محمد افضل حیدر کی تحاریر
محمد افضل حیدر
محمد افضل حیدر
محمد افضل حیدر شعبہء تدریس سے وابستہ ہیں.عرصہ دراز سے کالم , اور افسانہ نگاری میں اپنے قلم کے جوہر دکھا رہے ہیں..معاشرے کی نا ہمواریوں اور ریشہ دوانیوں پر دل گرفتہ ہوتے ہیں.. جب گھٹن کا احساس بڑھ جائے تو پھر لکھتے ہیں..

تنگ پگڈنڈی۔۔۔محمد افضل حیدر

وہ ہر روز آٹھ بجے دفتر کے لیے نکلتا تھا اس کا دوست زین اور وہ ایک ہی فلیٹ میں رہتے تھے زین ایک ٹیلی کام کمپنی میں انجینئر تھا. وہ رات دیر سے فلیٹ پر آتا اور صبح تاخیر←  مزید پڑھیے

شادی کا نوحہ۔۔۔محمد افضل حیدر

میرا جگری دوست اسد آج کل اپنے خانگی حالات کی وجہ سے بہت پریشان ہے۔ وہ مجھ سے اپنی ہر بات شیئر کرتا ہے اس لیے مجھے اس کی نجی زندگی سے لیکر پیشہ ورانہ وارداتوں تک ہر چیز کی←  مزید پڑھیے

منافقت زندہ باد۔۔۔محمد افضل حیدر

موجودہ زمانے میں منافقت ایک ہمہ گیر اور عالمگیر انسانی طرز ِعمل بن چکا ہے۔ کیا چھوٹا کیا بڑا، کیا گورا کیا کالا ،ہر کوئی اس کی سحر انگیزی سے متاثر نظر آتا ہے۔ اس کی اثر پذیری اس حد←  مزید پڑھیے

سُلگتا کشمیر۔۔۔محمد افضل حیدر

بھارت کی طرف سے کشمیر پر اٹھایا جانے والا حالیہ غیر معمولی اقدام میرے لئے حیران کُن نہیں تھا۔جو لوگ بھارتی وزیر اعظم کے پس منظر اور اس کی فسطائی ذہنیت سے پوری طرح واقف تھے ان کے لیے مودی←  مزید پڑھیے

کیچڑ۔۔۔محمد افضل حیدر

اس رات ہونے والی طوفانی بارش نے مٹھو ہوٹل والے کی فکر میں بے حد اضافہ کر دیا تھا۔ اسے اپنے گھر اورچھپر ہوٹل کی فکر کھائے جا رہی تھی،پچھلی بارش پر بھی اس کے گھر کی سر کنڈوں سے←  مزید پڑھیے

برگد کا پیڑ۔۔۔محمد افضل حیدر

اُس کو مرے ہوئے دو گھنٹے گزر چکے تھے۔۔ اسپتال کی ایمرجنسی سے ملحق ایک اسٹور نما کمرے میں اسٹریچر پر پڑی اس کی لاش کے اردگر د ایک نرس کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا۔نرس ہاتھ میں ایک رجسٹر←  مزید پڑھیے

سائیاں وے۔۔۔۔ محمد افضل حیدر

دِن کا پہلا پہر ماحول کے طول و عرض پر اپنی آمریت مسلط کر چکا تھا۔ گرمیوں کا سورج دِن کے آغاز سے ہی اپنے تیور دکھا رہا تھا۔دِتاّ کھیتوں کے بیچوں بیچ سے ہوتا ہوا منشی رب نواز کے←  مزید پڑھیے

سویرے والی گاڑی۔۔۔محمد افضل حیدر

شادی کے محض چار سال بعد ہی دونوں میاں بیوی کے درمیان نوبت طلاق تک پہنچ گئی تھی۔ تلخ کلامی اور رویوں میں سرد مہری اب آئے روز کا معمول تھا۔ارشد نے اسی برس چھوٹی عید کے دوسرے روز ایک←  مزید پڑھیے