ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 91 )

مناجات بیوہ جدید ۔۔۔۔ حافظ صفوان محمد چوہان

ہم اس غلط فہمی میں مبتلا رہے کہ مرد سری معاشرہ صرف ہمارے پاکستان ہندوستان میں ہے لیکن کئی سال سے بکرعید کے موقع پر شائع ہونے والی تحریروں کو پڑھنے سے اندازہ ہوا ہے کہ یہ گھناؤنا رواج ساری←  مزید پڑھیے

انشائیہ : چن چن دے سامنے آگیا ۔۔۔۔ لالہء صحرائی

چھوٹی عید کا چاند سمارٹ ہوتا ہے۔ یہ فوری طور پر نافذ العمل ہو جاتا ہے۔ اس لئے اگلی ہی صبح عید کرنی پڑتی ہے۔ بڑی عید کے چاند میں بڑاپن اور بُردباری ہوتی ہے، اس لئے دس دن سوچنے←  مزید پڑھیے

Short story

دیالو قوم کے منگتے ۔۔۔۔ شاد مردانوی

اس کی آٹھ ماہ کی بچی ضیق النفس کے عارضے میں ابتلاء سے گزر رہی تھی. ہر گزرتا دن بیماری کو بڑھاوا دے رہا تھا. اور ہر نیا دن اس کی ایک اور امید کا قاتل بن کر طلوع ہوتا←  مزید پڑھیے

دائرۃ الکہلاء۔۔۔۔ اویس قرنی

جگر صاحب کا پہلی بار تقریبا ًتین ماہ بھوپال میں قیام رہا اس کے بعد وہ واپس چلے گئے اور ایک سال بعد وہ دوبارہ تشریف لائے اور محمود علی خان جامعی کے یہاں قیام کیا ۔ جو اس وقت←  مزید پڑھیے

جنسی اختلاط –شیراز چوھان سوز

جنسی اختلاط کیا ہے ؟ اسے کیسے سمجھا جائے ، اور اس بارے بات پر کتنی توجہ دی جائے؟ کیا جنسی اختلاط ایک ایسا عمل ہے کہ جسے صرف بچے جننے کیلئے کیا جائے ؟ کیا ایک دوسرے کے لمس←  مزید پڑھیے

مثنوی معنوی از مولانا رومؒ ۔ قسط نمبر 5 ۔ لالہ صحرائی

مثنوی معنوی از پیرِ رُومی نثر نگاری و اندازِ بیان لالہء صـحـرائی بانسری کا بیان: مثنوی شریف بانسری کے باطنی مفہوم سے شروع ہوتی ھے اور اسی کی تشریح میں مولانا روم ایک سے ایک نئی گرہ کھولتے چلے جاتے←  مزید پڑھیے

ثنا قبر تہ وڑی۔۔۔۔۔ بلال حسن زئی

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں اپنے گاؤں کے ایک اسکول میں پڑھا کرتا تھا، اسکول کیا تھا؟ گارے کی کچی دیواریں اور ان پہ بنی ٹین کی چھت، جو معمولی آندھی سے کھیتوں میں بکھر جاتی تھی،←  مزید پڑھیے

دو چشمی ہا (ھ) کا استعمال۔۔۔ حافظ صفوان محمد

 اردو کے قدیم تحریری نظام میں عربی کا چلن زیادہ ہونے کی وجہ سے “ہ” اور “ھ” میں فرق نہیں کیا جاتا تھا اس لیے بھاری/بہاری، بھائی/بہائی، شھر/شہر، گھر/گہر، دھن/دہن، دھلی/دہلی، گھن/گہن، وغیرہ وغیرہ میں کوئی فرق نہیں رکھا جاتا←  مزید پڑھیے

بیس لفظوں کی کہانی۔۔ سید عون شیرازی

مثنوی معنوی از مولانا رومؒ ۔ قسط نمبر 4۔ لالہ صحرائی

پـروٹوکـول جزو ثانی :  پرچہ ترکیب استعمال تحــــــریــر  :  لالہ صحـــــرائی جذباتی رویئے پر ایک نظر: ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ ہمارے لوگوں کے مزاج کچھ ایسے ہیں کہ جب عقیدت کرتے ہیں تو انتہا درجے کی اور جب مخالفت کرتے ہیں تو وہ←  مزید پڑھیے

ماسکو سےمکہ ۔ ایک رپورتاژ ۔ ڈاکٹر مجاھد مرزا

ماسکو سےمکہ ۔ ایک رپورتاژ ڈاکٹر مجاھد مرزا … (پیش لفظ اور پہلی قسط) مجھے 8 اکتوبر 2013 کو حج کی سعادت پانے کی خاطر ارض مقدس کے لیے روانہ ہونا تھا۔  مجھے کچھ اعترافات، انکشافات اور شکایات کا اظہار←  مزید پڑھیے

مثنوی معنوی از مولانا رومؒ ۔ قسط نمبر 3 ۔ لالہ صحرائی

پروٹوکول جزو اول : ابتدائیہ درسِ مثنوی رومیؒ تحریر : لالہ صحرائی دوستان ما و شما، سلامت باشید و سلام مسنون مثنوی شریف کا آغاز کرنے سے پہلے کچھ ضروری باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں ۔ جمالیاتی ذوق ایک شرف←  مزید پڑھیے

 نٹ کھٹ کی واپسی۔ ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ستر سے نوّے کی دہائی، تیس، پینتیس برس۔ میں جامعہ کی سطح پر ترقی کرتے ہوئے اور سیڑھیاں چڑھتے ہوئے پروفیسر ہوا، شعبے کا صدر بنا، باہر کے ملکوں میں وزیٹنگ پروفیسر کے طور پر کئی چکر لگا آیا ،←  مزید پڑھیے

اللہ دتہ سپاہی ۔۔۔۔۔منصور مانی

اللہ دتہ سپاہی رونے والی ماں سے پوچھو ذرا وہ کیوں کُرلا رہی ہے یہ کون جوان سال ہے جو روٹھے بچوں کو  بہلا رہی ہے وہ نہیں اب یہاں تیرا سایہ تھا جو قربتوں کا نشاں فرقتوں کی زباں←  مزید پڑھیے

“پنشن ۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر مجاہد مرزا”

  “پنشن” میرے کڑیل سپوت کی قیمت چھ ستمبر کے خون کی قیمت جو مجھے قسط وار ملتی ہے صرف بتیس روپے چھ آنے ڈھائی سالوں کے دودھ کی قیمت بیس سالوں کی پرورش کے دام صرف بتیس روپے چھ←  مزید پڑھیے

اے رب جلیل۔۔۔۔۔نینا ابرامووا

 نظم: نینا ابرامووا (ترجمہ: مجاہد مرزا) اے رب جلیل، جو کچھ بھی دیا، مشکور ہوں میں آج خدا صبح سویرے جاگ گیا شکووں اور تقاضوں سے پر نامے پڑھے اپنے کرم کا بقچہ کھولا کسی کو غچہ دیے بنا خواہاں←  مزید پڑھیے

ایک راندہ درگاہ ولی ۔ شاد مردانوی

سراج اورنگ آبادی نے کہا تھا بہار ساقی ہے، بزم گلشن ہیں مطربانِ چمن  شرابی  پیالہ گل، سروِ سبز شیشہ ، شراب بو اور کلی گلابی ہوا شفق پوش باغ و صحرا محیط ہے رنگ لالۂ و گل غبارِ گلگوں←  مزید پڑھیے

خدا راہ مجھے صحافی مت کہو ۔ خاور نعیم ہاشمی

ساٹھ کی دہائی میں لاہور کے فلمی مرکز رائل  پارک میں بڑی رونقیں ہوا کرتی تھیں۔  یہاں سیکڑوں پروڈکشن اورڈسٹری بیوٹرز آفسز قائم تھے،بہت سے ایکٹروں، شاعروں ، ادیبوں اور صحافیوں کی راتیں بھی وہیں بسر ہوتی تھیں۔ رضیہ مینشن←  مزید پڑھیے

تخلص داغ ہے اورعاشقوں کے دل میں رہتے ہیں ۔ اویس قرنی

مرزا غالب کے بردارِ نسبتی اور ریاست فیروزپورجھرکہ کے حکمران نواب شمس الدین احمد خان کی آف شور کمپنیاں تو نہیں تھیں. مگر دولت کی حرص اس قدر تھی کہ غالب کی ڈیڑھ لاکھ روپے سالانہ آمدنی والی جاگیر کی←  مزید پڑھیے