روبینہ فیصل کی تحاریر
روبینہ فیصل
روبینہ فیصل
کالم نگار، مصنفہ،افسانہ نگار، اینکر ،پاکستان کی دبنگ آواز اٹھانے والی خاتون

جذباتی ذہانت کہ سادی؟۔۔روبینہ فیصل

بس یہ” وقت “ہے جس نے اپنی فطرت نہیں بدلی اور “بدل”کے رہتا ہے ورنہ تو اس دنیا میں ہر چیز تبدیلی کا شکار ہو جاتی ہے۔ ارتقا کے نام پر، آگے بڑھنے کے نام پر،اپنی بقا کے نام پر۔۔←  مزید پڑھیے

کیا پولیس کو بھی شیز و فرینیا ہے یا کینیڈین پولیس متعصب ہے؟۔۔روبینہ فیصل

اعجاز چوہدری،چار بچوں کا باپ، جس کی عمر۲۶ سال تھی اور وہ شیز وفرینیا کا مریض تھا۔ ایک تعارف یہ ہے اور ایک تعارف یہ بھی ہے ایک مہاجر، ایک دماغی مریض اور ایک براؤن۔۔اور ایک مسلمان! یہ دو طریقے←  مزید پڑھیے

مغفرت کی دعا۔۔روبینہ فیصل

سک کڈ ٹورنٹو میں ایک چودہ پندرہ سال کا بچہ کینسر جیسے موذی مرض کے ہاتھوں مر رہا تھا۔ بچے سے اس کی آخری خواہش پوچھی گئی۔۔بچے نے کہا:میں فٹ بال کا ورلڈکپ دیکھنا چاہتا ہوں۔ نہ صرف بچے کو←  مزید پڑھیے

ہٹو بچو…. دور دور رہو۔۔روبینہ فیصل

عید کے تیسرے دن میری ایک آنٹی جی، شیخوہ پورہ میں فوت ہو گئیں۔ شوگر کی مریضہ تھیں اور اسی سلسلے میں دو سال پہلے ڈاکٹرز نے ان کی ایک ٹانگ بھی کاٹ دی تھی کہ جو عضو، جسم پر←  مزید پڑھیے

کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا۔۔روبینہ فیصل

مجھے کہہ دیا جاتا ہے کہ میں مذہب کے معاملے میں نہ بولوں کیونکہ یہ بڑا حساس معاملہ ہے اور لوگوں کی دل آزاری ہو سکتی ہے اور جب کسی کی دل آزاری ہو تو وہ رد ِ عمل کے←  مزید پڑھیے

مسلمان کا سجدہ۔۔روبینہ فیصل

لعنت،کم علم، کم فہم،بند عقل، ذلیل، گھٹیا۔۔یہ سب وہ الفاظ ہیں جو لغت ِ خادمیہ (گو سب سے معصوم ہیں) میں سے ہو تے ہو تے ہم سب کی زندگیوں میں کچھ یوں داخل ہو گئے ہیں کہ” خبر ہی←  مزید پڑھیے

میری ذات شکست ِ ذات اک آواز تو ہے۔۔۔۔۔روبینہ فیصل

محبت جتانے کے ہزار طریقے ہیں مگر کیا کیجیے ،کئی دفعہ ہم محبت صرف تب جتاتے ہیں جب نفرتوں کی پچکاریاں چاروں طرف چل رہی ہوں ۔ حضورِ پاکﷺ سے محبت کا بھی یہی پیمانہ مقرر کر دیا گیا ہے←  مزید پڑھیے

کتاب دوستی۔۔روبینہ فیصل

یونیسکو نے 23 اپریل کوجو ولیم شیکسپئر اور ولیم ورڈزورتھ کا یوم وفات بھی ہے، 1995 میں کتاب کے عالمی دن کے نام سے مخصوص کر دیا تھا۔ اور اب پاکستان میں بھی اس تاریخ کو عالمی کتاب کے دن←  مزید پڑھیے

سائیں بابا سرقی والے۔۔روبینہ فیصل

سرقی،سرقہ کی مونث اور سری سے ہم وزن کر کے لکھا ہے یہ نہیں کہ ہمیں ” سری” یا ” سر۔کی “لکھنا نہیں آتا۔ اور یہ بھی نہیں کہ ہمیں پتہ نہیں کہ سرقہ میں “ی “نہیں آتی اور اب←  مزید پڑھیے

کورنا کے دنوں میں کرنے کے کام۔۔روبینہ فیصل

بالکل ٹھیک ہے۔۔جی بھر کر دعائیں کریں۔نہ ماننے والوں کا یہی اصرار تھا نا کہ تو نظر نہیں آتا، اب تو خدا نظر آرہا ہے، ذرّے ذرّے میں تو اس تشویش کی وجہ سے جتنے بھی سجدے جبینوں میں تڑپ←  مزید پڑھیے

وبا کے دنوں میں پڑھی گئی ایک کہانی۔۔روبینہ فیصل

وہ پورے ایک دن کا خواب تھا۔وہ شخص، خواب جیسا،بالکل اس کے سامنے کھڑا تھا، اپنے پو رے قد اور چمکتے چہرے کے ساتھ، اس کی پوری شخصیت پر متانت کی بڑی واضح چھاپ تھی۔ “تو یہ ہے وہ؟” لڑکی←  مزید پڑھیے

میری ڈائری کا بوجھ۔۔روبینہ فیصل

تمہاری سفری گٹھریوں کا سارا بوجھ آنے کے سب رنگین پتوں میں ڈھکے مناظر اور جاتے ہوئے موسم کے سب بے رنگ نصاب صفحہ صفحہ یاد ہیں۔۔۔ صفحہ صفحہ اس ڈائری میں قید ہیں بدلی محبت کے چہرے سے رِستے←  مزید پڑھیے

خصوصی اجازت۔۔روبینہ فیصل

کرونا کا وہ مریض جانتا تھا کہ وہ اپنے بیوی بچوں کو نہ چھو سکتا ہے نہ قریب سے دیکھ سکتا ہے، پھر بھی وہ انہیں آخری دفعہ دور سے ہی سہی مگر دیکھنا چاہتا تھا۔ اسے احساس تھا کہ←  مزید پڑھیے

موقع اچھا ہے۔۔۔روبینہ فیصل

کائنات بیدارہو کے انگڑائی لے رہی ہے کالے آسمان پر ایک روشن لکیر ہے بہت ہلکی ہے، بہت باریک ہے، مگر ہے ہاتھوں کو ڈس انفیکٹ کر نے کو کہا جا رہا ہے موقع اچھا ہے دلوں کو بھی ساتھ←  مزید پڑھیے

نہیں تو کرونا کو کرنے دو۔۔ جو وہ کر رہا ہے

مجھے مکمل سچائی کا کوئی دعوی تو نہیں مگر دو تین سالوں سے کم کم اور گزشتہ چند مہینوں سے طبعیت میں کچھ اس قسم کی دنیا اور لوگوں سے بیزاری پیدا ہو تی جا رہی تھی کہ یہ سوال←  مزید پڑھیے

کوئی بھی اپنوں جیسی بات اب کرتا نہیں ہے۔۔روبینہ فیصل

کوئی بھی اپنوں جیسی بات اب کرتا نہیں ہے، سو اپنے آپ سے ہم گفتگو کرنے لگے ہیں! سچا شاعر ایک ولی ہو تا ہے ۔اس کا یقین مجھے کچھ دن پہلے ڈاکٹر ڈینس آئزک سے مل کر اور پھر←  مزید پڑھیے

دیر آید۔۔روبینہ فیصل

اس کا یکدم ہی دنیا سے جی اچاٹ ہو گیا۔ اس کا نام الف، ب،پ کسی سے بھی شروع ہو سکتا ہے۔۔نام اور چہرہ آگے پیچھے ہونے سے انسان کے دکھ جھیلنے کے اور کرب سہنے کے راستے اور طریقے←  مزید پڑھیے

صاحبِ دل والوں کی دلی یا؟۔۔روبینہ فیصل

“دِلی کے مسلمان دِلی میں ایسے پھنس گئے تھے جیسے چوہے دان میں چوہے۔نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن۔” مندرجہ بالا جملہ پڑھیں اور بوجھیں کہ یہ 1857کے غدر کا ہے یا 1947 کے تقسیم ِ ہندوستان کا اور یا←  مزید پڑھیے

جیسا بیج ویسا پھل۔۔روبینہ فیصل

درخت کاٹ کر کاغذ بنا کر جب اس پر لکھا جاتا ہے کہ درختوں کی حفاظت کریں تو کیسا لگتا ہے؟ بالکل ویسا ہی نا جیسے بچوں کو مادیت پرستی، جھوٹ، بغض، مقابلے بازی اور کینہ سکھا کر معاشرے سے←  مزید پڑھیے

ایک تھے دو شیر۔۔روبینہ فیصل

یہ کہانی پہلے ایک شیر کی ہے اور پھر ایک اور شیر کی ہے اور پھر پرجا کی ہے اور پھر شیروں کی بدلتی جون کی ہے پھر اس کہانی کے آخر میں ایک سوال اٹھے گا کہ کیا شیر←  مزید پڑھیے