رمشا تبسم کی تحاریر

ہجر سرد شام سا۔۔۔رمشا تبسم

ہجر سرد شام سا میرے آنگن میں آن بیٹھا ہے یادوں کی دھند کے گہرے بادل اٹھکیلیاں اذیت  سے کرتے ہیں چاند گھونگٹ نکالے بیٹھا ہے روح اندھیرے میں  کھوئے جاتی ہے افق پر خامشی ہے دل میں کہرام سا←  مزید پڑھیے

دو ٹکے کی حقیقت۔۔۔رمشا تبسم

پاکستان میں اتنے ڈرامے ٹی۔وی کی زینت نہیں بنتے جتنے ڈ رامے عوام ڈرامہ دیکھ کر کرتی نظر آتی ہے۔اے۔آر۔وائی کے ڈرامہ سیریل “میرے پاس تم ہو” کا دو ٹکے والا ڈائیلاگ لے کر ٹکے کی حیثیت کافی حد تک←  مزید پڑھیے

قلم کی موت۔۔۔رمشا تبسّم

سارا کھیل قلم کا ہے۔ایک وہ قلم ہے جو ہماری تقدیر لکھ چکی ہے۔اور ایک یہ قلم جس سے لکھاری کردار لکھنے بیٹھے ہیں۔تقدیر لکھنے والی قلم ایک بار لکھ چکی ہے۔اور لکھاری کی قلم ہر روز کچھ نہ کچھ←  مزید پڑھیے

تمنا۔۔۔رمشا تبسم

تمنا کا الگ قصہ ہے تمنا شروعات سے اختتام تک کا سفر ہے تمنا میں مکمل داستان سمٹی ہے تمنا ہی محبت کی کل کائنات ہے تمنا ہی میری حیات ہے تمنا میں “تم” بھی ہو “من” بھی ہے اور←  مزید پڑھیے

مولانا فضل الرحمن حکومت گرانے نہیں بلکہ عورتوں کو غلام بنانے کا بل منظور کروانے والے ہیں۔۔۔رمشا تبسّم

جے یو آئی ف نے خواتین اینکرز پر جلسہ گاہ میں داخلے پر پابندی لگائی ہے۔اس سلسلے میں خواتین اینکرز میں غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔بقول ان کے بغیر خواتین کے مولانا نہ اپنی سیاست آگے لے جا←  مزید پڑھیے

موت ایکسپریس۔۔رمشا تبسم

کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیز گام ایکسپریس میں رحیم یار خان کے قریب آگ لگ گئی۔انتہائی افسوناک واقعہ ہے۔اللہ پاک زخمیوں کو صحت عطا کرے ۔وفات پانے والوں کے درجات بلند کرے۔اور ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل←  مزید پڑھیے

اے وطن کے سجیلے جوانو،میرے ٹھمکے تمہارے لیے ہیں۔۔۔رمشا تبسم

شعلے فلم کا انتہائی دلچسپ سین تھا جب ڈاکو گبر سنگھ یہ معلوم کرنے نکلا تھا کہ رام گڑھ والے اپنی لڑکیوں کو کونسی چکی کا آٹا کھلاتے ہیں۔اسی سلسلے میں ڈاکو نے ویرو کی محبوبہ بسنتی کو ناچنے کو←  مزید پڑھیے

میں تم پر مرنا چاہتی ہوں۔۔۔رمشا تبسم

میری جان! تم نے کبھی درختوں پر ہوا کے زور دار تھپڑ کھا کر درخت سے جڑے رہنے والے پتوں کے زخم دیکھے ہیں؟ تم نے دیکھا ہے لہو پتوں کا؟ تم نے دیکھے ہیں آنسو پتوں کے؟ تم نے←  مزید پڑھیے

کشمیر کتھا” کا تیسرا افسانہ “آخری خط”۔۔۔۔رمشا تبسم

ماں مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔کیا بھائی کو واقعی آج بھارتی فوج پھانسی دیدے گی؟ماں ہم سب بھائی کے لئے کچھ نہیں کریں گے کیا؟ اریشہ نے ماں کی گود میں سر رکھے لیٹے ہوئے بجھی آواز میں کہا.←  مزید پڑھیے

پچاس روپے۔۔رمشا تبسّم

پھٹے اور میلے کپڑوں میں وہ دکان کے پاس رکا۔سائیکل سے اتر کر اُس کو سٹینڈ پر کھڑا کر کے اس نے جیب میں ہاتھ ڈال کر پیسے نکالے۔گندے میلے دس دس کے کچھ نوٹ جو دن بھر کی اس←  مزید پڑھیے

میرے جگنو سارے روٹھ گئے۔۔۔رمشا تبسّم

مجھے جگنو پسند تھے کسی درخت کی شاخ پر بیٹھے جگنو یونہی لگتے تھے کہ آسمان کے تارے ٹہنیوں پر سج گئے انکی روشنی سے میری آنکھیں چمک اُٹھتیں پھر وہ میری آنکھوں پر فدا ہو جاتا اور میں اس←  مزید پڑھیے

کانچ کی ہمت۔۔۔رمشا تبسم

عورت کمزور نہیں ہے۔عورت ہر لحاظ سے ایک مکمل انسان ہے۔میں مہمل بخاری ایک لڑکی ہوں اور لڑکی ہونے پر مجھے فخر ہے۔عورت زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں کارکردگی دکھانے کا حوصلہ, ہمت اور ہنر رکھتی ہے۔خدا نے سب←  مزید پڑھیے

استاد کی عظمت کو سلام۔۔۔رمشا تبسّم

اس بات سے انکار نہیں کہ اب اکثر استاد کے روپ میں منفی کردار سامنے آتے رہتے ہیں۔جو طالب علموں پر ذہنی ,جسمانی تشدد, جنسی زیادتی, حتی کہ  طالب علموں کا قتل کرنے جیسے جرائم میں بھی شامل ہیں۔ اور←  مزید پڑھیے

آسیب زدہ بینچ: رمشا تبسم کی ڈائری “خاک نشین” سے “خودکلامی کی اذیت” کا اقتباس

تم جانتے ہو میں خاموشی سے خوف کھاتی ہوں۔مجھے سناٹے خوفزدہ کرتے ہیں۔تنہائی میں ہواؤں کا چلنا مجھے سہما دیتا ہے۔خاموشی جتنی شدید ہوتی جاتی ہے میری روح اتنی بے چین ہوتی جاتی ہے۔مجھے خاموشی اور تنہائی سے وحشت ہوتی←  مزید پڑھیے

کشمیر کتھا، کا دوسرا افسانہ ” تقریروں کے سائے تلے سسکتے کشمیری”۔۔۔رمشا تبسم

کمرے میں اندھیرا تھا۔فجر کی  آنکھ کھلی، اسے سمجھ نہیں آیا ،ابھی دن ہے یا رات۔اور وہ کہاں ہے؟ اس نے آہستہ آواز میں ماں , باپ کو پکارا۔اس نے اٹھنے کی کوشش کی اور اٹھ کر زمین پر گھٹنوں←  مزید پڑھیے

مجھے تُم سے محبت ہے: رمشا تبسم کی ڈائری “خاک نشین” سے “خود کلامی کی اذیت” کا اقتباس

میں ہاتھ میں یاد کی سوئیاں لگا کر گھڑی سے جوڑ بیٹھی ہوں۔میرے وجود کا اک اک خون کا قطرہ اس ماضی کی گھڑی میں منتقل ہو کر اس میں رُکا ہوا وقت پھر سے چلا دے گا۔نہ یہ کبھی←  مزید پڑھیے

کشمیر کتھا کا پہلا افسانہ،ہم کیا چاہتے”آزادی”۔۔۔۔رمشا تبسم

اُس کی آنکھ کھلی تو وہ زمین پر الٹا پڑا ہوا تھا۔تھوڑا دور دیکھا تو کئی لوگ زمین پر پڑے ہوئے تھے ہر طرف پتھر بکھرے ہوئے تھے۔ کہیں کہیں بجھی ہوئی آگ سے ہلکا سا دھواں اٹھ رہا تھا۔شاید←  مزید پڑھیے

بازارِ حُسن کی اِک اور اَن کہی سسکتی محبت۔۔۔رمشا تبسم

رنگین روشنیوں میں ہجوم کے درمیان بے چین کھڑا وہ بازار حُسن کی اونچی اونچی عمارتوں اور کھڑکیوں کو دیکھ رہا تھا۔اسکی نگاہوں میں شدید انتظار اور کچھ چمک سی تھی ,ایسی چمک جو کسی کی آنکھوں میں عرصے بعد←  مزید پڑھیے

بھائی۔۔۔۔رمشا تبسم

کچھ دن قبل ایک  ویڈیو دیکھی کہ حافظ آباد میں بھائیوں نے ایک  بہن نائلہ کو بیس سال قید میں رکھا۔اس معاملے کے دو مختلف پہلو یا دو مختلف رائے منظر عام پر آئیں ۔اور دونوں پہلوؤں پر بات کرنا←  مزید پڑھیے

برستی بارش اور قحط زدہ وجود: رمشا تبسم کی ڈائری “خاک نشین” سے “خود کلامی کی اذیت” کا اقتباس

آج ہلکی ہلکی بارش کی بُوندیں زمین کو نَم کر رہی تھیں۔جیسے رات کے پہلے پہر میری آنکھیں تمہاری یاد میں نَم ہوتی ہیں یا شاید پہلے یہ ہلکی سی نمی آنکھوں کو اشارہ کرتی ہے کہ  محبت کے قید←  مزید پڑھیے