• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • ٹیگور کا کابلی والا اور ہماری حکومتیں۔۔محمد منیب خان

ٹیگور کا کابلی والا اور ہماری حکومتیں۔۔محمد منیب خان

ٹیگور کا کابلی والا اور ہماری حکومتیں۔۔محمد منیب خان/سیاست پالیسی بنانے کا نام ہے اور جمہوری طرزِ  حکمرانی میں پارلیمان وہ جگہ جہاں سیاست سے بنائی گئی پالیسیاں منظور یامسترد ہوتی ہیں۔ پارلیمان میں وہ سارے سیاستدان جمع ہوتے ہیں جنہیں عوام اپنے ووٹ سے منتخب کرتے ہیں۔ لہذا پارلیمان کی اجتماعی دانش سے عوام کی فلاح کے لیے قواعد و ضوابط کا بننا ایک طرح سے فطری عمل محسوس ہوتا ہے۔ لیکن اس سارے معاملےمیں مستثنیات موجود ہیں۔ بعض اوقات سیاست کا ادارہ پراگندہ کر دیا جاتا ہے۔ بعض اوقات وہ سارا نظام ہی گدلا کر دیا جاتا ہے،جس کے بطن سے پارلیمان وجود میں آتا ہے۔ بعض اوقات گدلے نظام سے کیچڑ لے کر سیاست کے بازار میں ہر طرف پھیلایا جاتا ہے تاکہ کوئی دامن بھی بے داغ نہ لگے، اور بعض اوقات پارلیمان تک میں وہ کٹھ پتلیاں پہنچائی جاتی ہیں جو محض مخصوص مفادات کاتحفظ کریں۔ یہ سب کچھ ہوتا ہے، اسی دنیا میں ہوتا ہے۔ اس دنیا کے ترقی پذیر یا غیر ترقی یافتہ ممالک ان مستثنیات کی بہترین مثالیں ہیں۔

لیکن اس پورے سیاسی نظام سے عوام کو کیا توقعات ہوتی ہیں؟ اس کا سوال کا جواب نہ تو مشکل ہے اور نہ ہی پیچیدہ۔ عوام کو بس اپنی فلاح اور بہتری سے غرض ہوتی ہے۔ عوام کی خواہش ہوتی ہے کہ ہمارے ووٹوں سے جو بھی منتخب ہو کر اقتدار کی راہداریوں تک پہنچے وہ کسی نہ کسی حوالے سے ہمارے بہتری کے لیے کام کرے۔ لیکن تیسری دنیا کے ممالک میں عوام کو سیاست کے نام پہ بھی تقسیم کر دیا گیا ہے۔ اور یہ تقسیم کسی ایسی بنیاد پہ نہیں کہ فلاں سیاسی جماعت کے بہت سے کارنامے یا فلاں سیاسی جماعت اپنے وعدوں کی تکمیل میں ناکام رہی۔ بلکہ محض سطحی قسم کی مخالفت پہ تقسیم کو گہرا کر دیا گیا ہے۔ ابتداء  میں تو یہ تقسیم کسی طرح فکری اور نظریاتی اختلاف کی بنیاد پہ تھی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اب یہ تقسیم کسی بڑے فکری اور نظریاتی فرق کیوجہ سے بھی موجود نہیں بلکہ اس تقسیم کے ذریعے یہ بار آور کروا دیا گیا کہ بس فلاں چہرے ناپسندیدہ ہیں اور فلاں پسندیدہ۔عوام کو یہ بھی سمجھا دیا جاتا ہے کہ کس کو کس وقت پسندیدہ  ماننا ہے اور کس وقت ناپسندیدہ قرار دینا ہے۔

julia rana solicitors london

ایک وقت تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو جمہور کی آواز مانا جاتا تھا۔ پھر وقت نے پلٹا کھایا اور بھٹو صاحب پھانسی کی رسی پہ جھول گئے۔ یعنی جمہور کی آواز کا گلا گھونٹ دیا گیا۔ پھر عوام کو بارآور کروایا گیا کہ نواز شریف اس قوم اور ملک کا مسیحا ہے۔وہ مسیحا تین بار مسند ِ اقتدار پہ بیٹھ کر بھی کرپٹ اور غدار ہی رہا۔ پھر ہمیں بار آور کروایا گیا کہ عمران خان سے بڑھ کر کوئی لیڈر ہی نہیں۔ اور اب وقت ایک بار پھر کروٹ لیتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔ زمین کی انگڑائی زلزلے کی صورت میں سامنے آتی ہےسیاسی بساط پہ ہونےوالی انگڑائی بھی کسی بے سکونی کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ سیاسی بساط اگر جوں کی توں بھی رہے تو مہنگائی کی چکی میں پستے  عوام کی حالتِ  زار چیخ چیخ کر بتا رہی ہے کہ یہ سکون محض عارضی ہے۔

اصل سوال تو یہ بنتا ہے کہ عوام کو اس سیاسی تقسیم سے کیا حاصل ہوا؟ نوبل انعام یافتہ بنگالی شاعر اور ادیب رابندرناتھ ٹیگورکے نام سے تو اکثر لوگ واقف ہوں گے۔ ٹیگور واحد شاعر ہے جس کی شاعری دو ملکوں کا قومی ترانہ بنی۔ شاعری کے علاوہ ٹیگور نےبہت سی کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ ٹیگور کی کہانیاں اس دور کے انسانوں کی نفسیات اور جذبات کی مخصوص منظر کشی کرتی ہے۔ٹیگور کی ایک کہانی “کابلی والا” بھی ہے۔ یہ بنیادی طور پہ ایک ناول نگار کی ننھی بیٹی مِنی (Mini) کے گرد گھومتی ہے جس کےمحلے میں ایک افغان خشک میوے بیچنے آیا تو بچی نے اس کو “کا بلی والا” کہہ کر پکارا  لیکن  وہ  گر جے اندر بھاگ گئی اور  پھر اس ڈر کا اظہار اپنے باپ سےکیا کہ افغان کے تھیلے میں اغوا کیے ہوئے بچے ہوتے ہیں۔ اس کے باپ نے اسے  سمجھایا کہ ایسا نہیں ہے۔ اسی اثناء  میں مِنی کے باپ نے سوچا کہ اس افغان محنت کش کو بلایا ہے تو اب اس سے کچھ خرید لیا جائے وہ چند ایک میوہ جات خرید کر اس سے ادھر اُدھرکی باتیں کرنے لگا جیسا کہ عبدالرحمن امیر، گورے برطانوی اور روسیوں کی سرحدی پالیسی وغیرہ بارے، نیٹ فلیکس نے اس کہانی کی ڈرامہ نگاری میں ان سوالات کو مکالمہ کی صورت میں دکھایا ہے ۔ اس مکالمے میں جب مِنی کا باپ افغان سے پوچھتا ہے کہ آپ کاحکمران عبدالرحمٰن افغانستان کا کیسا حکمران ہے؟ اچھا حکمران ہے یا انگریز کا کٹھ پتلی ہے؟تو وہ کابلی والا جواب میں کہتا ہے “میں توچھوٹا سا ایک تاجر ہوں مجھے سیاست کی باتیں سمجھ نہیں آتیں، البتہ عبدالرحمن نے جو انگریز سے صلح کی ہے اس کیوجہ سےہم لوگ یہاں چھوٹا موٹا کام کر رہے ہیں ورنہ اپنے ملک میں کچھ اُگانہ بہت مشکل ہے”۔

ٹیگور کے کابلی والے کا یہ سادہ سا مکالمہ پیچیدہ بنا دی   گئی   سیاست کی گتھیاں سلجھانے کے لیے کافی ہے۔ عوام کو غرض اپنےروزگار سے ہوتی ہے اپنے کاروبار سے ہوتی ہے اور اپنی آسانیوں سے ہوتی ہے۔ عوام کو کیا لگے کہ ان پہ بیٹھا حکمران عشا کے وضوسے تہجد ادا کر رہا ہے یا وہ رات کو خواب غفلت میں سو رہا ہے۔ عوام کو غرض ہوتی ہے تو اس بات سے کہ اس کا کاروبار بہتر چل رہا ہے یا نہیں، اس کے لیے صحت، تعلیم اور  روزگار کے بہتر مواقع پیدا ہو رہے ہیں یا نہیں۔ انکے لیے عوامی سطح پہ آسائش اورسہولت مل رہی ہے یا نہیں۔ اگر یہ سب نہیں ہو رہاتو   کوئی ولی اللہ بھی حکمران ہے تو عوام اس سے ناخوش ہوں گے اور اس کی عبادت اسے عوام کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے نتائج سے شاید نہ بچا سکے۔

غالباً 2012 کی بات ہے میں ایک کام کے سلسلے میں اس وقت کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے ایک چھوٹے سے قصبے علی مسجدسے چند کلومیٹر کی دوری پہ تھا کہ مجھے ایک خراب ٹرک کھڑا نظر آیا میں جب اس کے نزدیک سے گزرا تو ٹرک ڈرائیور سے رسمی حال احوال پوچھا۔ نجانے اتنی چھوٹی سی ملاقات میں یکدم سیاست کہاں سے آ ٹپکی، اس ٹرک ڈرائیور سے جب میں نے پوچھا آگےلنڈی کوتل باڈر پہ حالات کیسے ہیں تو وہ گویا ہوا، کہ ابھی تو بہت پریشانی ہے کئی کئی دن کھڑا ہونا پڑا ہے لیکن جب پہلے نوازشریف کی حکومت تھی تو باڈر پہ بہت سکون تھا۔ مجھے اس لمحے سیاست کا سارا گیان مل چکا تھا۔ مجھے معلوم پڑ چکا تھا کہ خیبر ایجنسی کے پہاڑوں کے درمیان کھڑا یہ شخص سیاست کا راز جان گیا ہے کہ جس حکومت میں عوام کو بہتری محسوس ہو ،عوام کی فلاح اور بہبود کے لیے کچھ ہو وہی حکومت عوامی پذیرائی حاصل کر پاتی ہے۔ اس کے برعکس وہ حکومتیں جو عوام کو ریلیف نہ دے سکیں ان کے لیے جتنا مرضی پروپیگنڈا کر لیا جائے لوگ ان کی اصلیت جان چکے ہوتے ہیں۔ امید ہے بڑے شہروں کے ٹھنڈے کمروں  میں بیٹھے لوگ بھی حکومت کو پرکھنے کا پیمانہ جان چکے ہوں گے بالکل خیبر ایجنسی میں مجھے ملنے والے ٹرک ڈرائیور کی طرح یاٹیگور کے “کابلی والا” کی طرح۔

ہندوستان سے اردو کے شاعر اظہر عنایتی کا ایک شعر نظر سے گزرا

وہ تازہ دم ہیں نئے شعبدے دکھاتے ہوئے

Advertisements
julia rana solicitors

عوام تھکنے لگے تالیاں بجاتے ہوئے!

  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors

محمد منیب خان
میرا قلم نہیں کاسہء کسی سبک سر کا، جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے۔ (فراز)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply