رمشا تبسم کی تحاریر

کشمیر کتھا کا پہلا افسانہ،ہم کیا چاہتے”آزادی”۔۔۔۔رمشا تبسم

اُس کی آنکھ کھلی تو وہ زمین پر الٹا پڑا ہوا تھا۔تھوڑا دور دیکھا تو کئی لوگ زمین پر پڑے ہوئے تھے ہر طرف پتھر بکھرے ہوئے تھے۔ کہیں کہیں بجھی ہوئی آگ سے ہلکا سا دھواں اٹھ رہا تھا۔شاید←  مزید پڑھیے

بازارِ حُسن کی اِک اور اَن کہی سسکتی محبت۔۔۔رمشا تبسم

رنگین روشنیوں میں ہجوم کے درمیان بے چین کھڑا وہ بازار حُسن کی اونچی اونچی عمارتوں اور کھڑکیوں کو دیکھ رہا تھا۔اسکی نگاہوں میں شدید انتظار اور کچھ چمک سی تھی ,ایسی چمک جو کسی کی آنکھوں میں عرصے بعد←  مزید پڑھیے

بھائی۔۔۔۔رمشا تبسم

کچھ دن قبل ایک  ویڈیو دیکھی کہ حافظ آباد میں بھائیوں نے ایک  بہن نائلہ کو بیس سال قید میں رکھا۔اس معاملے کے دو مختلف پہلو یا دو مختلف رائے منظر عام پر آئیں ۔اور دونوں پہلوؤں پر بات کرنا←  مزید پڑھیے

برستی بارش اور قحط زدہ وجود: رمشا تبسم کی ڈائری “خاک نشین” سے “خود کلامی کی اذیت” کا اقتباس

آج ہلکی ہلکی بارش کی بُوندیں زمین کو نَم کر رہی تھیں۔جیسے رات کے پہلے پہر میری آنکھیں تمہاری یاد میں نَم ہوتی ہیں یا شاید پہلے یہ ہلکی سی نمی آنکھوں کو اشارہ کرتی ہے کہ  محبت کے قید←  مزید پڑھیے

یونیفارم والے قاتلوں کے گینگ سے مُردے صلاح الدین کا سوال۔۔۔۔رمشا تبسم

یہ دنیا ہم جیسے کئی  انسانوں کے لئے اب رہنے کے قابل نہیں یا شاید ہم ہی اس دنیا میں رہنے کے قابل نہیں کیونکہ ظلم و جبر , زیادتی قتل و غارت کے دور میں ایک عام آدمی واقعی←  مزید پڑھیے

مکالمہ کو تیسری سالگرہ مبارک۔۔رمشا تبسم

ہم انسان الگ الگ رنگ رکھتے ہیں۔الگ ہی ہمارا مسکن ہے۔ ہمارے رہنے سہنے کے طور طریقے الگ ہیں اور اسی طرح سے بات کرنے کے طریقے بھی الگ ہیں۔ہمیں غصہ آتا ہے۔ہمیں بات کرنے میں شرم آتی ہے۔ہمیں دوسروں←  مزید پڑھیے

ہم وحشی درندے ہیں۔۔۔رمشا تبسم

سوچ کیا ہے؟ سوچ اگر اچھی ہو تو یہ روشنی ہے.اور اگر بری ہو تو انسان اندھیروں میں کھوجاتا ہے۔سوچ کو اندھیرا یا اجالا قارئین خود تحریر پڑھ کہ اخذ کریں گے۔ ہر روز ہمارے معاشرے میں دل کو دہلا←  مزید پڑھیے

میں , میری امی جان اور مسز خان۔۔۔رمشا تبسّم

میں نے اپنی امی جان کو مسز خان کی ویڈیو دکھائی۔سوچا کہ ان کی رائے  جانوں کہ مجھے مستقبل میں ایک ایسی بیوی بننا ہے جو شوہر کو گرم روٹی نہ بنا کر دے،جو ماں باپ کے گھر میں تو←  مزید پڑھیے

سیلن زدہ تاریخوں کا جال۔۔۔رمشا تبسم

کچھ تاریخیں زندگی میں بہت اہم ہوا کرتی ہیں۔ کیلنڈر بدل جاتے ہیں , ماہ و سال بدل جاتے ہیں, موسم بھی بدل جاتے ہیں۔ مگر وہ تاریخ ہمارے دل میں اس قدر گہری اور نمایاں رہتی ہے کہ  ہم←  مزید پڑھیے

انسانوں کے زہریلے لہجے۔۔۔رمشا تبسم

زمانہ قدیم میں تیر, نیزے, تلوار سب زہر میں بھگوئے جاتے تھے۔ تا کہ دشمن پر جب حملہ کیا جائے تو وہ بچ نہ سکے ۔اگر گھائل ہو کر  زخم سے بچ جائے تو زہر اپنا کام آہستہ آہستہ دکھا←  مزید پڑھیے

آہ!ریحان کا ٹائم آ ہی گیا۔۔۔۔رمشا تبسم

بچپن میں جب ڈر لگتا تھا تو میری ماں مجھے سکھاتی تھی کہ  کلمہ پڑھا کرو , قل شریف پڑھا کرو ۔بڑے سے بڑا جن اور بھوت بھاگ جائے گا۔تقریباً ہم سب کا بچپن ایسا ہی گزرا۔ سب نے زندگی←  مزید پڑھیے

وحشت کی اسیری۔۔رمشا تبسم کی ڈائری “خاک نشین” سے “خود کلامی کی اذیت” کا اقتباس

وصل کا نومولود احساس جب بغل گیر ہونے سے پہلے ہی مار دیا جائے تو ہجر کا سانپ بن بلائے مہمان کی طرح گود میں آ کر پناہ لے لیتا ہے۔جانتے ہو اس نومولود وصل کی لاش ٹھکانے لگانے کے←  مزید پڑھیے

لاہور کے شاپنگ مال میں عورت کی بدمعاشی۔۔۔۔رمشا تبسم

رات کتوں میں بحث جاری تھی انسانیت مر گئی  انسانوں میں! اس بات سے اب قطعی انکار نہیں کہ  ہم اس زمانے میں بے شمار جاہل لوگوں میں انکی جہالت سہتے ہوئے جی رہے ہیں۔کوئی دولت, شہرت یا رتبہ انکی←  مزید پڑھیے

شمع جلائے رکھنی ہے۔۔۔عید اسپیشل/رمشاتبسم

اماں۔ ۔ ۔ اماں یہ کیا ہے ؟ سات سالہ احمد اپنی ماں کے سامنے بھاگتا ہوا آیا۔چولہے کا دھواں احمد کا چہرہ چھپا رہا تھا۔ احمد پیچھے ہو کوئی چنگاری تجھ پر پڑ جائے گی۔ احمد کی ماں نے←  مزید پڑھیے

مسئلہ عمران خان۔۔۔رمشاتبسم

ایک عرصے سے پاکستان میں ایک آواز بلند ہو رہی ہے “ڈٹ کے کھڑا ہے کپتان” اور جتنے یو۔ٹرن عمران خان نے لے لئے اسکے بعد لفظ “ڈٹ” اب خود کھڑا ہوتے ہوئے بھی لڑکھڑاتا ہے۔عمران خان کا یہ ڈٹ←  مزید پڑھیے

وصل کی کوئل کی کائیں کائیں۔ رمشا تبسم کی ڈائری “خاک نشین” سے “خود کلامی کی اذیت کا اقتباس

ہجر کا کالا کوّا  آنکھوں میں ڈیرا ڈال کر بیٹھ چکا ہے۔پلک جھپکتی ہوں تو وہ چیختا ہے۔۔اسکی کائیں کائیں تیز ہو جاتی ہیں۔اسکی آواز بند کرنے کو میں میری پلکیں کھلی رکھے ہوئے ہوں۔اب ان آنکھوں میں نہ نیند←  مزید پڑھیے

کشمیری کوکھ۔۔۔رمشا تبسم

میں وادیِ کشمیر کی کوکھ ہوں۔۔وہ کوکھ جس میں صرف کشمیر کے بچے پیدا ہونے تک نہیں رہتے بلکہ پیدا ہو کر بھی میں ان کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہوں۔۔وہ کوکھ جو ان بچوں کو محفوظ دیکھنے کو←  مزید پڑھیے

زندگی کا گِدھ۔۔۔۔رمشا تبسم

سخت گرمی اور حَبس کی وجہ سے راشد کا جسم پسینے میں شرابور تھا۔ٹوٹی جوتی گھسیٹ کر چلتا ہوا وہ  اُس وقت رُکا جب برگر اور شوارما کی دکان  سے ایک لفافہ  اسکے قدموں میں گرا۔ راشد نے لفافہ  اٹھایا←  مزید پڑھیے

راستے خون پیتے ہیں۔رمشا تبسم کی ڈائری “خاک نشین” سے اقتباس

راستے اکثر “راستہ” ہو کر بھی راستے میں ہی “راستہ” ڈھونڈنے والوں کو بھٹکا دیتے ہیں۔”راستہ” تو اصل میں راستے کو خود کا “راستہ” بھی نہیں دیتا۔راستے کو بھی کہاں معلوم ہوتا ہے کہ وہ کہاں سے شروع ہوتا ہے۔۔۔←  مزید پڑھیے

موت۔۔۔رمشا تبسّم

کہتے ہیں‏ جب تک زندگی لکھی ہو تو موت خود زندگی کی حفاظت کرتی ہے اور جب موت کا وقت آجائے تو زندگی خود جاکر موت کو گلے لگا لیتی ہے،زندگی سے زیادہ کوئی جی نہیں سکتا اور موت سے←  مزید پڑھیے