ماں - ٹیگ

بدصورت۔۔۔بشریٰ نواز

رشید کی پیدائش پہ اماں، جان کی بازی ہار گئی تو گھر پر جیسے قیامت ٹوٹ پڑی. رشید کی نانی اور دادی    آپس میں بہنیں تھیں. رشید سے بڑا حمید اور پھر مجید ۔۔تین بچوں کو سنبھالنا معمو لی←  مزید پڑھیے

نمبر ،نمبر، نمبر۔۔۔۔شجاعت بشیر عباسی

اس نمبر گیم نے قوم کو بلاوجہ کی ریس کا شکار کر رکھا ہے اگر نمبر کم تو بچہ نالائق تصور کیا جاتا ہے اس بچے کو اپنے ہی گھر میں طنز و تحقیر کے رویے کا سامنا کرنا ،اٹھتے←  مزید پڑھیے

وہ جو تاریک راہوں میں مارے گئے۔۔۔عامر عثمان عادل

تحصیل ہیڈ کوارٹر ہاسپٹل کے وسیع لان پہ شام کے سائے چھا چکے تھے ہر سو سناٹا اور گہرا سکوت طاری تھا ،ڈاکٹر صاحب مردہ خانے سے باہر نکلے کافی دور پیدل چل کر ایمرجنسی میں  اپنے دفتر پہنچے تو←  مزید پڑھیے

ایم پی اے کا پروٹوکول اور ڈاکٹر کی معطلی۔۔۔محمد شافع صابر

میرے سامنے ابھی دو تصاویر ہیں، ایک تصویر اس تحریک استحقاق کی ہے، جو تحریک انصاف کی ایک ایم پی اے صاحبہ نے پنجاب اسمبلی میں پیش کی، دوسری تصویر اس نوٹیفکیشن کی ہے، جو سیکریٹری صحت پنجاب نے شائع←  مزید پڑھیے

کھیر، رات کی رانی اور ماں جی کی یاد ۔۔۔عامر عثمان عادل

آج سکول سے واپس گھر آیا ،کچھ کھانے کی تلاش میں فریج کھولا تو بڑے سلیقے سے سجائی  گئی کسٹرڈ کی پلیٹ پر نظر کیا پڑی، دل سے ایک ہوک اٹھی اور جیسے یادوں کے منہ زور دریا کا بند←  مزید پڑھیے

گھروندے۔۔۔بشریٰ نواز

ایک آ م ،ساتھ دو جا من کے درخت، اسی قطا ر میں امرود اور انا ر بھی، سامنے کچھ پو دے لیموں،ہری مرچ، ٹماٹر کے بھی تھے ۔تیسری سمت میں ٹھنڈی اور پرسکون دھریک کا گھنا درخت اور چوتھی ←  مزید پڑھیے

ڈے کیئر سینٹر یا ٹارچر سیل۔۔۔عائشہ یاسین

سوشل میڈیا کی خبر گرم ہے۔ دل اداس سے زیادہ چوکنا  ہوگیا ہے۔ ان ویڈیوز کو میں نے بڑے غور سے بار بار دیکھا۔ ایک دفعہ پھر ہمارے معاشرے کا بھیانک چہرہ سامنے آگیا ہے جہاں انسانیت نام کو بھی ←  مزید پڑھیے

سنگ مر مر۔۔۔وسیم یوسف

رحمتاں بشیرے کی تیسری بیوی تھی، بشیرا محنت مزدوری کے ساتھ ساتھ وعظ و نصیحت بھی کیا کرتا تھا اس لیے گاؤں میں قدر ےجان پہچان تھی۔ بشیرے کے تینوں بچے کام کاج سے کوسوں دور شغل میلے میں مشغول←  مزید پڑھیے

کم عقل عورت۔۔۔شمسہ ارشد

کم عقل عورت بس کر ۔۔۔ تیرے دماغ میں کوئی بات آسانی سے آتی ہی نہیں کیا ؟ اس نے ایک زور دار تھپڑ صالحہ کے گال پر رسید کیا اور اسے دھکا دیتا ہوا باہر نکل گیا ۔۔۔ وہ←  مزید پڑھیے

بیٹی اور بہنوں کو حق دو۔۔۔عمران علی

انسان کو دنیاوی، معاشرتی علم کی روء سے، “معاشرتی جانور” کہا جاتا ہے، “Man is a Social Animal”۔۔مگر پھر بھی انسان سے توقعات انسانی اقدار کے حساب سے ہی وابستہ ہوتی ہیں۔ انسان کی جبلت ہے کہ یہ اپنے ارد←  مزید پڑھیے

