محمد منیب خان کی تحاریر
محمد منیب خان
محمد منیب خان
میرا قلم نہیں کاسہء کسی سبک سر کا، جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے۔ (فراز)

بیمار معاشرہ۔۔محمد منیب خان

الفاظ کی اہمیت سے کس کو انکار ہو سکتا ہے۔ انسانوں نے صدیوں کے ارتقا سے ابلاغ کا جو موثر ترین ذریعہ اپنایا اور الفاظ کا ہی تھا۔ خیال ذہن میں جنم لیتا ہے اور  الفاظ خیال کو مجسم کر←  مزید پڑھیے

محکمہ زراعت کا پھول اور نظریے کا پودا ۔۔۔ محمد منیب خان

موسم بدل رہا ہے اور موسم میں یہ بدلاؤ بہت تیزی سے رونما ہوا ہے۔ یخ بستہ ہواؤں کے تھپیڑوں سے سوچ منجمد ہو گئی ہے اور موسمکی اس شدت سے قویٰ مضمحل ہو گئے ہیں۔ نہ ہی ماحول ساز←  مزید پڑھیے

سبق پھر پڑھ مارچ، کا جلسے کا، دھرنے کا۔۔۔محمد منیب خان

مولانا فضل الرحمن نے کل جلسے سے خطاب کے دوران وزیر اعظم عمران خان کو استعفی دینے کے لیے دو دن کی مہلت دے دی ہے۔ میں کوئی کاہن، نجومی یا ستارہ شناس نہیں کہ بتا سکوں اگر وزیراعظم مستعفی←  مزید پڑھیے

خبر اور افواہ کے درمیان لٹکتی قوم۔۔۔محمد منیب خان

سچ کو غیر معتبر کرنے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ کسی جھوٹے کی زبان سے کہلوا دیا جائے۔ واصف باصفا رح کا قول ہے “سچ وہ ہےجو سچے کی زبان سے نکلے”۔ کوئی سچ کسی ناقابل اعتبار زبان←  مزید پڑھیے

آسیب زدہ ریاست۔۔۔محمد منیب خان

یوں تو فکر کا پیٹ بھرنے کو سوچ کے سارے در واء  ہیں اور نظاروں کا ایک اژدھام ہے۔ آنکھوں کی پتلیاں ان نظاروں کو دیکھتے ہوئےحیرت سے پھیلتی جا رہی ہیں۔ خیال کے آنگن میں عوام کے مستقبل سے←  مزید پڑھیے

تقریر پہ تقریر۔۔۔محمد منیب خان

انسان اپنی عادت اور مزاج میں رہن رکھ دیا گیا ہے۔ واقعات پہ زاویہ نظر کیا ہوتا ہے، کس بات کا کیا ردعمل دیتے ہیں، یا پھر کسی بھی موقع پہ کوئی بات کس انداز میں کہنی ہے یہ سب←  مزید پڑھیے

مبالغہ آمیزی۔۔محمد منیب خان

میرے چہار جانب احباب موجود ہیں جو مجھے حوصلہ دے رہے ہیں میری ہمت بندھا رہے ہیں۔ میں اتنی جلدی ہمت ہارنے والا نہیں لیکن ایک ہمہ جہتی زوال ہے جس کے ایک سرے پہ ہمارا معاشرہ کھڑا ہے۔ بلکہ←  مزید پڑھیے

اذیت سی اذیت۔۔۔۔محمد منیب خان

میں مبہوت کھڑا ہوں۔ میرے سامنے ایک واقعہ رونما ہوا ہے۔ ایسا واقعہ کہ جس نے مجھ سے میری قوت گویائی چھین لی ہے۔ میں لب کشائی کرنا چاہ رہا ہوں لیکن الفاظ میرے حلق میں اٹک گئے ہیں۔ میری←  مزید پڑھیے

مکالمہ کو سالگرہ مبارک ہو۔۔۔محمد منیب خان

کوئی بھی چیز ہو وہ پیدائش کے بعد سب کے سامنے ہوتی ہے لیکن پیدائش سے پہلے یہ کن مراحل سے گزرتی ہے اور پیدائش کے بعد اس کو کتنی نگہداشت اور توجہ چاہیے یہ اس چیز کا خالق ہی←  مزید پڑھیے

جلتا کشمیر اور حکومت پاکستان کی پھونکیں۔۔۔محمد منیب خان

“مسئلہ کشمیر” آج کا مسئلہ نہیں یہ بہتّر سال پرانا مسئلہ ہے اور کشمیر کے باسی گزشتہ بہتّر سال سے اپنے حق خود ارادیت کے لیے اقوام عالم کی طرف ٹکٹکی باندھے دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان ہمیشہ کشمیریوں کی آواز←  مزید پڑھیے

غربت اور ہوس جرم کی بنیاد ہے ۔۔۔محمد منیب خان

عالمی شہرت یافتہ امریکی ناول نگار ماریو پوزو کے شہرہ آفاق ناول “گارڈ فادر” کا ایک جملہ پاکستان میں ہر چھوٹے بڑے کو از بر ہوا۔ اس جملے کے زبان زدِ  عام ہونے کی ایک وجہ یہ بنی کہ یہ←  مزید پڑھیے

مقتل گاہ۔۔۔محمد منیب خان

سزائے موت کے قیدی کی ساری اپیلیں رد ہو جانے کے بعد جب اس کی سزا میں توثیق کر دی جاتی ہے۔ تو پھر اسے ایک علیحدہ کال کوٹھڑی میں رکھا جاتا ہے۔ وہاں اس کی حفاظت کا پہلے سے←  مزید پڑھیے

بے آواز گلی کوچوں سے / بازار حسُن۔۔۔محمد منیب خان

یہ بازار ہے یہاں ہر جنس بکتی ہے۔ بھانت بھانت کے کاروباری لوگ طرح طرح کی دکانیں کھولے اپنا مال سجائے بیٹھے ہوتے ہیں۔ بعض اجناس کے بازار مخصوص ہوتے ہیں۔ غلہ منڈی، فروٹ منڈی یا سبزی منڈی اپنے ناموں←  مزید پڑھیے

بے آواز گلی کوچوں سے/ڈو مور۔۔۔۔۔۔۔۔محمدمنیب خان

جون ایلیا نے ایک جگہ لکھا تھا کہ “تمہارے ہونے کی بس ایک یہی دلیل باقی رہ گئی ہے کہ تم جگہ گھیرتے ہو”۔ لہذاسوشل میڈیا پہ پھیلے بہت سے لوگ محض جگہ گھیر رہے ہیں اور اپنے ہونے کی←  مزید پڑھیے

بے آواز گلی کوچوں سے۔۔۔ یہ سیاستدان کیا کھاتے ہیں؟/محمد منیب خان

ملک معراج خالد کا نام یقیناً اس سوشل میڈیا سے بصیرت حاصل کرنے والی نسل کے لیے اجنبی ہوگا۔ ملک معراج خالد پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اراکین میں سے تھے۔ بھٹو کے قریبی ساتھی شمار ہوتے تھے۔ ستر کی←  مزید پڑھیے

بے آواز گلی کوچوں سے” الفاظ”۔۔۔۔۔۔۔۔محمد منیب خان

یہ بات عام کہی جاتی ہے کہ انسان بولنا تو بچپن میں سیکھتا ہے۔ لیکن کب کیا بولنا ہے ،  یہ سیکھنا عمر بھر کی مشق ہے۔ انسان کی پہلی تربیت گاہ گھر ہے پھر اساتذہ اور معاشرہ انسان کو←  مزید پڑھیے

بے آواز گلی کوچوں سے۔ تاریکی کے محافظ۔۔۔۔۔محمد منیب خان

شام ہو چکی ہے۔ دور افق کے اس پار سورج غروب ہو رہا ہے۔ آسمان پہ ابھی تھوڑی روشنی باقی ہے۔ مدھم سی روشنی۔ اتنی مدھم جتنی بستر مرگ پہ زندگی سے لڑتے کسی وجود میں زندگی کی رمق ہوتی←  مزید پڑھیے

بے آواز گلی کوچوں سے۔۔۔ اوئے توئے چول/محمد منیب خان

سننے والے کا شوق بولنے والے کو زبان عطا کرتا ہے۔ داد و تحسین کے ڈونگرے بجنے لگیں تو کوئی مبلغ ہو یا شاعر اس کے لیے یہ کیفیت مسحور کن ہوتی ہے۔واعظ کو معلوم ہوتا ہے کہ سامعین کو←  مزید پڑھیے

بے آواز گلی کوچوں سے۔ “مخولستان”۔۔۔۔محمد منیب خان

میں مخولستان کا باسی ہوں۔ یوں تو میرا ملک جب قائم ہوا اس وقت اس کا نام مخولستان نہیں تھا لیکن قیام کے چند سال بعد ہی حالات و واقعات نے وہ رخ اختیار کیا کہ جس کو دیکھ کر←  مزید پڑھیے

بے آواز گلی کوچوں سے ۔۔۔ ہڑبونگ/محمد منیب خان

میرے چار سو ہجوم ہے۔ بے ہنگم، بکریوں کے ریوڑ کی طرح کبھی کوئی ایک طرف منہ کرتا کبھی دوسری طرف۔ ہجوم کے لوگ ایک دوسری پر چیخ رہے ہیں، چنگھاڑ رہے ہیں۔ سب ایک دوسرے  کو اپنی بات سنا←  مزید پڑھیے