ستیہ پال آنند کی تحاریر
ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

اگیانی نجومی کا کرسٹل بال۔۔۔۔(14)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

(چار حصّوں میں ایک نظم کہانی) (۱) تم بہت بے صبر ہو، واقف نہیں ہو ضابطوں سے زندگی کو چائے کے چمچوں میں بھر بھرکر تحمل، قاعدے سے لمحہ ، لمحہ ، مختصر وقفوں سے جینا ضابطہ ہے تم نہیں←  مزید پڑھیے

گیلاتیا سے کون بچے گا۔۔۔۔(13)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

(۱) کیا مورت تھی جس کے خال و خد چہرے کی وضع، بناوٹ شکل و صورت پتھر کی اک سِل سے یوں اُبھرے، جیسے اس کے اندرصدیوں سے مخفی ہوں اور اب جاگ اُٹھے ہوں کیا مورت تھی چہرہ، مہرہ←  مزید پڑھیے

کون تھا عیسیٰ؟۔۔۔۔(12)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

خبر ہے کہ چین میں ایغور اور قازق مسلمان چینی باشندوں کو ان کے صدیوں پرانے گھروں سے اکھاڑ کر سینکڑوں میل دور تربیتی کیمپوں میں بھرتی کر دیا گیا ہے، جہاں انہیں اسلامی روایات (نماز، روزہ، وغیرہ) کی پیروی←  مزید پڑھیے

اسپین کی بارش میں ایک چینی حادثہ۔۔۔۔۔(11)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

جہاں تہاں قلعہ بند پھاٹک مجسّمے شیروں کے نگہباں رعونتوں سے اٹھے ہوئے بُرج، زنگ خوردہ پرانی توپیں ڈھکی ہوئی ، گل بدوش بیلوں کے چھپّروں سے (جو غار جیسے دکھائی دیتے تھے ہر طرف سے) یہ ایک قلعہ تھاجس←  مزید پڑھیے

ایکلویہ۔۔۔(10)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ایکلویہ مہا بھارت کا ایک اچھوت کردار ہے۔اُسے پانڈووں کے راج گرو درون آچارؔیہ نے اچھوت ہونے کی وجہ سے شکھشا دینے سے انکار کیا ، کہا کہ وہ تو صرف شہزادوں کو تیر اندازی کی تربیت دے سکتے ہیں۔←  مزید پڑھیے

کَٹ۔۔۔(9)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

CUT لینز* پہ کچھ منظر تیزی سے ابھر رہے ہیں پہلا منظر بیل ہانکتے بل کے پھل پر پاؤں رکھے اس دہقان کا ہے، جو اپنا کھیت جوت کر فصل اُگانے کی امید میں خون پسینہ ایک کرتا ہے دوسرا←  مزید پڑھیے

معجزہ نا گفتنی تھا۔۔۔(8)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

آج کل مَیں دست کش رہتا ہوں دُخت رز کی بد پرہیزیوں سے سارا ’کٹناپا‘ مرا ، ادمات ساری بے حیائی اب تو ماضی کی حکایت بن چکے ہیں فیثا غورث*کی رواقیت سے میر ی پہلے کب یوں دوستی تھی؟←  مزید پڑھیے

سر منڈی ہوئی عورت۔۔۔(7)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

The Woman With Shaved Head یہ نظم پہلے انگریزی میں اسی عنوان سے لکھی گئی اور شاعر کی انگریزی نظموں کی کتاب میں شامل ہے۔ The Sunset Strands ……………………….. وہ بھی چپ رہتی تھی اکثر میں بھی باتونی نہیں تھا←  مزید پڑھیے

قصہ وِیپنگ وِلّو کا ۔ اور میرا۔۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

A Tale of Weeping Willow & Me. یہ نظم پہلے انگریزی میں خلق ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’قصّے سناتے رہو کہ لوگ شاید سوچ بچار کریں ۔‘‘ قال الملاٗرکوع ۱۱، الاعراف ۶، (القران) پہلا قصہ بارش ہے اور میں ویپنگ وِلّو کے←  مزید پڑھیے

نظم کہانی۔۔۔(5)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

مائی چھبیلاں کی سبیل (دھرم پورہ، لاہور کی ایک کہانی) 1948 سب کہتے تھے دھرم پورہ کے اک کونے میں نہر سے کچھ دوری کی ننگی بُچی پٹی اس پر اک عورت کے قد کی سیدھی ، ٹیڑھی کھڑی ہوئی←  مزید پڑھیے

نظم کہانی۔۔۔(4)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

گیلاتیا سے کون بچے گا (۱) کیا مورت تھی جس کے خال و خد چہرے کی وضع، بناوٹ شکل و صورت پتھر کی اک سِل سے یوں اُبھرے، جیسے اس کے اندرصدیوں سے مخفی ہوں اور اب جاگ اُٹھے ہوں←  مزید پڑھیے

نظم کہانی۔۔۔(3)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

اُنگلی مالا ایک ضروری نوٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انگلی مالا کی کتھا بُدھ کی تعلیمات کا ایک خاص باب ہے۔ یورپی، جاپانی اور امریکی بودھوں نے کہا ہے کہ انسانی تہذیب میں زنداں (جیل) کو ایک اصلاح خانہ کا پہلا سبق اس←  مزید پڑھیے

نظم کہانی۔۔۔۔قسط2/ڈاکٹر ستیہ پال آنند

مہاتما بدھ کی زندگی کے حالات پر مبنی میری تین کتابوں میں سے انتخاب (یہ کتابیں انگریزی، اردو، جاپانی میں چھپ چکی ہیں۔ ) زنخا بھکشو اور پھر جس شخص کو آنند اپنے ساتھ لے کر بُدھّ کی خدمت میں←  مزید پڑھیے

خامہ بدست غالب۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا مَیں تو کیا ہوتا ستیہ پال آنند کسی’’ فاعل کا‘‘ خود میں’’ منفعل‘‘ بننا ہے نا ممکن لہذا ہم ’’موثر ‘‘←  مزید پڑھیے

نظم کہانی۔۔۔ستیہ پال آنند

آدھ گھنٹے کی جنّت ِ گم شدہ تھی وہ بھی جہاں تہاں قلعہ بند پھاٹک مجسّمے شیروں کے نگہباں رعونتوں سے اٹھے ہوئے بُرج۔۔۔ زنگ خوردہ پرانی توپیں ڈھکی ہوئی ، گل بدوش بیلوں کے چھپّروں سے (جو غار جیسے←  مزید پڑھیے

خامہ بگوش غالب۔۔۔ستیہ پال آنند

نَے گل ِ نغمہ ہوں نہ پردہِ  ساز میں ہوں اپنی شکست کی آواز ستیہ پال آنند کیا عجب ہے یہ مصرعِ ثانی بے لچک، مستقیم، فیصلہ کن پہلے وارد ہوا تھا کیا یہ ، حضور؟ ِ مرزا غالب ہاں،←  مزید پڑھیے

خامہ بگوش غالب۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

اک شرر دل میں ہے، اس سے کوئی گھبرائے گا کیا آگ مطلوب ہے ہم کو جو ہوا کہتے ہیں ستیہ پال آنند ٓآتش و باد میں مطلوب فقط آتش تھی اور وہ دل میں ہے موجود شرر کی صورت←  مزید پڑھیے

خامہ بگوش غالب۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

الفاظ ۔ ایک استغاثہ رن آن سطور میں لکھی گئی ایک نظم مستغیث ایک میں الفاظ کا بخیہ گر ہوں، مجھے اچھا لگتا ہے حرف و سخن کا توازن مقفیٰ، مسّجع، وہ الفاظ جن سے ترنم کی چشمک ، تغزل←  مزید پڑھیے

خامہ بگوش غالب۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

پیکر ِ عشّاق ساز ِ طالع ِ ناساز ہے نالہ گویا گردش ِ سیارہ کی آواز ہے ستیہ پال آنند مت ہنسیں، اے بندہ پرور ، میرے استفسار پر جسم عاشق کا بھلا کیا اک سریلا ساز ہے جو کہ←  مزید پڑھیے

خامہ بگوش غالب۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

بجز پرواز ِ شو ق ناز کیا باقی رہا ہو گا قیامت اک ہوائے تند ہے خاک ِ شہیداں پر ستیہ پال آنند ذرا پوچھیں تو ،غالب، آپ سے، کیا کچھ ہے پوشیدہ بظاہر خوبصورت ، خوش ند ا اس←  مزید پڑھیے