• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پاکستانی مسیحی کا کھتارسس/متحدہ پنجاب کا آخری مسیحی اسپیکر ایس پی سنگھا اور قائد اعظم ۔۔اعظم معراج

پاکستانی مسیحی کا کھتارسس/متحدہ پنجاب کا آخری مسیحی اسپیکر ایس پی سنگھا اور قائد اعظم ۔۔اعظم معراج

قیام پاکستان کے قائد کے ساتھیوں میں سے بہت سوں کے لئے یہ ایک گمنام کردار ہے ۔۔۔لیکن پاکستان کے کچھ (جن کی تعداد سرکاری طور تینتیس(33) لاکھ اور اندازوں ٹیوں کے مطابق تقریباً (40)چالیس لاکھ ہوگی۔)
ان کےلئے تحریک پاکستان کا مطلب ہی قائد اعظم اور دیوان بہادر ستیا پرکاش سنگا المعروف ایس پی سنگھا ہے۔یہ لاہور میں ہونے والی قیام پاکستان کی ہر قابل ذکر تقریب و اجلاسوں میں شریکِ رہے۔ انکے دیگر سینکڑوں حوالوں کے ساتھ ایک تاریخی حوالہ یہ بھی ہے۔کہ یہ غیر منقسم پنجاب اسمبلی کے اکیس مارچ انیس سو چھیالیس ( 1946) تا چار جولائی انیس سو سینتالیس(1947) تک اسپیکر رہے۔ یہ پاکستان کے پنجاب کے پہلے اسپیکر کیوں نہ بنے۔؟یہ اسپیکری کیسے گئی ۔؟
ان سب حالات و واقعات کی طرف اشارہ سنگھا صاحب نے انتحائی دکھ سے اپنی بیس جنوری انیس اڑتالیس(1948) کی پنجاب اسمبلی میں بطورِ رکن پنجاب اسمبلی تقریر میں بڑے دکھ سے ۔۔۔ان الفاظ میں کیا ہے۔
“اگر مجھے پہلے کہہ دیا جاتا کہ یہ عہدہ اب صرف مسلمان کے لئے ہے۔تو میں آپ کا نام خود تجویز کرتا۔”
وہ تقریر میں اگے ایک جگہ کہتے ہیں۔”
اب مسیحی جماعت وزیراعظم (جو کہ اس دور میں لیاقت علی خان تھے)کی بہت مشکور ہے۔ کہ انہوں نےمیری تعریف کرتے ہوئے یہ صاف کردیا ہے۔ کہ
” یہ کرسی اب مسلمان کے لئے ہے۔”
اس تقریبا ً تیس 30صفحات کی تقریر میں وہ سارے حالاتِ نظر آرہے ہیں جس میں سنگھا صاحب سے اسپیکری چھینی گئی لیکن جو بہت غور طلب بات ہے۔لیاقت علی خان کی مشاورت اور اشارے سے جب گورنر پنجاب رابرٹ موڈی اور پنجاب کی حکومت کے نئے نئے مسلم لیگی بنے یونینسٹوں کی مشاورت وسازشوں سے جب چار جولائی انیس سو سینتالیس( 1947)یہ کاروائی ڈالی گئی تھی تو اس کے کچھ دن بعد بھی یعنی گیارہ اگست انیس سو سینتالیس(1947) کو قائد اعظم پاکستان میں رہنے والے ہر پاکستانی شہری کو رنگ نسل مذہب سے بالاتر پاکستان کا برابر شہری ہونے کی نویدِ سنارہے تھے۔ اب پتہ نہیں انھیں اس کاروائی کا پتہ نہیں چلا یا کوئی اور مصلحت تھی ۔۔۔
قائد ملت نے قائد اعظم کے سامنے پاکستان کے معماروں میں سے ایک کے ساتھ جو سلوک کیا۔ اسکے بعد جو کیفیت سنگھا صاحب کی ہوئی ہوگی ۔
اسے چوہتر سال بعد لیہ کے معروف شاعر ناصر ملک نے بہت خوبصورتی سے دو لائنوں میں یوں بیان کیا۔
گھر سے نکال کر مجھے سمجھا دیا گیا
اس گھر سے میرا واسطہ تعمیر تک ہی تھا۔
ناصر ملک
گو کہ انہوں نے یہ خوبصورت شعر تحریک پاکستان بلکہ تصور پاکستان کے خالق چوہدری رحمت علی کی خدمات کو تاریخ میں جائز حق نہ دینے کی وجہ سے اس پر تفصیلی مضمون لکھ کر اسے شعر میں سمویا ہے۔اور ذمدار لوگوں کو یہ یاد کروانے کی کوشش کی ہے۔کہ پاکستان کا تصور نقشہ اور نام دینے والے کو جو کہ 1952سے کیمرج میں امانتاً دفن ہے ۔اسے پاکستان تو لایا جائے۔
بے شک ایسی کاروائیاں ہزاروں لاکھوں قربانیاں دینے والوں کے ساتھ ڈالی گئی تھی۔
اور منزلوں پر اپنے ناموں کی تختیاں انھوں نے گاڑ لی جو اس سفر میں شریک ہی نہ تھے۔ لیکن مذہب کی تفریق ایسے زخموں کو مزید گہرا کرتی ہے۔ورنہ
مڈھ قدیم تو زمانے اندر دو قبیلے آئے نے
اک جناں نے زہر نے پیتے اک جناں پیائے نے۔
طارق عزیز۔
لیکن اس میں سب سے دکھ کی بات یہ سب قائد کے سامنے ہؤا اور کیوں خاموش رہے۔اور اگر رہے تھے۔تو پھر گیارہ اگست کی تقریر کی کیا ضرورت تھی۔
ناصر ملک کے مضمون میں چوہدری رحمت علی کے بارے میں حقائق پرھنے کے بعد اپنے محسنوں سے نیک سلوک کرنے کی اس شاندار مثال کے بعد کسی قسم کا گلہ بنتا ہی نہیں۔
لہٰذہ تاریخی حقائق کی روشنی میں غیر مسلم پاکستانیوں خصوصا مسیحیوں  کو پاکستان کے معروضی حالات کے مطابق درپیش مسائل دستیاب موقعوں اور اپنی کمزوریوں توانائیوں کے بغور جائزے سے دوسروں کے سہاروں کی بجائے اپنے نوجوانوں کے لئے اس دھرتی سے اپنی نسبت اور اس ملک قوم کو بنانے سنوارنے،سجانے اور بچانے میں اپنی موجودہ نسلوں کے کردار سے اپنے مستقبل کے خواب بننے چاہئیے۔اور اپنی نوجوان نسلوں پر زیادہ سے زیادہ شعوری،فکری،تعلیمی اور علمی سرمایہ کاری کرنی چایئے تاکہ ہماری موجودہ اور آنے والی نسلوں کو اس معاشرے کے معروضی حالات جان کر یہاں عزتِ سے جینے کی راہ دکھائی جاسکیں۔یعنی پہلے کمیونٹی(برادری) سازی پھر قوم سازی۔۔ جو خواتین حضرات صرف گیارہ اگست کی تقریر سے قوم سازی کرنا چاہتے ہیں ضرور کریں لیکن کبھی بھی اپنے مطلب یا آدھے سچ سے یہ ممکن نہیں پورے سچ کو مان کر غلطیاں کوتاہیوں کو مان کر یہ ممکن ہوگا۔ ورنہ غیر حقیقی سرابوں سے منزلیں نہیں ملتی لوگ ایسے نشئیوں کو سراب دکھاتے رہتے۔چند سال پہلے تقریباً دہائی سے ایک ایم این اے صاحب نے کبھی کوئی آئینی ترمیم تو اسمبلی میں پیش نہیں کی لیکن گیارہ اگست کی تقریر کی طرح ملک کا وزیراعظم وہ بھی مسیحی بنانا چاہتا ہے۔ایسے کھیلتے ہیں پھر طفل مکتب لوگوں کے ذہنوں سے لوگ لہٰذہ اپنی نوجوان نسلوں کی فکری آبیاری صرف سچ سے ہوسکتی ہے۔سچ سے ہی نئی راہیں متعین ہوتی ہیں۔ورنہ الٹے سیدھے غلط اعداد و شمار اور غیر حقیقی حقائق وشواہد کی بنیاد پر ہی کچھ نہ نا عاقبت اندیش تو اپنے اجداد کے اس فیصلے کو بھی غلط ثابت کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔ کے وہ اپنےاجداد کی سرزمین پر قائم ہونے والی ریاست سے ہجرت کیوں نہیں کرگئے۔ کتنا غیر حقیقی اور مغالطوں سے پر سوچ کا انداز ہے۔ تصور کریں اس وقت کے اپنے اور گرد پیش کے حالات کا اور پھر ہجرتوں کا۔ ایسی ذہنی کیفیات رکھنے والی کمیونٹی میں سیاسی،سماجی،اور مذہبی ورکروں کو کی یہ ذمداری بہت بڑھ جاتی ہے۔کہ وہ سچ جانے اور سچ پھیلائیں ۔اور ایک ایک فرد کی سچ کی بنیاد پر ذہن سازی کریں۔ ورنہ افراد،خاندانوں، قبیلوں ،کمیونیٹوں،اور قوموں کے حال و مستقبل ماضی کے تاریخی مغالطوں کی بنیاد پر غم زدہ اور تاریک رہتے ہیں
لہٰذہ سب سے پہلے افرد سازی پھر خاندان،پھر برداری اور تب قوم سازی ممکن ہے۔ بجائے یہ کہ ہم اس تقریر جیسی دیگر دستاویزات سے توانائی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔بھلا ان سے ہمیں مستقبل میں کیا فائدہ مل سکتا ہے۔جس تقریر کے کرنے سے چند دن پہلے ایک ایسے اہل ایم پی اے سےجو غیر منقسم پنجاب کہ ہندؤں، سکھوں مسحیو اور مسلمانوں کے تقریباً ایک سو ستر (170)تقریبا اس لئے کے پنجاب کی تقسیم کے حق اور مخالفت میں 77/91 لوگوں نے رائے دی تھی. اور سنگھا ان تمام ہندؤں سکھوں مسلمانوں،مسحیو کا متفقہ اسپیکر تھآ یہ 77/91 کی گنتی بھی جو کہ پنجاب اسمبلی کے ریکارڈ میں دستیاب ہے۔کو بھی کچھ لوگ مسحیو کے فیصلہ کن ووٹ بنانے پر تُلے ہوتے ہیں جبکہ اہم یہ ہے کہ اپنی نسلوں کو سچ بتا کر یہ بتایا جائے
” ہمارے اجداد تاریخ کے صحیح رخ پر کھڑے تھے ۔ان سے فیصلے میں غلطی نہیں ہوئی تاریخ کے اتنی بڑی قتل وغارت ،ہجرت کی بدولت پیدا ہونے والے معاشی مواقع اور نفاسا نفسی نے اس وقت کے قائدین بشمول قائد اعظم اور پھر انکے جانشینوں کو اس قابل ہی نہیں چھوڑا کہ وہ پسے اور دھتکارے ہوئے دھرتی واسیوں بارے سوچ سکیں ۔”
بس موقع کی مناسبت سے لفاظی کا تسلسل جاری ہے۔جو عمل سے عاری تھا اور عاری ہے۔جبکہ سنگھا صاحب جو کہ ایم پی ایز کا متفقہ اسپیکر ہونے کے علاؤہ تحریک پاکستان کے پنجاب کی حد تک انتحابی اہم کردار سے اسپیکری چھینی گئی تھی۔ اور اسکے سامنے چھینی گئی تھی جو متفقہ قائد تھا۔جس نے سنگھا صاحب کی کسی تقریر کے جواب میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا۔
“ہم آپ کا یہ احسان کبھی نہیں بھولیں گے۔ ” اور پھر یہ احسان چند مہینوں بعد ہی اسپیکری چھین کر اتار دیا تھا۔
ہاں اگر اس تقریر جیسی دستاویزات سے کوئی فائدہ لیا جاسکتا ہے۔ تو وہ تب ہی ممکن ہے۔۔ جب ان تاریخی دستاویزات سے جڑے اسوقت کے تمام حالات و واقعات اور حقائق کو ملک وقوم کے سامنے اور خاص کر ان کے سامنے رکھیں جائیں۔جن کی فلاح وبہبود مقصود ہو۔ ۔۔
کیونکہ صرف مطلب کے سچ یا آدھے سچ سے فساد پھیلتے ہیں یا وقتی مطلب نکلتے ہیں۔ دؤر رس نتائج نہیں نکلتے نہ بڑے مقاصد حاصل ہوتے ہیں۔
لہٰذہ معروضی حالات سے اور ماضی وحال سے سبق سیکھئے
اپنے حالات اور ماضی وحال کے تجزیے کے لئے
سنگھا صاحب کی تقریر جیسی چیزوں کو توجہ سے ضرور پڑھیں۔ بار بار پڑھیں ان پر بحث کریں۔ہر پہلو پر کریں۔ گیارہ اگست کی تقریر سے توانائی حاصل کرنے والے ممکل تقریر ہی اپنے پیروں کاروں کو پڑھا دیں سنگھا صاحب کی تقریر اگر مشکل اور گنجلک ہے۔گوکہ آپ کے حقوق و شناخت کے مسلے کا حل اسی میں ہے۔
لہٰذہ بڑے مقاصدِ کے حصول میں جٹے سیاسی سماجی و مذہبی ورکروں سرسری توجہ کا رویہ چھوڑیں۔عرق ریزی کریں۔ محنت کریں مقصد سے مخلص ہوں انفرادیت چھوڑیں اجتماعی مقاصد پر توجہ دیں۔ ان مقاصد کے حصول کے لئے کارآمد مواد کا تفصیلی مطالعہ کریں’
سنگھا صاحب کی یہ تقریر یوٹیوب پر بھی اور میری
“کتاب دھرتی جائے کیوں پرائے”
میں بھی دستیاب ہے۔
اور ہاں ریاستی
عہدے ریاست کی شہریت کی نسبت کی بجائے عقیدوں کی نسبت سے بانٹنے والے دو وزرائے اعظم کے ساتھ جو ہؤا وہ تاریخ ہے۔اور تاریخ کا ایک مستند حوالہ یہ بھی ہے۔۔
کہ اس سے کوئی سبق نہیں سیکھتا۔ وہ تو ضرور نہیں سیکھتے جو اس غلط فہمی میں ہوتے ہیں ہم نے بہت کچھ حاصل کرلیا لیکن حقوق وشناخت کی جنگ لڑتے گروہوں کو سچی تاریخ سے راہنمائی لینی چاہئیے سرابوں سے نہیں۔

تعارف:اعظم معراج کا تعلق رئیل اسٹیٹ کے شعبے سے ہے۔ وہ ایک فکری تحریک تحریک شناخت کے بانی رضا  کار اور 18کتب کے مصنف ہیں۔جن میں “پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کا کاروبار”،دھرتی جائے کیوں پرائے”پاکستان کے مسیحی معمار”شان سبزو سفید”“کئی خط اک متن” اور “شناخت نامہ”نمایاں ہیں۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk