• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • پاپی:خط کہانیاں،آزاد خیال/ڈاکٹر خالد سہیل ۔مرزا یاسین بیگ(خط11,12)

پاپی:خط کہانیاں،آزاد خیال/ڈاکٹر خالد سہیل ۔مرزا یاسین بیگ(خط11,12)

SHOPPING

خط۔ نمبر١١

کشتی’ سمندر’ جزیرہ
ڈئیررضوانہ !

تمہارا خط پڑھ کر میں بہت اداس اور افسردہ ہو گیا۔ اگر یہ سب باتیں مجھے کوئی اور بتاتا تو میں بالکل یقین نہ کرتا۔ تم نے نوجوانی میں ہی کتنے دکھ سہے ہیں’ کتنی مصیبتیں سہی ہیں’ کتنی اذیتیں برداشت کی ہیں۔۔۔ازدواجی بھی’مذہبی بھی’ سیاسی بھی۔ یہ سب مجھے حقیقت  نہیں خواب محسوس ہوتا ہے اور وہ بھی ڈراؤنا خواب۔ ،یہ ایک ٹریجیڈی ہے اور اس سے بڑی  ٹریجیڈی یہ ہے کہ تم اس ٹریجڈی کی ہیروئن ہو۔

تم نے یہ سب کچھ کیسے برداشت کیا اور اب بھی کر رہی ہو،۔ کیا تم یہ سب کچھ اپنے بچوں کی خاطر برداشت کر رہی ہو۔ میں جانتا ہوں کہ بہت سی مائیں اپنے بچوں کے لیے بہت سی قربانیاں دیتی ہیں لیکن یہ سب کچھ ان بچوں کے لیے بھی تو اچھا نہیں۔ میں نے سن رکھا تھا کہ پاکستان کے حالات اچھے نہیں لیکن مجھے بالکل اندازہ نہ تھا کہ وہ اتنے زیادہ خراب ہو گئے ہیں۔میں بس اتنا کہہ سکتا ہوں کہ اگر تم میرے قریب ہوتیں تو میں تمہیں گلے لگا لیتا اور تمہارے ماتھے پہ بوسہ دیتا اور تمہارا حوصلہ بڑھانے کی کوشش کرتا۔جہاں تک کینیڈا آنے کا تعلق ہے اگر تم کبھی اپنے بچوں کے ساتھ یہاں آؤ تو عرفان کا پینٹ ہاؤس جو ایک درویش کی کٹیا بھی ہے اسے اپنا گھر سمجھو اور جب تک رہنا چاہو رہو۔

ڈئیررضوانہ !

تم نے مجھ سے دو سوال کیے ہیں۔تم نے فری تھنکرز کے بارے میں پوچھا ہے اور میری رومانوی زندگی کے بارے میں کچھ جاننے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ میرے لیے یہ بات دلچسپ ہے کہ تم میری عورتوں سے دوستی کے بارے میں جاننا چاہتی بھی ہو اور نہیں بھی۔ تمہیں ڈر ہے کہ میں کچھ زیادہ ہی نہ کہہ دوں اور تم شرما جاؤ۔ ویسے میں تو ایک کھلی کتاب ہوں۔ جب چاہو جہاں سے چاہو پڑھ سکتی ہو۔ آزاد خیال ہونے کا یہ فائدہ تو ہے لیکن روایتی لوگ اس آزاد خیالی سے گھبراتے ہیں۔ اسی لیے میری والدہ کہا کرتی تھیں۔۔۔عرفان بیٹا ! جو باتیں چھپانے کی ہوتی ہیں آپ چھاپ دیتے ہیں۔ اور میں کہا کرتا تھا۔۔امی جان ! اور جو باتیں بتانے کی ہوتی ہیں آپ چھپائے رکھتی ہیں۔ خیر محبت کی باتیں بعد میں پہلے کچھ فلسفے کی باتیں ہو جائیں۔

جہاں تک فری تھنگرز گروپ کا تعلق ہے اس کا آغاز اس وقت ہوا جب کینیڈا میں میری انگریزی کی پہلی کتاب BECOMING A FREE THINKER چھپی۔ اس کتاب کو میری توقعات سے زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ ریڈیو اور ٹی وی پر میرے انٹرویو ہوئے۔ وہ کتاب دراصل میری فلسفیانہ سوانح عمری تھی۔ اس کتاب میں میں نے اپنی زندگی کے مختلف ادوار کا ذکر کیا،۔ میں نے لکھا کہ پہلے دور میں میں نے جن اسلامی فلسفیوں اور سکالرز کی کتابوں کا مطالعہ کیا ان مسلم دانشوروں میں مولانا ابوالاعلیٰ مودودی’ غلام احمد پرویز اور ابوالکلام آزاد شامل تھے۔۔

دوسرے دور میں مَیں نے جن شاعروں کا مطالعہ کیا ان میں فیض احمد فیض’ احمد فراز اور مصطفیٰ زیدی اور جن افسانہ نگاروں کو شوق سے پڑھا ان میں سعادت حسن منٹو’ کرشن چندر’ راجندر سنگھ بیدی اور عصمت چغتائی شامل تھے۔ منٹو کا یہ جملہ مجھے آج بھی یاد ہے کہ۔۔

۔ہر عورت ویشیا نہیں ہوتی لیکن ہر ویشیا عورت ہوتی ہے۔

تیسرے دور میں مَیں نے کارل مارکس لینن اور ماؤزے تنگ’ سگمنڈ فرائڈ’ کارل ینگ ’ ژاں پال سارتر اور برٹنڈرسل کو پڑھا۔

مجھے آہستہ آہستہ یہ احساس ہوا کہ

HUMAN MINDS ARE LIKE PARACHUTES.

THEY WORK ONLY WHEN THEY ARE OPEN

اس کتاب کے چھپنے کے بعد میرے ایسے پاکستانی ’ہندوستانی ’امریکی اور کینیڈین دوست بننے شروع ہوئے جو آزاد خیال تھے چنانچہ ہم نے فری تھنکرز کلب بنایا جس کی ہم ہر ماہ ایک تقریب کرتے ہیں۔ اس محفل میں طلبا و طالبات بھی آتے ہیں اور پروفیسر اور دانشور بھی اور ایک پُر مغز مکالمہ ہوتا ہے۔اگر تم ٹورانٹو میں زندگی گزار رہی ہوتیں تو میں تمہیں ان محفلوں میں بلاتا اور تمہارے من میں سویا ہوا دانشور جاگ جاتا۔ جو شخص نوجوانی میں غالب کا مداح رہ چکا ہو وہ زندگی کے کسی دور میں بھی دانشور بن سکتا ہے۔ کیونکہ غالب نے کہا تھا

؎

ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یارب!

ہم نے دشتِ امکاں کو ایک نقشِ پا پایا

میرے فری تھنکرز کلب کے جتنے ممبر ہیں وہ سب میرے قریبی دوست ہیں اور وہ سب غیر روایتی سوچ اور طرزِ زندگی رکھتے ہیں۔ان میں سے ہر ایک کی کہانی کسی ڈرامے ’ناول یا افسانے سے کم نہیں۔ وہ نجانے کیوں مجھے اپنی کہانی سنانے اور مجھ سے مشورہ کرنے آتے ہیں۔؟ تمہارا کیا خیال ہے؟

ڈئیررضوانہ !

جہاں تک میری رومانوی زندگی کا تعلق ہے گوری عورتوں کو ڈیٹ کرنے سے پہلے میری ایک مسلمان عورت ہادیہ سے دوستی ہوئی تھی جو ہندوستانی تھی۔ اسے بھی فنونِ لطیفہ اور فلسفے کا بہت شوق تھا۔میں نے اس سے ہندوستان کے بھگت کبیر۔۔۔بدھا۔۔۔مہاویرا اور ٹیگور کے بارے میں بہت کچھ سیکھا۔ وہ تھی تو مسلمان لیکن اپنی ہندو سہیلیوں کی قربت کی وجہ سے ویجیٹیرین ہو گئی تھی۔ میں چونکہ گوشت خور ہوں اس لیے میں نے سوچا کہ میری ایک ویجیٹیرین سے پکی دوستی نہیں ہو سکتی وہ میری محبوبہ نہیں بن سکتی لیکن جب اس نے مجھے اپنے گھر بلا کر چکن کڑھائی ’آلو قیمہ اور کباب بنا کر کھلائے تو میں نے اپنی رائے بدل لی۔ میں نے سوچا کہ اگر وہ مجھے گوشت کھانے سے نہیں روکتی تو مجھے اس کے ویجیٹیرین ہونے پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

چنانچہ جب دوستی گہری ہوئی تو ہم محبوب بن گئے۔

لیکن آہستہ آہستہ اس دوستی اس پیار اس محبت کی عمارت میں دراڑیں پڑنے لگیں کچھ چھوٹی کچھ بڑی۔

پہلی دراڑ یہ تھی کہ ہادیہ کی دوستی کے بعد میں اپنا مرغوب میکڈانلڈ نہ کھا سکتا تھا کیونکہ اس کے لیے میکڈانلڈ ریستوران میں سلاد کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ لیکن میں نے سوچا کہ میکڈانلڈ کی خاطر محبت کے رشتے کو توڑنا بے وقوفی ہوگی۔ چنانچہ میں میکڈانلڈ کھانے اپنے کسی فری تھنکر دوست کے ساتھ چلا جاتا۔

دوسری دراڑ اس وقت پڑی جب مجھے پتہ چلا کہ وہ ہماری محبت کو اپنی سہیلیوں سے چھپاتی ہے۔ وہ انہیں بتاتی ہے کہ ہم دوست ہیں محبوب نہیں۔ وہ انہیں یہ نہیں بتانا چاہتی تھی کہ ہم شادی کے بغیر ایک دوسرے کے ساتھ سوتے ہیں۔ ایک دن جب ہادیہ نے کہا کہ میری سہیلیاں PRE-MARITAL SEX کو نہیں مانتیں تو میں نے مزاح کے انداز میں کہا کہ چونکہ ہمارا شادی کا ارادہ نہیں ہے اس لیے ہماری سیکس پری میریٹل سیکس نہیں ہے۔ ہادیہ کو میرا مذاق پسند نہ آیا اور وہ کچھ کہے بغیر کمرے سے باہر چلی گئی۔

جب ہادیہ میرے پینٹ ہاؤس میں ویک اینڈ گزارتی اور کسی سہیلی کا فون آتا تو یہ کہنے کی بجائے کہ وہ میرے ہاں رکی ہوئی ہے کہتی

I AM OUT OF TOWN

پہلے تو کچھ عرصہ میں اس حوالے سے پریشان رہا لیکن پھر میں نے سوچا کہ میرے دوست تو جانتے ہیں کہ وہ میری محبوبہ ہے اگر اس کی سہیلیاں نہیں جانتیں تو یہ اس کا مسئلہ ہے میرا نہیں۔

مجھے دھیرے دھیرے اندازہ ہوا کہ وہ نظریاتی طور پر تو آزاد خیال تھی لیکن جذباتی طور پر روایتی ہی تھی۔ وہ احساسِ گناہ کا بھی شکار رہتی اور اسے یہ فکر بھی دامنگیر رہتی کہ ‘ لوگ کیاکہیں گے’۔

ہمارے رشتے کی تیسری دراڑ جو آخری دراڑ بھی ثابت ہوئی وہ تھی جب ہم ایک ہفتے کے لیے میکسیکو گئے تھے۔ہم جس ریزورٹ میں گئے تھے وہاں گوشت کی فراوانی تھی اور سبزی کی نایابی۔

ہر شام ڈنر میں چکن بیف لیمب فش سب گوشت ہوتے لیکن سبزیاں غائب۔ میں جتنا خوش ہوتا وہ اتنی ہی ناخوش۔

جب ہم واپس آئے تو ایک دن اس کے گھر میں اس کی سہیلیاں اس سے ملنے آئیں ۔میں ایک البم میں ہم دونوں کی تصویریں لگا رہا تھا۔ میں نے بغیر سوچے سمجھے بچوں کی سی خوشی سے انہیں وہ تصویریں دکھائیں۔ وہ سب خاموش ہو گئے۔ مجھے کچھ سمجھ نہ آیا۔ سہیلیوں کے جانے کے بعد ہادیہ بھی خاموش ہو گئی اور وہ خاموشی گہری بھی ہوتی گئی سنجیدہ بھی۔ مجھے بعد میں اندازہ ہوا کہ میں نے انجانے میں سہیلیوں کو بتا دیا تھا کہ ہادیہ میرے ساتھ میکسیکو گئی تھی۔

؎راز کہاں تک راز رہے گا منظرِ عام پہ آئے گا

جی کا داغ اجاگر ہو کر سورج کو شرمائے گا

ان تصویروں سے میں نے رومانوی خود کشی کر لی۔ میں نے ہادیہ سے بہت معافیاں مانگیں لیکن سب بے سود۔

تیر کمان سے نکل چکا تھا۔

ہادیہ اپنی سہیلیوں سے صرف اسی طرح قریب رہ سکتی تھی کہ مجھ سے دور ہو جائے۔

وہ ہادیہ ہی تھی جس کے بارے میں میں نے یہ شعر لکھا تھا

؎وہ کب کی جا چکی پاپیؔ مگر میں اس کے بارے میں

کبھی سوچوں تو آنکھوں میں نمی محسوس کرتا ہوں

اس کے بعد میری ہادیہ سے کبھی ملاقات نہ ہوئی۔ وہ اس شہر میں ہے بھی اور نہیں بھی ہے۔وہ آج بھی میرے دل کے کسی کونے میں خاموشی سے بستی ہے۔

ہادیہ کے رومانوی تجربے سے مجھے یہ اندازہ ہوا کہ بہت سی مسلمان عورتیں چاہے وہ پاکستان کی ہوں یا ہندوستان کی ۔۔۔ مشرق میں رہتی ہوں یا مغرب میں ۔۔۔۔ان کے دل کے کسی کونے میں روایت اور مذہب کے سائے چھپے بیٹھے رہتے ہیں اور انجانے میں باہر آ جاتے ہیں۔ وہ اس خیال سے بھی چھٹکارا نہیں پا سکتیں کہ ‘لوگ کیا کہیں گے’۔

ہادیہ کے رومانوی تجربے کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ میں کینیڈین عورتوں کو ہی ڈیٹ کروں گا۔

ڈئیررضوانہ !

میں اتنا خط لکھ کر سیر کے لیے چلا گیا تھا۔ اب واپس آیا ہوں اور اپنے پینٹ ہاؤس کی بالکونی میں بیٹھا جھیل کی طرف دیکھ رہا ہوں تو مجھے کنارے پر لگی اور پانی پر تیرتی بہت سی کشتیاں نظر آ رہی ہیں۔ اب یہ ان کشتیوں کا اثر ہے یا تمہارے تصور کا جادو کہ میرا موڈ شاعرانہ بن رہا ہے ۔ مجھ پر ایک نظم اتر رہی ہے جو کچھ یوں ہے

کشتیاں

سمندر کے کنارے

ان گنت رنگوں کی سندر کشتیاں

اس سوچ میں ڈوبی ہوئی رہتی ہیں کب

ان کا مقدر جاگ جائے گا

وہ کب اتریں گی گہرے پانیوں میں

اور پہنچیں گی جزیروں تک

جزیرے

جن پہ خوابوں کی حسیں شہزادیاں

صدیوں سے بستی ہیں

ڈئیررضوانہ !مجھے یوں لگتا ہے کہ تم بھی ایک کشتی ہو جو زندگی کے سمندر کے کنارے لگی بیٹھی ہے۔۔۔مجھے امید ہے ایک دن تم بھی سمندر کی گہرائیوں میں اتر جاؤ گی اور کسی جزیرے تک پہنچ جاؤ گی۔ ہو سکتا ہے اس جزیرے پر ہماری دوبارہ ملاقات ہو جائے۔

ڈئیررضوانہ!تمہیں کیسا لگے گا اگر میں ایک نظم تمہارے بارے میں لکھوں ؟

تمہارے قریب آتا ہوا دوست —- عرفان قمر

خط نمبر 12

نامعلوم قیدی
ڈئیرعرفان!

آج کھل کر تمہاری ذات کے بارے میں مجھ پر نیا عرفان ہوا۔ تم ایک پاکستانی اور مسلم گھرانے کے فرد ہو مگر تمہاری سوچ فلسفہ اور جنسی زندگی اب شاید پاکستانی ایسے رہے ہیں نہ مسلم جیسے۔ تم نے فری تھنکر کی چھتری تلے جو بودوباش اختیار کی ہے وہ شاید تمہارے جیسے نظریات رکھنے والے مغربی افراد کے لیئے تو درست ہو مگر شاید ہم جیسیوں کے لیے نہیں۔ میں نے تو پھر بھی تمھیں دوست بنالیا ہے مگر میری دیگر پاکستانی سہیلیاں شاید تمھیں ذرا سا بھی قبول نہ کرپائیں ۔ ہمارے ہاں ابھی سیکس اس سطح پر نہیں آیا ہے کہ مرد و عورت کھلے جنسی تعلقات رکھیں ۔ ہماری عورت حد درجہ جذباتی اور بند کیفیت کی ہے ۔ ہم شادی سے پہلے صرف محبت و رومانس تو کرسکتے ہیں مگر اس میں سیکس کو اس آزادی کے ساتھ شامل نہیں کرسکتے ۔ عموماً رومانی بیٹھکوں کے دوران لڑکی کسی لمحے کی گرفت میں آکر اپنے آپ کو محبوب کے حوالے تو کردیتی ہے مگر اس کیفیت سے نکلنے کے بعد وہ اسے دہراتی ہے نہ ہی اسے ایک خوشگوار تصور کے طور پر قبول کرتی ہے ۔ اگر کبھی ایسا ہوجائے تو اسے اپنے محبوب سے یہی توقع ہوتی ہے کہ وہ اسے جلد سے جلد مکمل طور پر اپنالےگا یعنی اس سے شادی کرلےگا۔ جو مرد ایسا نہیں کرتے ہماری لڑکیاں اس سے زندگی بھر نفرت کرتی ہیں اور ان کے ساتھ گذارےگئے لمحات کو اپنا زندگی کا ڈراؤنا خواب سمجھتی ہیں۔

