رمشا تبسم کی تحاریر

روتے جاؤ, روتے جاؤ!ببلو تیری تبدیلی سلو ہے کیا؟۔۔۔۔۔رمشا تبسّم

اللہ بخشے کنٹینر والے تبدیلی کے خواہش مند مرحوم افراد اگر آج زندہ ہوتے تو یقیناً پاکستان ایک الگ ہی پاکستان ہوتا۔جہاں انصاف کا بول بالا ہوتا,امیر غریب برابر ہوتے, تمام افراد تعلیم کی دولت سے مالا مال ہو رہے←  مزید پڑھیے

گوچڑ موچڑ۔۔۔رمشا تبسم کی ڈائری “خاک نشین” سے “خود کلامی کی اذیت” کا اقتباس

آج بہت عرصے بعد میں نے خود کو سنوارا ۔۔تمہارا دیدار جب سے میسر نہیں ۔۔تمہارا خیال رکھنا بھی چھوڑ بیٹھی ہوں۔۔تم ہی تو کہتے تھے۔میں خود کو سنواروں تو تم سنور جاتے ہو۔۔میرا رنگ درحقیقت تمہارے حسن کو عروج←  مزید پڑھیے

سرخ چاندنی۔۔معاشرے کے ناسور کی تشہیر۔۔۔۔رمشا تبسم

اسما نبیل کی تحریر کردہ ڈرامہ سیریل “سرخ چاندنی ”  اے۔آر۔وائی سے نشر کیا جا چکا ہے۔ اس کی  پروڈیوسر  ثمینہ ہمایوں سعید اور ثنا شاہنواز جبکہ ڈائریکٹر شاہد شفاعت ہیں۔ اس کی کاسٹ میں سوہائے علی ابڑو ,عثمان خالد←  مزید پڑھیے

سچ خونی درندہ ہے۔۔۔ رمشا تبسم کی ڈائری “خاک نشین” سے اقتباس

ہر روز یہاں قتل ہوتا ہے۔ہر روز ارضِ وطن ماتم کناں ہوتی ہے۔۔ہر روز زمین کی آبیاری کسی نہ کسی کے خون سے کی جاتی ہے۔۔قاتل بھی سچا ,مقتول بھی سچا۔۔ قاتل کا سچ اور ہے مقتول کا سچ اور←  مزید پڑھیے

بابا جانی۔۔۔ یہ زندگی باپ کی وجہ سے ہی تو زندگی ہے/رمشا تبسم

ان کے سائے میں بخت ہوتے ہیں باپ گھر میں درخت ہوتے ہیں “بابا جانی, ابوجی,پاپا جانی, دوست, محافظ,سایہ, کہوں یا زندگی کہوں کس نام سے پکاروں, کن الفاظ میں پکاروں؟۔ انگریزی, اردو,فارسی بلکہ تمام زبانوں میں ایسا کوئی لفظ←  مزید پڑھیے

روتے قہقہے۔۔۔رمشا تبسم کی ڈائری”خاک نشین” سے “خود کلامی کی اذیت” کا اقتباس

کسی کے آ کر چلے جانے سے کتنی اذیت ہوتی ہے۔خدا نہ  کرے کبھی تم اس اذیت سے گزرو۔۔۔ہر شخص اس کرب, اس تکلیف کو برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔جو روح کو دہکتے کوئلوں میں جھلسا دے۔۔ تم نے کہا تھا←  مزید پڑھیے

عمران خان: بس کردو اب۔۔۔رمشا تبسم

میں بذاتِ خود ایک بہت دیندار,ایماندار یا اسلامی قوانین کو ہر طرح سے اپنا کر زندگی گزارنے کا دعویٰ  نہیں کرتی۔ہم سب انسان ہیں اور کہیں نا کہیں ہم سب سے غلطیاں اور کوتاہیاں سرزد ہو ہی جاتی ہیں۔جن کی←  مزید پڑھیے

ڈرامہ” رانجھا رانجھا کر دی” پر اظہارِ خیال۔۔۔۔رمشا تبسم

نجی ٹی وی کا ڈرامہ سیریل ’’ رانجھا رانجھا کردی‘‘ اپنا خوبصورت سفر مکمل کر کے اختتام پذیر ہو گیا۔فائزہ افتخار کا  تحریر کردہ ڈرامہ سیریل کے ہدایت کارکاشف نثارہیں۔مومنہ درید پروڈکشنز کی پیشکش کے نمایاں اداکاروں میں اقراء عزیز،عمران←  مزید پڑھیے

تڑپتی عیدیں۔۔۔ رمشا تبسم کی ڈائری “خاک نشین” سے “خود کلامی کی اذیت ” کا اقتباس

چاند نظر آ گیا ہے۔۔۔میں نے میسیج لکھا۔۔لکھا تھا کہ”میرے چاند کو چاند مبارک ہو”۔میسیج بھیجتے ہوئے مسکراہٹ تھی جو کسی فقیر کے چہرے پر پوری دنیا فتح کرنے کے بعد بھی نظر نہیں آتی۔آنکھوں میں چمک تھی،ایسی چمک جو←  مزید پڑھیے

کرشماتی بابا بنی گالہ۔۔۔رمشا تبسم

راقم کے علاقے میں ایک بابا “بابا اللہ ہُو” کے نام سے مشہور تھا۔بابا اللہ ہُو لوگوں کو دَم درود کرتا اور لوگ محسن جان کر بابا حضور کو مختلف تحفے تحائف دیتے۔ کبھی سالم بکرا تو کبھی مرغیاں۔اکثر مٹھائیوں←  مزید پڑھیے

عید کا دن اور دیمک زدہ وجود ۔۔۔ رمشا تبسم کی ڈائری “خاک نشین” سے اقتباس

عید کا دن یوں تو خوشی کا دن ہوتا ہے۔ہر شخص روزمرہ زندگی سے تھورا ہٹ کر خوشیاں منانا چاہتا ہے۔کچھ وقت اپنوں کے ساتھ گزارنا چاہتا ہے۔کچھ لمحے محبت کے سائے میں جینا چاہتا ہے۔ اپنے سے وابستہ رشتوں←  مزید پڑھیے

محترمہ بھنگ یا محترم بھنگ۔۔۔رمشا تبسم

محترمہ زرتاج گل صاحبہ نے بھنگ کی بہت تعریف کی۔ پاکستان کے تمام بڑے مسائل کو پسِ پشت رکھ کر ان کو صرف بھنگ کی فکر ہوئی۔لوگ بھوک سے مر رہےہیں۔بجلی ,گیس ,پانی کی قلت کا سامنا ہے۔روزگار کی عدم←  مزید پڑھیے

جوکر۔۔رمشا تبسم کی ڈائری “خاک نشین” سے اقتباس “رنگین اداسی”

ہر جیتا انسان ” زندہ” نہیں ہوتا۔ ہر ہنستا انسان “خوش” بھی نہیں ہوتا۔۔۔۔زندگی عجیب رنگ رکھتی ہے۔۔۔کبھی “بے رنگ”  ہو کر تکلیف دیتی ہے اور کسی کو بہت  زیادہ “رنگین” ہو کر تکلیف دیتی ہے۔۔؟ مختلف رنگ خود پر←  مزید پڑھیے

بندر کی چالاکی اور موجودہ حکومت۔۔۔رمشا تبسم

ﺁﭖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ بہت کہانیاں سُنیں ہونگی۔ ﺷﮩﺰﺍﺩﻭﮞ کی, ﭘﺮﯾﻮﮞ کی، ﻃﻮﻃﺎ ﻣﯿﻨﺎ کی ﺍﻭﺭ ﻧﺠﺎﻧﮯ ﮐﺲ ﮐﺲ کی۔ ﮐﺴﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﮩﺰﺍﺩﮦ ﮐﺴﯽ ﺟﺎﺩﻭﮔﺮ ﺳﮯ ﻟﮍﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮐﺴﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﺳﺘﺎﻥ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ میں نے بھی کہیں ایک←  مزید پڑھیے

اب کے برس عورتوں کو بانجھ ہی کیجیو۔۔۔۔۔رمشا تبسم

میں ماں ہوں۔وہ ماں جس کو دھرتی ماں کہتے ہیں۔وہ دھرتی ماں جو اس دھرتی کی ہر مظلوم,بےبس اور لاچار ماں کی آواز بن کر بولے گی۔میں وہ ماں ہوں جس نے اس دھرتی کی ہر ماں کا دُکھ دیکھا←  مزید پڑھیے

پنجاب کے ڈاکو کے نام ایک پیغام۔۔۔رمشا تبسم

ڈئیر پنجاب کے ڈاکو  پرویز الہی ! ہماری تربیت کی گئی  تھی کے بڑوں,چھوٹوں کو عزت سے مخاطب کرنا ہے مگر پاکستان کے واحد صادق اور امین, آکسفورڈ سے تعلیم یافتہ اور سب سے بڑھ کر بانوے کا ورلڈ کپ←  مزید پڑھیے

کیسی ماں ہے وہ۔۔۔۔رمشا تبسم

موسم خوشگوار تھا  شاید بارش  ہونے والی تھی۔اس نے آسمان کو طرف دیکھا جیسے وہ آسمان والے سے کچھ التجا کر  رہا تھا۔ جب ایک دم گجرے والے نے آواز لگائی یہ لے دو گجرے اس نے آسمان سے نظر←  مزید پڑھیے

ہائے ۔۔لنگڑی قسمت۔۔۔۔۔رمشا تبسم

لوہے کی ٹرے میں  گولیاں,ٹافیاں بسکٹ برش، کنگھی رکھتے ہوئے بارہ سالہ جنید بار بار آج پیچھے مُڑ کر دیکھ رہا تھا جہاں اسکی ماں شبانہ  اسکے پانچ سالہ بھائی اکرم اور ایک سالہ بہن سلمہ کو روٹی کے نوالے←  مزید پڑھیے

ریاست ہوتی ہے بیٹی جیسی۔۔۔رمشا تبسم

مختلف دانشوروں نے لکھا کہ  “ریاست ہوتی ہے ماں جیسی” اور “ریاست کب بنے کی ماں جیسی”۔اعتزاز احسن نے ایک بار تقریر میں یہ نعرہ لگایا شہرت بھی پائی مگر پھر کیسی ماں کیسی ریاست بھلا سیاست دانوں کو بھی←  مزید پڑھیے

بوم بوم گالی: گالیوں کی ورلڈ رینکنگ میں پی۔ٹی۔آئی والے پہلے نمبر پر۔۔۔۔۔رمشا تبسم

حضرت ابو ہریرہؓ کی ماں کافرہ تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیا کرتی تھیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ نے جب آپ کی خدمت میں عرض کیا تو بجائے غیظ و غضب کے آپؐ نے ان کے حق میں←  مزید پڑھیے