محمد منیب خان کی تحاریر
محمد منیب خان
محمد منیب خان
میرا قلم نہیں کاسہء کسی سبک سر کا، جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے۔ (فراز)

مقتل گاہ۔۔۔محمد منیب خان

سزائے موت کے قیدی کی ساری اپیلیں رد ہو جانے کے بعد جب اس کی سزا میں توثیق کر دی جاتی ہے۔ تو پھر اسے ایک علیحدہ کال کوٹھڑی میں رکھا جاتا ہے۔ وہاں اس کی حفاظت کا پہلے سے←  مزید پڑھیے

بے آواز گلی کوچوں سے / بازار حسُن۔۔۔محمد منیب خان

یہ بازار ہے یہاں ہر جنس بکتی ہے۔ بھانت بھانت کے کاروباری لوگ طرح طرح کی دکانیں کھولے اپنا مال سجائے بیٹھے ہوتے ہیں۔ بعض اجناس کے بازار مخصوص ہوتے ہیں۔ غلہ منڈی، فروٹ منڈی یا سبزی منڈی اپنے ناموں←  مزید پڑھیے

بے آواز گلی کوچوں سے/ڈو مور۔۔۔۔۔۔۔۔محمدمنیب خان

جون ایلیا نے ایک جگہ لکھا تھا کہ “تمہارے ہونے کی بس ایک یہی دلیل باقی رہ گئی ہے کہ تم جگہ گھیرتے ہو”۔ لہذاسوشل میڈیا پہ پھیلے بہت سے لوگ محض جگہ گھیر رہے ہیں اور اپنے ہونے کی←  مزید پڑھیے

بے آواز گلی کوچوں سے۔۔۔ یہ سیاستدان کیا کھاتے ہیں؟/محمد منیب خان

ملک معراج خالد کا نام یقیناً اس سوشل میڈیا سے بصیرت حاصل کرنے والی نسل کے لیے اجنبی ہوگا۔ ملک معراج خالد پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اراکین میں سے تھے۔ بھٹو کے قریبی ساتھی شمار ہوتے تھے۔ ستر کی←  مزید پڑھیے

بے آواز گلی کوچوں سے” الفاظ”۔۔۔۔۔۔۔۔محمد منیب خان

یہ بات عام کہی جاتی ہے کہ انسان بولنا تو بچپن میں سیکھتا ہے۔ لیکن کب کیا بولنا ہے ،  یہ سیکھنا عمر بھر کی مشق ہے۔ انسان کی پہلی تربیت گاہ گھر ہے پھر اساتذہ اور معاشرہ انسان کو←  مزید پڑھیے

بے آواز گلی کوچوں سے۔ تاریکی کے محافظ۔۔۔۔۔محمد منیب خان

شام ہو چکی ہے۔ دور افق کے اس پار سورج غروب ہو رہا ہے۔ آسمان پہ ابھی تھوڑی روشنی باقی ہے۔ مدھم سی روشنی۔ اتنی مدھم جتنی بستر مرگ پہ زندگی سے لڑتے کسی وجود میں زندگی کی رمق ہوتی←  مزید پڑھیے

بے آواز گلی کوچوں سے۔۔۔ اوئے توئے چول/محمد منیب خان

سننے والے کا شوق بولنے والے کو زبان عطا کرتا ہے۔ داد و تحسین کے ڈونگرے بجنے لگیں تو کوئی مبلغ ہو یا شاعر اس کے لیے یہ کیفیت مسحور کن ہوتی ہے۔واعظ کو معلوم ہوتا ہے کہ سامعین کو←  مزید پڑھیے

بے آواز گلی کوچوں سے۔ “مخولستان”۔۔۔۔محمد منیب خان

میں مخولستان کا باسی ہوں۔ یوں تو میرا ملک جب قائم ہوا اس وقت اس کا نام مخولستان نہیں تھا لیکن قیام کے چند سال بعد ہی حالات و واقعات نے وہ رخ اختیار کیا کہ جس کو دیکھ کر←  مزید پڑھیے

بے آواز گلی کوچوں سے ۔۔۔ ہڑبونگ/محمد منیب خان

میرے چار سو ہجوم ہے۔ بے ہنگم، بکریوں کے ریوڑ کی طرح کبھی کوئی ایک طرف منہ کرتا کبھی دوسری طرف۔ ہجوم کے لوگ ایک دوسری پر چیخ رہے ہیں، چنگھاڑ رہے ہیں۔ سب ایک دوسرے  کو اپنی بات سنا←  مزید پڑھیے

بے آواز گلی کوچوں سے۔۔۔ عصمت دری/محمد منیب خان

درختدوسرےدرختوںکیڈھالبنےہوئےہیں۔پرندےڈاربنائےفضامیںاڑ رہےہیں۔بکریاںریوڑمیںایکدوسرےکےساتھچمٹیہوئیںایکہیکھیت میں چَررہیہیں۔بطخیںایکمخصوصپیٹرنمیںجھیلکےگدلےپانیوںپہتیررہیہیں۔سینکڑوںہزاروںچیونٹیاںاپنی بلوںمیںخوراکذخیرہکررہیہیں۔ہرن،ہاتھیاوردریائیگھوڑےاپنےاپنےجمگھٹےمیںدریااورندیپہ  پانی  پیرہےہیں۔انسانراہچلتےایکدوسرےسےملتےہوئےنیکخواہشاتکااظہارکررہےہیں۔عبادتگاہوںسےماننےوالوںکیصدائیںاٹھرہیہیں۔سورجکرہارضپہاپنیآبوتابسےچمکرہاہے۔ افقکےاسپارسےایکآندھیآتیہے۔درختوںکوجڑسےاکھاڑدیتیہے۔کوئینشانہبازکسیایکپرندےکانشانہباندھتاہے۔کوئیبھیڑیاکسیایکبکریکواُچکلیتاہے۔کوئیشکاریکسیایکبطخکودبوچلیتاہے۔بےپرواقافلےکاکوئیمسافرچیونٹیوںکےبلکےاوپرپیررکھکرگزر جاتا ہے۔کوئیشیردریااورندیپہپرسکونپانیپیتےجانوروں پہحملہکردیتاہے۔ایکانسان۔۔عصمتکےدانتمیںدردہوتاہے۔وہانسانوںکےدرمیانہیعلاجکےلیےشفاخانےجاتیہے۔ایکانسان۔۔۔مسیحائیکےروپمیںگھاتلگائےبیٹھاہے۔عصمتکبھیشفاخانےسےشفایابہوکرنہیںلوٹی۔ عبادتگاہوںسےماننےوالوںکیصدائیںاٹھرہیہیں۔اخلاقیاتکےدرسدیےجارہےہیں۔سورجکرہارضپہاپنیآبوتابسےچمکرہاہے۔لیکنعصمتابکچھدیکھنہیںسکتی۔بھلاشکاریسےکیسےبچتی؟ سوشلمیڈیا۔۔۔دھنداہے۔اٙندیکھےہاتھوںمیںکہیںنہکہیںاسکیباگڈورضرورہےورنہجہاںسانحہساہیوالکاٹرینڈچلجاتاہےوہاںحیاتآبادپہکوئیکاننہیں دھرتا۔جہاںزینبکےقاتلکیپھانسیتکعوامکاغموغصہقائمرہتا(رکھاجاتا) ہے۔وہاںعصمتبارےچندنحیفآوازیںاٹھتیہیںاورسیاستکےشورمیںدفنہوجاتیہیں۔کیونکہشایدہمنےتسلیمکرلیاہےکہیہجنگلہےاورجنگلمیںہرطاقتورکوآزادیحاصلہے۔←  مزید پڑھیے

بے آواز گلی کوچوں سے۔ صدارتی نظام کا بخار۔۔۔محمد منیب خان

ٹوئٹر کی راہداریاں اور فیس بک کی دیواریں گذشتہ چند دن سے بہت شد و مد کے ساتھ صدارتی نظام کے دل آویز نعروں سے لتھڑی ہوئیں نظر آر ہی ہیں۔ اس پہ مستزاد اسلام آباد میں حکومت کی غلام←  مزید پڑھیے

بے آواز گلی کوچوں سے ۔پاکستانی معیشت پہ چھائے گہرے بادل۔۔۔محمد منیب خان

پاکستان اور پاکستانی کرنسی اپنی تاریخ کے بد ترین دور سے گزر رہے ہیں۔ میں نے اس دور کو بد ترین کیوں کہا اس کے لیے چند اعداد و شمار پیش کرتا ہوں۔   نناوے میں جب ن لیگ کی حکومت←  مزید پڑھیے

بے آواز گلی کوچوں سے۔۔۔۔ محمد منیب خان

“وہ ایک دہشت گرد ہے، ایک مجرم ہے، ایک انتہا پسند ہے”۔ جیسنڈا آرڈرن  نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں برپا کیے جانے والے سانحے کے بعد وہاں کی حکومت اور سیاسی قیادت نے جس طرح کا رد عمل←  مزید پڑھیے

بیشک انسان خسارے میں ہے۔۔۔محمد منیب خان

یو ں تو گزرتے وقت کا ہر لمحہ اہم ہے ہر ساعت محترم ہے۔ لیکن بعض ساعتوں کی نسبت ایسے واقعات سے ہوتی ہے جو تاریخی اعتبار سے اہم ہونے کے علاوہ مقدس بھی ہوتے ہیں۔ ایسے مقدس واقعات چاہے←  مزید پڑھیے

اسلام کربلا میں۔۔۔۔محمد منیب خان

“میرے بھائی! حسین رض  کو رونے والی آنکھ اور سینہ کوبی کرنے والے ہاتھ کی ضرورت نہیں، انہیں تو ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو ان کے نانا کے دین کو اس کی اصل اساس پر پھر سے قائم کر←  مزید پڑھیے

خوش رہو اہل وطن ہم تو سفر کرتے ہیں۔۔۔۔محمد منیب خان

مولانا وحید الدین خان کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ انسان کے ڈی این اے میں اس کے متعلق ساری معلومات موجود ہوتی ہیں ما سوائے موت کے۔ انسانی ڈی این اے جس کی تعداد ایک ٹریلین سیل تک ہوتی←  مزید پڑھیے

عمران خان پہ کی جانے والی تنقید کا عقلی جائزہ۔۔۔۔محمد منیب خان

ہر طرف سے حکومت پہ شدید سیاسی تنقید کی گھن گرج، اپوزیشن اور میڈیا کے منہ سے اگلتے آتشی لفظوں کی تپش سے جھلستی حکومت، اپنے بیانات کو لطائف کا رخ دیتے وزرا، اکّا دکّا غلط بیانی اور اس پہ←  مزید پڑھیے

سیاسی بحث اور ہمارا مجموعی رویہ۔۔۔۔محمد منیب خان

ہم کہاں سے چلے تھے اور ہم کہاں پہنچ گئے ہیں؟ میں روشنی میں، شدید روشنی میں چندھائی آنکھوں سے اپنے وجود کو ٹٹول رہا ہوں۔میرا یقین کبھی گمان بنتا ہے اور کبھی میرا وہم تیقن کے ساتھ میری سوچ←  مزید پڑھیے

ووٹ کو عزت دو۔۔۔محمد منیب خان

‎”ووٹ کو عزت دو “ گو یہ نعرہ نواز شریف نے  “بظاہر عدالتی “معذولی کے بعد اپنے ووٹروں کو دیا لیکن اگر دل پہ ہاتھ رکھ کے سوچیں تو یہ نعرہ ہر لیڈر اور ہر پارٹی کا ہونا چاہیے۔آج  ہر پاکستانی←  مزید پڑھیے

یقیں مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو ۔۔۔ محمد منیب خان

میں کوئی کاہن، نجومی یا جوتشی نہیں جو بتا سکوں کہ چند دن بعد عوام الیکشن میں کیا فیصلہ کریں گے نہ ہی میں اس وقت ارض وطن میں موجود ہوں جس سے عوام کی سیاسی نبض پہ ہاتھ کا←  مزید پڑھیے