ستیہ پال آنند کی تحاریر
ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

سوئے ہوئے نگر کی کہانی۔۔۔(23)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

پہاڑوں سے گِھری گلپوش وادی تھی وہ ننھا سا نگر وادی کی مشفق گود میں بیٹھا ہوا لگتا تھا جیسے ننھا بچہ سو رہا ہو (اوں غوں کرتا ہوا اِک*” پالنے” میں (*پنگھوڑا) کچھ مکاں پکے تھے ،اینٹوں سے بنے←  مزید پڑھیے

یہ نچلا حصہ مرے بدن کا، ایک مکالمہ۔۔۔(22)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

حیوان در انسان ترے لڑکپن کا شہد اے میرے سر میں بیٹھے ہوئے تشخص جو قطرہ قطرہ بنتا رہا تھا خلیوں کی پوٹلی میں نمود ِ عہد شباب کی صبح کا ستارہ وہ رزق سورج کا اب کہاں ہے؟ پاسبان←  مزید پڑھیے

انٹیگنی سے ایک مکالمہ۔۔۔۔(21)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

شاعر: آ ،انٹیگنی، آپس میں کچھ بات کریں تم کہتی ہو ، تم نے اپنے اندر کی آواز کو سن کر ملک میں نافذ اس قانون کو توڑا ہے، جو اند ر کی آواز سے میل نہیں کھاتا تھا تم←  مزید پڑھیے

خامہ بدست غالب(غالب کے فارسی اشعار)۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

۰قرب کعبہ چہ حظ ؟ ؎ دگر ز ایمنیٗ راہ و قرب کعبہ چہ حظ ؟ مرا کہ ناقہ ز رفتار ماند و پا خفتست ۔ غالب رات بھر برف گرتی رہی ہر طرف میں کہ بیمار تھا بار بستر←  مزید پڑھیے

خامہ بدست غالب(مرزا غالب کے ساتھ ایک مکالمہ)۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

دولت بہ غلط نبود از سعی پشیماں شو کافر نہ توانی شد، ناچار مسلماں شو ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰ مرزا غالب کے ساتھ ایک مکالمہ س پ آ ۔تُو کیا ہے؟ مسلماں ہے؟یا کافر ِ زناّری کچھ بھی ہے، سمجھ خود کو اک←  مزید پڑھیے

خامہ بدست غالب۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

غالب کے اشعار پر مبنی نظم کہانیاں بجوکا رسیدن ہائے منقار ہما بر استخواں غالب پس از عمرے بیادم داد کاوش ہائے مژگاں را ———– (1) آدمی شاید رہا ہو گا ، مگر اب ایک دھڑ تھا، ایک سر تھا←  مزید پڑھیے

زندگی دشمن نہیں ہے۔۔۔۔(20)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

بُدھ کی تعلیمات کے بارے میں ایک نظم کہانی اور پھر اک شخص آیا سَنگھ کا یا آشرم کا کوئی دروازہ نہیں تھا جو کسی کو روکتا وہ گرتا پڑتا، ٹیڑھا میڑھا جب کھلے آنگن میں پہنچا بے تحاشا رو←  مزید پڑھیے

دھرتی پُران۔۔۔(19)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

چاند کی بُڑھیا دیکھ رہی تھی پہلے اُبھرے کئی سمندر پھر کچھ اونچے اونچے پربت کچھ ایسے بھی، جن کے منہ سے آگ کے شعلے نکل رہے تھے پھر بادل گھر گھِر کر آئے پانی کی بوچھاڑیں برسیں ٹھنڈک سی←  مزید پڑھیے

گونگے سُر کی واپسی۔۔۔(18)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

(میری اپنی جیون کتھا ۔ خود نوشت ) کوکھ میں تھا جب میں سُنتا تھا اپنے دل کی دھڑکن ماں کے خون کی گردش کی موسیقی جیسے بانس کے جنگل میں اُڑتی آوازیں سُر سنگیت ۔۔۔ ہوا کے سانسوں کی←  مزید پڑھیے

خود وفاتیہ۔۔۔۔(17)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ستیہ پال آنند مر گیا تو دیکھا لوگوں نے کیسا عجب نظارہ تم بھی دیکھو اور “کتھا واچک” کی زباں سے تم بھی سن لو شاید اس کے سننے سے کچھ سبق ملے گا شاید تم بھی سیکھ سکو کچھ←  مزید پڑھیے

