ستیہ پال آنند کی تحاریر
ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

نسل کا آخری نمائندہ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

​PANDEMIC POEMS. یہ نطمیں پہلے انگریزی میں لکھی گئیں۔ نسل کا آخری نمائندہ وہ جو ہر روز اپنی کھڑکی سے جھانکتا ہے کہ دور سے کوئی راہرو آئے اور وہ اس کو گھر میں مدعو کرے، محبت سے بیٹھ کر←  مزید پڑھیے

ٹورسٹ گائیڈ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

میں بھی ٹورسٹ گائیڈ ہوں میں آپ کو اے صاحبو یہ گنبد و مینار یہ اونچی فصیلیں لال قلعے سنگ مرمر کے جھروکے بیگموں کے حوض خاص و عام کے دیوان تخت و تاج کلغی جبہّ و دستار بڑھتے لشکر←  مزید پڑھیے

ROUGE POEMS۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ROGUE POEMS یعنی ـ’’شریر نظموں‘‘کی ایک شعری وبا سی انگلینڈ میں 1972-74کے برسوں میں پھیلی ،جب میں وہاں مقیم تھا۔ ؎ انگریزی میں یہ نظمیں اس قدر مقبول ہوئیں کہ ’’دی گارڈین‘‘ سمیت کئی  روزنامو ں  نے باقاعدگی سے اپنے←  مزید پڑھیے

مجھے پڑھنے والوں کی آنکھیں سلامت رہیں۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

دعا بارگاہ حقیقی میں ہے یہ مری شاعری پڑھنے والوں کی آنکھیں سلامت رہیں تا کہ پڑھتے رہیں و ہ ! سبھی پڑھنے والوں کے شوق وتجسس کی خاطر مری طبع ِ تخلیق اُن کے لیےموتیوں کی یہ لڑیاں پروتی←  مزید پڑھیے

کہتے ہیں۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

اگر مجھ جیسے شاعر کو مصرع طرح دے کر یہ کہا جائے کہ اس پر طبع آزمائی کرو تو وہ یہی کچھ لکھ سکے گا۔ کچھ بر س پہلے غالب اکادمی (مسی ساگا) کینیڈا کے مرحوم دوست اطہر رضوی کی،←  مزید پڑھیے

میں ڈورین گرؔے ہوں(دو شخصیتوں کا مر قع ایک شخص)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

اک مستغیث ، بد گو، تہمت تراشتا ہے کیڑے نکالتا ہے، کیچڑ اچھالتا ہے بدعت، دروغ حلفی اس کی شہادتیں ہیں دھوکا دھڑی میں ماہر، سب کو پچھاڑتا ہے سالوس، ڈھونگیا ہے، بکواس جھاڑتا ہے جھوٹا، دروغ گو تو ۔۔←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب و ستیہ پال آنند

یہ کہہ سکتے ہو ہم دل میں نہیں ہیں پر یہ بتلاؤ کہ جب دل میں تمھیں تم ہو تو آنکھوں سے نہاں کیوں ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند یقیناً صنعت ِ ترسیع وہ تسبیع ہے جس سے سبھی ارکان←  مزید پڑھیے

ستیہ پال آنند بنام مرزا اسد اللہ خان غالب

(ایک نظم جس میں صرف ستیہ پال آنند ہی محو کلام ہیں۔ مرزا غالب شاید عالمِ لاہوت میں ان کی شکائتیں سن رہے   ہیں) اسدؔ کو بت پرستی سے غرض درد آشنائی ہے نہاں ہیں نالۂ ناقوس میں، در←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب و ستیہ پال آنند

گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیوں کر ہو کہے سے کچھ نہ ہوا پھر کہو تو کیوں کر ہو ۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند عجیب حلیہ ہے اس شعر کا، جناب من ہے فارسی کا فقط ایک لفظ گنتی←  مزید پڑھیے

پوسٹ کارڈ نظمیں ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

زندہ درگور اور قبرستان میں بیٹھے ہوئے میت کے ساتھی لوگ جن میں  پوپلے منہ کے بڑے بوڑھے ضعیف العمر بیوہ عورتیں بُدبُداتے، سر ہلاتے اور رہ رہ کر سناتے اُن کے قصے جو کبھی زندہ تھے۔۔اور اب اپنی قبروں←  مزید پڑھیے

تم تو سیدھے بچپن سے بوڑھے ہو گئے آنندؔ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

اپنی ساٹھویں سالگرہ(1977) کے دن تحریر کردہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سن تو، ستیہ پال آنند وید، شاستر، گیتا عمر کی اکائیوں کو آشرم سمجھتے ہیں چار آشرم، جیسے زندگی کے عرصے میں وقت کے پڑاؤ ہیں عازم ِ سفر ہونا شرط ہے←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب وستیہ پال آنند

ہم موحد ہیں، ہمارا کیش ہے ترک ِ ر سوم ملتیں جب مٹ گئیں ، اجزائے ایماں ہو گئیں ۰۰ ۰۰ ۰۰ ستیہ پال آنند آپ اگر منظور فرمائیں تو بسم اللہ کریں مر زا غالب ہاں، عزیزی، صبح کاہنگام←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

بندگی میں بھی وہ آزادہ و خود بیں ہیں، کہ ہم اُلٹے پھر آئے، در کعبہ اگر وا نہ ہوا ستیہ پال آنند آپ اگر کہتے , بصد نخوت و طرہ بازی الٹے پھر آئے، در میکدہ گر وا نہ←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

شب خمار ِ شوق ِ ساقی رستخیز اندازہ تھا تا محیط ِ بادہ صورت خانہ ٗ خمیازہ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند بندہ پرور، پرسش ِ احوال ہے، بے جا ، مگر اہم کیوں ہے رات کا احوال نامہ ،←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

جوہر ِ دست ِ دعا آئینہ یعنی تاثیر یک طرف نازش ِ مژگاں و دگر سو غم بار ۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند میں سمجھ پایا نہیں مصرع ء  اولیٰ کو، حضور مر زا غالب ہاں ، بتاؤ  تو ذرا، کیا←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی چمن زنگار ہے آ ئینہ  ء باد ِ بہاری کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آ نند سمجھنا چاہتا ہوں آپ کی کچھ رہنمائی سے لطافت تو کنایہ سادگی، پاکیزگی کا ہے صفائی، سادہ←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

شمع بجھتی ہے تو اس میں سے دھواں اٹھتا ہے شعلہ ء عشق سیہ پوش ہوا میرے بعد ۔۔۔ ستیہ پال آنند شمع بجھتی ہے تو اس میں سے دھواں اٹھتا ہے شعلہء  عشق سیہ پوش ہوا میرے بعد پہلے←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

نہ حشر و نشر کا قائل، نہ کیش و ملت کا خدا کے واسطے ایسے کی پھر قسم کیا ہے ۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند خدا کے واسطے‘‘ خود میں ہی اک قسم ہے، حضور تو کیا یہ نقص ہے یا←  مزید پڑھیے

وما ارسلنک الا رحمت اللعالمین۔۔ستیہ پال آنند

کئی برس پہلے جب امریکہ  میں اہل اسلام کے خلاف نفرت زوروں پر تھی تو یہ واقعہ پیش آیا کہ میں مسجد کے باہر کھڑا ایک شاعر دوست سے گفتگو میں مصروف تھا۔ قریب سے کار پر جاتے ہوئے دو←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

شور ش ِ باطن کے ہیں احباب منکر، ورنہ یاں دل ِ محیط ِ گریہ و لب آشنائے خندہ ہے ۔۔۔ ستیہ پال آنند اہل ِ فارس کی طرح، اے بندہ پرور، آپ بھی کچھ عجب اغلاط کے وہم و←  مزید پڑھیے