ستیہ پال آنند کی تحاریر
ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بیاض ِ عمر کھولی ہے۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

عجب منظر دکھاتے ہیں یہ صفحے جن پہ برسوں سے دھنک کے سارے رنگوں میں مرے موئے قلم نے گُل فشانی سے کئی چہرے بنائے ہیں کئی گُلکاریاں کی ہیں لڑکپن کے شروع ِ نوجوانی کے بیاض ِ عمر کے←  مزید پڑھیے

پارچہ،اک شعر بے چارہ(عابدہ وقار کی نذر)۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

پارچہ الوان، ست رنگا، چمکتا بھیگتے رنگوں کی ململ دھوپ اور برسات کا جیسے ملن ہو کھٹا میٹھا، آسمانی، سبز، نیلا، زرد، اُودا پارچہ رنگین، بو قلمون، روشن پارچہ جذبات کے سب رنگ اپنے دل کی دھڑکن میں سمیٹے، شاعرِ←  مزید پڑھیے

رنگ اکثر بولتے ہیں۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

لگ بھگ نصف صدی پہلے جب میں نے اردو میں “رن۔آن۔لائنز” کا چلن شروع کیا تو اس کی بھرپور مخالفت ہوئی۔ یہ کیسے ممکن ہے، کہا گیا،کہ کسی مصرع کو کھینچ تان کر اگلی سطر میں ضم کر دیا جائے۔←  مزید پڑھیے

تین نظمیں۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

(۱) آسمانی ایلچی سے ایک سوال انت ہے کیا؟ سامنے کیا صرف اک اندھا اندھیرا لا مکان و لا زماں ہے؟ کیا ہم اپنے ارتقا کی آخری سیڑھی پہ پاؤں رکھ چکے ہیں؟ کیا یہی کچھ حاصل ِ لا حاصلی←  مزید پڑھیے

غالب فہمی پر ایک اور نظم۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

بہ نیم غمزہ ادا کر حق ِ ودیعت ِ ناز نیام ِ پردہ ء زخم ِ جگر سے خنجر کھینچ ۔۔۔ ستیہ پال آنند جگر میں زخم ہے اور اس پہ ایک پردہ ہے نیام ِ پردہ میں خنجر ہے←  مزید پڑھیے

حسن اور فن (فلم اداکارہ محترمہ ریما خان کی نذر )۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

کردار ایک : حسن تابندہ ہےروشن ہے ، ستارہ ہے کہ جو خود بھی روشن ہے ، جہاں کو بھی خیرہ کرتا ہے حسن سادہ ہو کہ ہو وضع میں تزئین آرا حسن تو حسن ہے، اس کا کوئی ثانی←  مزید پڑھیے

مرزا غالب کے ایک شعرکی منظوم عقدہ کشائی اور کچھ اعتراضات۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

اسدؔ کو بت پرستی سے غرض درد آشنائی ہے نہاں ہیں نالۂ ناقوس میں، در پردہ ’یا رب‘ ہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “قوافی ’رّب‘ و ’تب‘، ’مطلب‘، ردیف اک صوت، یعنی “ہا‘ ؑعجب حلیہ ہے اس حلقوم مقطع کا کہ ’یا رب‘←  مزید پڑھیے

بیمہ زندگی کا۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

A ROGUE POEM گذشتہ صدی کے سن ستّر کی دہائی میں دو برسوں کے لیے میں برطانیہ میں مقیم تھا، اس وقت لنڈن کی گلی کوچوں میں بولی جانے والی زبانCockney Rogue Poemکا دور دورہ تھا. اس دوران میں کے←  مزید پڑھیے

الناس علیٰ دین ملوکبم۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

الناس علیٰ دین ملوکبم (رعایا بادشاہوں کے دکھائے ہوئے راستے پر چلتی ہے ) (ایک فینٹسی) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ موسلا دھار ہے برفاب کی بوچھاڑ، مگر گرتے پڑتے ہوئے سب لوگ کہا ں جاتے ہیں؟ گرتے ہیں، اٹھتے ہیں، پھر گرتے ہیں←  مزید پڑھیے

کون و فساد و بودنی نابودنی۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

مبر گمان تو ا ورد یقیں شناس کہ دزد متاع من ز نہاں خانہٗ ازل بر دست (غالبؔ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کون و فساد و بودنی نابودنی ہے تو وہ شاعر یقیناً ساری اصناف ِ سخن املاک میں شامل ہیں اس کی←  مزید پڑھیے

کیڑا۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

(خواب میں خلق ہوئی ایک نظم) اپنے اندر اس طرح داخل ہوا وہ جیسے رستہ جانتا ہو جیسے اس بھورے خلا کی ساری پرتوں کو کئی صدیوں سے وہ پہچانتا ہو اپنے اندر دور تک جانے کی کیا جلدی ہے←  مزید پڑھیے

بھولی بھالی نظمیں۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

فون پر ڈاکٹر وزیر آغا (مرحوم) سے لگ بھگ روزانہ ہی بات ہوا کرتی تھی گزشتہ صدی کے آخری برسوں میں کوئی نہ کوئی مسئلہ زیر بحث آ جاتا جس کا نپٹارا کئی دنوں کی بات چیت کے بعد ممکن←  مزید پڑھیے

ماریشیس کے ساحل پر ​لایعنیت کی شاعری کا ایک نمونہ Absurd Poetry۔۔۔۔ڈاکٹرستیہ پال آنند

ایک لڑکا سر کے بل ایسے کھڑا ہے نرم گیلی ریت پر جیسے اسے آکاش کی اونچائی میں پانی سمندر کی اتھاہ گہرائی میں آکاش ساحل پر کھڑےلوگوں کے جمگھٹ سب کو اُلٹا دیکھنا ہے۔ آتے جاتے لوگ اس کے←  مزید پڑھیے

اے حَسَن کوزہ گر۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

اے حَسَن کوزہ گر کےReductio ad absurdum طریق کار سے ن۔ م راشد کی چار نظموں کے سلسلے کو سمجھنے کی ایک شعری کوشش۔(راشد کی نیک روح سے معذرت کے ساتھ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اے’’ حَسن کوزہ گر‘‘ کون ہے تُو؟ بتا←  مزید پڑھیے

ساٹھ کی دہائی کی کچھ یادیں۔جدیدیت کی افرا تفری۔۔۔ستیہ پال آنند

۱۹۵۶ کے لگ بھگ میں بھی کچھ برسوں کے لیے جدیدیت کے ریلے میں بہہ گیا تھا ، میں نے بھی ایک نظم لکھی تھی ۔ میں نے جب اسے کناٹ پلاس میں کافی ہاؤس میں پڑھا، تو سریندر پرکاش←  مزید پڑھیے

پاؤں پاؤں چلتے آؤ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

چوبیس اپریل کو مجھے 89 برس کا ہو جانا ہے۔ کتنے دن ، مہینے، سال آج کے بعد زندہ رہوں گا، اللہ ہی جانتا ہے۔ لیکن اس دن کے لیے میں گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے ایک بچے کی طرح←  مزید پڑھیے

اِسکیؔ کی سالگرہ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

 یہ کہانی کوئی بیس برس پہلے لکھی گئی۔سب سے پہلے پاکستان کے ایک رسالے سے اٹھا کر اسے اردو اور ہندی کی روسی مصنفہ لُدمیلا نے روسی زبان میں ترجمہ کیا۔ہندی میں اسےکئی بار مختلف رسائل نے شامل ِاشاعت کیا۔←  مزید پڑھیے

پار سال کا باسی۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

آنسو بہا بہا کر آنکھیں سوکھ گئی تھیں۔ کھارے پانی کا ایک ریلا کئی دنوں سے اُمڈا چلا آ رہا تھا، لیکن آخری انتم ایک دن اور ایک رات تو قیامت کاطوفان اٹھا تھا اور میں ہسپتال میں انٹینسو کیئر←  مزید پڑھیے

دو گز زمین بھی نہ ملی۔۔ ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ہندوستان کے آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو میکلین میکنزی بحری جہاز میں بٹھا دیا گیا۔ پینتیس مرد اور خواتین بھی تاجدار ہند کے ساتھ تھے۔یہ جہاز ۱۷ اکتوبر ۱۸۵۸ کورنگون پہنچا۔ کیپٹن نیلسن ڈیوس رنگون کا انچارج تھا۔ وہ←  مزید پڑھیے

میلوڈی کوِین‘ شمشاد بیگم۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

1951میں جب میں پہلی باران سے ملا تومیری عمر پچیس برس تھی اور میں جانتا تھا کہ وہ مجھ سے سترہ برس بڑی ہیں اور ان کی عمر بیالیس کے لگ بھگ ہے۔ لیکن ان کے چہرے مہرے سے ان←  مزید پڑھیے