سنو پاپا! ۔۔۔ رمشا تبسم

سنو پاپا
بلکہ نہیں
بڑے چوہدری صاحب اپنے چھوٹے چوہدری کی سنو ذرا !

دنیا میں اکثر پوچھا جاتا ہے باپ کیا ہے؟باپ کی عظمت کیا ہے؟اور میرے پاس جواب ہی نہیں ہوتا۔خاص کر فادرز ڈے پر ہر طرف باپ کی بات ہوتی ہے۔تو ہر بات پر دیکھنا سننا بولنا چھوڑ دیتی ہوں۔

مگر پاپا آپ تو ہمیشہ کہتے تھے میں اتنا تیز بولتی ہوں کے یقیناً سنائی کے پیپر میں ٹیچر کو سمجھ ہی نہیں آتی ہوگی۔اور وہ بس تمہاری سپیڈ دیکھ کر نمبر دے دیتی ہوں گی کے جو بھی سنایا ہے ٹھیک ہی سنایا ہو گا۔
اور لکھائی کے پیپر میں بھی اسی طرح سپیڈ سے گندی لکھائی سے لکھ آتی ہوں کہ انکو سمجھ ہی نہیں آتی لہذا وہ بس پاس کر دیتے ہیں کے کچھ تو لکھا ہے نا۔
یاد ہو گا آپ کو جب سر طارق نے کہا تھا رمشا تم لکھتی ہو یوں لگتا ہے کاپی پر نوڈلز پڑے ہیں تو میں نے آپ کو بتایا تو آپ نے زور دار قہقہہ لگایا اور جب میں نے منہ بنایا تو آپ نے پھر سر طارق کو فون کر خوب ڈانٹا کے کیوں بھئ تم نے میری بیٹی کو کیوں ایسے کہا؟حالانکہ میں جانتی تھی واقعی ہی نوڈلز لگتی تھی لکھائی میری مگر آپ کو بتانے کامقصد تو بس وہ یقین تھا نا کے آپ ڈانٹو گے سر کو اور مجھے خوشی ہو گی کے مجھے کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔
مگر اب جب دنیا میں سوال کیا جاتا ہے باپ کیا ہے تو یہی تیز بولنے والی آپ کی لڑکی خاموش ہو جاتی ہے۔اسلئے نہیں کے جواب نہیں دے سکتی بلکہ اسلئے کے آپ میرے لئے امید تھے بھروسہ تھے یقین اور تحفظ تھے اور ان کو بیان کرنے کے لئے آپ کا جیتا جاگتا وجود آنکھوں کے سامنے لانا پڑتا ہے وہ وجود جس کو ہر سیکنڈ بعد نظروں سے اوجھل کرنے کی سعی کرتی رہتی ہوں۔کبھی تو قمیض کندھے پر ڈالے گھر میں داخل ہوتے تھے اور امی کو کہتے تھے باؤ جی کوئی اور سوٹ لاؤ یہ سوٹ کسی نشئی کو دینا ہے اس نے مانگا ہے۔اور کبھی ننگے پاؤں گھر داخل ہوتے کے کسی فقیر نے جوتا مانگ لیا۔اکثر تو جس دکان سے ہم جوتا خرید رہے ہوتے اسی دکان سے ماما کسی اور بچوں کے لئے بھی ہم تینوں کے جیسے ہی جوتے لے رہی ہوتی تھی اور کہیں نہ کہیں مجھے یہ الجھن رہتی تھی کے بھئ یہ کیا مصیبت ہے اب ماما کو یہ جوتے کیا کرنے مگر وہی جوتے لیکر جب آپ مجھے ساتھ لے جا کر کسی انکل کو انکے بچوں کے لئے پکڑاتے تو یقین جانیں آپ سے عشق شدت اختیار کرتا چلا جاتا۔
میں کیا بتاؤں اب کے آپ کیا تھے میرے لئے۔یہ کے جب سڑک پر ہمارا انکل کے ساتھ ایکسیڈنٹ ہوا تو سامنے سے اپنی طرف آتی تیز گاڑی کو دیکھ کر موت کا خوف نہیں تھا اور نہ سر سے بہنے والے خون کی فکر اور نہ زخموں سے درد کی پرواہ کیوں کے نہر کے اس پار آپ موجود تھے اور میں اس امید پر وہاں سڑک سے اٹھ کر گاڑی کے آگے سے بھاگی فٹ پاتھ پر تاکہ جاکر آپ کو آواز دوں کے آ کر انکل کو اور ان گاڑی والوں کو مارو۔مجھے کوئی درد کی پرواہ نہ تھی بس غصہ تھا کے آپ آؤ اور بس ان سب کو پھینٹی لگاؤ۔اور میں نے مسلسل آوازیں دیں۔ خون بہنے کا علم نہیں ہوا طیب اور حارث نے جب بتایا یہ پُل وہ نہیں ہے ہم آگے آ گئے ہیں تو پھر بھی بھروسا تھا جیسے ہی آپ کو علم ہو گا آپ کسی کو چھوڑوں گے نہیں لہذا چپ ہو گئ تھی ۔
جب کبھی جھولا لیتے ہوئے ماموں کے گھر کوئی میرا جھولا بہت اونچا کر دیتا تو بھی روتے چیختے ہوئے بس ہائے پاپا ہی تو کہتی تھی۔اور آپ اکثر سن کر گھر سے اٹھ کر آ جاتے تھے اور آپ کی آواز سے ہی اس قدر تحفظ کا احساس ہوتا تھا کے اب گر بھی گئ تو آپ پکڑ لو گے مجھے لہذا جھولے کی بلندی کا خوف باقی نہ رہتا۔
اور وہ جب نہر میں نہاتے وقت آپ کے ساتھ آپ کو ہی پکڑ کر چیخ رہی تھی اور ڈر کر آپ کے ہوتے ہوئے بھی ہائےےے پاپا ہی کہہ رہی تھی۔اور ارد گرد سب لوگوں کو لگا شائد آپ مجھے مارنے والے ہو اور وہ قریب آئے پوچھا کے کیا معاملہ ہے تو میں نے غصے سے کہا پاپا ہیں میرے دفع ہو جاؤ سب اور پھر واپس اسی طرح چیخنے لگی۔وہ ڈر جو تھا خود ڈوبنے کا نہیں تھا بلکہ یہ ڈر تھا کے کہیں آپ نہ ڈوب جاؤ۔ میں ڈوب جاتی تو آپ نے بچا لینا تھا آپ کو کچھ ہوتا تو میں کیا کرتی۔اسی لئے طیب حارث کو کہا اندر آئیں مگر جب وہ نہیں آئے تو چیخنا شروع کر دیا۔اور جب وہ بھی آگئے تو اتنا حوصلہ ہوا کے اب ہم میں سے کوئی نہیں ڈوبے گا۔
یاد ہے وہ ماموں کی بکری جب چوری ہوئی تو میں اپنے ساتھ ایک لڑکی اور تین لڑکوں کا گینگ بنا کر بکری کو ڈھونڈنے گئ۔اور ہم نے سراغ لگا لیا کے بکری کہاں ہے۔اب اس کو واپس لانے کے لئے ایک تنگ سی سیڑھیاں اوپر چڑھنی تھی۔لہذا میں نے فیصلہ کیا سب سے آگے میں اور ایک لڑکا جائیں گے ہمارے پیچھے سیڑھیوں کے درمیان لڑکی کھڑی ہو گی اسکے بعد دروازے میں ایک لڑکا ہو گا اور ایک باہر سڑک پر ۔اگر کچھ ہوتا ہے تو سیڑھیوں والی دروازے والوں کو بتائے گی اور وہ باہر سڑک والےکو اور وہ جلدی سے بھاگ کر گھر آ کر آپ کو بتا دے گا۔اور یہ کارنامہ بالکل اتنے بجے سرانجام دیا جس وقت آپ اٹھ کر کھانا کھانے بیٹھتے۔اور اوپر کچھ مسئلہ نہیں ہوا کوئی موجود نہ تھا بکری کھول کر ہم سب بہت آرام سے گھر لے آئے اور گلی میں آپ نے سب معاملہ پوچھا
اور پھر میرے سامنے بیٹھتے ہوئے کہا واپس جاؤ ۔بکری واپس باندھو اور پھر سب کے سامنے کھول کر لاؤ۔
تو میں نے کہا لو پھر وہ پکڑ کر مجھے مار دیں گے تو آپ نے کہا
“میں آ رہا ہوں”. بس اسکے آگے کچھ اہم نہیں تھا۔وہ جوتیاں جو اپنی اپنی وہاں سے بکری کھول کر ہاتھ میں پکڑ کر ہم سب بھاگ کر آئے تھے ۔پاؤں میں پہنی اور اکڑ کر واپس چل دی ایک بار بھی پیچھے مڑ کر آپ کو نہیں دیکھا تھا کے کتنے دور ہو آ بھی رہے ہو یا نہیں۔بس چلتی گئ۔اور جب وہاں واپس سیڑھیاں اوپر چڑھی تو اس بار کسی کو دروازے میں کھڑا نہ کیاہم سب اوپر پہنچ گئے اور جاکر کہا
یہ لیں آپ کی بکری انکل کھل کر نیچے چلی گئ تھی۔اس نے غصے سے میرا بازو پکڑا اور مجھے تھپڑ مارنے لگا تھا کے میں نے چیخ کر کہا پاپا آ رہے ہیں میرے اور آپ میرے سامنے تھے۔اسکا ہاتھ ہوا میں ہی تھا۔اور میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں۔
میں واقعی ہی تھوڑی سی ڈر گئ تھی اسلئے نہیں کے تھپڑ پڑے گا بلکہ اسلئے کے تھپڑ مارنے والے کا آپ کیا حال کروگے وہ سب ذیادہ بھیانک ہوگا۔کیونکہ تھپڑ مارنے والے ہاتھ سلامت نہیں رہنے والے تھے اسلئے چیختے وقت قدم لڑکھڑائے نہیں تھے ۔میں کھڑی رہی تھی۔
اور وہ جب ہمیشہ درخت پر چڑھ کر چییخنے لگتی تھی تو واقعی ہی اترتے وقت ڈر لگتا تھا۔مگر ہر بار سب سے پہلے درخت پر چڑھ جاتی تھی۔کیوں کے یقین تھا کے پھنس گئ تو آپ نے آ ہی جانا ہے اور آپ کے آتے ہی میں نے چھلانگ لگا دینی ہے۔پھر باقی آپ کی قسمت بچا سکے تو ٹھیک ورنہ مر جاتی تو آپ کا سب سے بڑا نقصان ہوتا۔اور آپ خود کا نقصان کبھی ہونے ہی نہیں دیتے تھے
مگر اب
اب نہ جانے کیوں اکثر دنیا سے ڈر جاتی ہوں۔انسانوں سے ڈر جاتی ہوں۔قدم لڑکھڑاتے ہیں۔فیصلے تبدیل کرتی ہوں۔ہار جیت کا سوچتی ہوں۔بار بار پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں۔
اب نہ تیز بولا جاتا ہے نہ ہی کوئی ہمت کا کام ہوتا ہے۔میں اب کافی بزدل ہوں۔ڈرنے لگی ہوں۔ حتی کے اب اندھیرے سے بھی خوف آتا ہے۔اور بہت تیز بولنے والی یہ لڑکی اب باپ سے متعلق ہر سوال ہر ذکر پر گونگی ہو جاتی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”سنو پاپا! ۔۔۔ رمشا تبسم

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *