روبینہ فیصل کی تحاریر
روبینہ فیصل
روبینہ فیصل
کالم نگار، مصنفہ،افسانہ نگار، اینکر ،پاکستان کی دبنگ آواز اٹھانے والی خاتون

خصوصی اجازت۔۔روبینہ فیصل

کرونا کا وہ مریض جانتا تھا کہ وہ اپنے بیوی بچوں کو نہ چھو سکتا ہے نہ قریب سے دیکھ سکتا ہے، پھر بھی وہ انہیں آخری دفعہ دور سے ہی سہی مگر دیکھنا چاہتا تھا۔ اسے احساس تھا کہ←  مزید پڑھیے

موقع اچھا ہے۔۔۔روبینہ فیصل

کائنات بیدارہو کے انگڑائی لے رہی ہے کالے آسمان پر ایک روشن لکیر ہے بہت ہلکی ہے، بہت باریک ہے، مگر ہے ہاتھوں کو ڈس انفیکٹ کر نے کو کہا جا رہا ہے موقع اچھا ہے دلوں کو بھی ساتھ←  مزید پڑھیے

نہیں تو کرونا کو کرنے دو۔۔ جو وہ کر رہا ہے

مجھے مکمل سچائی کا کوئی دعوی تو نہیں مگر دو تین سالوں سے کم کم اور گزشتہ چند مہینوں سے طبعیت میں کچھ اس قسم کی دنیا اور لوگوں سے بیزاری پیدا ہو تی جا رہی تھی کہ یہ سوال←  مزید پڑھیے

کوئی بھی اپنوں جیسی بات اب کرتا نہیں ہے۔۔روبینہ فیصل

کوئی بھی اپنوں جیسی بات اب کرتا نہیں ہے، سو اپنے آپ سے ہم گفتگو کرنے لگے ہیں! سچا شاعر ایک ولی ہو تا ہے ۔اس کا یقین مجھے کچھ دن پہلے ڈاکٹر ڈینس آئزک سے مل کر اور پھر←  مزید پڑھیے

دیر آید۔۔روبینہ فیصل

اس کا یکدم ہی دنیا سے جی اچاٹ ہو گیا۔ اس کا نام الف، ب،پ کسی سے بھی شروع ہو سکتا ہے۔۔نام اور چہرہ آگے پیچھے ہونے سے انسان کے دکھ جھیلنے کے اور کرب سہنے کے راستے اور طریقے←  مزید پڑھیے

صاحبِ دل والوں کی دلی یا؟۔۔روبینہ فیصل

“دِلی کے مسلمان دِلی میں ایسے پھنس گئے تھے جیسے چوہے دان میں چوہے۔نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن۔” مندرجہ بالا جملہ پڑھیں اور بوجھیں کہ یہ 1857کے غدر کا ہے یا 1947 کے تقسیم ِ ہندوستان کا اور یا←  مزید پڑھیے

جیسا بیج ویسا پھل۔۔روبینہ فیصل

درخت کاٹ کر کاغذ بنا کر جب اس پر لکھا جاتا ہے کہ درختوں کی حفاظت کریں تو کیسا لگتا ہے؟ بالکل ویسا ہی نا جیسے بچوں کو مادیت پرستی، جھوٹ، بغض، مقابلے بازی اور کینہ سکھا کر معاشرے سے←  مزید پڑھیے

ایک تھے دو شیر۔۔روبینہ فیصل

یہ کہانی پہلے ایک شیر کی ہے اور پھر ایک اور شیر کی ہے اور پھر پرجا کی ہے اور پھر شیروں کی بدلتی جون کی ہے پھر اس کہانی کے آخر میں ایک سوال اٹھے گا کہ کیا شیر←  مزید پڑھیے

رنگ برنگے لوگ۔۔روبینہ فیصل

حاسد لوگ جنہیں ہر وہ چیز بالکل نظر نہیں آتی جو ان کے پاس ہے اور ہر وہ چیز بڑی ہو کے نظر آتی ہے جو ان کے پاس نہیں ہے۔ اپنی کامیابی پر سب کو خوش ہوتا اور اسے←  مزید پڑھیے

جوتا مارو سالوں کو۔۔روبینہ فیصل

یہ میرے الفاظ نہیں ہیں ،یہ وہ نعرے ہیں جو ایک علم کی طالبہ جا معہ ملیہ اسلامیہ کے باہر اپنے ساتھی طالبعلموں کو پولیس کے ہاتھوں پٹتے، خون میں لت پت ہو تے دیکھ کر لگا رہی تھی، پورا←  مزید پڑھیے

پریشر کُکر، دھواں اور خواب۔۔روبینہ فیصل

“کیا ہم کتوں سے بھی بدتر ہو گئے ہیں؟ ” یہ عاشر عظیم کے ڈرامہ” دھواں “میں کہا گیا ایک ڈائیلاگ ہے۔ ” کتا، دو چیزوں کے لئے لڑتا ہے ایک ہڈی اور دوسرا گھر کی حفاظت کے لئے،تو کیا←  مزید پڑھیے

یک طرفہ محبت۔۔روبینہ فیصل

یک طرفہ محبت اوربھیک میں کچھ فرق نہیں،ہے بھی تو کم از کم مجھے نظر نہیں آتا۔ پاکستانی ڈراموں میں حلالہ اور زنائے محرم) انسسٹ)کے بعد جو سب سے زیادہ چیز دکھائی جاتی ہے وہ ہے یک طرفہ محبت۔ اور←  مزید پڑھیے

بھوت،سڑک اور سنومین۔۔۔روبینہ فیصل

اس کے پاؤں نیچے سے پھٹ چکے تھے، اور ان میں سے خون رس رہا تھا اور وہ جس رستے پر چل رہی تھی وہاں برف کی سفیدی ہی سفیدی تھی۔ منجمد اور شفاف برف۔۔جہاں اب کہیں کہیں اس کے←  مزید پڑھیے

قوال پارٹی ۔۔روبینہ فیصل

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک پسماندہ سے گاؤں میں ایک تھی قوال پارٹی،جس میں ایک بڑا قوال(جو اصل میں دو تھے مگر بڑے افہام و تفہیم کے ساتھ ایک دوسرے کی جگہ لے لیا کرتے تھے) اور ان←  مزید پڑھیے

کینیڈا میں کرتار پو ر کا معجزہ۔۔۔روبینہ فیصل

کئی دفعہ بڑے بڑے سوالوں کا جواب نہ کسی علم میں، نہ کسی دانش میں، نہ دانشوروں کے ہاں اور نہ کتابوں میں ملتا ہے، وہ غیر متوقع طور پر کسی چھوٹی سی جگہ سے مل جاتا ہے۔ میرے ساتھ←  مزید پڑھیے

ایک لاش کا مقدمہ زندستان میں،اکتوبر13۔۔۔۔روبینہ فیصل

اکتوبر ,13 – 1954کو پیدا،اور 4جون 1984کو ٹرین کے نیچے آکر مر جانے والی سارہ شگفتہ جو زندگی کی صرف انتیس بہاریں ہی دیکھ پائی تھی۔۔اس سے میری ملاقات لگ بھگ 2005 میں اس کی کتاب” آ نکھیں ” میں←  مزید پڑھیے

ہم عظیم تم حقیر۔۔روبینہ فیصل

اکتوبر 31, 1984 کو ہندوستان کی وزیر ِ اعظم محترمہ اندرا گاندھی کو  صفدر جنگ روڈ پر ان کے اپنے باڈی گارڈز نے گولیوں سے چھلنی کر دیا تھا۔ آج اس بات کو 35سال ہو گئے۔۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ←  مزید پڑھیے

مٹی ہوتی جارہی ہوں۔۔۔روبینہ فیصل

اس دھرتی کے سارے موسم دوغلے ہیں اور میرے پاس سارے پھول یک رنگے اسی لئے تو شاید یہاں میری ذات کی کلیاں پنپ نہیں رہیں چہروں سے بھرے اس شہر میں بس ایک چہرہ ڈھونڈتی ہوں فقط ایک چہرہ←  مزید پڑھیے

بچہ کیوں رو رہا ہے؟۔۔۔روبینہ فیصل/حصہ اوّل

دوبئی سے پاکستان کی فلائٹ تھی۔ دن تھا 14ستمبر سال تھا 2019۔۔میں درمیان والی سیٹوں میں سے ایک کونے والی سیٹ پر بیٹھی تھی۔میرے ساتھ والی تین سیٹوں پر تین لڑکے بیٹھے آپس میں خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ اتنی←  مزید پڑھیے

میرے بھائی کے بچے ….روبینہ فیصل

انسان جہاں پیدا ہوتا ہے، جوان ہوتا ہے،پڑھتا لکھتا ہے، ہنستا کھیلتا ہے،اس زمین سے جب جدا ہو کر جیتا ہے تو بس تمام عمر ادھورا ہی رہتا ہے۔سب مہاجروں کی ایک سی کہانی اور ایک سی کبھی نہ ختم←  مزید پڑھیے