گھروندا ریت کا(آخری قسط34)۔۔۔سلمیٰ اعوان

SHOPPING

امریکہ کے اِس بڑے اور صنعتی شہر شکاگو کے لوگوں نے مقامی اخبارات میں چھپی چوتھے درجے کی اِس سرخی پر سرسری سی نظر ڈالی ہوگی اور پھر دوسری خبروں کی طرف متوجہ ہوگئے ہوں گے کہ طیاروں کا کریش ہونا کو ن سی نئی اور انوکھی بات ہے۔
ڈچ ایرلائنز کا بوئنگ طیارہ سوئزرلینڈ کے قریب حادثے کا شکار ہوگیا۔طیارے میں موجود429 چار سوانیتس مسافروں میں سے کوئی بھی زندہ نہ بچا۔
ناشتے کی میز پر بیٹھی اُس نے بھی اِس خبر کو پڑھا۔گہرہ  یاس اور دُکھ میں ڈوبی آہ اُس کے سینے سے نکلی اور وہ اپنے آپ سے بولی تھی۔
کیسے بدنصیب تھے۔
جانے کتنی تمناؤں کے ساتھ گھروں سے نکلے ہوں گے؟پتہ نہیں کِس کِس کے دل میں ارمانوں کے کیسے کیسے محل سجے ہوں گے؟حادثے کی یہ خبر کتنے خوش وخرم گھروں پر بجلی بن کرگری ہوگی۔کتنے معصوم بچوں کی آہیں فضا میں گونجی ہوں گی اور کتنے دلوں کا خون
ہوا ہوگا؟
اللہ حادثے کیوں ہوتے ہیں۔یہ زندگیوں کو روگ کیوں بنا جاتے ہیں؟
وہ اِن دنوں اپنے بھائی کے پاس آئی ہوئی تھی۔سینٹ لوئس یونیورسٹی سے وہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد کوئی چار ماہ قبل یہاں آیاتھا۔اچھی جاب مل گئی تھی جس فلیٹ میں وہ اِس وقت رہائش پذیر تھا یہ اُس کے کِسی گہرے دوست کا تھا جو دوسال کے ایک کنٹریکٹ پر جنوبی امریکہ کے پیرو گیا تھا۔ تین کمروں کا یہ فلیٹ جس کے ایک کمرے میں وہ اپنا ضروری سامان ٹھونس ٹھانس کر بقیہ دوکمرے اُس کے تصرف میں دے گیا تھا۔شکاگو جیسے شہر میں ایسی رہائش کا مُفت ملنا کسی نعمت سے کم نہ تھا۔
شاید اسی لئے اُس نے اپنے آنے کے پہلے دن رات کے کھانے پر بھائی سے اُس کی شادی کے بارے میں پوچھا تھا کہ وہ اب تعلیم بھی مکمل کر چکا ہے اور اُس کے پاس گھر کا بندوبست بھی ہے۔نیز نوکری بھی کر رہا ہے۔
یقیناََ اُسے تھوڑی سی حیرت ہوئی تھی کہ امریکہ کے تین سالہ قیام نے اُس کے بھائی پررتی برابر اثر نہیں ڈالا تھا۔
اُس نے ہنستے ہوئے تنک کر کہا تھا۔
”لویہ شادی بیچ میں کہاں سے آگئی۔وہ تو ہاورڈ یونیورسٹی میں ریسرچ کے لئے جانے کا شدید خواہشمند ہے اور سر توڑ کوشش بھی کررہا ہے۔پہلے کیرئیر توبنے۔شادی تو وہیں پاکستان میں ہوگی۔“
اور وہ بے اختیار اپنے آپ سے بولی تھی۔
”یہ اماں ابّا کے باڑے میں اُس جیسی چغد اورہٹیلی سی بھیڑ کیسے پیدا ہو گئی؟“

اِس وقت وہ اسی فلیٹ کے ڈائننگ روم میں بیٹھی اخبار کی یہ خبر پڑھتے ہوئے
افسردگی کی دبیزتہوں میں ڈوبتی جارہی تھی۔
رات اُسے ڈھنگ کی نیند نہیں آئی اس کا دل بہت پریشان تھا۔
پھر اُس نے گھر کی صفائی کی۔سپر مارکیٹ سے خریداری کے لئے ٹوکری اٹھائی اور گھر سے نکلی۔ڈرگ سٹور کے پاس رُک کرکولڈڈرنک لی اور تھوڑی دیروہاں بیٹھی۔
کوئی ڈیڑھ گھنٹہ باہر گزار کر وہ سامان سے لَدی پھَندی گھر آئی۔فرج بڑی گندی ہو رہی تھی۔ چیزیں رکھنے سے پہلے اُس نے اُس کی صفائی کرنا ضروری سمجھا۔جب اِس سے فارغ ہوئی تو اُس نے کچن میں ہنڈیا چڑھا دی۔
اور عین اُس وقت ٹیلیفوں کی گھنٹی بجی۔یہ لندن کی کال تھی۔اس کی بہن بول رہی تھی اور وہ کہتی تھی۔
”نجمی رحمان آیا تھا۔مجھ سے امریکہ کا ایڈریس مانگ رہا تھا۔میں نے اُسے کہہ دیا ہے۔ہم اپنی عزت کو یوں رُسوائیوں کے منہ میں نہیں دھکیل سکتے۔
وہ گُم سُم ریسیور کانوں سے لگائے ساکت کھڑی تھی۔تہمینہ شاید اس کا ردّعمل جاننے کی کوشش میں تھی۔مگر وہ اپنے حواسوں میں ہوتی تب کچھ بولتی۔
تم نے کچھ نہیں کہا۔
وہ اُس سے مخاطب تھی۔
”میں کیا بولوں آپا۔آپ نے جو کچھ کیا ٹھیک ہی کیا ہوگا؟
ریسیور کریڈل میں رکھتے ہوئے اُس نے اپنے آپ سے کہا تھا۔
تووہ لندن پہنچا اور میری بہن نے اُسے گھر سے نکال دیا۔
”رحمان تم نے کیا سوچا ہوگا؟تم کیسے واپس گئے ہوں گے؟اللہ رحمان میں مر کیوں نہ گئی۔میرے لئے تم اتنے خوار ہوتے پھر رہے ہو۔“
یک لخت اُسے جہاز کے کریش ہونے کا یاد آیا۔اور جیسے اس کا کلیجہ کسی نے مٹھی میں بھینچ دیا۔
یہ ضروری تو نہیں کہ وہ واپس ہی چلا گیا ہو۔لندن میں اس کے بیشمار ملنے والے ہیں۔یوں بھی وہ ڈچ ایرلائنز سے کبھی سفر نہیں کرتا۔ہمیشہ بی اواے سی یا پان امریکن کو ترجیح دیتا ہے۔
دھک دھک کرتے دل کواُس نے تسلی کے لفظوں سے بہلانا چاہا۔پر دل تھا کہ اُڑا جاتا تھا۔اور کسی طور سمجھنے میں نہ آتا تھا۔ھمک ھمک کر ایک خواہش سینے سے لِپٹ لِپٹ جاتی تھی۔کہ اُڑ کر ڈھاکہ چلی جائے۔ رحمان سے لپٹ جائے۔ بچوں کو اپنی چھاتی سے چمٹالے۔
رات کے کھانے پر بھی وہ بدحواس ہی رہی۔اُلٹی سیدھی حرکتیں کرتی رہی۔سالن کا چمچہ گلاس میں ڈال دیا۔چپاتی روکھی کھانے لگی۔جن کا نوٹس اُس کا بھائی بھی لئے بغیر نہ رہ سکا تھا۔اُس نے حیرت سے اُسے دیکھا تھا۔
کیا بات ہے؟نجمی پریشان ہو۔مجھے بتاؤ۔
”ارے نہیں بھیا۔رات سونہیں سکی۔بس اُس کا اثر ہے۔“
”تم کھانے کے بعد آرام کرو۔شام کو مسز محمود کے ہاں چکر لگا آنا تھا۔بڑی دلچسپ خاتون ہیں۔دل بہل جاتا۔
اور جب وہ اپنے کمرے میں آئی۔ اس کا جی دھاڑیں مارمار کر رونے کو چاہا۔اور اُس نے جی بھر کر ایسا کیا۔تھوڑی سی ہلکی ہوئی۔
رات کو اُس نے ثریا اور نازلی کو تفصیلی خط لکھا۔اُن سے درد بھری التجا کی کہ وہ رحمان سے مل کر اُسے سارے حالات سے آگاہ کریں۔
“ثریا کیا کروں۔لفظ بھی چھوٹے ہوگئے ہیں۔تنگ پڑ گئے ہیں۔رونا ہی اتنا بڑا ہے کہ سنبھالنے میں نہیں آرہا ہے۔میری بہن نے یقینا رحمان سے اچھا سلوک نہیں کیا ہوگا۔میری طرف سے بنّتی کرنا۔یہ بھی کہنا کہ ایک احمق لڑکی اپنی حماقتوں کی وجہ سے اس کے لئے کِس درجہ پریشانیوں اور اذیتوں کا باعث بن گئی ہے۔
خط پوسٹ کردیا۔ایک دن بعد ٹرنک کال کی کوشش کی مگررابطہ نہ ہو سکا پُوربو پاکستان طوفانی ہواؤں کی زد میں تھااور مواصلاتی نظام درہم برہم تھا۔
یہ وہ دن تھے جب انجانے وسوسے، وہم اور وحشت ناک سوچیں اُسے ہمہ وقت گھیرے رکھتیں۔وہ سارا دن بیکلی سے گزارتی۔ساری رات عجیب وغریب خواب دیکھتے ہوئے تمام کرتی۔اس کا جی چاہتا کچھ کھا لے۔اِس اتنی دردناک زندگی کا خاتمہ کرے۔بھلا اِس روز روز کے مرنے جینے میں رکھا ہی کیا ہے؟
خود کو کوستی۔کیسی منحوس گھڑی تھی؟جب میں اُس سے دور چلی آئی۔پپٹریاں سجے ہونٹوں پر زبان پھیرتی اور کہتی۔
ٹھیک تیرہ دن بعد اُس کواپنے خط کا جواب ملا۔
ثریا نے لکھا تھا۔
”میرا یہ خط تمہارے لئے کسی اچھی خبر کا پیامبر نہیں۔نجمی میری جان مجھے اس کا بے حد افسوس ہے۔لیکن اب اِس کے سوا کوئی اور چارہ کار نہیں کہ تمہیں من وعین حقیقت بتائی جائے۔مجھے احساس ہے کہ تم پردیس میں ہو اور ذہنی طور پر شدید پریشان۔ تاہم اس کے باوجود میں غلط بیانی سے کام نہیں لے سکتی اور دلداری کے لفظوں سے بھی تمہیں بہلانے کا اب وقت نہیں۔مجھے تمہاری اونگی بونگی حرکتوں پر اتنا شدید غصہ کبھی نہیں آیا تھا جتنا اُس دن آیا۔جب میں تمہارا خط لے کر خود رحمان بھائی کے پاس گئی۔ بچے مرجھائے ہوئے تھے
اور رحمان بھائی سخت پریشان۔یہ جاننے پر کہ یہ تمہارا خط ہے۔بچوں نے کس قدر شور مچایا تھا۔
”ہائے ہماری مما کا خط۔“
خط انہوں نے میرے ہاتھ سے جھپٹ لیا تھا۔ باری باری اپنے ہونٹوں سے لگایا۔ان کی آنکھوں میں روشنی تھی۔باپ کے گلے میں باہیں ڈال کر دونوں بولے تھے۔
”پپا سُنا دیجئے نا۔ممانے کیا لکھا ہے؟“
رحمان بھائی خاموش تھے۔بالکل خاموش۔ بچوں کی اس بات پر جب انہوں نے کوئی توجہ نہ دی تب وہ میری طرف مڑے اور میری ٹھوڑی چھوتے ہوئے بولے۔
آنٹی پلیز سُنا دیں نا۔
میں نے اُنہیں پیار کرتے ہوئے کہا۔

”ابھی سُناتی ہوں۔“
تبھی لڑکی نے مسکینی سے مجھے دیکھا اور کہا۔
”آنٹی آپ ہماری ماما کو لکھ دیں کہ ہم بہت اُداس ہیں۔ان کے بنا ہمیں کچھ اچھا نہیں لگتا۔خدا کے لئے اب وہ آجائیں یا ہمیں اپنے پاس بلا لیں۔“
کیا تم یقین کرو گی۔میری آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔
رحمان بھائی سے تفصیلی باتیں ہوئیں۔
اُنہوں نے بہت سی باتوں کا انکشاف کیا۔اولڈڈھاکہ والوں نے جو باتیں کیں ان پر تبصرہ کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا۔
”میں ان ذلیل عورتوں کی گندی ذہنیت پر ماتم کرنے کی بجائے اُس کی عقل پر
کیوں نہ ماتم کروں۔جس نے ایسی باتوں پر یقین کیا۔
وہ خاموش ہو گئے تھے۔کمرے میں جان لیوا خاموشی طاری تھی۔انہوں نے سگریٹ سلگایا اور بولے۔
”محبت اور نفرت خلوص اور فریب انسان کا سینہ چیر کر نہیں دیکھے جا سکتے۔سائنس نے بھی ابھی تک کوئی ایسی مشین ایجاد نہیں کی جس سے اُن کے وجود عدم وجود کا اندازہ لگایا جاسکے۔ہم صرف انسانوں سے مل برت کر ہی سمجھ سکتے ہیں۔جان سکتے ہیں کہ وہ کس معیار کے ہیں؟مجھے بتاؤ کہ وہ جومیرے اتنے قریب رہی ہے اس کی ریڈنگ میرے بارے میں ایک قاتل کی ہے۔میں نے اُسے ایک بار نہیں بارہا بتایا تھا کہ اولڈ ڈھاکہ والیاں کس ذہنیت کی مالک ہیں؟ بھُس میں چنگاری بھر کر تماشا دیکھنا ان کی فطرت ہے۔ وہ یہ نہیں جانتی کہ انہوں نے اُس کے بارے میں مجھ سے کیا کہا۔

میری دونوں بھاوجوں اور ان کی رشتہ داروں کا کہنا تھا کہ وہ تو کوئی جادوگرنی ہے جس نے بچوں پر پٹو ڈال لیا ہے،انہیں پوری طرح قابو کر لیا ہے۔بچے تو کسی اور کی طرف دیکھتے ہی نہیں۔خالاؤں تک کو پہچانتے نہیں۔بُہت خطرناک ہے۔جتنی بھولی بھالی صورت ہے اتنی ہی اندر سے مکاّر ہے۔
میں ہنس پڑا تھا۔سکون سے جواب دیاتھا۔
”آپ ٹھیک کہتی ہیں۔بے لوث پیار اور خلُوص سے بھرا انسان واقعی بہت بڑا جادوگر ہے۔
تمہارا خط انہوں نے سارا پڑھا۔نجمی اُن کی آنکھوں میں نمی تھی۔گلوگیر آواز میں صرف اتنا ہی کہہ سکے۔
”ثریا میں اُسے بہت پیار کرتا ہوں۔“
وہیں یہ فیصلہ ہو اکہ وہ لندن جائیں گے اور تمہاری بہن سے بات چیت کے بعد تمہیں لائیں گے۔
تمہاری بہن کے ساتھ اُن کی کیا بات چیت ہوئی؟ اس کی تفصیل تو معلوم نہیں ہوسکی۔اب وہ ڈھاکہ پہنچتے تو کچھ معلوم ہوتا۔
شاید ڈچ ائیر لائنز کے بوئنگ طیارے کے کریش ہونے کی خبر تمہاری نظروں سے بھی گذری ہو۔اُس جہاز میں رحمان بھائی بھی سوار تھے چار سو اُنتیس بد نصیب مسافروں میں سے ایک وہ بھی تھے جن کی لاش کے پرخچے اڑ گئے۔یہ کیسی موت تھی؟اس موت کی اطلاع جب اُن کے عزیزوں اور رشتہ داروں کو ملی تو ایک کہرام مچ گیا۔ان کا بڑا بھائی فوری طور پر سوئزرلینڈ گیا جہاں حادثہ وقوع پذیر ہوا تھا۔مگر ملتا کیا۔انسانی اجسام کے
ٹکرے ٹکرے ہو گئے تھے۔
رحمان بھائی گئے۔وہ اس جہاں فانی سے چلے گئے اور تمہاری زندگی کا ایک المناک باب ختم ہوگیا۔
مگر اب اور سُنو۔اُن کی انشورنس تمہارے نام ہے معلوم نہیں تمہیں اس بات کا علم ہے یا نہیں۔وصیت کے مطابق ان کا گلشن والا گھر تمہارے نام ہے۔ اب سُنو اُن کے رشتہ دارتمہارے اُس گھر پر آکر قابض ہوگئے جس کے ایک ایک کمرے کو تم نے سجانے میں بازاروں کے بیس بیس چکر لگائے تھے۔وہ تو اپنے حسابوں جائیداد کے وارث بن بیٹھے تھے مگر ان کے وکیل دوست جسے یقیناً تم اچھی طرح جانتی ہوآکر اُن کی غلط فہمی کو دُور کیا۔
اولڈ ڈھاکہ والوں سے لندن جانے سے پہلے ان کی زوردار جنگ ہوئی تھی۔انہوں نے اپنی بھاوجوں کو لعن طعن کی تھی کہ وہ آخر ایسی شرپسندی کی باتوں سے کب
تک لوگوں کے اچھے بھلے بستے رستے گھروں کو جہنم بناتی رہیں گی۔تمہارے لندن چلے آنے کو انہوں نے چُھپایا۔جہاں آراآپا نے پوچھا تو صرف اتنا کہا وہ اپنی بہن سے ملنے گئی ہے۔
اب ذرا ان بچوں کا بھی تھوڑا سا احوال سن لو۔جنہوں نے تمہیں پاکر اپنی ماں بھلا دی تھی۔وہ بچے یوں جُھلس گئے ہیں جیسے بادسموم سے ٹہنیوں پر کھلِے گلاب مرجھاجاتے ہیں۔پھٹی پھٹی آنکھوں سے سبھوں کو دیکھتے ہیں۔پھر کہتے ہیں۔
”ہماری مماکہاں ہے؟“

SHOPPING

جہاں بیٹھتے ہیں وہیں بیٹھے رہتے ہیں۔جہاں کھڑے ہیں۔وہیں یتیموں
مسکینوں کی طرح کھڑے رہتے ہیں۔ان کی خالائیں بہتیرے چونچلے کرتی ہیں۔بہتیرا بہلاتی ہیں۔مگر اُن پر اُس کا کچھ اثر نہیں۔سنا ہے بچی رات کو تمہارا نام لے کر بُڑبڑاتی ہے۔
یہ سب باتیں مجھے جہاں آرا آپا سے معلوم ہوئیں۔وہ حیران ہیں کہ تمہیں ان
سب کا علم نہیں میں نے اُنہیں صورت حال سے آگاہ کیا.ان کا کہنا تھا۔کیسی اوندھی لڑکی تھی مجھ سے تو بات کرتی۔
ایروگرام ہاتھ میں پکڑا تو بیک وقت خوشی اور خوف سے اس کے ہاتھ کانپے تھے۔لفافہ چاک کیا۔نظریں ڈچ ایئر لائنز طیارے کے کریش تک ہی پہنچی تھیں کہ دلدوزچیخ حلق سے نکلی اور وہ تیورا کر گری۔گھر خالی تھا۔دیر تک بہیوش پڑی رہی ہوش آیا تو دیوانوں کی طرح اٹھی خط پھر پڑھنا شروع کیا۔دوہی سطریں پڑھیں کہ آنسوؤں کا ریلا تھا کہ بہتا چلا آرہا تھا۔نہ آنسوؤں پر اختیار نہ تڑپنے پر نہ گریہ زاری پر۔
تین بجے گھر سے نکل گئی۔پانچ بجے اس کا بھائی آجا تا تھا۔اور اس حالت میں اس کا سامنا کرنا مشکوک کرنے والی بات تھی۔شام تک وہ سڑکوں پر کسی لُٹے پُٹے انسان کی طرح آوارہ گردی کرتی اور خود سے پُوچھتی رہی۔
میں کب بسی اور کب اجڑ گئی؟میں کب سہاگن بنی اور کب بیوہ بھی ہوگئی؟
وہ گھر اُس وقت آئی جب اس کا بھائی کلب چلا گیا۔نیند کی دوگولیاں اُس نے لیں اور غنودگی کے غبار میں گم ہوگئی۔
صبح اُسے تیز بخار تھا۔سُدھ بدھ نہیں تھی۔تین دن اسپتال رہی۔واپس آئی۔پھر یوں بھی تو ہوتا ہے کہ درد کا حد سے بڑھ جانا بھی دوا بن جاتاہے۔
اس انتہا نے اُسے تھوڑی سی واپسی کی طرف لوٹنے میں تقویت دی۔اپنے بھائی
کے اضطراب اور بے چینی کو اس نے ایسا ہوجاتا ہے۔پریشانی کی کون سی بات ہے؟کہ کر
ٹالنے کی کوشش کی۔
لیکن اسپتال سے گھر آنے کے دودن بعد اُس نے بھائی سے لندن بہن کے پاس جانے کی بات کی۔
لندن کی یہ بارش برساتی ایک گہری شام تھی۔اس کی بہن ابھی ابھی اسپتال سے لوٹی تھی۔بغیر کچھ کہے سُنے اُس نے خط اُسے تھما دیا۔وہ پڑھتی رہی اور جب پڑھ کر نظریں اُوپر اٹھائیں۔اُس نے دیکھا تھا۔وہاں جامد سناٹا تھا۔بے رحمی تھی۔خود غرضی کی پھوار سی تھی۔خس کم جہاں پاک والا تاثر نمایاں تھا۔بڑے پنے تلے لفظ تھے۔دبادبا سا جارحانہ انداز تھا۔
”نجمی اس باب کو اب بند کردو۔ہمیشہ ہمیشہ کیلئے۔“
اُس نے جھٹکا کھایا تھا۔پہلی بار اپنی بہن اُسے بہت اجنبی اور عجیب سی لگی تھی۔
اُس کا وہ کمزور دبوّ اور مجرمانہ سا احساس جو اُسے کوئی بات اعتماد اور ڈٹ کر کہنے سے روکتا تھا۔اس سفّکانہ رویے پر تلملا اٹھا تھا۔
”آپا آپ نے محبت نہیں کی۔آ پ کو کسی نے چاہا بھی نہیں۔آپ کو پتہ ہی نہیں یہ
آگ اور اس کا دھواں اِس کی جلن اور اِس کی تڑپ کیسی ہوتی ہے؟دلوں کا سودا کوئی بار بار ہوتا ہے۔میں تو ا س مختصر سے وقت میں محبت کی اس کی فراوانی اور اسکے حُسن میں اتنی بھیگ چکی ہوں۔کہ مزید کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔رہے بچے تووہ پھول ہیں اور پُھول تو کبھی مرجھانے نہیں چاہیں۔
”مجھے آپ کی تھوڑی سی محبت، تھوڑی سی شفقت بس تھوڑا ساتھوڑے سے وقت کیلئے آسراچاہیے۔میں ڈھاکہ میں نہیں رہ سکتی۔رحمان ہوتا تواور بات تھی۔وہ دھرتی اب
Son of the soil کے نعروں کی زد میں ہے۔بچوں کے ساتھ مجھے یہاں آنا
ہے۔رحمان کے دوست میری نقل مکانی کو ممکن بنا ئیں گے۔“
اور ڈاکٹر تہمینہ کو تو کچھ کہنے سُننے کاموقعہ ہی نہیں ملا تھا۔
وہ تو تندوتیز ہوا کی طرح آئی تھی اور بگولے کی طرح نکل گئی تھی۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *