ہائی وے پر کھڑا آدمی(1)۔۔مشرف عالم ذوقی

میں عامر ریاض۔ ابھی تک جو کَڑیاں میرے ہاتھ لگی تھیں، اس سے کچھ بھی خاص برآمد نہیں ہوا تھا۔ ان کَڑیوں کو جوڑتے ہوئے اس بات کا اندازہ لگانا مشکل تھا کہ شمس کے قتل کے پیچھے کس کا ہاتھ ہوسکتاہے۔ اس درمیان ایک خبر اور آئی۔ مولانا اسیر، مولانا فرقان اور مولانا ظفر علی کو مشن ہاؤس سے بلاوہ آیا تھا۔ ملاقات کے بعد ان تینوں نے مشن سے ملنے کا مقصد بیان کیا کہ مشن نے مسلمانوں کے تحفظ کا وعدہ کیا ہے۔۔اور وہ لوگ اگلے مہینے ایک اہم کانفرنس کے لیے جنیوا جارہے ہیں۔ اس درمیان جو رپورٹ میرے ہاتھ لگی تھی، اس کی تفصیلات مولانا ہاشمی کو بتانا ضروری تھا۔

صبح کے وقت مولانا الیاس ہاشمی سے گفتگو ہوئی۔ انہوں نے گیارہ بجے کا وقت دیا۔ ٹھیک گیارہ بجے تنظیم لبیک کے دفتر میں پہنچ چکا تھا۔باہر پتھر کی بنی کچھ نشستیں تھیں۔ میں ایک بینچ پر بیٹھ گیا۔ سورج سرپر آگیا تھا، لیکن بینچ کے قریب درخت نے سایہ کررکھا تھا۔ ہوا چل رہی تھی۔ میں اس قافلہ کو دیکھ رہا تھا، جس نے ہندوستان کی سرزمین پر صوفی ازم کی بنیاد ڈالی تھی۔ محمد بن قاسم کی فوجیں سندھ میں داخل ہوئیں توایک نئی تہذیب کی داغ بیل پڑ چکی تھی۔ آٹھویں صدی میں صوفیا کرام کی باضابطہ آمد کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب خواجہ معین الدین چشتی ؒ نے اپنے قافلے کے ساتھ راجستھان کی تپتی ہوئی زمین پر قدم رکھا۔ بغداد اور ایران میں صوفی ازم کی شاخیں سر نکال رہی تھیں۔ خواجہ کے مریدوں کی بڑی تعداد آہستہ آہستہ ہندوستان کے دوسرے خطوں میں پھیل گئی۔ حضرت خواجہ بختیار کاکی، حضرت خواجہ فریدالدین گنج شکر، حضرت خواجہ نظام الدین اولیا، امیر خسرو اور اس طرح مختلف سلسلے قادری، چشتی، سہر وردی، نقشبندی، شاذلی کی موجودگی میں صوفی ازم فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن پسند کارواں کی علامت بن چکا تھا۔ سیاسی اقتدار پر بھی صوفیوں کا فیض عام تھا۔ عد م تشدد، انسان دوستی، رواداری کی مثالوں نے اور آفاقی تعلیمات نے ایک زمانے کا دل جیتا۔ صوفی ازم کے ساتھ محبت کی قندیلیں روشن تھیں۔ اس لیے خواجہ کے پاؤں اس سرزمین پر پڑے تو دیگرمذاہب کے لوگ بھی خواجہ کے شیدائی ہوتے گئے۔حضرت خواجہ نظام الدین اولیا کے دیوانے ہزاروں تھے مگر خسرو جیسا سر پھرا دیوانہ دوسرا کہاں تھا۔گوری سوئے سیج پر مکھ پر ڈارے کیسچل خسرو گھر آپنے سانجھ بھئی چو دیس سانجھ ہوگئی تھی۔۔۔۔

tripako tours pakistan

صوفیا کرام کا زمانہ کہیں پیچھے چھوٹ گیا تھا۔ صوفیائے کرام روحانی طورپر اقتدار پر قابض تھے اور اب جسمانی طورپر اقتدار کا حصہ بننے کا سلسلہ جاری تھا۔میں اس وقت چونکا جب ایک خادم میرے سامنے آکر کھڑا ہوگیا۔ حضرت آپ کو یاد کررہے ہیں۔کچھ ہی دیر میں سیڑھیاں طے کرتا ہوا میں حضرت کے حجرے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ میں ان حقیقتوں سے بے نیاز ہوں جب سمندر سے اونچی اونچی لہریں اٹھتی ہیں اور ریت کی آندھی سے خوفناک آوازیں پیدا ہوتی ہیں۔مولانا الیاس ہاشمی میری طرف دیکھ رہے تھے۔ عامر ریاض۔۔۔۔۔ کس دنیا میں کھو گئے آپ؟۔

میں صوفیائے کرام کی دنیا سے واپس آیا تو مکروفریب کی دنیا سامنے تھی۔ یہاں ہر شخص بہروپیا تھا۔ ہر شخص اداکار، اداکاری میں بھی کررہا تھا۔ میں نے سر اٹھایا۔ حضرت کو دیکھا، سوچ رہا تھا۔۔، آپ سوچتے بہت ہیں۔حضرت مسکرائے۔

یہاں جلوہ ہی جلوہ ہے۔ گلستاں میں جو بھی ہے قیدی معلوم ہورہا ہے، یا شہنشاہ؟، مولانا الیاس ہنسے۔۔ شہنشاہ بھی، پھر قیدی کون ہے؟

میں۔ ۔شمس تبریز۔۔۔مولانا الیاس ہنستے ہوئے خاموش ہو گئے ۔۔۔ہے۔۔۔۔۔ہے۔۔۔۔۔ مقام عشق یہ بھی ہے کہ ایک نام خنجر کی طرح سیدھے آپ کے دل میں پیوست ہوجاتا ہے، لیکن سوال اب بھی قائم کہ خنجر کس نے مارا۔؟

آپ کی تحقیقات کیا کہتی ہیں۔؟ ابھی کچھ اشارے ملے ہیں۔ مجھے سب معلوم ہے۔۔۔۔مولانا الیاس ہاشمی نے آنکھیں بند کیں۔ آپ کہاں گئے۔ کس کس سے ملے سب معلوم۔۔۔۔۔ابھی دریا میں پتھر اچھالتے رہیے۔۔۔ بھنور بننے لگے ہیں، اور بنیں گے۔مولانا الیاس ہاشمی سنجیدہ تھے۔ زندگی بھی تو ایک بھنور ہے عامر ریاض۔۔۔۔ ہے، ہے۔۔۔۔ بھنور در بھنور۔۔۔۔ ہم پھنستے چلے جاتے ہیں پھر ایک دن موت سر پر آکھڑی ہوتی ہے،ہے ہے۔۔۔۔مولانا الیاس ہاشمی نے اس طرح اپنی بات پوری کی جیسے کوئی بڑا فلسفہ بیان کیا ہو۔ مجھے یقین ہے، اس وقت میرے اندر کچھ چیخیں جمع ہورہی تھیں۔ مگر میں اس چیخ کو روکنا چاہتا تھا۔ میں نے نوٹ بندی اور پچاس کروڑ کا ذکر چھیڑا تو حضرت مسکرائے۔

میں نے کہا تھا نا، مجھے سب پتہ ہے، جی۔۔ یہ وہ کام ہے، جو اس زمانے میں سب کررہے تھے۔ میں بھی کررہا تھا اور پچاس کروڑ کی رقم میں آدھے سے زیادہ تو یوں بھی چلے جاتے۔ کچھ اور ہے، جس کی طرف شاید آپ کی نگاہ اب تک نہیں پہنچی۔مولانا گہری سوچ میں گرفتار تھے۔ہے ہے، کچھ اور ہے۔۔۔۔ کبھی کبھی یہ کچھ سامنے ہوتا ہے مگر ہم سمجھ نہیں پاتے۔۔۔۔،میرے پاؤں قیمتی صوفے پر رکھے تھے اور اس وقت میرا ذہن ہوا میں اڑ رہا تھا۔ میرے اندر کی چیخ باہر آنے کا راستہ تلاش کررہی تھی، اور میں نے اسی لیے آپ کا انتخاب کیا۔۔۔۔ کچھ پوشیدہ ہے۔۔۔۔ جیسے نور پوشیدہ ہوتا ہے۔۔۔ ہم ایک وقت میں کسی کے اندر پوشیدہ نور کی عظمت کو سمجھ نہیں پاتے۔ کچھ چھوٹ رہا ہے آپ سے عامر ریاض۔۔۔۔۔

ایک شعلہ کو ندا،ایک چیخ اٹھی۔میں نے حضرت کی طرف دیکھا۔ جب ہندوستان میں تصوف کی خوشبو پھیلی۔ صوفیائے کرام کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا تو ہر خطے میں روشنی بکھر گئی۔روشنی کے گم ہونے کے بعد نسبی شہزادوں کا دور آیا۔ خانقاہیں دکانوں میں تبدیل ہوگئیں۔ سجادہ نشیں اپنی اپنی دکانیں کھول کر بیٹھ گئے اور اس کے بعد ایک تحریک چلی۔ حصول علم کی تحریک۔۔۔۔ اور اس تحریک میں اس دورکے تمام بڑے شامل تھے۔ سرسید بھی، اقبال بھی۔۔ اب ایک طرف سجادہ نشینوں کی بستیاں آباد تھیں اور دوسری طرف مدارس کی تجارت کا دوسرا دور شروع ہوا۔۔۔ ہے ہے۔۔۔۔۔ تجارت کا دور۔۔۔۔ اس سے آگے۔۔ اس سے آگے۔۔۔۔ ہمہ اوست،حضرت نے آنکھیں بند کرلیں۔

اس سے آگے۔۔۔۔۔ہمہ اوست۔۔۔۔اس سے آگے کیا۔۔۔۔۔ ایک تیسرا راستہ۔

حضرت کی آنکھیں بند تھیں۔ تیسرا راستہ۔؟

جب دو راستے کھلتے ہیں، تو وقت کے ساتھ یہ دو راستے پرانے ہوجاتے ہیں۔ پھر ایک تیسرا راستہ کھلتا ہے۔ تجارت کے باب کا تیسرا راستہ، تیسرا راستہ، اگر یہ ملک ہمارے لیے کافرستان ہے تو تیسرا راستہ کیاہے؟حکومت؟ حکومت نہیں نظریہ۔

اس وقت کوئی حکومت نہیں ہے۔ نظر یہ ہے، اورتیسرا راستہ؟،آپ پچھلے برس علما کی عالمی کانفرنس میں شریک ہوئے؟ نہیں۔۔۔۔ تیسرا راستہ۔۔ نظریہ کی حمایت کا راستہ۔

کیا کوئی اس تیسرے راستے سے انکار کرسکتا ہے۔؟ مطلب شمس کا قتل۔۔ ہوسکتا ہے، اس کی بنیاد اسی تیسرے راستے پر پڑی ہو۔۔اس وقت میرے اندر کی چیخ پر حضرت کی چیخ بھاری پڑ گئی تھی۔

مجھے یقین ہے، وہ لمحہ جس دوران میں حضرت کو دیکھ رہا تھا، وہ لمحہ رُک گیا تھا۔ وقت کی چال ٹھہر گئی تھی۔۔۔ کیا اس میں نسبی مجاہد بھی شامل ہیں؟ ہمہ اوست۔ کیا اس میں مدارس بھی شامل ہیں؟ ہمہ اوست۔ حضرت کی آنکھیں اب بھی بند تھیں۔۔شمس کو اس تیسرے راستے میں تلاش کیجیے۔ مذہب کے اجتہاد میں سب جائز ہے۔حضرت بولتے ہوئے ٹھہرے،جیسے انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا ہو۔ انہوں نے اس بار غور سے میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔تصفیہ قلوب اب کہاں جو خانقاہوں کی پرانی رسم تھی۔ہے ہے۔۔۔ اس کے باوجود۔۔۔۔ ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں۔اب اس داستان میں میرے لیے لطف کی گنجائش نہ تھی۔ مسجد سے اذاں کی آواز آئی تو حضرت اٹھ کھڑے ہوئے۔یقین ہے کہ جلد ملاقات ہوگی۔

میں باہر نکلا تو شام کی سیاہی پھیل چکی تھی۔حضرت کی باتیں کانوں میں گونج رہی تھیں۔ حکومت نہیں نظریہ۔۔۔۔ نظریہ کی حمایت۔۔۔۔ تیسرا راستہ۔۔۔ پھر چوتھا راستہ۔۔۔۔۔آگے دھند ہے۔دھند میں ہر راستہ تاریکی کی طرف جاتا ہے۔۔گھر جانے کی کوئی جلدی نہیں تھی۔ کچھ خیال مجتمع ہوکر میرے ذہن میں آرہے تھے کہ آخر مولانا الیاس ہاشمی مجھ سے چاہتے کیا ہیں، اگر وہ سب کچھ جانتے ہیں تو اس کی مدد لینی اور رقم خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اس لیے یہ خیال پختہ تھا کہ تیسرے راستے کے بارے میں ابھی مولانا بھی محض قیاس تک پہنچے ہیں، ہاں یہ ممکن ہے کہ شمس کے قتل میں ان کا کوئی ہاتھ نہ ہو۔ اب میں سڑک کو عبور کرکے سامنے کے بازار تک پہنچ گیا تھا۔ اسی درمیان فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری طرف وینتی تھی۔، ابھی مل سکتے ہو؟۔۔ کوئی ضروری کام؟،وینتی ہنسی۔ضروری کام ہو تبھی ملوگے۔۔۔۔میں آرہا ہوں۔ میں نے قہقہہ لگایا۔ پورے شیطان ہو۔۔۔۔۔۔

جب میں وینتی کے گھر پہنچا، وہ لیپ ٹاپ پر جھکی ہوئی تھی۔ اب تاریکی کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ ہر شے پُر فریب اور دلکش نظر آرہی تھی۔ خاص کر وینتی۔ عورت ہر بار ایک نئی شکل میں ہوتی ہے۔ خاص کر اس وقت جب وہ آپ پر مہربان ہو۔ وہ آہستہ آہستہ کھلتی ہے اور آخر تک خود کو بے نقاب نہیں کرتی۔ وہ کچھ نہ کچھ جوہر چھپاکر لے ہی جاتی ہے جو اگلی بار اس کے کام آتا ہے۔۔۔۔وینتی مسکرا رہی تھی—

جب بہت سارے کتے گھیر لیں؟ ہمیں اس وقت بھیڑیا بالکل بھی نہیں بننا چاہیے۔ اور جب بہت سارے بھیڑیے گھیر لیں؟ پھر بہتر ہے کہ ہم اپنی نیکیوں کو یاد کرلیں، شاید خدا مہربان ہوجائے۔

پورے شیطان ہو۔۔۔وینتی ہنسی۔۔۔۔ یاد کرنا مطلب۔۔۔۔ گزرے ہوئے دنوں کو یاد کرنا۔رائٹ؟ بالکل سہی۔ شمس کے معاملے میں ایک گرہ رہ گئی ہے۔۔۔۔ کون سی گرہ۔۔ اتیت، جس کو تم ماضی کہتے ہو۔ ہوسکتا ہے، شمس کی زندگی کے ساتھ آج سے کچھ برس قبل کے واقعات وابستہ ہوں۔میں نے آہستہ سے دہرایا—

تیسرا راستہ۔۔وینتی میری طرف دیکھ رہی تھی۔میں اس کی آواز پر اچھل گیا۔مطلب۔۔۔۔ ہم ابھی کے حالات پر نظر رکھ رہے ہیں۔جبکہ ہوسکتا ہے کچھ پرانے واقعات رہے ہوں۔۔ کچھ ایسے واقعات جن سے بہت سے لوگوں کا تعلق رہا ہو۔۔۔وینتی ہنسی۔۔۔۔۔ یہ بات میرے ذہن میں تھی عامر۔ میں مشن کے ایک خاص آدمی سے ملی او راس نے بتایا، ذرا پیچھے جاؤ۔ ذرا پیچھے جاؤکے کیا معنی ہوسکتے ہیں؟” اتیت؟” ۔۔رائٹ۔۔۔ یہ دیکھو۔۔۔ اس درمیان گھرآ کر میں نے سیاست کے کئی دنگل دیکھے—جن کا تعلق۷۔۵ برس پہلے سے تھا۔ مجھے یہاں کامیابی ملی۔۔۔اس نے لیپ ٹاپ پر دکھایا۔چیخنے چلانے کی آوازیں تھیں۔۔ میں ایک ویڈیو دیکھ رہا تھا جسے کمال مہارت سے وینتی نے حاصل کیا تھا۔۔وینتی نے پھر کہا۔۔۔۔۔ہوسکتا ہے۔۔۔۔ ہمارا قیاس درست نہ ہو۔ مگر کوشش کرنے میں کیا حرج ہے۔۔۔۔ یہ حادثہ تو ہوا تھا اور اس حادثے میں۔ کچھ لوگ بھیڑیے بن گئے تھے۔ اور جب بہت سے بھیڑیے آپ کو گھیر لیں؟، وینتی مسکرائی۔، پھر ایک تیسرا راستہ کھلتا ہے۔۔۔۔۔

Advertisements
merkit.pk

اس بار وینتی چونکی تھی۔۔۔۔ تیسرا راستہ۔میں زور سے ہنسا۔ تم نہیں سمجھوگی۔،اس تیسرے راستے سے اچانک ایک چہرہ میرے سامنے آگیا تھا۔ میں اس چہرے کو ہجوم کے درمیان تیزی سے بھاگتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ڈڈ، کیا تم ٹھیک ہو؟ نہیں۔ہم سب اپنی اپنی موت اٹھائے پھر رہے ہیں؟ کیا دلبر نگر میں کچھ ملنے کی امید ہے؟موت کا سایہ۔ ایک مدت گزر گئی، لیکن یقیناً موت کا سایہ موجود ہوگا۔یہ ددّو شاستری تھا، جس نے چوڑی مہری کی پینٹ پہن رکھی تھی، ایک کھادی کا کرتا اس کے بدن پر جھول رہا تھا۔ وہ دلبر نگر اسٹیشن پر اترتے ہوئے مجھے خاصہ پریشان نظر آیا۔، 2013 میں  ایک قیامت آئی تھی۔ کیا قیامت گزرگئی۔؟ مجرم آزاد ہوگئے۔ چالیس سے زیادہ مجرم۔۔۔موسم خزاں کی شام— ہر طرف بکھری ہوئی چیخوں سے معمور تھی۔ فضاکی موسیقی میں بھی درد شامل تھا۔ اس وقت باہر نکلتے ہوئے آسمان پر بڑے بڑے بادلوں کے ٹکڑے دکھائی دیے۔خدشہ اس بات کا تھا کہ کہیں بارش نہ ہوجائے۔ کیا یہاں زندگی کے آثار باقی ہیں؟ کیا جو حادثہ ہوا وہ غیر متوقع نہیں تھا۔ شکوک وشبہات کے ہر راستے میں ایک خون کی ندی آتی ہے۔جب گھر سلگ رہے ہوں گے۔ کیا کچھ لوگ ایسے حادثوں سے خوش بھی ہوسکتے ہیں۔؟، وہاں کچھ گھوڑے والے بھی تھے۔ کچھ بنکر بھی مگر جوبھی تھے، ایک خاص کمیونٹی کے۔ ددّو شاستری نے میری طرف دیکھا۔ ہم اسٹیشن سے باہر نکل آئے تھے۔ کچھ گاڑیاں کھڑی تھیں۔ کچھ آٹو والے تھے، جو سواریوں کے انتظار میں تھے۔اسٹیشن سے بائیں طرف ایک رکشہ اسٹینڈ تھا۔ کچھ مسافر تھے، جو سواریوں کے منتظر تھے۔ ایک مسلمان فقیر نظر آیا تو ددّو شاستری نے حیر ت سے دیکھا۔ پینٹ سے نکال کر دس کا سکہ اس کے ہاتھوں میں رکھ دیا۔ میری  طرف دیکھا۔ کچھ کہنے کی ضرورت نہیں تھی۔ کچھ دیر اسٹیشن سے باہر کا نظارہ کرتے ہیں۔۔۔۔مگر کیوں؟۔میں نے دریافت کیا۔ یہاں کہانیاں ہی کہانیاں ہیں۔ دلبر نگر۔2014  میں ملک کا انتخاب ہوا تھا۔، ددّو شاستری نے میری طرف دیکھا۔ ملک کی سب سے بڑی ریا ست جو آبادی کے لحاظ سے پاکستان سے بھی بڑی ہے۔ 80 سیٹ مطلب حکومت کا فیصلہ۔۔۔۔۔۔ اور اس فیصلے کے درمیان۔۔۔۔۔،ددّو شاستری خاموش تھا۔۔۔۔۔
جاری ہے

  • merkit.pk
  • merkit.pk