ستیہ پال آنند کی تحاریر
ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

دُزد ِ شعر دیدہ بودم، دُزد شاعر نہ دیدہ بودم۔۔۔۔۔ ڈاکٹر ستیہ پال آنند

دُزد ِ شعر دیدہ بودم، دُزد شاعر نہ دیدہ بودم سرقہ، توارد اور بین المتونیت کے بارے میں ایک مختصر نوٹ “If we steal thoughts from the moderns, it will be cried down as plagiarism, if from the ancients, it←  مزید پڑھیے

غالب خامہ بدست سیریز۔۔۔۔۔۔ستیہ پال آنند

تیرا انداز ِ سخن شانہ ٔ زلف ِ الہام (ایہام) تیری رفتار ِ قلم ، جُنبش ِ بال ِ جبریل مقطع ٔ فخریہ یا شعر فقط اپنے لیے؟ جس سے ہو اپنی ، (فقط اپنی ) بڑائی مقصود خودہی ہو←  مزید پڑھیے

بُدھ کا دوسرا چیلا(ایک ذاتی تا ثر)۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

گزشتہ صدی کے آخری برس میں میرے لاہور کے ایک ہفتے کے قیام کے دوران انتظار حسین صاحب نے میری تتھا گت نظموں کے حوالے سے مجھے کہا تھا :اگر آپ کا یہ دعویٰ ہے کہ آپ مہاتما بدھ کے←  مزید پڑھیے

غالب خامہ بدست سیریز(۱) قاری اساس منظوم تنقید۔ ۔۔ستیہ پال آنند

وفا داری، بشکل ِ استواری، اصل ِ ایماں ہے مرے بُتخانہ میں تو کعبہ میں گاڑو براہمن کووفاداری؟ وفا کیشی، کھرا پن، کلمہ ؑ حق ہے مگر اک شرط ہے یہ حق شعاری مستقل ہو ۔۔۔ پائداری،استقامت، جاری و ساری←  مزید پڑھیے

خامہ بدست غالب ۔۔ نیو سیریز۔۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

دیکھ کر در پردہ گرم ِ دامن افشانی مجھے کر گئی وابستہؑ تن میری عریانی مجھے ستیہ پال آنند پوچھتا ہے۔۔ بے لباسی من کی تھی یا تن کی؟ غالب، کچھ کہیں تو کیسی عریانی تھی یہ؟ سرمدؔ کی سی؟←  مزید پڑھیے

عالی جاہ!مجھے نہ کر وداع۔۔۔۔۔ستیہ پال آنند

(اس برس میں نے آخری دو کورس بھی جو آن لائن پڑھا رہا تھا، ترک کر دیے۔۔۔۔۔ جامعات کی سطح پر درس و تدریس میں 65 برس پورے ہوئے۔ کیا کھویا ، کیا پایا میں نے اس عرصے میں ،اس←  مزید پڑھیے

عینی آپا،کچھ یادیں ،کچھ باتیں ۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

نومبر انیس سو چھہتر, بمبئی. عینی آپا سے پہلی ملاقات ان کے رسالے Imprint کے دفتر میں ہوئی. میں اپنے ہم زلف کے گھر سے (جہاں میں ٹھہرا ہوا تھا) تین بسیں بدل بدل کر بمشکل تمام پہنچا۔مجھے عینی آپا←  مزید پڑھیے

بیاض ِ عمر۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

بیاض ِ عمر (یہ نثر نُما نظم باقاعدگی سے بحر ہزج مثمن سالم یعنی ’مفاعیلن، مفاعیلن‘ کی تکرار میں تقطیع کی جا سکتی ہے) بیاضِ عمر کھولی ہے! عجب منظر دکھاتے ہیں یہ صفحے جن پہ برسوں سے ، دھنک←  مزید پڑھیے

ایک دعائیہ نظم۔۔۔۔۔ستیہ پال آنند

کیا ایک شاعر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ بذات ِ خود اپنی کسی تخلیق کی عملی تنقید کا جوکھم اٹھائے۔ کیا یہ عمل اپنے منہ میاں مٹھو بننے کے مترادف نہیں ہو گا؟ اپنی نظم پر ہی سوچنے←  مزید پڑھیے

صد فقط القط قیاممۃ کل۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

کون سی دیوار ِ گریہ؟ روؤں کیسے؟ میری تو آنکھیں نہیں ہیں گھُپ اندھیرے میں کسی نے چھین لی ہیں اور جیسے کانچ کے ڈھیلے وہا ں چِپکا دیے ہیں اور میں اندھا نجومی “تھیِیب ” ٭کے بازار میں بیٹھا←  مزید پڑھیے

غالب انکل۔۔۔ستیہ پال آنند

آج مرزا غالب کی برسی پر ایک نظم دوستوں کی نذر ہے ۔۔۔ میں اس بات کی سچائی سے کبھی منحرف نہیں ہوا کہ غالب ایک عظیم شاعر تھا ۔۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہ ایک عظیم←  مزید پڑھیے

اِسکی ‘ کی سالگرہ۔۔۔۔ڈاکٹرستیہ پال آنند

گم صم، چپ چاپ، سہما سہما سا، وہ اس پجاری کی طرح کھڑا تھا جس کا خدا مر گیا ہو اور اسے پوجا کرنے، ماتھا رگڑنے کے لیے کسی نئے مندر کی چوکھٹ کی تلاش ہو۔ اس کی آنکھیں جذبات←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی(نیا جنم)۔۔آخری قسط۔۔ستیہ پال آنند

راشد (مرحوم)، ساقی (مرحوم) اور میں (بقید ِ حیات) ایک جھوٹ کا ازالہ ٭٭٭٭٭٭٭ میں اپنی خود نوشت ادبی سرگذشت “کتھا چار جنموں کی” ًمیں ن۔م۔راشد کی بے وقت مو ت پر لکھتے ہوئے مصلحتاً دروغ گوئی کا شکار ہوا←  مزید پڑھیے

نظم۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ہشت ! خاموش ! چپ ! مری سانسو روک لو خود کو، کان دھر کے سنو برفباری کی لَے، ولمپت، تال ٹھاٹھ، مکھ بول، مدھ، ورَت، لہرے چپکے چپکے تمہیں بلاتے ہیں دیکھو, لُک، سیی ، وہ ایک نظارہ برف←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی،نیا روز۔وزیر آغا سیریز۔۔۔۔۔ستیہ پال آنند/قسط 48

مکتوب بتاریخ ۳ ؍مارچ ۲۰۰۴ اقتباس (ایک) روایت کے انجذاب اور انعکاس کے بارے میں جو بات آپ نے تحریر کی ہے ، میں اس سے متفق ہوں۔ آپ کتنے ہی پڑھ لکھ کیوں نہ جائیں، باہر کے ملکوں میں←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ستیہ پال آنند۔۔۔قسط47

ڈاکٹر وزیر آغا کے ساتھ اپنے دوستانہ تعلقات کے بارے میں کئی مضامین لکھ چکا ہوں اور انہیں یہاں دہرانا مناسب نہیں ہے، تو بھی کوشش کرتا ہوں کہ ان میں سے کچھ مواد اس کتھا میں بھی شامل ہو←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی۔ کا نیا روپ۔۔وزیر آغا ۔۔۔۔سیریز/ڈاکٹر ستیہ پال آنند۔۔قسط46

مکتوب ۔ تاریخ مئی ۱۸؍ ۱۹۹۲ یعنی کہ وہی بات ہوئی جس کا مجھے خدشہ تھا۔ پہلے تو آپ اقبال کے اس مقولے پر مضبوطی سے قائم تھے کہ دل اور دماغ میں کدورت کے امکان کے بارے میں سوچنا←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی !وزیر آغا (خطوط سے اقتباسات پر مبنی ایک دستاویز)۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط 45

ڈاکٹر وزیر آغا سے میری خط و کتابت پینتیس چالیس بر س کے لمبے عرصے تک پھیلی ہوئی ہے۔ چالیس برس پہلے انڈیا میں فون لگ بھگ نایاب تھا اور  دوسرے کسی ملک میں بات کرنے کی خاطر کال بُک←  مزید پڑھیے

’’کتھا چار جنموں کی‘‘ کا نیا روپ۔ وزیر آغا (مرحوم) سے بات چیت اور خطوط کا تبادلہ۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط44

(گزشتہ قسط میں ہم نے وزیر آغا مرحوم کے گھر میں ہوئی اس بات چیت کا ذکر کیا تھا جو راقم الحروف اور ان کے ما بین دیر رات گئے تک ہوتی رہی تھی اور جس میں ہم دونوں نے←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط43

سلسلہ۔۔۔ وزیر آغا (مرحوم) سے بات چیت کا اور ان کے خطوط کا … دسمبر ۱۹۹۹ ۔۔ لاہور میں ڈاکٹر وزیر آغا کے دولت کدے پر میرا یہ تیسرا دن تھا۔ گذشتہ رات ہم دونوں تقابلی مذہب کے بکھیڑوں میں←  مزید پڑھیے