سب و شتم ، اتہام کی نظمیں/ڈاکٹر ستیہ پال آنند

1-اندر آنا منع ہے

اپنے محل کے دروازے کے اوپر
اس تختی کو لٹکا کر شاید
تم یہ معمولی سی بات بھی بھول گئے ہو
جھکّڑ، آندھی، طوفاں، بارش
بھوکے ننگے لوگ، گداگر
ڈاکو، چور ۔۔۔۔ آوارہ کُتے
بالکل ناخواندہ ہوتے ہیں
یہ تختی بے مقصد محل کے دروازے پر
ٹنگی ہوئی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
2-​غیبت

مستغیث کا یہ الزام تھا

اس شاعر نے
اپنی ایک نظم میں میری غیبت کی ہے
فقرے چُست کیے ہیں، زہر افشانی کی ہے
طعن و تہمت ، بد گوئی، رسوائی کی ہے

قا ضی نے اپنے نائب سے پوچھا
دیکھو ، اس نوعیت کی قانونی چارہ جوئی”
“کیا پہلے بھی ہوئی ہے

Advertisements
julia rana solicitors

جی ہاں، نائب نے کچھ صفحے الٹے پلٹے
“آپ پہ بھی اک شاعر نے کچھ ایسا ہی اک دعویٰ کیا تھا ”
“کیا دعویٰ  تھا ؟”
“یہی کہ آپ نے اس کی رسوائی کی ہے”
“میرا کیا جواب تھا اس کو؟”
کہا تھا آپ نے ۔۔۔” نائب بولا”
شعروں پر انگشت نمائی
یا ان کی بد تعریفی تو ہر قاری کا یا سامع کا
ازلی حق ہے۔۔ اس دعوے کو خارج کر دو
“راست تھا میرا یہ کہنا تو!

Facebook Comments

ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply