رمشا تبسم کی تحاریر

ڈرامہ جلن سے آخر سب کو جلن کیا ہے؟۔۔۔رمشا تبسم

ہمارے بچپن میں ہم نے پاکستان میں پاکستان کی ڈرامہ انڈسٹری کا زوال اور انڈین ڈرامہ انڈسٹری کا عروج دیکھا۔ اس زوال کی وجہ ایکتا کپور کے ڈرامے تھے۔سٹار پلس کی وہ کہانیاں جن کو دس دس سال بہت آرام←  مزید پڑھیے

سنو پاپا! ۔۔۔ رمشا تبسم

دنیا میں اکثر پوچھا جاتا ہے باپ کیا ہے؟باپ کی عظمت کیا ہے؟اور میرے پاس جواب ہی نہیں ہوتا۔خاص کر فادرز ڈے پر ہر طرف باپ کی بات ہوتی ہے۔تو ہر بات پر دیکھنا سننا بولنا چھوڑ دیتی ہوں۔←  مزید پڑھیے

زندہ مُردے۔۔رمشا تبسم

جب میں مر گئی  تو مجھے قبر میں اتارنے والے سب ہاتھوں سے مجھے الجھن ہو رہی تھی۔یہ ہاتھ مجھے نوچتے رہے ہیں۔یہ تمام وجود جو میرا جسم دفن کرنے آئے ہیں، مجھے ان سے گھن آ رہی تھی۔مجھے بس←  مزید پڑھیے

مائیں آخر کیوں مر جاتی ہیں؟۔۔رمشا تبسم

والدین کی اہمیت ہر دور میں یکساں رہی ہے۔والدین کے بغیر زندگی اندھیرے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ماں کی کوکھ کے اندھیرے میں پلتا بچہ پھلتا پھولتا ہے اور بالآخر نو مہینے بعد جنم لیتا ہے۔کوکھ کا اندھیرا,کوکھ کی مختصر←  مزید پڑھیے

ایک خط جو پوسٹ نہ ہو سکا : رمشا تبسم کی ڈائری “خاک نشین” سے خودکلامی کی اذیت کا اقتباس

میں جانتی ہوں میں بہت بولتی ہوں۔ جب ہم ساتھ ہوتے تب بھی اور جب بہت دور ہوتے اُس وقت بھی شائد خیالات میں صرف میں ہی بول رہی ہوتی تھی۔ تم نے کہا تھا میں بولتی ہوں تو الفاظ←  مزید پڑھیے

قدرت کی سرکس۔۔رمشا تبسم

زندگی کے کئی  رنگ ہیں۔انہی رنگوں میں ایک رنگ موت ہے۔موت کو ویسے ہمیشہ ہی کالی رات سا کہا جاتا ہے۔اور ایسا رنگ جس کو ہم اوڑھنا ہی نہیں چاہتے۔مگر موت کا رنگ بھی ہمارے لئے ہی ہے۔اور ہم پیدا←  مزید پڑھیے

محبت شیشے سی۔۔رمشا تبسم

پاؤں تک لمبے کالے فراک میں آہستہ سے چلتی ہوئی وہ کھڑکی کے پاس رُک کر چاند کو  دیکھنے لگی۔چاند کی روشنی میں اسکے چہرے پر پڑی انتظار کی لکیریں واضح تھیں۔اسکے چہرے پر بکھری زلفیں ہوا سے لہرا رہی←  مزید پڑھیے

شہر کی آنکھیں۔۔رمشا تبسم

شہر کی آنکھیں ویراں ہو چلی بَستی ہی ساری تباہ ہو چلی جو کہتے تھے ڈرتے نہیں ہم کبھی اُنہی کی نگاہیں پریشاں ہو چلی وُہ صَدی محبت سے آباد تھی یہ صَدی تو وبا سے تباہ ہو چلی اَنا←  مزید پڑھیے

خاک۔۔رمشا تبسّم

تُم۔۔۔ ہمیشہ ہی کہتے ہو میں لکھتی ہوں تو لفظوں سے ٹِیس اٹھتی ہے ہر لفظ درد کی چادر اوڑھ کر اپنے نقطے گنوا کر زِیر زَبر شَد مَد نوچ پھیکتا ہے الفاظ اپنے مطلب سے بیگانے ہوتے چلے جاتے←  مزید پڑھیے

وبا کا بُوٹا۔۔رمشا تبسیم

یہ وبا کا بیج کِس نے بویا کہ وبا کے بُوٹے کی ہر شاخ پر اِک لاش اب لٹک رہی ہے۔۔ گلشنِ وبا میں اب چہار سُو ہی موت کا موسم چھا رہا ہے, ہر شخص کو اب تو ڈرا←  مزید پڑھیے

