محمد منیب خان کی تحاریر
محمد منیب خان
میرا قلم نہیں کاسہء کسی سبک سر کا، جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے۔ (فراز)

مابعد سچائی کا دور۔۔محمد منیب خان

بیل گبسن (Belle Gibson) ایک آسڑیلوی خاتون ہیں۔ 2009 میں 20 سال کی عمر میں بیل کے دماغ میں کینسر کی تشخیص ہوئی۔ڈاکٹروں نے اسے بتایا کہ اس کے پاس زندہ رہنے کو صرف چار مہینے بچے ہیں۔ دو ماہ←  مزید پڑھیے

عمران خان کا بیانیہ کیا ہے؟۔۔محمد منیب خان

انسان ہر کہانی کا اختتام دیکھنا یا پڑھنا چاہتا ہے لیکن بعض کہانیاں واضح اختتام لیے ہوئے نہیں ہوتیں بلکہ ان کا اختتام ایک نئی شروعات کا پیش خیمہ محسوس ہوتا ہے۔ یہ معلق اختتام یقیناً پڑھنے اور دیکھنے والے کو←  مزید پڑھیے

عمران خان کیوں گرا؟۔۔محمد منیب خان

عمران خان کا حکومت سے رخصت ایک واقعہ ہے اور سیاسیات کے طلبا کے لیے اس میں سمجھنے کو بہت کچھ ہے لیکن ہم نے تاریخ سے سیکھا ہی کب ہے؟ اگر ہم نے پاکستان کی سیاسی تاریخ سے کچھ سیکھا ہوتا تو 27 مارچ 2022 کو وقت کا وزیراعظم سفید کاغذ لہرا کر یہ باور  کروانے کی کوشش  نہ کرتا کہ میرے سوا باقی سب غدار ہیں ۔←  مزید پڑھیے

16 دسمبر آتا رہے گا۔۔محمد منیب خان

منٹو نے لکھا تھا “ایک آدمی کا مرنا موت ہے اور ایک لاکھ آدمیوں کا مرنا تماشا ہے”۔ کیا ایک لاکھ آدمیوں کے ایک ساتھ مرنے سےموت اتنی مضحکہ خیز ہو جاتی ہے؟ چلیں چھوڑیں اس پہ سوچیے کہ حادثے←  مزید پڑھیے

ٹیگور کا کابلی والا اور ہماری حکومتیں۔۔محمد منیب خان

ٹیگور کا کابلی والا اور ہماری حکومتیں۔۔محمد منیب خان/سیاست پالیسی بنانے کا نام ہے اور جمہوری طرزِ  حکمرانی میں پارلیمان وہ جگہ جہاں سیاست سے بنائی گئی پالیسیاں منظور یامسترد ہوتی ہیں۔ پارلیمان میں وہ سارے سیاستدان جمع ہوتے ہیں جنہیں عوام اپنے ووٹ سے منتخب کرتے ہیں←  مزید پڑھیے

افغانستان: عالمی طاقتوں کا قبرستان۔۔محمد منیب خان

یوں تو ہم برس ہا برس سے بارہا سنتے آئے ہیں کہ پاکستان تاریخ کے نازک دور  سے گزر رہا ہے لیکن پاکستان کی تاریخ میں چند ایک ادوار واقعی ہی ایسے آئے ہیں، جب حقیقتاً پاکستان ایک نازک وقت سے گزرا۔ امریکہ←  مزید پڑھیے

پاکستان میں جمہوریت پہ کرپشن الزامات کی تاریخ ۔۔محمد منیب خان

سیاست امکانات کا نام ہے اور یہی امکانات سماج میں نئی راہیں پیدا کرتے ہیں۔ سیاست کے تال میل سے جمہوریت وجود میں آتی ہے۔وہی جمہوریت کہ  جس میں حق رائے دہی کی بنیاد پہ عوام اپنے حکمران چنتے ہیں۔←  مزید پڑھیے

حسیبہ قمبرانی کا دکھ جو میں نہ لکھ سکا۔۔محمد منیب خان

ایک سال ادھر کی بات ہو گی یا کچھ مہینے کم زیادہ۔ ٹی وی سکرینوں پہ کانپتے ہاتھوں میں  دو تصویریں  تھامے لرزتے ہونٹوں سےحسیبہ قمبرانی اپنے بھائیوں کی رہائی کی بھیک مانگ رہی تھی۔ میں نے جوں ہی یہ←  مزید پڑھیے

خرابی کہاں ہے؟۔۔محمد منیب خان

سیاست کی طرح حکومت بھی کسی سیاہ یا سفید کا نام نہیں ہوتی۔ حکومت بہترین یا بدترین جیسی انتہاؤں کے بیچ کہیں کھڑی ہوتی ہے۔ حکومت آلوؤں کی کوئی بوری نہیں جس کو میزان میں باٹ برابر رکھ کر دھڑی←  مزید پڑھیے

میرا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔محمد منیب خان

تاریخ بہت سفاک ہوتی ہے۔ اس کی زمین پہ جھوٹ کے جتنے مرضی من پسند درخت لگائے جائیں وہ درخت کتنے ہی گھنے اور فلک شگاف کیوں نہ ہوں سچائی کی کرن کسی نہ کسی طرح زمین تک پہنچ ہی←  مزید پڑھیے

بیٹا قبر نہیں بولتی۔۔محمد منیب خان

یہ جملہ کلیشے بن چکا ہے کہ وقت جیسا بھی ہو بہرحال گزر جاتا ہے۔ البتہ وقت کے سنگھاسن پر ایسے حالات و واقعات اپنے نشان ثبت کرتے ہیں کہ  وہ نشانات گزرے وقت کی یاد دلاتے رہتے ہیں۔ بلکہ←  مزید پڑھیے

حالیہ واقعات، مذہبی جماعتوں کا لائحہ عمل اور ناموس رسالت ص

یہ عمومی مشاہدہ ہے کہ معاشرے مذہب، تہذیب، روایت، زبان، فکر، فہم، علم یا اور  کسی ایسی ہی بنیاد پہ منقسم ہوتے ہیں۔ معاشرےکی اس قسم کی تقسیم کی بنیاد پہ سیاسی جماعتیں وجود میں آتی ہیں۔  اس کے ساتھ ساتھ←  مزید پڑھیے

نئی سیاسی صف بندی۔۔محمد منیب خان

یوں تو کہا جاتا ہے کہ سیاست میں کوئی حرف آخر نہیں ہوتا، لیکن یہ بات غور طلب ہے کہ اہل سیاست ہر بات کو حرف آخر کے طور پہ ہی پیش کرتے ہیں۔ لہذا عوام کا اپنے فہم و←  مزید پڑھیے

ارطغرل، دی کراؤن اور پاکستانی جمہوریت۔۔محمد منیب خان

ترکی کا بنایا گیا ڈرامہ سیریل ارطغرل پاکستان میں کھڑکی توڑ بزنس کر چکا ہے۔ حالیہ برسوں میں شاید ہی کسی ڈرامے کوپاکستان میں اس قدر شہرت نصیب ہوئی ہو۔ ڈرامے میں پیش کیے گئے کرداروں نے عوام میں نہ←  مزید پڑھیے

نواز شریف سٹھیا گیا ہے؟۔۔محمد منیب خان

پاکستانی سیاست انٹرٹینمنٹ کے سارے اصولوں پہ پورا اترتی ہے۔ اس میں ن لیگ کی فنکاریاں ہیں، پیپلزپارٹی کی قلابازیاں ہیں،  جمیعت علمائے اسلام کی سخت مزاجیاں ہیں، اور تحریک انصاف کی کارکردگی کی “نشانیاں” ہیں۔ آئے روز سیاسی درجہ←  مزید پڑھیے

رنگین کفن۔۔محمد منیب خان

“لویا دو،لیلن دو، پرانیاں جوتیاں دو، چھان بُورا دو”۔ سورج ابھی سوا نیزے پہ نہیں آیا تھا لیکن کرم دین اپنی پوری توانائی سے ایک خاص لَے میں یہ آواز لگا رہا تھا۔ یہ الفاظ اور کرم دین کا انداز←  مزید پڑھیے

اب حکومت کیا کرے گی؟۔۔محمد منیب خان

بات کو جیسے بھی گھما لیں ایک سوال سب کے ذہنوں میں آتا ہے، کہ پی ڈی ایم اب کیا کرے گی۔ ؟ زرداری صاحب کے پی ڈی ایم سےاختلافات کے بعد وزراء  کی خوشی بتاتی ہے کہ کچھ ایسا←  مزید پڑھیے

پاکستان میں کرونا کی تیسری لہر۔۔محمد منیب خان

کرونا وائرس سے متاثرین کی تعداد کے اتار چڑھاؤ کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو پاکستان میں ایک بار پھر وائرس سے متاثرہلوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ وائرس کا←  مزید پڑھیے

اخلاقیات کے بائیو سیکیور ببل میں شگاف۔۔محمد منیب خان

تہذیب  ایک دو رُخا آئینہ ہے، اس کے ایک طرف فرد کے کردار کا عکس نظر آتا ہے اور دوسری طرف معاشرے کے اجتماعی کردار کاعکس نظر آتا ہے۔ انفرادی اور اجتماعی کردار ہی یہ ظاہر کرتے ہیں کہ معاشرہ←  مزید پڑھیے

عمران خان کی لاجواب تقریر۔۔محمد منیب خان

ایک زمانے تھا کہ واحد پاکستان ٹیلیویژن پہ خبروں کا وقت مقرر تھا۔ اگر میری یادداشت مجھے دھوکہ نہیں دے رہی تو غالباً پانچ بجےپنجابی اور اردو کا بلیٹن آتا تھا۔ سات بجے انگریزی خبریں نشر ہوتی تھیں اور نو←  مزید پڑھیے