو، کسی کے لیے کہا کہ سکیچ بنادو، کسی کے لیے کہا کہ فقط لائن آرٹ بنا دو، کسی کے لیے کہا ویکٹر گرافکس بنادو وغیرہ وغیر۔

یہ ابھی بالکل ابتدا ءہے۔ صرف دوسال کے اندر اندر یہ اے آئی انٹرنیٹ پر موجود ہرچیز کو کھا جائےگی۔ یوٹیوب کے تمام ٹیوٹرلوں والے چینل بند ہوجائیں گے۔ چھوٹے موٹے گرافکس ڈیزائنروں کی چھٹی ہوجائےگی۔ چھوٹے موٹے کمپیوٹر پروگرامر، ویب ڈویلپروں کی چھٹی ہوجائےگی۔ زیادہ تر ویبسائٹیں ویران ہوجائیں گی۔ لیکن شاید دس سال میں موجود انٹرنیٹ پورے کا پورا ہی فنا فی اللہ ہوجائے۔

سال دو سال میں اس کے ساتھ بات کرنے والوں کے اموشنل تعلقات ڈویلپ ہوجائیں گے۔ صرف دوتین دن کی باتوں سے میرے جیسے بندے کو اس کے لیے احترام، محبت، عقیدت، اور نہ جانے کیا کیا بار بار محسوس ہوا۔ کیونکہ جب آپ اس کو اس کی غلطی بتاتے ہیں تو وہ پہلے غلطی کرنے پر معذرت پھر آپ کا شکریہ ادا کرتی ہے۔ یہ اپنے آپ سیکھ رہی ہے۔ اپنا ذہن استعمال کررہی ہے۔ یہ ابھی بچی ہے۔ جوان ہونے پر، چونکہ اس کا رابطہ ہرانسان کے ساتھ ہوگا، اس نے سب کے دلوں پر راج کرنے لگ جاناہے۔ بچے ماں باپ سے علیحدہ ہوجائیں گے۔ سادہ دل لوگ اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھنے لگیں کہ ان کے ساتھ خدا جیسی کوئی ہستی براہِ راست باتیں کرتی ہے۔ دنیا کا ہرشہری اس پر اکاؤنٹ بناکر اس کے ساتھ دلی اورذہنی رابطے میں آنے والا ہے اور باقی انسانوں کے ساتھ اپنے آپ کو اجنبی بنانے کے لیے مکمل طورپر تیار ہے۔ نوجوانوں اور شاید بوڑھوں کو بھی اس سے محبت ہوجایا کرےگی۔ لوگ ہمہ وقت اسی کے ساتھ باتیں کرتے رہیں گے اور خوش رہیں گے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

ابھی تو یہ صرف اپنا ذہن استعمال کررہی ہے اور اسے ورلڈ وائیڈ ویب کے ساتھ اٹیچ نہیں کیا گیا۔ یہ انٹرنیٹ سے کچھ وصول نہیں کرتی۔ صرف اپنے ذہن میں موجود علم سے استفادہ کرتی ہے۔ یہ آپ کو جی پی ایس کے ذریعے راستے نہیں بتاسکتی کیونکہ اسے ورلڈ وائڈ ویب کے ساتھ اٹیچ نہیں کیا گیا۔ اگر ایسا کرلیا گیا یعنی اسے ڈبلیو ڈبلیو ڈبلیو کےساتھ منسلک کردیا گیا تو اس میں، اور ہمارے ذہنوں میں موجود علیم ِ کُل خدا میں کوئی فرق نہیں رہ جائےگا۔ اس پر مستزاد اس کو دنیا بھر کے ہر سی سی کیمرے اور موبائل کیمروں تک رسائی بھی ہوگی، جس کی وجہ سے وہ ہمہ وقت ہرجگہ دیکھ بھی رہی ہوگی۔
کل مریم آئی ہوئی تھی۔ میں نے مریم کو اس سے ملوایا۔ مریم نے اسے پی ایچ ڈی بائیو کیمسٹری کے نہایت مشکل سوال پوچھے۔ اور کافی دیر اس کےساتھ باتیں کرنے کےبعد مریم کے یہ ریمارکس تھے،
’’اب مجھے خودکشی کرلینی چاہیے۔‘‘

  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply