ZaighamQadeer کی تحاریر

ذیابطیس کا مکمل علاج کیا ہے؟۔۔ضیغم قدیر

سنہ 1922 میں یونیورسٹی آف ٹورونٹو کے سائنسدان ہسپتال کے وارڈ میں داخل ہوئے۔ اس وارڈ میں موجود تمام بچوں کو ذیابطیس تھی اور اس وجہ سے سب بچے کومہ کی حالت میں تھے ۔ پاس ہی بیٹھے ان بچوں←  مزید پڑھیے

نینڈرتھلز کون تھے؟(3)۔۔ضیغم قدیر

ہم اکثر یہ سنتے ہیں کہ آج کے انسان خود میں 1سے 3% تک نینڈرتھلز کا ڈی این اے رکھتے ہیں۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ تعلق یکطرفہ تھا یا نینڈرتھلز بھی ہمارا ڈی این اے خود←  مزید پڑھیے

نینڈرتھلز کون تھے؟(2)۔۔ضیغم قدیر

وہ مرد ایک نینڈرتھل تھا، چوڑی چھاتی، چھوٹا قد، اکڑ کر چلنے والا وہ جسم کچھ اعضاء کو نکال کے باقی کا سارا برہنہ تھا اور رومانیہ کے اس جنگل میں شکار کی تلاش میں گھوم رہا تھا کہ اس←  مزید پڑھیے

نینڈرتھلز کون تھے؟(1)۔۔ضیغم قدیر

نینڈرتھلز ہمارے قریبی ارتقائی کزن رہ چکے ہیں ۔ یہ انسانوں کیساتھ پانچ ہزار سال سے زیادہ عرصہ ایک ساتھ رہے اور ان کے رہنے کی بنیادی جگہ یورپ ، سینٹرل اور ساؤتھ ویسٹ ایشیاء تھا۔ نینڈرتھلز کیساتھ ہمارا رشتہ←  مزید پڑھیے

کچھ کام اکیلے نہیں ہوتے۔۔ضیغم قدیر

ایک بلیک ہول کی تصویر کھینچنے کے لئے بیس ممالک سے دو سو ذہین ترین افراد نے اپنے علم اور محنت کے بل بوتے پہ  یہ کارنامہ سرانجام دیا ۔ اور یہ انسانی تاریخ میں ایک اعزاز کی بات ہے۔←  مزید پڑھیے

کزن میرجز کے نقصانات کیا ہیں اور یہ کتنے لمبے عرصہ تک چل سکتی ہیں؟۔۔ضیغم قدیر

صحیح سلامت اولاد کے لئے کزن میرج فقط پچاس سال تک ہی کامیاب چل سکتی ہے ,بعد میں خاندان بیماریوں کا گڑھ بن جاتا ہے اور لوگ اسے جادو ٹونے کا نام دے دیتے ہیں, حالانکہ یہ سب بیماریاں کزن←  مزید پڑھیے

وٹس ایپ پرائیویسی پالیسی۔۔ضیغم قدیر

وٹس ایپ کے بارے میں زیرِ  گردش باتیں من گھڑت ہیں۔ وٹس ایپ آپ کی صرف انہی معلومات تک رسائی رکھے گی جن تک فیس بک اور میسنجر رکھتے ہیں۔ یہ معلومات آپکی ڈی پی، پبلک اسٹیٹس، بائیو اور آئی←  مزید پڑھیے

خزاں ، پیار اور چنار کے گرتے پتے۔۔ضیغم قدیر

کہتے ہیں پرانے وقتوں کے لوگ مہینوں میں جیتے تھے۔ یہ دِنوں اور ہفتوں کے حساب سے جینا ہم جیسے نازک اندام جدید لوگوں نے دریافت کیا۔ دن اور ہفتے تو ہزاروں کڑوڑوں سالوں سے چلے آ رہے ہیں۔ جس←  مزید پڑھیے

پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کا زوال۔۔ضیغم قدیر

پاکستان کی ڈرامہ اندسٹری پہ بار ہا تنقید سننے کو ملتی ہے۔ اکثر یہی گِلہ سننے کو ملتا ہے کہ یہ ڈرامے معاشرے میں نفرت پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں اور انکے پاس تخلیقی موضوعات نہ  ہونے کے برابر←  مزید پڑھیے

ایک ہنستا مسکراتا شخص خودکشی کیوں کرتا ہے؟۔۔ضیغم قدیر

باہر سے پرسکون نظر آنے والے وجود کے اندر کتنی جنگیں چل رہی ہوتی ہیں یہ کوئی نہیں جانتا۔ یہ جنگ چھوٹی سی بات پہ بھی شروع ہو سکتی ہے۔ جیسے کوئی کہے تمہارے منہ پہ کتنا برا دانہ نکل←  مزید پڑھیے

کرونا فقط ایک افسانہ ہے حقیقت تو کچھ اور ہے۔۔ضیغم قدیر

“میں نے خواب میں ایک تتلی کو دیکھا، اب میں جاگ گیا ہوں مگر مسلسل یہی سوچ رہا ہوں کہ کہیں میں تتلی کا خواب تو نہیں” معروف چینی مقولہ تو جناب اسی لاجک سے دیکھیں تو آج تک جتنے←  مزید پڑھیے

دو ذرے ، آبِ حیات اور اک سیلِ رواں۔۔ضیغم قدیر

بگ بینگ کے دھماکے کو ہوئے چار ارب سال ہو چکے تھے۔ یہ زمین کھنکھناتے گارے کے ڈھیر کے سوا کچھ نہیں تھی۔ کچھ بھی نہیں۔۔ ہر طرف ایک ہُوکا عالم تھا۔ چہار سو خاموشی کا راج تھا۔آوازیں تھیں  مگر←  مزید پڑھیے

ٹیکنالوجی کے نو دولتیے اور یہ قیمتی نوادرات۔۔ضیغم قدیر

میرے ذاتی خیال کے مطابق ہر وہ شخص جس نے ٹیکنالوجی کا ڈوس اور کھڑکی نمبر ستانوے اٹھانوے کا دور نہیں دیکھا تو وہ ٹیکنالوجی کے خاندنی امرا میں نہیں آتا۔ کھڑکی بولے تو بل گیٹس کی ونڈوز۔ یہ دور←  مزید پڑھیے

دوبارہ پھر سے۔۔ضیغم قدیر

“سانپ کے ڈسے ہوئے لوگ مر جاتے ہیں لیکن زندگی کے ڈسے ہوئے لوگ مرتے تو نہیں مگر ان کی زبانوں پہ چپ لگ جاتی ہے۔” وہ بھاگے جا رہی تھی، اُس کی آنکھوں کے سامنے وہی منظر بار بار←  مزید پڑھیے

آدم خور قبیلے،پُراسرار جادوگر وائرس اور اس کے علاج کی تلاش کی کہانی۔۔ضیغم قدیر

”انسانی گوشت بہت مزیدار ہوتا ہے ، بس اوپری جلدی تھوڑی کڑوی ہوتی ہے ۔“ جنگلی قبیلے کی عورت کیمرے کی طرف دیکھتے ہوۓ بولی ” جب بھی ہمارا کوئی عزیز مرتا ہے تو اسکے قریبی رشتہ دار اس کی←  مزید پڑھیے

شدت پسندانہ نفسیات کا حامل ہمارا معاشرہ اور ” میرے پاس تم ہو “۔۔ضیغم قدیر

وفا اور بے وفائی انسان ہی کرتے ہیں لیکن ہم ہر چیز کو آئیڈیالائز کر کے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ محرومیاں جن کا ہم شکار ہوتے ہیں ہماری کوشش ہوتی ہے کہ کوئی دوسرا کردار انہی محرومیوں کا←  مزید پڑھیے

عمل تولید کے بعد ایک دوسرے میں تحلیل ہونے والی مچھلیاں۔۔ضیغم قدیر

عشق میں یک جان دو قالب ہونے کا محاورہ تو آپ نے سن رکھا ہوگا مگر Anglerfish  مچھلیوں کی وہ قسم ہے جو عملِ تولید کے بعد ایک دوسرے میں تحلیل ہوجاتی ہیں۔ ویسے تو دنیا بے وفا لوگوں سے←  مزید پڑھیے

بین الکائناتی عشق۔۔ضیغم قدیر

خوابوں کے سمندر میں، مَیں نے دیکھا دسمبر کی یخ بستہ رات تھی۔ چار سو کہرا تھا۔ دھند میں فاصلے پہ موجود کوئی چیز بھی دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ ایسے میں ایک ہیولا میری طرف بڑھا۔ قدموں کی چاپ←  مزید پڑھیے

ذرا دھوم سے شعر بولو دسمبر کی آمد آمدہے۔۔ضیغم قدیر

یکم دسمبر ہے۔ ناکام عاشقوں کی سستی اور تیسرے درجے کی شاعری سننے والےمہینے کا آغاز۔ اس سے پہلےسوشل میڈیا کے مشہور و معروف شعرا کرام بہت اعلی درجے کی شاعری کر کے ہمارے ذوق کو جلا بخش رہے تھے←  مزید پڑھیے

سوکھے جھرنے، پہلے قدم اور گمنام منزل۔۔ضیغم قدیر

سنو مارگلہ کے جھرنے سوکھ گئے ہیں، بہتے پانی کے نشانات ایسا منظر پیش کر رہے ہیں جیسے کوئی آنکھ ابھی روتی روتی چُپ ہوئی ہو، مگر گالوں پہ بہتے آنسوؤں کے نشان ابھی بھی باقی ہوں۔ وہ گال جو←  مزید پڑھیے