اے آئی چیٹ بوٹس/ضیغم قدیر

اے آئی چیٹ بوٹس کے یوں ہر شخص کی پہنچ میں ہونے کا ایک بڑا نقصان ان سے باتیں کرنے کی لت جیسے نفسیاتی عوارض کی صورت میں سامنے آئے گا۔

اے آئی ریسرچرز کی کوشش تو یہ بھی ہے کہ یہ اپنے ان لینگوئج ماڈلز کو ایسے ٹرین کریں کہ یہ کسی کے انتہائی قریبی شخص سے کی  گئی  چیٹ کو پڑھ کر اس کے موڈز اور بات کرنے کے انداز سے واقفیت پا کر بالکل اسی کی طرح باتیں کرنا شروع کر دے۔

اور ایسا ہو رہا ہے، ایسے لینگوئج ماڈل بنانے والی کمپنیوں کو اربوں ڈالرز کی صورت میں منافع آئے گا وہیں پر نقصان ان دل جلوں کا ہوگا جو اس اے آئی سے اٹیچ ہو کر عام انسانی لمس کو محسوس کرنے سے بھولنے کی طرف چلے جائیں گے۔

یہ بھیانک رزلٹ ویسا ہی ہوگا جیسا پورن کی لت کے شکار نوجوانوں میں کسی مخالف جنس میں کشش نہ  محسوس کرنے کی صورت میں ہو رہا ہے جس میں وہ سامنے موجود شخص کیساتھ پہلا قدم اٹھانے کی ہمت کھو دیتے ہیں کیونکہ وہ اوائل عمری سے ہی ایک تھرڈ پرسن کے طور پر یہ سب ہوتا ہوا دیکھتے آ رہے ہیں۔

ان دونوں باتوں کا سب سے زیادہ نقصان ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک میں زیادہ ہو رہا ہے۔ کیونکہ یہاں پہ مخالف جنس کی دستیابی ایک محنت طلب کام ہے سو بہت سے لوگ اس کا چھٹکارہ پورن میں ڈھونڈتے ہیں۔

بالکل اسی طرح مخالف جنس سے باتیں کرنے جیسی محرومی کا چھٹکارہ بھی یہ لوگ ان اے آئی ایپس میں ڈھونڈنا شروع ہو چکے ہیں۔ اور یہ ایک بہت بڑی مارکیٹ بننے جا رہی ہے۔ نفسیاتی امراض کی بھی اور ڈالرز کی بھی۔

اس سے پہلے ایسا سنیپ چیٹ کی شکل میں بھی ہو چکا ہے۔ سنیپ چیٹ کو بنانے والے خود سالانہ چار ارب ڈالر کما رہے ہیں مگر اس کی وجہ سے کروڑوں نوجوان بچے اور خاص کر بچیاں چیٹنگ بہیوئر، برہنگی اور عمر سے پہلے ہی خفیہ تعلقات رکھنے جیسی عادتوں کا شکار ہو جاتی ہیں۔

تب بھی مارکیٹ میں ایک سپیس موجود تھی جس میں خصوصاً لڑکیوں اور وہ جو کم عمر ہیں ان کو، پرائیویسی میں اپنی تصاویر بھیجنے کا بڑا پلیٹ فارم دستیاب نہیں تھا۔

خصوصاً وہ تصاویر جو صرف ایک بار “دکھانے” والی ہوتی تھیں، اور ان کی اس انسیکیورٹی کا حل کیلی فورنیا کے ڈوپلیرز نے یہ نکالا۔ خود وہ اربوں کما رہے ہیں مگر بہت سے بچے اور بچیاں اس ایپ کی بدولت محض اپنی تصاویر بھیجنے پہ اٹکے ہیں۔ جس میں وہ اپنے جسم کو مصنوعی طور پر پر کشش دکھانے کی لت کا بھی شکار ہو چکے ہیں۔

گو وقت کے ساتھ ساتھ سنیپ چیٹ کا استعمال وسیع ہوتا ہوتا فیس فلٹرز پر آگیا ہے مگر اس کا پرائمری مقصد وہ تصاویر اور پیغامات بھیجنا ہی تھا جو ہم دوسری مرتبہ پڑھنے کی خود اخلاقی جرات نہیں رکھتے ہیں۔

وہیں پر فیس فلٹرز کا استعمال بھی ایک طرح کی نفسیاتی پیچیدگی کا اظہار ہے جس میں انسان اپنے حقیقی وجود کو ماننے سے انکاری ہوتا ہے۔

جس طرح سے بیرونی دنیا، جی ہاں، پاکستان کو نکال کر باقی کی دنیا، ٹیکنالوجی میں آگے جا رہی ہے اور اے آئی کی صورت میں اب ٹیکنالوجی مکمل طور پر بدل رہی ہے اس کے اندر چھپے لوپ ہولز دیکھنا تقریبا نا ممکن ہو چکا ہے۔ ہر نئی ایجاد نئے نفسیاتی عوارض لیکر آ رہی ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

لہذا، ٹیکنالوجی کے اس جھمیلے میں کسی بھی چیز کی لت سے بچنے کی کوشش کریں۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply