محمد منیب خان کی تحاریر
محمد منیب خان
محمد منیب خان
میرا قلم نہیں کاسہء کسی سبک سر کا، جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے۔ (فراز)

مذہبی” جذبات”۔۔محمد منیب خان

“بیشک ہم نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا فرمایا۔ القرآن (۹۵:۴) یہ رب کا فرمان ہے کہ انسان کو بہترین ساخت میں بنایا گیا ۔ انسان اندرونی اور بیرونی ہر ساخت میں ہی بہتر ین ہے۔ انسان محض پیکر←  مزید پڑھیے

آیا صوفیہ اور آج کا مسلمان۔۔محمد منیب خان

اپنے دین سے لگاؤ ہونا خدا کو ماننے والے ہر انسان کا فطری عمل ہے۔ جبکہ دین پہنچانے والے سے جذباتی لگاؤ اور جذباتی تعلق کاہونا بھی عین قابل فہم اور قدرتی بات ہے۔ دین بنیاد طور پہ خلق کا←  مزید پڑھیے

طارق عزیز دلوں میں زندہ رہیں گے۔۔محمد منیب خان

زندگی کو لمبی تمہید چاہیے۔ نو ماہ کوکھ میں پلتی ہے۔ پھر بچپن میں دمکتی ہے، جوانی میں مہکتی ہے، ادھیڑ عمر میں دہکتی ہے اوربڑھاپے میں سلگتی ہے۔ لیکن موت کے لیے بس ایک تمہید کافی ہے اور وہ←  مزید پڑھیے

جہاز کریش سے کرونا تک۔۔محمد منیب خان

کسی بھی منزل کی طرف جانے کے لیے اپنی منفرد مسافت ہوتی ہے۔ لازمی نہیں کہ منزل، مسافت اور ہمسفر سب کو مقدر  کی کھونٹی سے باندھ کر خود کو  عمل کے نتائج سے مبرا کر لیا جائے۔ کیونکہ اگر←  مزید پڑھیے

میرے مقدس جذبوں کو سیاست کی نظر نہ کیجیے۔۔محمد منیب خان

پچھلے وقتوں میں ہتھیار تیار رکھے جاتے تھے، طبل بجتا تو سورما میدان جنگ میں جمع ہو جاتے، گھمسان کا رن پڑتا۔ فاتح لاشیں سمیٹتے، جیت کا نغمہ گاتے واپس لوٹتے۔ شکست خوردہ لاشیں میدان جنگ میں چھوڑ کر بھاگ←  مزید پڑھیے

میرے پاس تم ہو۔۔محمد منیب خان

ہر انسان ایک مکمل اور منفرد کہانی ہوتا ہے۔ یہی انسان جب دوسرے انسانوں سے ملتا ہے تو مزید کہانیاں جنم لیتی ہیں۔  گویا دنیامیں موجود اربوں انسانوں سے کھربوں کہانیاں جنم لیتی ہیں۔ یہی انسان اور ان سے وابستہ←  مزید پڑھیے

انشائیہ : رات۔۔۔محمد منیب خان

چور، عاشق اور عابد سے زیادہ رات کا قدر دان کون ہوگا؟ یہی وہ لوگ ہیں جو رات میں چھپے خزانے دریافت کرتے ہیں۔ جیسے کوئی کان کن کوئلے میں چھپا ہیرا۔ چور کی منزل کھوٹی، عاشق کا راستہ آسان←  مزید پڑھیے

کیا عوام محض ایندھن ہیں؟۔۔محمد منیب خان

ہمارے ساتھ عجب واقعہ ہو رہا ہے۔ ہم منزل کی طرف سفر شروع کرتے ہیں تو اس سمت مسافتیں خود محو ِ سفر ہو جاتی ہیں۔ ہماراحاصلِ سفر شایدمسافت ہی رہتا ہے۔ ایسی مسافت جس کو طے کرتے ہوئے دور←  مزید پڑھیے

یہ گروہی عصبیت اور تفاخر کیوں؟۔۔محمد منیب خان

شور تو پہلے بھی تھا لیکن اب آوازیں غیر ضروری حد تک اونچی ہو گئی ہیں۔ اب کسی دلیل اور جواز کو منطق کی کسوٹی پہ پرکھانہیں جاتا۔ ہم آہستہ آہستہ  تعصب و تفاخر  کے اس گڑھے میں تقریباً گر چکے←  مزید پڑھیے

بیمار معاشرہ۔۔محمد منیب خان

الفاظ کی اہمیت سے کس کو انکار ہو سکتا ہے۔ انسانوں نے صدیوں کے ارتقا سے ابلاغ کا جو موثر ترین ذریعہ اپنایا اور الفاظ کا ہی تھا۔ خیال ذہن میں جنم لیتا ہے اور  الفاظ خیال کو مجسم کر←  مزید پڑھیے