تم نے ہادیہ کے ساتھ گزارےگئے لمحات کا تفصیلی ذکر کیا ۔ یہ ہمارے مردوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ جب کسی عورت کے ساتھ محبت بھرے لمحات گذارتے ہیں تو اس کا چرچا دوستوں سے ضرور کرتے ہیں جیسا کہ تم نے بتایا کہ تمہارے دوستوں کو ہادیہ کے ساتھ تمہارے لوافئیر کا پتہ تھا ۔ ہاں اس بات پہ تم قصوروار نہیں کہ یہ قصہ تم مجھے بتارہے ہو کیونکہ میں نے خود تم سے تمہارے عشق و محبت کے بارے میں پوچھا تھا ۔ ہمارے عشق کرنے والے شادی لازمی کرنا چاہتے ہیں مگر کبھی والدین اور کبھی سماج ان کے آڑے آجاتا ہے اور وہ شادی شدہ ہوجائیں تب بھی ساری زندگی اس محبت کو یاد رکھتے ہیں ۔ شاید یہی ہادیہ بھی تم سے چاہتی تھی مگر تم نے اس کو مایوس کیا۔ اس کے جسم کے ساتھ کھیلتے تو رہے مگر اسے اپنانے کی کوشش نہیں کی ۔ اس لحاظ سے تم ایک بےوفا ہرجائی مرد ہو ۔ تم مجھے یہاں برے لگے ۔ تم شاید ہر عورت سے ہم بستری چاہتے ہو مگر کسی کو ہمیشہ کے لیئے اپنانے اور کسی ایک کے ہوکر رہنے کی ذمےداری نہیں لینا چاہتے ۔ دیکھ لو تمہارے اس رویے سے ہادیہ کتنی ہرٹ ہوئی ہے بلکہ نجانے اس کے بعد بھی تم نے کتنوں کو ہرٹ کیا ہوگا ۔ لگتا ہے تمھیں کسی سے کبھی افلاطونی محبت نہیں ہوئی ۔ تم کبھی عشق کے سمندر میں ڈوبے نہیں ۔ تمھیں کسی کے ساتھ پاگل پن والا عشق نہیں ہوا ۔ وہ عشق جو بانو قدسیہ کے ناول ”راجہ گدھ“ میں پیش کیاگیا تھا ۔ میں اسی عشق کی دیوانی ہوں ۔ یہ کیا کہ بوسےلیے جسم کو چوما چاٹا پیاس بجھائی اور پھر کسی اور کی تلاش میں نکل پڑے ۔ مجھے ہادیہ سے بہت ہمدردی ہے ۔ نجانے بیچاری اب کہاں ہوگی؟ تم سے بچھڑکر اس نے کتنی بار اپنے تکیوں کو آنسوؤں سے بھگویا ہوگا ۔ اللہ کرے اس کی شادی ہوگئی ہو اور اسے کوئی پیار کرنے والا شوہر مل گیا ہو ۔

مجھے تمہاری شخصیت کا یہ حصہ پسند آیا ہے کہ تم ایک پڑھے لکھے دانشور بن گئے ہو ۔ تمھیں ذہنی آسودگی حاصل ہے ۔ تم اچھا سوچنے لگے ہو ۔ تنگ نظری تم سے دور بھاگنے لگی ۔ تم فری تھنکر انسانیت کے بارے میں تو اچھا سوچتے ہو مگر جب عورت کا اور سیکس کا معاملہ آتا ہے تو تمہارا ہرجائی پن تمہاری شخصیت اور سوچ پر داغ چھوڑجاتا ہے ۔ ایک بات بتاؤ کیا اب سارا مغربی معاشرہ ایسا ہی ہوگیا ہے ۔ کیا وہاں مرد و عورت اسی طرح زندگی بھر ادھر اُدھر منہ مارتے رہتے ہیں؟ اور ہوس کو محبت کا نام دیتے پھرتے ہیں؟ مجھے بتاؤ کہ کیا وہاں شادی کا نظام دم توڑگیا ہے؟ کیا وہاں ایک شادی پر گزارا کرنے والے ختم ہوگئے ہیں؟ کیا وہاں کے معاشرے نے اس بےراہروی کو قانونی شکل دےدی ہے؟ کیا بےوفائی اور ہرجائی پن سب کے لیے قابل قبول بن گئے ہیں؟ کاش میں ہادیہ سے مل سکتی۔ اس سے پوچھتی کہ عرفان سے الگ ہونے کے بعد تمہارے محسوسات کیا رہے۔ تم نے اسے کس نام سے یاد رکھا ہے اور اس غم کو بھلاکر نئی زندگی کی شروعات کس طرح کی؟ کیا تم اب بھی یہی سوچتی ہو کہ لوگ کیا کہیں گے یا تم نے لوگوں کی پرواہ کرنا چھوڑدی ہے؟ یقین مانو عرفان تمہارے ہرجائی پن نے مجھے بھی غمزدہ کردیا ہے مگر تمہارا دانشورانہ پن اور ادب سے لگاؤ اور شاید زندگی کو ایک نئے رخ سے دیکھنے کا انداز مجھے اب بھی تم سے باندھے ہوئے ہے۔ اب اگر میں کینیڈا آ بھی گئی تو شاید تمہارے وہ کیا کہتے ہیں پینٹ ہاؤس میں کبھی رہنے کے لیے نہ آؤں ۔ جیسا بھی ہوگا اپنی کسی کٹیا میں گذارا کرلوں گی؟ کٹیا سمجھتے ہو نا!

تم سے پہلے بھی مجھے ایک اچھے ادبی انسان کی سنگت حاصل رہی ہے ۔ وہ میرے شوہر کی پارٹی کے پڑھے لکھے دانشوروں میں سے ایک ہیں ۔ پارٹی کے لیے نظریاتی مضامین اور سیاسی فکریہ وہی اپنے قلم سے فراہم کرتے ہیں ۔ پارٹی کا قائد بھی ان کی عزت کرتا ہے اور ان سے رہنمائی لیتا ہے مگر چند سال قبل پارٹی نے ان کے ساتھ ایک گھناؤنا کھیل کھیلا تھا جو میں تمھیں کبھی بعد میں بتاؤنگی ۔ بس یہ جان لو کہ میرے اندر اب بھی اگر کچھ ادبی کرن موجود ہے تو یہ اسی ادبی انسان کی وجہ سے ہے ۔ ان کے گھر جاتی ہوں تو پانچ چھ کتابیں لےآتی ہوں ۔ اگلی بار وہ واپس کرکے نئی لےآتی ہوں ۔ کبھی افسانے’ کبھی شاعری اور کبھی کوئی نظریاتی کتاب ۔ مجھے سبط حسن بہت پسند ہیں ۔ ان کی ایک کتاب ”موسیٰ سے مارکس تک“ نے مجھے بہت متاثر کیا ۔ ناصرکاظمی اور پروین شاکر کی شاعری بھی مجھ میں ، اس ناامیدی کے سمندر میں ساحل کی آشا جگائے رکھتی ہے ۔ ابھی بھی مسائل منہ پھاڑے میرے اطراف موجود ہیں مگر آج نہ صرف میں نے سارے کام چھوڑکر تمہارا خط پڑھا بلکہ تمھیں جواب بھی لکھ رہی ہوں ۔ یہی میرے طمانیت کے لمحات ہیں ۔ میرے اپنے لمحات ۔ اس پہر مجھے اپنا آپ یاد آرہا ہے ۔ دل کررہا ہے غسل کرکے لان کا اچھا سا سوٹ پہنوں ۔ بال بناؤں کوئی بڑا سا جھمکا پہنوں ، خوشبو لگاؤں اورکمرے کا دروازہ بند کرکے اچھی اچھی غزلیں سنوں ۔ دیکھو زندگی کس طرح اپنا جادو چلاتی ہے ۔ میں عذاب کے پہاڑ پر بیٹھی نامرادی اور ناآسودگی جھیل رہی ہوں اور تم دنیا میں ہی جنت جیسی زندگی بسر کررہے ہو ۔ مجھے بتاؤ میرے پاس اس شادی شدہ زندگی کے علاوہ اور کیا چوائس ہے؟ اگر میرے شوہر نے مجھے طلاق دےدی تب ہی چھٹکارا ہے مگر میں اپنی خواہش کے مطابق کبھی اس کی زندگی سے نکل نہیں سکتی ۔ اس نے کئی بار کہا ہے کہ تمہاری زندگی اسی گھر میں ہے ۔ بھاگوگی تو صرف موت کو پاؤگی ۔

عرفان تم مرد ہو ۔ تم ہادیہ کو چھوڑ سکتے ہو۔ میں عورت ہوں رضوانہ ہوں میرا لاسٹ نیم LAST NAMEحسین ہے اور حسین ہی رہےگا۔ حسین شہید ہوکر ہی امر ہوتا ہے

رضوانہ ۔۔

SHOPPING

وہ نامعلوم قیدی جسے جیلر بھی نہیں جانتا ۔!
جاری ہے

SHOPPING

Avatar