کی تحاریر
Avatar

گیم پلٹ گئی (19)۔۔وہاراامباکر

انگریزوں کی دماغ گھما دینے والی سفاکی کی خبریں دہلی پہنچ رہی تھیں۔ کانپور میں جنرل نیل نے جو کچھ کیا تھا، وہ کسی کا بھی دل لرزا سکتا تھا۔ جس جگہ پر قبضہ کیا، وہاں قتلِ عام کیا۔ راستے←  مزید پڑھیے

قربانی کیوں کریں ؟۔۔عبدالغنی محمدی

عید قربان  آن پہنچی ، حضرت خلیل کی سنت عاشقانہ کو  یا د کرنے اور دہرانے   کا وقت ایک مرتبہ پھر  قریب آپہنچا۔ حضرت خلیل ؑ  کی عاشقانہ اداء تھی جس کو خدانے ہمیشہ  اپنے ماننے والوں میں محفوظ کردیا←  مزید پڑھیے

مکڑی کا جال (11)۔۔وہاراامباکر

دہلی سے شمال میں کیپٹن رابرٹ ٹٹلر اس سے بے خبر اپنے 200 سپاہیوں کو کمانڈ کر رہے تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ فوج میں کچھ گڑبڑ تو چل رہی ہے لیکن کس حد تک؟ اس کا علم نہیں تھا۔←  مزید پڑھیے

زندگی رُکے گی نہیں۔۔۔روبینہ فیصل

جب سے ہماری جنریشن کے لوگوں نے سالگرہ منانی شروع کی ہے تب سے ہی میرے چاہنے نہ چاہنے کے باوجودمیری سالگرہ آبھی جاتی ہے اور ہو بھی جاتی ہے۔اور پتہ نہیں ایسا کیا ہے کہ ہوتی بھی خوب دھوم←  مزید پڑھیے

انسان کی فریاد۔۔روبینہ فیصل

یہ جو بوجھ مجھ سے اٹھوائے جاتے ہیں کیا یہ سب میرے ہیں؟ کیایہ سب انسانوں کی کہانیاں جو عبرت کا نشان تھیں میری ہیں؟ یا وہ سب اصلاحی کہانیاں، وہ میری تھیں؟ وہ سب قصے میرے حوالے کیوں کیے←  مزید پڑھیے

کلبھوشن یادیو کیس ! فیصلے میں کیا ہوا؟۔۔۔۔احمد صہیب اسلم

کلبھوشن یادیو کیس کا فیصلہ آئے، ایک سال گزر گیا ہے ، اس فیصلے کی عام فہم اور درست تشریح تو لندن میں موجود ایک پاکستانی وکیل انعام رانا نے محب الوطن کے سطحی اور غیر ضروری لبادے کو ایک←  مزید پڑھیے

مفت توانائی۔۔وہارا امباکر

مفت توانائی ایک دعویٰ ہے کہ توانائی کی کنزریویشن کے قوانین توڑے جا سکتے ہیں اور کوئی ایسا طریقہ نکالا جا سکتا ہے جس سے توانائی مفت ملتی رہے۔ اس دعوے کے ساتھ ایک بنیادی مسئلہ ہے اور وہ یہ←  مزید پڑھیے

چلو اس شہرِ خموشاں میں۔۔رمشا تبسم

چلو اس شہرِ خموشاں میں اب دل کی باتیں خوب کریں کبھی تم کہو, کبھی میں کہوں کبھی ہم تم مل کر ساتھ ہنسیں یہ دنیا ہے ایک راز سہی آؤ رازوں کو اب فاش کریں تم مجھ کو محبت←  مزید پڑھیے

مندر یا مسجد: بات ہے اصول کی۔۔حسان عالمگیر عباسی

میں سمجھتا ہوں دین جذبات کی قدر کرتے ہوئے  ‘اصول’ کو فوقیت  دیتا ہے۔ معاشرتی برائیوں اور مذہبی روایت پرستی نے ہمیں اس قابل ہی نہیں چھوڑا کہ ہمیں دین ،دماغ اور لاجکس کی ضرورت محسوس ہو۔ دین لاجیکل ہے←  مزید پڑھیے

شادم از زندگی خویش کہ کارے کردم۔۔خورشید ندیم

جناب عرفان صدیقی کالم نگار ہی نہیں، شاعر بھی ہیں۔ کالم بھی غزل کے اسلوب میں لکھتے ہیں۔ جسٹس ارشاد حسن خان صاحب نے مگر ان کے سلسلہ مضامین کے جواب میں جو لکھا، جسے جواب آں غزل کہنا چاہیے،←  مزید پڑھیے