بازارِ حُسن کی اِک اور اَن کہی سسکتی محبت۔۔۔رمشا تبسم

رنگین روشنیوں میں ہجوم کے درمیان بے چین کھڑا وہ بازار حُسن کی اونچی اونچی عمارتوں اور کھڑکیوں کو دیکھ رہا تھا۔اسکی نگاہوں میں شدید انتظار اور کچھ چمک سی تھی ,ایسی چمک جو کسی کی آنکھوں میں عرصے بعد←  مزید پڑھیے

بچوں کے حقوق اور ہم سب۔۔۔عمران علی

بچے قوم کا مستقبل اور حقیقی سرمایہ ہوتے ہیں،اقوام عالم نے بچوں کے حقوق کی فراہمی کے حوالے سے بہت بڑے اور موثر اقدامات کیے ہیں لیکن دوسری جانب اگر ہم اپنا تجزیہ کریں اور اپنا موازنہ مہذب اقوام سے←  مزید پڑھیے

ماں تجھ سا کوئی کہاں۔۔۔قسط 1/فوزیہ قریشی

اک دل کا درد ہے کہ رہا زندگی کے ساتھ اک دل کا چین تھا کہ سدا ڈھونڈتے رہے۔۔ ہمارا دماغ اس وقت بھی کام کرتا ہے جب ہم سو رہے ہوتے ہیں۔ ہمارے ہر کام میں دماغ کی ایک←  مزید پڑھیے

ماں۔۔۔ رابعہ الرَبّاء

ماں میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی مجھے تم نے ایک لڑکی پیدا کیا ایک لڑکی سمجھا ایک لڑکی سمجھایا ایک لڑکی ایک گالی ایک لڑکی ایک شرمندگی اک کالک۔۔ جو چودہ سو برس قبل میرے پیدا ہونے پہ←  مزید پڑھیے

غربت اور ہوس جرم کی بنیاد ہے ۔۔۔محمد منیب خان

عالمی شہرت یافتہ امریکی ناول نگار ماریو پوزو کے شہرہ آفاق ناول “گارڈ فادر” کا ایک جملہ پاکستان میں ہر چھوٹے بڑے کو از بر ہوا۔ اس جملے کے زبان زدِ  عام ہونے کی ایک وجہ یہ بنی کہ یہ←  مزید پڑھیے

اور ایک برس بیت گیا۔۔۔۔ملیحہ ہاشمی

ابا کی نوکری تبدیل ہوئی اور ساتھ ہی ہجرت کا حکم صادر ہوا ۔ شہر کیا بدلا، مانو ہماری تو دنیا ہی بدل گئی۔ وہی نیلا آسمان تھا اور اس کے نیچے بستے ویسے ہی لوگ لیکن نہ توآسمان کی←  مزید پڑھیے

مختصر ،پُر اثر۔۔۔۔ماریہ خان خٹک

غلط فیصلے کرکے ان پہ ڈٹ جانا۔۔۔ڈٹ کر اور پھر مزید ان سے ہونیوالے نقصان کا ازالہ کرنے کے بجائے پگڑیاں پیروں میں رکھ کر مظلوم کو مزید سمجھوتے پہ آمادہ کرکے ایک طرح سے اپنے فیصلے کی پشیمانی پہ←  مزید پڑھیے

گلوبل وارمنگ اور آج کی ماں۔۔۔۔روبینہ فیصل

“مجھے مرنے سے صرف اس لئے ڈر لگتا ہے کہ میرے بچے میری موت سے گھبرا جائیں گے، وہ تکلیف میں آجائیں گے،وہ خود کو بغیر چھت کے محسوس کریں گے، انہیں لگے گا دنیا میں اب کوئی ہاتھ ان←  مزید پڑھیے

مسیحائی پر انگلیاں کیوں اٹھارہے ہیں؟۔۔۔۔۔ وقار اسلم

اپنے ہر کسی ہی کے لئے بےحد پیارے ہوتے ہونگے لیکن ایک باپ کے لئے اس کے جگر کا ٹکڑا اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک اس کی بیٹی اس کے گھر کی رونق اس کو عطاء کی گئی رحمت وہ←  مزید پڑھیے

یوں نہ جھانکو غریب کے دل میں۔۔۔۔عامر عثمان عادل

آج صبح حسب معمول سکول اپنے دفتر میں مصروف کار تھا کہ آیا جی میرے پاس آئیں کچھ دیر خاموش کھڑے رہنے کے بعد جھجکتے ہوئے گویا ہوئیں سر جی میرے بیٹے کا سرٹیفیکٹ دے دیں ۔میں چونک اٹھا اور←  مزید پڑھیے