ستیہ پال آنند کی تحاریر
ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

ٹی ایس ایلیٹ تین مجوسیوں ( دانایان ِ مشرق) کا سفر The Journey of the Magiکا منظوم اردو ترجمہ ۔۔۔ستیہ پال آنند

1 ـ” Journey of the Magi ” T.S. ELIOT “A cold coking we had of it,2 Just the worst time of the year For a journey, and such a long journey: The ways deep and the weather sharp, 5 The←  مزید پڑھیے

پھکّڑ تماشہ : A Farce۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

نوٹ۔۔۔ اردو شاعری کی مروجہ اصناف میں ، ڈرامہ کے تحت ، جہاں طربیہ تمثیل کا ذکر آتا ہے، وہاں لوک ناٹک کی اس صنف کی طرف کسی نے توجہ مبذول نہیں کی، جس میں مزاحیہ یا طنزیہ دکھاوا، تلبیس،←  مزید پڑھیے

مرزا غالب کے ایک شعرکی منظوم عقدہ کشائی اور کچھ اعتراضات )۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

اسدؔ کو بت پرستی سے غرض درد آشنائی ہے نہاں ہیں نالۂ ناقوس میں، در پردہ ’یا رب‘ ہا (۱۸۱۶ ۰۰۰۰۰۰۰ قوافی ’رّب‘ و ’تب‘، ’مطلب‘، ردیف اک صوت، یعنی ہا ؑعجب حلیہ ہے اس حلقوم مقطع کا کہ ’یا←  مزید پڑھیے

کام دیو (کیوپڈ) کے تیر۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

(روی شنکر کی ستار دُھنوں کے صوتی انسلاکات پر ایک نظم) برلن میوزک فیسٹیول میں ستار نواز روی شنکر کے لیے ایک ہال تین گھنٹوں کے لیے مخصوص تھا۔ اس عالمی شو میں اس بے بدل کلا کار نے صرف←  مزید پڑھیے

اگیانی نجومی کا کرسٹل بال(چار حصص میں ایک نظم کہانی)

(۱) تم بہت بے صبر ہو، واقف نہیں ہو ضابطوں سے زندگی کو چائے کے چمچوں میں بھر بھرکر تحمل، قاعدے سے لمحہ ، لمحہ ، مختصر وقفوں سے جینا ضابطہ ہے تم نہیں سمجھو گے ! بولا وہ نجومی←  مزید پڑھیے

نظم کیا ہے؟۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

کئی برس پہلےساؤتھ ایسٹرن یونیورسٹی ، واشنگٹن ڈی سی میں منعقد ہوئے ایک سیمینار (جس میں اردو کوبھی شامل کیا گیا تھا) میں پیش کردہ راقم الحروف کے مقالے کا پہلا حصہ۔ اس مضمون سےطوالت کے خوف سے اشاریہ اور←  مزید پڑھیے

کرونا وائرس یا قیامت ِ صغریٰ! نوسترا دا موُس کی پیشین گوئی۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

کہا تھا اس نےکہ پیدائش و فنا ، دونوں رواں ہیں اپنے مداروں میں آفرینش سے مدار ِ زیست ہے اک دائرے کا قرۃ العین فنا بھی اس کی ہی گردش میں ہے شریک ِ سفر یہ دونوں اپنےمداروں کے←  مزید پڑھیے

اپنی جلا وطنی کی موضوع پر ایک نظم۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

تاریخ کا اک باب ہوں، غرقاب ہوں پنجاب کے  پانچ دریاؤں کے نام اس جگہ ڈوبا تھا میں۔۔۔ ہاں، تین چوتھائی صدی پہلے یہیں ڈوبا تھا میں لہروں کے نیچے آنکھیں کھولے ایک ٹک تکتا ہوا میں آج بھی اس←  مزید پڑھیے

ہم غزل گو ۔۔ واقعی زندہ ہیں کیا؟۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

روح تھی شاعر کی مجھ میں اور میں سُکڑا ہوا، سِمٹا ہوا، اک جسم میں محبوس تھا، جو اغلباً اک مے گسار و شکوہ سنج و نالہ کش کے واسطے پیدا ہوا تھا شعر کہنے کی صلاحیت تو مالک سے←  مزید پڑھیے

دوصد صفحا ت پر مشتمل انٹرویو سے ایک اقتباس(حصہ اوّل)۔۔۔۔شرکا۔ ضیاء مرحوم اور ستیہ پال آنند

ضیاء :غزل رسم تو نہیں کہ مٹائی جا سکے ، اگر یہ’’ تخلیقی تاریخ‘‘ کا درجہ حاصل کر چکی ہے تو اس کی مادر زاد ’’عصمت ‘‘ کو برقرار رہنا چایئے ۔ آنند: کون کمبخت کہتا ہے کہ غزل کو←  مزید پڑھیے

قانون ِ باغبانیِ صحرا نوشتہ ایم۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

اپنے شکستہ جسم سے کہتا ہوں میں جھک کر باغ ِ ارم ہے، ایک خیاباں ہے یہ جہاں تو مرغزار زیست کا وہ مرزبان ہے جو ذوق وشوق و تاب وتواں میں تھا مستعد جس میں قرار تھا نہ تعطل←  مزید پڑھیے

نہیں نہیں، ابھی جانا نہیں مجھے اے مرگ۔(گزشتہ نظم “میں چلا جاؤں گا” کا عاقبتہ الامر)۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

نہیں، نہیں، مجھے جانا نہیں، ابھی اے مرگ ابھی سراپا عمل ہوں، مجھے ہیں کام بہت ابھی تو میری رگوں میں ہے تیز گام لہو ابھی تو معرکہ آرا ہوں ، بر سر ِ پیکار یہ ذوق و شوق ،←  مزید پڑھیے

کل نَفسِ ذَائَقہ اُلمَوت۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

کل نَفسِ ذَائَقہ اُلمَوت (سورۃ ، ال عمران آ ئۃ 581، حصہ اولیٰ) میں چلا جاؤں گا ، میں جانتا ہوں میں چلا جاؤں گا، اس سے بہت پہلے کہ ہوا برف کی الکحل جلباب ا تارے سر سے بھورے←  مزید پڑھیے

سوئے ہوئے نگر کی کہانی۔۔۔(23)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

پہاڑوں سے گِھری گلپوش وادی تھی وہ ننھا سا نگر وادی کی مشفق گود میں بیٹھا ہوا لگتا تھا جیسے ننھا بچہ سو رہا ہو (اوں غوں کرتا ہوا اِک*” پالنے” میں (*پنگھوڑا) کچھ مکاں پکے تھے ،اینٹوں سے بنے←  مزید پڑھیے

یہ نچلا حصہ مرے بدن کا، ایک مکالمہ۔۔۔(22)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

حیوان در انسان ترے لڑکپن کا شہد اے میرے سر میں بیٹھے ہوئے تشخص جو قطرہ قطرہ بنتا رہا تھا خلیوں کی پوٹلی میں نمود ِ عہد شباب کی صبح کا ستارہ وہ رزق سورج کا اب کہاں ہے؟ پاسبان←  مزید پڑھیے

انٹیگنی سے ایک مکالمہ۔۔۔۔(21)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

شاعر: آ ،انٹیگنی، آپس میں کچھ بات کریں تم کہتی ہو ، تم نے اپنے اندر کی آواز کو سن کر ملک میں نافذ اس قانون کو توڑا ہے، جو اند ر کی آواز سے میل نہیں کھاتا تھا تم←  مزید پڑھیے

خامہ بدست غالب(غالب کے فارسی اشعار)۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

۰قرب کعبہ چہ حظ ؟ ؎ دگر ز ایمنیٗ راہ و قرب کعبہ چہ حظ ؟ مرا کہ ناقہ ز رفتار ماند و پا خفتست ۔ غالب رات بھر برف گرتی رہی ہر طرف میں کہ بیمار تھا بار بستر←  مزید پڑھیے

خامہ بدست غالب(مرزا غالب کے ساتھ ایک مکالمہ)۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

دولت بہ غلط نبود از سعی پشیماں شو کافر نہ توانی شد، ناچار مسلماں شو ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰ مرزا غالب کے ساتھ ایک مکالمہ س پ آ ۔تُو کیا ہے؟ مسلماں ہے؟یا کافر ِ زناّری کچھ بھی ہے، سمجھ خود کو اک←  مزید پڑھیے

خامہ بدست غالب۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

غالب کے اشعار پر مبنی نظم کہانیاں بجوکا رسیدن ہائے منقار ہما بر استخواں غالب پس از عمرے بیادم داد کاوش ہائے مژگاں را ———– (1) آدمی شاید رہا ہو گا ، مگر اب ایک دھڑ تھا، ایک سر تھا←  مزید پڑھیے

زندگی دشمن نہیں ہے۔۔۔۔(20)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

بُدھ کی تعلیمات کے بارے میں ایک نظم کہانی اور پھر اک شخص آیا سَنگھ کا یا آشرم کا کوئی دروازہ نہیں تھا جو کسی کو روکتا وہ گرتا پڑتا، ٹیڑھا میڑھا جب کھلے آنگن میں پہنچا بے تحاشا رو←  مزید پڑھیے