ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 89 )

علموں بس کریں او یار ۔ ۔ ۔ !

وہ جون کی ایک گرم سہہ پہر تھی۔ تیسری منزل پر میرے دفتر کے دروازے پر کھٹکا ہوا اور ایک انتہائی بال زدہ چہرے نے اندر جھانکا۔ کچھ خیر خیرات مل جائے، بھاگ لگے رہن۔ وہ کوئی مانگنے والا تھا۔←  مزید پڑھیے

حاجی صاحب

کافی دیر ہوگئی یہ دونوں کہاں رہ گئے. ہوسکتا ہے پڑوس میں کسی نئے مکین سے ملنے گئے ہوں. پر ابھی تک تو انہیں آجانا چاھیے تھا اور میرا نہر کے قریب والا بنگلا وللہ نجانے کیسا ہوگا ابھی جاؤں←  مزید پڑھیے

شبِ سیاہ

عالم شاہ: توقیر! اس آدمی کو ہر قیمت پر خریدو، تم جانتے ہو کہ یہ ہمارے لیے کس قدر ضروری ہے۔ (عالم شاہ نے ایک ناممکن کام کو ممکن بنانے کے لیے اپنے سیکرٹری توقیر کو ہدایات جاری کیں) توقیر:←  مزید پڑھیے

اقبال کا وحدانی نظریہ اور خودی کا روشن ستارہ

اقبال کا فلسفہ وحدانی نوعیت کا ہے۔فکر اور وجود کی وحدت ہمیشہ سے فلسفے کا ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ اقبال نے اپنے فلسفہ خودی کے ذریعے فکر و وجود کی ثنویت کو دور کرنے کی کامیاب سعی کی۔ اقبال←  مزید پڑھیے

انا خیراً منھم

آج قرل بہت خوش تھا، آج اسکو ہزہائنیس سے سندِ فضیلت ملنے والی تھی اور وہ کیوں نا خوش ہوتا آج اسکو ہزہائنیس کا دیدار اور ملاقات کا شرف بھی حاصل ہونے کو تھا۔ کافی بیزار کن انتظار اور وقتِ←  مزید پڑھیے

اقبال کے فلسفہء عشق پر خراج حکیم الامت علامہ محمد اقبال کا جو مقام و مرتبہ ہے وہ کسی تعریف یا تعارف کا محتاج نہیں ان کے حالات زندگی کے متعلق بھی ہم سبھی جانتے ہیں۔۔ہر مہذب قوم زندگی اسکے←  مزید پڑھیے

حکیم خطرہ جان کا جہنم سے ایک خط

“مکالمہ” اس خط اور اس کے مندرجات سے بلکل اتفاق نہیں کرتا، طالبان ہمارے بھائی ہیں اور مانی جی یہودی ایجنٹ ہیں۔ ہم صرف اسلیۓ چھاپ رہے ہیں کہ دنیا کو پتہ چلے کہ یہودی ایجنٹ کتنے برے ہیں۔ ایڈیٹر)←  مزید پڑھیے

امریکہ سے سالے وافر کا مراسلہ

واشنگٹن سے ٹی سی نیوز کے نامہ نگار برائے امریکہ، سالے وافر کا مرد حق، ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد خصوصی مراسلہ فدایان “میلانیہ ٹرمپ” کے لیے پیش خدمت بلکہ ذوق ہائے ٹھرک کی نظر ہے۔←  مزید پڑھیے

آرام قلندر کو تہہ خاک نہیں ہے

مرقد کا شبستاں بھی اسے راس نہ آیا آرام قلندر کو تہہ خاک نہیں ہے سن انیس سو اڑتیس کے اواخر میں اک مرد درویش رات کے دوسرے پہر گنگنا رہے تھے سرود رفتہ باز آید کہ نہ آید نسیم←  مزید پڑھیے

بول سکھی کیا ناؤں رے

نام کس طرح سے آپ کی ذات اور شخصیت پر اپنا اثر رکھتے اور چھوڑتے ہیں، اس کا تجربہ ہمیں ذاتی زندگی میں بھی ہے اور دوسروں کے بےشمار مشاہدات بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ پچھلے چند دنوں سے←  مزید پڑھیے

جون ایلیا۔۔۔۔ ثاقب الرحمن

جون اپنی طرح کے ایک ہی انسان گزرے ہیں، وہ بہت ہمہ جہت شخصیت ہیں لوگوں کی ایک بڑی تعداد ان کو صرف ایسے جانتی ہے کہ وہ ایک کمزور و نحیف جسم کے مالک، بکھرے بالوں والے شرابی شاعر←  مزید پڑھیے

اندر کی آگ .. مائکرو فکشن

وہ داڑھی والا شخص جو ہفتے کو بیچ بازار میں خود بخود بھڑکنے والی آگ میں جل کر سوختہ جاں ہوا، ایک ناکام خود کش بمبار سمجھا جا رہا تھا لیکن ہر قسم کا شک و شبہ اس وقت زائل←  مزید پڑھیے

عظیم مغلوں کی ہندوستان کیلیے لا جواب خدمات۔

حسین مجروح، حلقہ ارباب ذوق کے پرانے ممبر ہیں اور آجکل اسکے سیکریٹری ہیں، انکے ساتھ ہماری گفتگو کے لمبے سلسلے چلتے رہتے ہیں۔ ہم ایک مشترکہ دوست کے آفس میں بیٹھے ہوے تھے کہ مغلوں کے دور اقتدار کا←  مزید پڑھیے

مرزا یاسین بیگ کا رانا تنویر عالمگیر کی کتاب پہ تجزیہ

(محترم مرزا یاسین بیگ نے رانا تنویر عالمگیر کی کتاب پر مقدمہ لکھا ہے۔ قارئین کیلیے ایک ادبی تحریر پیش خدمت ہے) ایک ماہ قبل مجھے ای میل سے پی ڈی ایف پر ایک کتاب موصول ہوئ ” ملًاازم اور←  مزید پڑھیے

مٹی کے چہرے

وہ میرے بالکل سامنے آ بیٹھا تھا۔ اپنی اسی ادائے بے نیازی کےساتھ، اس نے اسی سحر میں جکڑے انجانے سے جادوئی طرز والے انداز میں سوال کیا… "تمہیں محبت کی سب سے خوبصورت کہانی کون سی لگتی ہے جس←  مزید پڑھیے

رانے دی ہائم

نادرا کے پاس دستیاب مخطوطات کے مطابق آپ کا اسمِ خانوادگی رانا اکبر ہے اور تابش آپ نے بطور تخلص ویلڈ کروایا ہوا ہے۔ یوں کل ملا کے بلا شرکتِ غيرے، نیز بغیر سُود کے، آپ كا اسمِ كامل رانا←  مزید پڑھیے

دادا جی کے نام خط- ایک نیا طرزِ مکتوب

زمانۂ طالب علمی میں غالب کے خطوط سے پہلا تعارف ہوا۔ غالب کے خطوط جن کی لطافت صدی گزرنے کے بعد آج بھی قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے۔ غالب کے مکاتیب کو جدید اردو نثر نگاری کی←  مزید پڑھیے

نذرِ غالب، نظمِ آنند- 5

؂ بخت در خواب است می خواہم کہ بیدارش کنم پارۂ غوغائے محشر کو کہ در کارش کنم ۰۰۰ سو گیا تھا ! میں؟ نہیں، یہ بختِ نا ہنجار میرا ! اور بختِ خُفتہ سے ’ اک خوابِ خوش‘کا قرض←  مزید پڑھیے

’’واحد قابل عمل راستہ” اور ایک تمثیلی کہانی!

وہ شہر کے مشرق میں اچھا خاصا بڑا، بہت پرانا مگر ایک نہایت بدنصیب محلہ تھا… سب محلے والے نظریاتی اعتبار سے گرچہ ایک تھے… مگر ثقافتی پس منظر، عادات اور مزاج سب الگ الگ رکھتے تھے! اس محلے پر←  مزید پڑھیے

دادا جی کے نام ایک خط

پیارے دادا، سلام۔ امید ہے خیریت سے ہوں گے۔ ہم دونوں ایک دوسرے کو کم ہی جانتے ہیں کہ ایک دوسرے کو دیکھ نا پائے۔ ابا فقط پانچ برس کے تھے جب آپ چل دئیے۔ آپ کو تو نہیں دیکھا←  مزید پڑھیے