ستیہ پال آنند کی تحاریر
ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

وضاحتی نوٹ! “روبرو غالب” کے تیس سے کچھ اوپر تعداد میں مکالماتی “نظم نا مے” لکھنے کے بعد خدا جانے کیوں یہ شوق چرایا، کہ اپنے استاد محترم کو دو صدیوں کے زمان کی اور امریکہ  /ہندوستان کے مکان کی←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

ہیں زوال آمادہ اجزا آفرینش کے تمام مہر گردوں ہے چراغ ِ رہگذر ِ باد یاں ۰۰۰۰۰۰۰۰ ستیہ پال آنند پیشتر اس کےکہ مَیں تشریح میں کچھ بھی کہوں استعارہ اور پیکر کے لیے بھرپور داد مہر گردوں اور چراغ←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

خموشیوں میں تماشا ادا نکلتی ہے نگاہ دل سے ترے سرمہ سا نکلتی ہے —– ستیہ پال آنند نگاہ دل سے نکلتی ہے؟ “سرمہ سا” بھی ہے؟ نظر کا “سرمہ سا ” ہونا تو قول ِ صالح ہے نظر کا←  مزید پڑھیے

یہ نچلا حصّہ مرے بدن کا(ایک منظوم مکالمہ)۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ترے لڑکپن کا شہد اے میرے سر میں بیٹھے ہوئے تشخّص جو قطرہ قطرہ ہی بنتا رہتا تھا میرے خلیوں کی پوٹلی میں نمود ِ عہد شباب کی صبح کا ستارہ وہ رزق سورج کا اب کہاں ہے؟ مجھے تو←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

ہے وہی بد مستی ٔ ہر ذرّہ کا خود عذر خواہ جس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند عذر خواہی ۔۔۔ حیلہ جوئی۔۔۔ ادعا ۔۔۔ کچھ لیپا پوتی عذر ۔۔۔ ، عذر ِ لنگ←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

بہ طوفاں گاہ ِ جوش ِ اضطراب ِ شام ِ تنہائی شعاع ِ آفتاب ِ صبح ِ محشر تار ِ بستر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند اگر بد گو نہ سمجھیں، محترم، مجھ کو، تو یہ پوچھوں کہ تنہائی ہے،←  مزید پڑھیے

فرید الدین عطار سے خوشہ چینی(نور کیا ہے)۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

نور کیا ہے۔۔ بھاپ سی اٹھتی ہے میرے ذہن کے تحت الثرا سے دھند کا محلول بادل الکحل کی نشہ آور گرم چادر سا مجھے چاروں طرف سے ڈھانپ کر للکارتا ہے گہری نا بینائی کے عالم میں آنکھوں کے←  مزید پڑھیے

قاری اساس تنقید کے ضمن میں Virtual Textual analysis کی تکنیک پر ایک وضاحتی نو ٹ(دوسرا،آخری حصّہ)۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

(۴)اس پریکٹس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ طالبعلم (یعنی قاری) کسی بھی متن سے ، شاعر کا نام ، اس کے زمان و مکان کو جانے بغیر، ’’اپنی اساس سے‘‘ کس طرح کے معانی اخذ کر←  مزید پڑھیے

قاری اساس تنقید کے ضمن میں Virtual Textual analysis کی تکنیک پر ایک وضاحتی نو ٹ(حصّہ اوّل)۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

(۱)اگر یہ کہا جائے کہ قاری اساس تنقید کی ایک جہت، یعنی ہئیتی جزو کی چھان بین کی بنیاد تو بیسویں صدی کے شروع میں ہی پڑ گئی تھی تو غلط نہ ہوگا۔ یعنی جب یہ کہا گیا کہ معنی←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

ایک اہم شعر جس کی اہمیت پر کسی بھی شار ح نے غور نہیں کیا۔ یہ خیا ل کہ غالب کو دیگر مذاہب میں دلچسپی نہیں تھی یا اس کو ہندوستان کے بین المذہبی ماضی کا علم نہیں تھا، غلط←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

قفس میں ہوں گر اچھا بھی نہ جانیں میرے شیون کو مرا ہونا برا کیا ہے نوا سنجان ِ گلشن کو ۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند جو اک تصویر سی بنتی ہے، قبلہ، وہ فقط یہ ہے ۱) کہ مجبوری کا←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

آمد ِ سیلاب ِ طوفان ِ ِ صدائے آب ہے نقش ِ ِ پا جو کان میں رکھتا ہےانگلی جادہ ہے ستیہ پال آنند بندہ پرور، یہ کرم فرمائیں اس ناچیز پر عندیہ اس شعر کاکیا ہے ، کوئی لب←  مزید پڑھیے

غزل۔ ایک کھوکھلی صنف۔۔۔ستیہ پال آنند

(زوم کی وساطت سے بر پا کیے گئے ایک مباحثے پر  میرا حلفیہ بیان اقبالی) اول تو غزل سے میری بیگانگی کا سبب اُس زمین کا بنجر پن ہے جس میں پہلے ہزاروں بار فصلیں بوئی جا چکی ہیں، کاٹی←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

دل و جگر میں پُر افشاں جو ایک موجہ ء  خوں ہے ہم اپنے زعم میں سمجھے ہوئے تھے اس کو دم آگے ستیہ پال آنند حضور، اس شعر کی تصویر یہ بنتی ہے ذہنوں میں کہ متموج ہے اک←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

تغافل دوست ہوں میرا دماغ ِ عجز عالی ہے اگر پہلو تہی کیجے تو جا میری بھی خالی ہے ستیہ پال آنند حضور، اب کیا کہوں میں آپ کے اس ’’عجز‘‘ کے حق میں کہ ’’فارس‘‘ کی زباں میں آپ←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

آمد ِ خط سے ہو ا ہے سر د جو بازار ِ دوست دود ِ شمع کشتہ تھا شاید خط ِ رخسار ِ دوست ستیہ پال آنند بندہ پرور، آپ سے پوچھوں ، بصد عجز و نیاز کیا نہیں اس←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

کف ِ سیلاب باقی ہے برنگ ِپنبہ روزن میں ٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌ ستیہ پال آنند یقیناً کچھ سبب تو ہے ،حضور اس گریہ زاری کا کہ یہ مضمون، یعنی خانہ ویرانی پہ جزع فزع کئی اشعار میں ملتی ہے گویا اک حقیقت←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

فنا تعلیمِ درسِ ِ بےخودی ہوں اس زمانے سے کہ مجنوں لام الِف لکھتا تھا دیوار ِ دبستاں پر ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند ’’فنا تعلیم ، درس ِ بے خودی‘‘ کو غور سے دیکھیں توسمجھیں گے کہ یہ پہلی←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

عرض نازِ شوخی ِِدنداں برائے خندہ ہے دعوی ٗ جمعیت ِ احباب جائے خندہ ہے ستیہ پال آ نند یہ اضافت کی توالی؟ اور مطلع میں؟ حضور گویا اس خامی کی غایت پیشگی مطلوب ہو کیا کہیں گے،بندہ پر ور،←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

نہ جانوں کیوں کہ مٹے داغ طعن ِ بد عہدی تجھے کہ آئینہ بھی ورطہ ٗ ملامت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند حضور، مجھ کو تو جو کچھ سمجھ میں آیا ہے اگر کہیں تو میں منجملہ اس کو پیش←  مزید پڑھیے