محکمہ زراعت کا پھول اور نظریے کا پودا ۔۔۔ محمد منیب خان

موسم بدل رہا ہے اور موسم میں یہ بدلاؤ بہت تیزی سے رونما ہوا ہے۔ یخ بستہ ہواؤں کے تھپیڑوں سے سوچ منجمد ہو گئی ہے اور موسمکی اس شدت سے قویٰ مضمحل ہو گئے ہیں۔ نہ ہی ماحول ساز←  مزید پڑھیے

سبق پھر پڑھ مارچ، کا جلسے کا، دھرنے کا۔۔۔محمد منیب خان

مولانا فضل الرحمن نے کل جلسے سے خطاب کے دوران وزیر اعظم عمران خان کو استعفی دینے کے لیے دو دن کی مہلت دے دی ہے۔ میں کوئی کاہن، نجومی یا ستارہ شناس نہیں کہ بتا سکوں اگر وزیراعظم مستعفی←  مزید پڑھیے

خبر اور افواہ کے درمیان لٹکتی قوم۔۔۔محمد منیب خان

سچ کو غیر معتبر کرنے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ کسی جھوٹے کی زبان سے کہلوا دیا جائے۔ واصف باصفا رح کا قول ہے “سچ وہ ہےجو سچے کی زبان سے نکلے”۔ کوئی سچ کسی ناقابل اعتبار زبان←  مزید پڑھیے

آسیب زدہ ریاست۔۔۔محمد منیب خان

یوں تو فکر کا پیٹ بھرنے کو سوچ کے سارے در واء  ہیں اور نظاروں کا ایک اژدھام ہے۔ آنکھوں کی پتلیاں ان نظاروں کو دیکھتے ہوئےحیرت سے پھیلتی جا رہی ہیں۔ خیال کے آنگن میں عوام کے مستقبل سے←  مزید پڑھیے

تقریر پہ تقریر۔۔۔محمد منیب خان

انسان اپنی عادت اور مزاج میں رہن رکھ دیا گیا ہے۔ واقعات پہ زاویہ نظر کیا ہوتا ہے، کس بات کا کیا ردعمل دیتے ہیں، یا پھر کسی بھی موقع پہ کوئی بات کس انداز میں کہنی ہے یہ سب←  مزید پڑھیے

مبالغہ آمیزی۔۔محمد منیب خان

میرے چہار جانب احباب موجود ہیں جو مجھے حوصلہ دے رہے ہیں میری ہمت بندھا رہے ہیں۔ میں اتنی جلدی ہمت ہارنے والا نہیں لیکن ایک ہمہ جہتی زوال ہے جس کے ایک سرے پہ ہمارا معاشرہ کھڑا ہے۔ بلکہ←  مزید پڑھیے

اذیت سی اذیت۔۔۔۔محمد منیب خان

میں مبہوت کھڑا ہوں۔ میرے سامنے ایک واقعہ رونما ہوا ہے۔ ایسا واقعہ کہ جس نے مجھ سے میری قوت گویائی چھین لی ہے۔ میں لب کشائی کرنا چاہ رہا ہوں لیکن الفاظ میرے حلق میں اٹک گئے ہیں۔ میری←  مزید پڑھیے

مکالمہ کو سالگرہ مبارک ہو۔۔۔محمد منیب خان

کوئی بھی چیز ہو وہ پیدائش کے بعد سب کے سامنے ہوتی ہے لیکن پیدائش سے پہلے یہ کن مراحل سے گزرتی ہے اور پیدائش کے بعد اس کو کتنی نگہداشت اور توجہ چاہیے یہ اس چیز کا خالق ہی←  مزید پڑھیے

جلتا کشمیر اور حکومت پاکستان کی پھونکیں۔۔۔محمد منیب خان

“مسئلہ کشمیر” آج کا مسئلہ نہیں یہ بہتّر سال پرانا مسئلہ ہے اور کشمیر کے باسی گزشتہ بہتّر سال سے اپنے حق خود ارادیت کے لیے اقوام عالم کی طرف ٹکٹکی باندھے دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان ہمیشہ کشمیریوں کی آواز←  مزید پڑھیے

غربت اور ہوس جرم کی بنیاد ہے ۔۔۔محمد منیب خان

عالمی شہرت یافتہ امریکی ناول نگار ماریو پوزو کے شہرہ آفاق ناول “گارڈ فادر” کا ایک جملہ پاکستان میں ہر چھوٹے بڑے کو از بر ہوا۔ اس جملے کے زبان زدِ  عام ہونے کی ایک وجہ یہ بنی کہ یہ←  مزید پڑھیے