“وبا کے دنوں میں ڈائری” سے اقتباس۔۔۔رمشا تبسم

بارش کی بوندیں زمین کو چھو رہی ہیں۔۔مگر ان بوندوں کو چھونے سے بھی لوگ اب خوفزدہ ہیں۔گھروں کی کھڑکیوں پر پردے ہیں۔بوندیں تنہائی میں ماتم کرتی ہوئی زمین پر خود کو ختم کر رہی ہیں۔ننھے قدم ان بوندوں کو←  مزید پڑھیے

وبا کے دنوں میں ڈائری ” کا اقتباس۔۔رمشا تبسم

شہر میں جب ہر سُو وبا پھیلی ہے۔ہر کوئی موت کی آغوش میں نہ ہوتے ہوئے بھی موت کے بُت کو پاش پاش کرنا چاہتا ہے۔سورج کی کرنیں بھی اب وبا کے خوف سے زمین کو چھونے سے ڈر رہی←  مزید پڑھیے

کرونا میں کچھ تو کرو نا۔ ۔ ۔ ۔رمشا تبسم

ہم ایک عجیب کیفیت سے گزر رہے  ہیں، گو کہ ہمارے ملک میں کرونا کے کیسزز ابھی اتنے سامنے نہیں آئے،مگر سوشل میڈیا اور میڈیا پر دکھائی دینے والی عالمی  صورتحال نے ہمیں بے حد پریشان کر رکھا ہے۔اور ہمیں←  مزید پڑھیے

معذور بچے عذاب نہیں۔۔رمشا تبسم

ویسے تو انسان کا معذور ہونا اتنے افسوس اور خطرے کی بات نہیں ،اور نہ ہی یہ انسان کے اختیار میں ہے کہ وہ کیسا پیدا ہونا چاہتا ہے؟زیادہ خطرے اور افسوس کی بات کسی انسان میں سوچ کا,احساس کا,شعور←  مزید پڑھیے

عشق منجدھار :انیلا رزاق۔۔۔۔ تبصرہ/رمشا تبسّم

عشق منجدھار محترمہ انیلا رزاق کا پہلا ناول جو کہ کتابی شکل میں شائع ہوا ہے،اور شائع ہوتے ہی غیر پسندیدگی کی منجدھار میں پھسنے کی بجائے پسندیدگی کے سمندر میں غوطے لگانے لگا۔بے شمار لوگوں نے اس کو پڑھا←  مزید پڑھیے

میں اور میرا مکالمہ۔۔رمشا تبسم

موجودہ دور کے مصنفین  زیادہ تر سوشل میڈیا سے جنم لے رہے ہیں،اور سوشل میڈیا کے بہت سے منفی پہلوؤں پر آئے روز ہم سنتے اور پڑھتے رہتے ہیں۔کبھی الیکٹرانک بچوں کے نقصانات کبھی ڈیجیٹل تربیت پر سوالات ۔مگر سوشل←  مزید پڑھیے

عورت مارچ کی نہیں بلکہ انسانیت مارچ کی ضرورت ہے۔۔رمشا تبسم

آج خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔مگر میرے مطابق خواتین یا مَردوں کا عالمی دن منانے سے بہتر ہے ہم انسانیت کا عالمی دن منا لیں اور انسانیت مارچ منعقد کروائیں۔پھر انسانیت کے عالمی دن پر ہم انسانوں←  مزید پڑھیے

بدبو دار عورت۔۔رمشا تبسم

سڑک کشادہ اور صاف ستھری تھی۔ دونوں طرف ہرے بھرے باغ تھے۔ بائیں جانب خوبصورت بلند و بالا عمارات تھیں۔ دائیں جانب فٹ پاتھ پر ایک بہتے نالے کے پاس گندے کپڑے سے بنی جھونپڑی تھی, جس کے اندر صرف←  مزید پڑھیے

کرونا وائرس سے صرف بیوقوف مریں گے۔۔رمشا تبسم

یوں تو مرنا ہو تو انسان حلق میں پانی پھنس جانے یا نوالہ خوراک کی نالی میں غلط طریقے سے جانے سے بھی مر سکتا ہے۔ہاتھ میں معمولی جھاڑو کا تنکا لگ کر زخم خراب ہونے سے ہاتھ کٹتے دیکھے←  مزید پڑھیے

ہماری دنیا۔۔رمشا تبسم

ہمارے لئے بہت مشکل ہے کہ  ہم عام انسان کی طرح جی سکیں۔آپ جو یہاں سامنے بیٹھے ہیں۔یا جو گھروں میں بیٹھے مجھے اس وقت دیکھ رہے ہیں ان کے لئے یہاں تک آنا بہت آسان رہا ہو گا۔مگر میں←  مزید پڑھیے