• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • غیر فطری طریقے سے جنسی عمل کرنے کیوجہ سے خواتین کے صحت کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے

غیر فطری طریقے سے جنسی عمل کرنے کیوجہ سے خواتین کے صحت کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے

(مترجم /محمد منیب خان)گارڈین میں چھپنے والے ایک مضمون کے مطابق دو ماہرین طب کی رائے میں ان صحت کے مسائل میں اجابت کو قابو میں نہ رکھ پانا، مسلسل خون بہنا اور جنسی بیماریوں کا پھیلنا شامل ہیں اور وہ چاہتے ہیں کے ڈاکٹرز ان مسائل کو جاگر کریں۔

نیشنل ہیلتھ سروس کے ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ مرد و خواتین جوڑوں میں شامل خواتین میں غیر فطری طریقے سے جنسی عمل کرنے کی وجہ سے صحت کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔

برطانیہ کے ایک طبی جریدے میں لکھے گئے مضمون کے مطابق غیر فطری طریقے سے ہمبستری کرنے سے جنسی بیماریوں کا پھیلنا، درد اور خون کا آنا شامل ہیں کیونکہ اس عمل کے نتیجے میں عورت کے جسم کو ایک غیر فطری درد کے احساس سے گزرنا ہوتا ہے۔

طبی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ غیر فطری جنسی عمل سے جڑے مسائل اور خطرات کو زیر بحث نہ لانے کی وجہ سے خواتین کو بہت تکلیف دہ احساس سے گرنا پڑ رہا ہے اور ایک پوری نسل اس کے نقصانات سے مکمل باخبر نہیں ہے۔

جریدے میں شائع ہونے والے مضمون کے مطابق، غیر فطری طریقے سے جنسی عمل کرنا اس لیے بھی خطرناک ہے کیونکہ یہ بے تحاشا شراب نوشی، منشیات کے استعمال اور بیک وقت کئی خواتین سے جنسی تعلق قائم کرنے سے جڑا ہوا ہے۔

یہ بات اہم ہے کہ غیر فطری طریقے سے جنسی عمل کرنے کو عام بنانے میں اور پورن ویڈیوز سے مین سٹریم میڈیا پہ لانے والے چند ٹی وی شوز بھی ہیں جن میں بالخصوص Sex and cityاور Fleabag کا اہم کردار رہا ہے۔ ان شوز میں اس طرح سے جنسی عمل کرنے کو بہادرانہ فعل کے طور پہ دکھایا گیا۔ تاہم جو خواتین غیر فطری جنسی عمل میں شامل رہی ہیں انکو مردوں کی نسبت زیادہ صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں سے رفع حاجت کے لیے خود پہ قابو نہ رکھنا اور فضلہ کے اخراج والی جگہ پہ زخم ہونا شامل ہے۔

جنسی رحجان جاننے بارے کیے جانے والے ایک سروے کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں 16سے 24 سال کی عمر کے ہم جنس پرست جوڑوں میں غیر فطری طریقے سے جنسی عمل کرنے کی شرح میں پچھلی دہائی کی نسبت 12.5% سے 28.5% اضافہ ہوا ہے جبکہ امریکہ میں یہی شرح 30% سے 45% فیصد رہی ہے۔

یاک شائر میں موجود ایک طبی ماہر کے مطابق اب ایسے عمل کو غیر فطری طریقے کے طور پہ نہیں لیا جاتا بلکہ اسکو ایک انتہائی خوشگوار احساس کی تسکین کے طور پہ سمجھا جاتا ہے۔ زیادہ طرح ڈاکٹر خواتین مریضوں کے سامنے ان مسائل کو اس ڈر کیوجہ سے اجاگر نہیں کر پاتے کہ خواتین سمجھیں گی انکی جنسی زندگی کے بارے میں اندازے لگائے جا رہے ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors london

مخومن کے مطابق نیشنل ہیلتھ سروس کی معلومات کو نامکمل سمجھنا چاہیے کیونکہ اس میں جنسی امراض پھیلنے کا ذکر تو ہے لیکن اس میں اس نفسیاتی مسائل کا تذکرہ نہیں جو اس فعل کو جبری طور پہ کرنے کیوجہ سے خواتین میں پیدا ہوتے ہیں۔

Facebook Comments

محمد منیب خان
میرا قلم نہیں کاسہء کسی سبک سر کا، جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے۔ (فراز)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply