رابعہ الربا کی تحاریر

نصف صدی کا قصہ۔۔۔رابعہ الرّ باء

قصہ سا ہوں کوئی  نصف صدی کا میں چاندنی جب بالوں میں جگمگاتی ہے آنکھ تاروں کے گرد جب بادل آ سے جاتے ہیں حادثے اپنا مفہوم بدل لیتے ہیں جب سانحے نیا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں پل پل جب←  مزید پڑھیے

میں اس پہ گھر بنا دوں گا۔۔۔رابعہ الرَبّاء

تم جا کے بیٹھو تو سہی میں اوپر گھر بنا دوں گا تمہارے سفید کمرے میں ٹیولپ روز لگا دوں گا لان آنگن میں جھمکہ بیل اور رات کی رانی کسی درخت کی شاخ پہ اک جھولا بھی لگوا دوں←  مزید پڑھیے

پھول۔۔۔۔رابعہ الرَبّاء

وہ میری آنکھ سے پھول دیکھتی رہی میں پھو ل جس کو پہنا نہ سکا وہ بیچتا اک مالی کسی بازار میں وہ کسی چوک میں وہ کسی دربار میں کسی قبرستان کے باہر وہ بیچتا گجرے اور ہار کفن←  مزید پڑھیے

ہم سوچ کے آزاد پنچھی۔۔۔رابعہ الرَبّاء

ہم آوارہ کچھ ہواؤں کی طرح ہم نرم برف گالوں جیسے ہم رقصاں دھند لہروں کی طرح ہم اڑتے اکتوبر نومبر کے زرد پتے کبھی سڑکوں کبھی باغوں کبھی کوچوں میں ہر سو۔۔ کبھی کسی کے صحن، کبھی کسی کے←  مزید پڑھیے

تمہارے لئے نہیں ہیں۔۔۔رابعہ الرَبّاء

میری کہانیاں ،میری نظمیں، میرے لفظ، میرے حرف تمہارے لئے نہیں ہیں، اگر تمہیں نہیں پتا “گبیریلا” نے کیوں لکھا اگر تمہیں نہیں پتا” ہرمن ہیس” پہ “سدھارت” کے ساتھ نیم موت راج کرتی رہی اگر تمہیں نہیں پتا “سدھارتا←  مزید پڑھیے

ماں۔۔۔ رابعہ الرَبّاء

ماں میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی مجھے تم نے ایک لڑکی پیدا کیا ایک لڑکی سمجھا ایک لڑکی سمجھایا ایک لڑکی ایک گالی ایک لڑکی ایک شرمندگی اک کالک۔۔ جو چودہ سو برس قبل میرے پیدا ہونے پہ←  مزید پڑھیے

میری زلیخاں۔۔۔۔رابعہ الرَبّاء

وہ آداب عشق سے تھی آشنا اس نے سارے اعتراف کر لئے اس نے سجدے در بددر کیے اس نے چھوٹے خدا بھی سَر کیے اس نے آنکھیں اپنی کھو کر بھی دیدار سارے من مندر میں در لئے وہ←  مزید پڑھیے

محبت تو خوشبو ہوتی ہے۔۔۔۔رابعہ الرَبّاء

محبت تو خوشبو ہوتی ہے وہ ہواؤں کی طرح تن من سے گزر جاتی ہے اس کو لفظوں کی ،لہجوں کی زبانوں کی ضرورت نہیں ہوتی محبت تو خوشبو ہوتی ہے جو مہکا دے وجود کو جو سجا دے قیود←  مزید پڑھیے

عشق کی بازی۔۔۔۔رابعہ الرباء

آئیےصاحب امن کی بات کرتےہیں ورنہ موجوں کا کیا ۔۔۔ قطرے بن کے شہر بہا لے جائیں گی شہر تیرا ہو یا میرا ہو، قطرے کو اس سے غرض نہیں جاناں، میری جاناں۔۔۔ آئیے امن کی بات کرتے ہیں ورنہ←  مزید پڑھیے

کشمیری شال اور ایک کتاب۔۔۔۔رابعہ الرَبّاء

ہم تین لوگ تھے تین لوگ تھے اور ایک کتاب تھی ایک کتاب تھی اور کتاب پہ تین تصویر یں تھیں تین مصنف تھے ایک تکون تھی۔۔ مگر کرسیاں چار تھیں میں نے اسے تحفہ عزت کے طور  پر ایک←  مزید پڑھیے

میرے موسیٰ۔۔۔۔رابعہ الرَبّاء

میرے موسیٰ میں مثل خضر ہوں تیرے ساتھ زمانہ فرعون ہے اور وقت نہیں میرے پاس میرے موسیٰ تیرا جلال کہ روشنی کی رفتار ہے لفظوں کی کشتی بے اختیار ہے تجھے کس کا انتظار ہے میرے موسیٰ تجھے جلدی←  مزید پڑھیے

اے شہر خاموشاں ۔۔۔رابعہ الرباء

اے شہر ِخاموشاں اے ہمارے خمیر کے گھر ہم تجھ سے کتنا دور دور بہت دور مگر اے شہر ِخاموشاں یوں تھا جیسے تو نے روک لیا تھا آسمان بھی تو رو پڑا تھا اے شہر ِخاموشاں رُکی سانسو ں←  مزید پڑھیے

خواب کی صورت۔۔۔۔رابعہ الرباء

کچھ پل ہم نے جیتے تھے کچھ پل ہم نے ہارے تھے کتنے پل ساتھ گزارے تھے کبھی تم ماتھے کا جھومر تھے کبھی آنکھ کے تارے تھے کبھی کوئی خواب کی صورت تھی کبھی سراب کی مورت تھی جیسے←  مزید پڑھیے

عشق کا دربار۔۔۔رابعہ الرباء

میں عشق کے دربار سے خالی ہاتھ نہیں لوٹی مانگ میری سندوری ہے، گجرے پہن کے آئی  ہوں آنکھ میری کجلائی  ہے، روپ میرا نورانی ہے میں عشق کے دربار  سےخالی  ہاتھ نہیں لو ٹی میں عشق کے دربار سے←  مزید پڑھیے

شہرِ فنا۔۔۔۔۔۔رابعہ الرّباء

شہر ِفنا میں بیٹھے وہ گہری سمندر آنکھوں والی لڑکی وہ لڑکی جس کی صورت جھیلوں جیسی تھی شہرِ فنا میں بیٹھی اپنی روح سے ہم کلام تھی میں نے اپنے آنگن میں یہ گور بنائی ہے روز سفید جوڑا←  مزید پڑھیے

سُنو لڑکی۔۔۔۔رابعہ الرباء

سُنو لڑکی طبیب نے تمہیں خوش رہنے کی دوا دی ہے تم ابھی بھی نا خوش ہو نا شکری ہو تم سنو لڑکی اس موتیا رنگ ستونوں بنی عمارت کے روشن دان، کھڑکیاں و در کتنے وسیع و عریض ہیں←  مزید پڑھیے

میں مَر جاتی ہوں۔۔۔۔۔رابعہ الربا

میں زندگی کی طرف پلٹ تو سکتی ہوں مجھے زندگی کو چھونے تو دو محبت سے اک بار باہوں میں زیست کو لینے تو دو میں زندگی کی طرف پلٹ تو سکتی ہوں … مجھے اس کے خواب اس کے←  مزید پڑھیے

صائمہ اصغر کی پینٹنگ۔۔۔رابعہ الرَبّاء

I want to touch people with my art I want them to say ,he feels deeply, he feels tender(Vincent Van Gogh) جس دعوت نامہ پہ اتنے رنگ بکھرے ہو ں ۔ وہ خود ذوق کی عکاسی کر تا ہے ۔←  مزید پڑھیے

اردو افسانہ عہد حاضر میں۔۔۔رابعہ الرَ بّاء/اردو افسانہ انسائکلو پیڈیا

حرف جمال (اردو افسانہ عہد حاضر میں ) ’’ ایک تھا’’ انسائکلو پیڈیا ،،لیجئے آپ کی امانت آپ کے ہا تھ میں ہے ۔(جی آپ درست سوچ رہے ہیں ، بات یہ ہے کہ انسا ن اپنے بچوں کا نام←  مزید پڑھیے

شادی دو لوگوں کا مسئلہ ہے۔۔۔بینا گوئندی،رابعہ الرَبّاء/ایک مکالمہ

’’ارے یار تم میرے بھائی کی شادی پہ بلا شبہ کپڑے مت پہننا ، مجھے کو ئی اعتراض نہیں ہو گا ،، بینا کھلکھلا کے ہنس پڑیں ’’ او سچی۔۔۔،، ’’رابعہ شادی اصل میں دو لو گوں کا مسلۂ ہے←  مزید پڑھیے