ZaighamQadeer کی تحاریر

پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کا زوال۔۔ضیغم قدیر

پاکستان کی ڈرامہ اندسٹری پہ بار ہا تنقید سننے کو ملتی ہے۔ اکثر یہی گِلہ سننے کو ملتا ہے کہ یہ ڈرامے معاشرے میں نفرت پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں اور انکے پاس تخلیقی موضوعات نہ  ہونے کے برابر←  مزید پڑھیے

ایک ہنستا مسکراتا شخص خودکشی کیوں کرتا ہے؟۔۔ضیغم قدیر

باہر سے پرسکون نظر آنے والے وجود کے اندر کتنی جنگیں چل رہی ہوتی ہیں یہ کوئی نہیں جانتا۔ یہ جنگ چھوٹی سی بات پہ بھی شروع ہو سکتی ہے۔ جیسے کوئی کہے تمہارے منہ پہ کتنا برا دانہ نکل←  مزید پڑھیے

کرونا فقط ایک افسانہ ہے حقیقت تو کچھ اور ہے۔۔ضیغم قدیر

“میں نے خواب میں ایک تتلی کو دیکھا، اب میں جاگ گیا ہوں مگر مسلسل یہی سوچ رہا ہوں کہ کہیں میں تتلی کا خواب تو نہیں” معروف چینی مقولہ تو جناب اسی لاجک سے دیکھیں تو آج تک جتنے←  مزید پڑھیے

دو ذرے ، آبِ حیات اور اک سیلِ رواں۔۔ضیغم قدیر

بگ بینگ کے دھماکے کو ہوئے چار ارب سال ہو چکے تھے۔ یہ زمین کھنکھناتے گارے کے ڈھیر کے سوا کچھ نہیں تھی۔ کچھ بھی نہیں۔۔ ہر طرف ایک ہُوکا عالم تھا۔ چہار سو خاموشی کا راج تھا۔آوازیں تھیں  مگر←  مزید پڑھیے

ٹیکنالوجی کے نو دولتیے اور یہ قیمتی نوادرات۔۔ضیغم قدیر

میرے ذاتی خیال کے مطابق ہر وہ شخص جس نے ٹیکنالوجی کا ڈوس اور کھڑکی نمبر ستانوے اٹھانوے کا دور نہیں دیکھا تو وہ ٹیکنالوجی کے خاندنی امرا میں نہیں آتا۔ کھڑکی بولے تو بل گیٹس کی ونڈوز۔ یہ دور←  مزید پڑھیے

دوبارہ پھر سے۔۔ضیغم قدیر

“سانپ کے ڈسے ہوئے لوگ مر جاتے ہیں لیکن زندگی کے ڈسے ہوئے لوگ مرتے تو نہیں مگر ان کی زبانوں پہ چپ لگ جاتی ہے۔” وہ بھاگے جا رہی تھی، اُس کی آنکھوں کے سامنے وہی منظر بار بار←  مزید پڑھیے

آدم خور قبیلے،پُراسرار جادوگر وائرس اور اس کے علاج کی تلاش کی کہانی۔۔ضیغم قدیر

”انسانی گوشت بہت مزیدار ہوتا ہے ، بس اوپری جلدی تھوڑی کڑوی ہوتی ہے ۔“ جنگلی قبیلے کی عورت کیمرے کی طرف دیکھتے ہوۓ بولی ” جب بھی ہمارا کوئی عزیز مرتا ہے تو اسکے قریبی رشتہ دار اس کی←  مزید پڑھیے

شدت پسندانہ نفسیات کا حامل ہمارا معاشرہ اور ” میرے پاس تم ہو “۔۔ضیغم قدیر

وفا اور بے وفائی انسان ہی کرتے ہیں لیکن ہم ہر چیز کو آئیڈیالائز کر کے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ محرومیاں جن کا ہم شکار ہوتے ہیں ہماری کوشش ہوتی ہے کہ کوئی دوسرا کردار انہی محرومیوں کا←  مزید پڑھیے

عمل تولید کے بعد ایک دوسرے میں تحلیل ہونے والی مچھلیاں۔۔ضیغم قدیر

عشق میں یک جان دو قالب ہونے کا محاورہ تو آپ نے سن رکھا ہوگا مگر Anglerfish  مچھلیوں کی وہ قسم ہے جو عملِ تولید کے بعد ایک دوسرے میں تحلیل ہوجاتی ہیں۔ ویسے تو دنیا بے وفا لوگوں سے←  مزید پڑھیے

بین الکائناتی عشق۔۔ضیغم قدیر

خوابوں کے سمندر میں، مَیں نے دیکھا دسمبر کی یخ بستہ رات تھی۔ چار سو کہرا تھا۔ دھند میں فاصلے پہ موجود کوئی چیز بھی دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ ایسے میں ایک ہیولا میری طرف بڑھا۔ قدموں کی چاپ←  مزید پڑھیے

ذرا دھوم سے شعر بولو دسمبر کی آمد آمدہے۔۔ضیغم قدیر

یکم دسمبر ہے۔ ناکام عاشقوں کی سستی اور تیسرے درجے کی شاعری سننے والےمہینے کا آغاز۔ اس سے پہلےسوشل میڈیا کے مشہور و معروف شعرا کرام بہت اعلی درجے کی شاعری کر کے ہمارے ذوق کو جلا بخش رہے تھے←  مزید پڑھیے

سوکھے جھرنے، پہلے قدم اور گمنام منزل۔۔ضیغم قدیر

سنو مارگلہ کے جھرنے سوکھ گئے ہیں، بہتے پانی کے نشانات ایسا منظر پیش کر رہے ہیں جیسے کوئی آنکھ ابھی روتی روتی چُپ ہوئی ہو، مگر گالوں پہ بہتے آنسوؤں کے نشان ابھی بھی باقی ہوں۔ وہ گال جو←  مزید پڑھیے

بلیو وہیل کے بارے حیران کن معلومات۔۔۔ضیغم قدیر

بلو وہیل کا دل مہران کار کے جتنا بڑا اور 1300lbs سے زیادہ وزنی ہوسکتا ہے۔ ان کا جہازی سائز کا دل ایک منٹ میں آٹھ سے دس مرتبہ دھڑکتا ہے۔ اور اسکی ہر دل کی دھڑک کو دو میل←  مزید پڑھیے

کیفیات ہمارا ثقافتی اثاثہ۔۔ضیغم قدیر

کچھ نام ‘ نام نہیں بلکہ کیفیات ہوتے ہیں۔ اور یہ ہمارا ثقافتی اثاثہ ہیں جیسا کہ”لاہوری”۔۔۔ لاہوری اس وقت کی سب سے بدنام کیفیت ہے۔ جس کا نام لیتے ہی بندے کو  جھر جھری  سی آ جاتی ہے۔ کوئی←  مزید پڑھیے

چندریان، پانی سے چلنے والی گاڑی اور آدھ پاؤ کا ایٹم بم۔۔۔ضیغم قدیر

مجھے وہ وقت نہیں بھولتا جب آغا وقار نے پانی سے گاڑی چلانے کا اعلان کیا تھا۔ پوری قوم خوشی کی حالت میں تھی کہ اب ایک بوتل پانی کی گاڑی میں ڈالیں گے اور پورا پاکستان گھوم کر واپس←  مزید پڑھیے

اپنے بچوں کی تخلیقی صلاحیت کا قتل مت کریں۔۔۔ضیغم قدیر

آپ کے بچے کے ہاتھ میں انڈہ ہے۔ آپ اپنے بچے کو جھڑکتے ہیں کہ انڈہ واپس رکھ دو، ایسا کرنے پر آپ بچے کی تخلیقی صلاحیتوں کو یہیں قتل کر دیتے ہیں کیونکہ اس انڈے کے ٹوٹنے کے نتیجے←  مزید پڑھیے

کیا آپ بھی کسی “فوبیا”میں مبتلا ہیں؟۔۔۔ضیغم قدیر

آئیے آپ کو جرمو فوبیا نامی دماغی خلل کا ایک حقیقی قصہ سناؤں جس میں مریض کو یہ وہم ہونے لگتا ہے کہ اسکے گرد جراثیم ہی جراثیم ہیں اور وہ ڈپریشن اور انگزائٹی کا شکار ہو کر خودکُشی تک←  مزید پڑھیے

زمین سو سال پہلے تک خوفناک سیارہ تھی۔۔۔ضیغم قدیر

وہ سیارہ جہاں صرف ہیضے کی وجہ سے سو سال میں چار کروڑ سے زائد لوگ مرے،جہاں صرف بیسویں صدی میں چیچک کی وجہ سے تین سو ملین جی ہاں تیس کروڑ لوگ مرے۔ وہ سیارہ جہاں مردہ خوری کی←  مزید پڑھیے

اندھی مچھلی : ارتقاء کی کوئی سمت نہیں ہوتی۔۔۔۔ضیغم قدیر

تصویر میں نظر آنے والی مچھلی اندھی مچھلی ہے۔ یہ مچھلی سمندر کی غاروں میں رہتی ہے۔ گو اس مچھلی کے ڈی این اے میں آنکھوں والے جینز کے کوڈ موجود ہیں لیکن اُن کوڈز کے اوپر میتھائل گروپ اٹیچ←  مزید پڑھیے

سنو گپ شپ۔۔۔ضیغم قدیر

وہ بھی کیا دن تھے جب ہم یوٹیوب پہ وقت ضائع کرنے کی بجاۓ ایک دوسرے کو گپ شپ سنایا کرتے تھے۔ وہ دن اتنے خوشگوار ہوتے تھے کہ آدھی رات کو چاند اور سورج بادل کے گھر چلے جایا←  مزید پڑھیے