رمشا تبسم کی تحاریر

وبا کا بُوٹا۔۔رمشا تبسیم

یہ وبا کا بیج کِس نے بویا کہ وبا کے بُوٹے کی ہر شاخ پر اِک لاش اب لٹک رہی ہے۔۔ گلشنِ وبا میں اب چہار سُو ہی موت کا موسم چھا رہا ہے, ہر شخص کو اب تو ڈرا←  مزید پڑھیے

“وبا کے دنوں میں ڈائری” سے اقتباس۔۔۔رمشا تبسم

بارش کی بوندیں زمین کو چھو رہی ہیں۔۔مگر ان بوندوں کو چھونے سے بھی لوگ اب خوفزدہ ہیں۔گھروں کی کھڑکیوں پر پردے ہیں۔بوندیں تنہائی میں ماتم کرتی ہوئی زمین پر خود کو ختم کر رہی ہیں۔ننھے قدم ان بوندوں کو←  مزید پڑھیے

وبا کے دنوں میں ڈائری ” کا اقتباس۔۔رمشا تبسم

شہر میں جب ہر سُو وبا پھیلی ہے۔ہر کوئی موت کی آغوش میں نہ ہوتے ہوئے بھی موت کے بُت کو پاش پاش کرنا چاہتا ہے۔سورج کی کرنیں بھی اب وبا کے خوف سے زمین کو چھونے سے ڈر رہی←  مزید پڑھیے

کرونا میں کچھ تو کرو نا۔ ۔ ۔ ۔رمشا تبسم

ہم ایک عجیب کیفیت سے گزر رہے  ہیں، گو کہ ہمارے ملک میں کرونا کے کیسزز ابھی اتنے سامنے نہیں آئے،مگر سوشل میڈیا اور میڈیا پر دکھائی دینے والی عالمی  صورتحال نے ہمیں بے حد پریشان کر رکھا ہے۔اور ہمیں←  مزید پڑھیے

معذور بچے عذاب نہیں۔۔رمشا تبسم

ویسے تو انسان کا معذور ہونا اتنے افسوس اور خطرے کی بات نہیں ،اور نہ ہی یہ انسان کے اختیار میں ہے کہ وہ کیسا پیدا ہونا چاہتا ہے؟زیادہ خطرے اور افسوس کی بات کسی انسان میں سوچ کا,احساس کا,شعور←  مزید پڑھیے

عشق منجدھار :انیلا رزاق۔۔۔۔ تبصرہ/رمشا تبسّم

عشق منجدھار محترمہ انیلا رزاق کا پہلا ناول جو کہ کتابی شکل میں شائع ہوا ہے،اور شائع ہوتے ہی غیر پسندیدگی کی منجدھار میں پھسنے کی بجائے پسندیدگی کے سمندر میں غوطے لگانے لگا۔بے شمار لوگوں نے اس کو پڑھا←  مزید پڑھیے

میں اور میرا مکالمہ۔۔رمشا تبسم

موجودہ دور کے مصنفین  زیادہ تر سوشل میڈیا سے جنم لے رہے ہیں،اور سوشل میڈیا کے بہت سے منفی پہلوؤں پر آئے روز ہم سنتے اور پڑھتے رہتے ہیں۔کبھی الیکٹرانک بچوں کے نقصانات کبھی ڈیجیٹل تربیت پر سوالات ۔مگر سوشل←  مزید پڑھیے

عورت مارچ کی نہیں بلکہ انسانیت مارچ کی ضرورت ہے۔۔رمشا تبسم

آج خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔مگر میرے مطابق خواتین یا مَردوں کا عالمی دن منانے سے بہتر ہے ہم انسانیت کا عالمی دن منا لیں اور انسانیت مارچ منعقد کروائیں۔پھر انسانیت کے عالمی دن پر ہم انسانوں←  مزید پڑھیے

بدبو دار عورت۔۔رمشا تبسم

سڑک کشادہ اور صاف ستھری تھی۔ دونوں طرف ہرے بھرے باغ تھے۔ بائیں جانب خوبصورت بلند و بالا عمارات تھیں۔ دائیں جانب فٹ پاتھ پر ایک بہتے نالے کے پاس گندے کپڑے سے بنی جھونپڑی تھی, جس کے اندر صرف←  مزید پڑھیے

کرونا وائرس سے صرف بیوقوف مریں گے۔۔رمشا تبسم

یوں تو مرنا ہو تو انسان حلق میں پانی پھنس جانے یا نوالہ خوراک کی نالی میں غلط طریقے سے جانے سے بھی مر سکتا ہے۔ہاتھ میں معمولی جھاڑو کا تنکا لگ کر زخم خراب ہونے سے ہاتھ کٹتے دیکھے←  مزید پڑھیے

ہماری دنیا۔۔رمشا تبسم

ہمارے لئے بہت مشکل ہے کہ  ہم عام انسان کی طرح جی سکیں۔آپ جو یہاں سامنے بیٹھے ہیں۔یا جو گھروں میں بیٹھے مجھے اس وقت دیکھ رہے ہیں ان کے لئے یہاں تک آنا بہت آسان رہا ہو گا۔مگر میں←  مزید پڑھیے

مجھ سنگ رقص کرو گے کیا؟رمشا تبسم

یادو کی چادر اوڑھ کر محبت کا ارادہ پہن لوں جذبات کا کنگن ہاتھوں میں پہن کر وعدوں کی بندی ماتھے پر سجا لوں امیدوں کا ہار گلے میں پہن کر مچلتے ارمانوں کی پائل بنا لوں تمہاری آواز کے←  مزید پڑھیے

صرف ایک پھول محبت کا۔۔۔رمشا تبسم

شہر میں ہر طرف خوبصورت پھول سجے تھے۔عجیب گہما گہمی تھی ۔بازاروں میں دکانوں پر لال رنگ کی حکمرانی تھی۔ اکثر خواتین لال لباس میں ملبوس پھول اور گفٹ کی خریداری میں مصروف تھیں۔پھولوں کی دکانوں میں نوجوان خوبصورت پھول←  مزید پڑھیے

ہجر کی شاخیں۔۔۔رمشا تبسم

ہجر کی شاخیں سسکیوں کے موسم میں اذیت کے پھول گرا رہی ہیں ذرد پڑتی وحشت اب ٹہنیوں سے جدا ہو رہی ہے رفتہ رفتہ سرد ہوائیں یادوں کو منجمند کر رہی ہیں شاخوں پر بیٹھے پنچھی خوفزدہ ہو کر←  مزید پڑھیے

زندگی میں کیے گئے فیصلوں کی اذیتیں۔۔رمشا تبسم

میں اکثر بیٹھے بیٹھے ایک سوال میں اس قدر کھو جاتی ہوں کے مجھے آس پاس کی روشنی فضا چلتے پھرتے انسان چہکتے پرندے دکھائی اور سنائی دینا بند ہو جاتے ہیں۔میرے دماغ کو تالا لگ جاتا ہے اور سوچیں←  مزید پڑھیے

کشمیر ڈے اور ڈسکو قوم۔۔رمشا تبسم

کشمیر کئی سالوں سے بربریت اور ظلم و ستم سہنے کے باوجود آج بھی موجود ہے۔بھارت لاکھ ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ چکا ہو مگر کشمیر کا نام و نشان مٹانے میں ناکام رہا ۔کشمیر آج بھی کشمیر ہی←  مزید پڑھیے

“حورونا وائرس” کا پاکستان میں حملہ ۔۔۔ رمشا تبسم

دنیا میں بے شمار خطرناک کیڑے اور وائرسسز  دن بہ دن سامنے آ رہے ہیں۔حال ہی میں چائنہ میں کرونا وائرس نے سر اٹھا لیا۔اس وائرس نے چائنہ کی گوشت مارکیٹ میں جنم لیا اور کم عرصے میں بہت خطرناک←  مزید پڑھیے

عشق تم سے اجازت چاہتا ہے۔۔رمشا تبسّم

تم نے دیکھی ہے کبھی سولی پر لٹکی آس خزاں میں درختوں پر سوکھتی امید سمندر میں ڈوبتی خواہش صحرا میں سلگتی خوشی خاک ہوئی بصیرت راکھ ہوئی سماعت نیزے پر لٹکی سوچ بھٹکتی ہوئی دیوانگی تڑپتی ہوئی حسرتیں سسکتے←  مزید پڑھیے

ہمارے پاس دانش نہ رہا۔۔رمشا تبسّم

میرے پاس تم ہو کا سفر مکمل ہوا اور پیارا دانش ہم سب سے جدا ہو کر بہت سے لوگوں کو رلا گیا۔مرد عورتیں اور بچے دانش کی موت پر انتہائی افسردہ پائے گئے۔ یہ  ڈرامہ  تنقید کا نشانہ بھی←  مزید پڑھیے

کتابی شخص۔۔رمشا تبسم

اس کو صرف کتابیں پسند ہیں دنیا کھوجنے کا شوق رکھتا ہے رنگ برنگے موسموں کو پڑھتا ہے محبت کی الگ الگ دنیا دیکھتا ہے کتابوں میں ہجر اور وصل کو دیکھتا ہے سمندر کے شور کا مطلب سمجھتا ہے←  مزید پڑھیے