گرڑ پُران۔۔۔۔(16)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ہندوؤں کی قدیم ترین مقدس کتابوں میں جہاں وید اور شاستر ہیں، جنہیں الہامی کتابیں تسلیم کیا گیا ہے، وہاں پُران بھی ہیں۔ پُران رِشیوں کی تصنیف کردہ من گھڑنت کہانیاں ہیں، جو انہوں نے لوگوں کے جیون سُدھار کے←  مزید پڑھیے

ختم ہونا شام کا۔۔۔(15)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

(1) ختم ہونا شام کا اک مرحلہ ہے رات کی اندھی چڑیلیں چیختی ہیں آسماں کی گیلی رسّی سےبندھے بے بس اندھیرے کالی قربانی کے بکروں کی طرح گردن بریدہ نزع کے عالم میں گرتے، ہانپتے ہیں ختم ہونا آج←  مزید پڑھیے

اگیانی نجومی کا کرسٹل بال۔۔۔۔(14)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

(چار حصّوں میں ایک نظم کہانی) (۱) تم بہت بے صبر ہو، واقف نہیں ہو ضابطوں سے زندگی کو چائے کے چمچوں میں بھر بھرکر تحمل، قاعدے سے لمحہ ، لمحہ ، مختصر وقفوں سے جینا ضابطہ ہے تم نہیں←  مزید پڑھیے

گیلاتیا سے کون بچے گا۔۔۔۔(13)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

(۱) کیا مورت تھی جس کے خال و خد چہرے کی وضع، بناوٹ شکل و صورت پتھر کی اک سِل سے یوں اُبھرے، جیسے اس کے اندرصدیوں سے مخفی ہوں اور اب جاگ اُٹھے ہوں کیا مورت تھی چہرہ، مہرہ←  مزید پڑھیے

کون تھا عیسیٰ؟۔۔۔۔(12)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

خبر ہے کہ چین میں ایغور اور قازق مسلمان چینی باشندوں کو ان کے صدیوں پرانے گھروں سے اکھاڑ کر سینکڑوں میل دور تربیتی کیمپوں میں بھرتی کر دیا گیا ہے، جہاں انہیں اسلامی روایات (نماز، روزہ، وغیرہ) کی پیروی←  مزید پڑھیے

اسپین کی بارش میں ایک چینی حادثہ۔۔۔۔۔(11)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

جہاں تہاں قلعہ بند پھاٹک مجسّمے شیروں کے نگہباں رعونتوں سے اٹھے ہوئے بُرج، زنگ خوردہ پرانی توپیں ڈھکی ہوئی ، گل بدوش بیلوں کے چھپّروں سے (جو غار جیسے دکھائی دیتے تھے ہر طرف سے) یہ ایک قلعہ تھاجس←  مزید پڑھیے

ایکلویہ۔۔۔(10)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ایکلویہ مہا بھارت کا ایک اچھوت کردار ہے۔اُسے پانڈووں کے راج گرو درون آچارؔیہ نے اچھوت ہونے کی وجہ سے شکھشا دینے سے انکار کیا ، کہا کہ وہ تو صرف شہزادوں کو تیر اندازی کی تربیت دے سکتے ہیں۔←  مزید پڑھیے

کَٹ۔۔۔(9)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

CUT لینز* پہ کچھ منظر تیزی سے ابھر رہے ہیں پہلا منظر بیل ہانکتے بل کے پھل پر پاؤں رکھے اس دہقان کا ہے، جو اپنا کھیت جوت کر فصل اُگانے کی امید میں خون پسینہ ایک کرتا ہے دوسرا←  مزید پڑھیے

معجزہ نا گفتنی تھا۔۔۔(8)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

آج کل مَیں دست کش رہتا ہوں دُخت رز کی بد پرہیزیوں سے سارا ’کٹناپا‘ مرا ، ادمات ساری بے حیائی اب تو ماضی کی حکایت بن چکے ہیں فیثا غورث*کی رواقیت سے میر ی پہلے کب یوں دوستی تھی؟←  مزید پڑھیے

سر منڈی ہوئی عورت۔۔۔(7)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

The Woman With Shaved Head یہ نظم پہلے انگریزی میں اسی عنوان سے لکھی گئی اور شاعر کی انگریزی نظموں کی کتاب میں شامل ہے۔ The Sunset Strands ……………………….. وہ بھی چپ رہتی تھی اکثر میں بھی باتونی نہیں تھا←  مزید پڑھیے