مندر۔۔محمد اظہار الحق

آڈرے ٹرشکے (Audrey Truschke) معروف سکالر اور محقق ہیں۔ نیو یارک کی ایک یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ ابتدا ہی سے مشرقی کلچر، مشرق کی ہسٹری اور مشرقی زبانوں سے دلچسپی تھی۔ سنسکرت پر عبور رکھتی ہیں۔ فارسی، اردو اور ہندی←  مزید پڑھیے

اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کا مسئلہ: شرعی اور سماجی و سیاسی تناظر ۔۔ڈاکٹر محمد شہبازمنج

اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے حوالے سے ملک کے مختلف حلقوں میں بحث جاری ہے۔ علما کے  ایک طبقے کے مطابق ایک اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کا احترام تو مسلمہ ہے اور ان کی←  مزید پڑھیے

مطالعہ کتب، انسان کی ضرورت۔۔ارویٰ سہیل

ہمارے معاشرے میں وقت کے ساتھ ساتھ پڑھے لکھے خاص کر نوجوان طبقے میں مطالعہ کا رجحان کم ہو چکا ہے۔ جس کے نتیجے میں لاعلمی اور ذہنی الجھاؤ بڑھ رہا ہے۔ مطالعہ کتب ہمیشہ سے انسان کی ضرورت رہی←  مزید پڑھیے

دیمک بہتر یا کیڑا؟۔۔روبینہ فیصل

لارڈز لندن ہے۔۔۔اس اگست2020 میں اس بات کو پورے دس سال ہو جائیں گے، ہو سکے تو اس بدنامی کی سالگرہ منالیں اور اُس وقت کے صدر ِ پاکستان آصف زرداری کے وژن کے مطابق،” مل کے کھاؤ اور مٹی←  مزید پڑھیے

ٹرانس جینڈر افراد کے انسانی حقوق اور ٹرانس فوبیا۔۔ارشد بٹ

انسانی تاریخ میں مذہبی، ثقافتی، سماجی اورقانونی سطح پر دو قسم کی جنسی یا صنفی شناخت اور سماجی کردار تسلیم کیے جاتے رہے ہیں یعنی عورت اور مرد۔ تیسری جنسی شناخت ہمیشہ سے انسانی سماج کا حصہ رہی ہے مگر←  مزید پڑھیے

پطرس بخاری اور میرے گاؤں کے کتے۔۔سید کلیم اللہ شاہ بخاری

نوے کی دہائی میں ہمارے گاؤں میں کبھی کسی نے پنٹ شرٹ نہیں پہنی تھی یا کم سے کم گاؤں میں پہن کر اپنا مذاق بنوانے کا رسک نہیں لیا تھا۔ ہم نے بھی نہیں پہنی لیکن کالج میں فوجی←  مزید پڑھیے

انسانم آرزوست مصنف ڈاکٹر محمد امین۔۔تبصرہ:مہر سخاوت حسین(مجلس 1)

انسانم آرزوست، ڈاکٹر محمد آمین کی کتاب ہے جو چالیس مجالس پر مشتمل ہے ۔یہ چالیس نشستیں ہیں ،جن میں مختلف کردار ہیں۔ان میں ابوالحسن کا کردار مرکزی ہے۔راقم روزانہ ایک مجلس اپلوڈ کرے گا تاکہ تمام لوگ اس سے←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

یاد تھیں ہم کو بھی رنگا رنگ بزم آ ٓرائیاں لیکن اب نقش و نگار ِ طاق ِ نسیاں ہو گئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آ نند یاد ، یعنی حافظہ، رفت و گذشت و بے خودی یہ سبھی کچھ تھا←  مزید پڑھیے

حل۔ (سو الفاظ کی کہانی)

“کےالیکٹرک ہمارا حق چھین رہا ہے۔” بجلی چور نے نعرہ لگایا۔ “مہنگائی بڑھ گئی ہے۔ یہ حکومت چور ہے۔” ماسک ذخیرہ کرنے والے نے کہا۔ “قانون صرف غریبوں کے لیے ہے۔ پیسوں والے قانون خرید لیتے ہیں۔” رشوت دینے والے←  مزید پڑھیے

شبرا قصائی کے نام۔۔ آصف محمود

گرمیاں گزرتی جا رہی ہیں لیکن نہ کوئی شام خانس پور میں گزر سکی ہے نہ بیسل کی اس حسین بستی میں پہاڑوں کی اوٹ سے دریا پر اترتی صبح کی زیارت ہو پائی ہے ۔ ٹریل فائیو پر بھی←  مزید پڑھیے