مائیں آخر کیوں مر جاتی ہیں؟۔۔رمشا تبسم

والدین کی اہمیت ہر دور میں یکساں رہی ہے۔والدین کے بغیر زندگی اندھیرے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ماں کی کوکھ کے اندھیرے میں پلتا بچہ پھلتا پھولتا ہے اور بالآخر نو مہینے بعد جنم لیتا ہے۔کوکھ کا اندھیرا,کوکھ کی مختصر دنیا کسی صورت اس معصوم ننھے وجود کو ڈرا نہیں رہی ہوتی۔اور نہ ہی اس اندھیرے میں ننھا بچہ خوفزدہ ہوتا ہے۔کیونکہ اسکی ماں زندہ ہوتی ہے۔وہ ماں کی دھڑکن کو محسوس کر کے اسی دھڑکن کے ساتھ نو مہینے جی رہا ہوتا ہے۔مگر یہی ماں دنیا سے رخصت ہو جائے تو بچہ کتنا بھی بڑا کیوں نہ ہو اسکی دنیا کی روشنی لمحوں میں تاریکی میں تبدیل ہو جاتی ہے اور پھر اس تاریکی سے وہ خوفزدہ ہونے لگتا ہے۔وہ کروٹ بدلے اور کہیں پہلو میں یا گھر میں ماں موجود نہ ہو تو گھر کس قدر وحشت  زدہ محسوس ہوتا ہے اس کا اندازہ وہی لگا سکتا ہے جسکی ماں اب دنیا میں موجود نہیں۔ہم کتنے ہی نافرمان اور لاپرواہ کیوں نہ ہوں مگر ذرا سی ٹھوکر لگنے پر ہائے ماں ہی پکارتے ہیں۔وہ کیاہی عجیب تعلق ہے کہ  ننھا بچہ ہر ایک کے  ہاتھ میں رو رہا ہوتا ہے کسی صورت چپ نہیں ہوتا اور ماں تھام لے تو سینے سے لگ کر فوراً خاموش ہو جاتا ہے۔ ماں کی دھڑکن ننھے بچے کو مکمل سکون پہنچا دیتی ہے۔اور یہ کیا ہی غضب ہے کہ ماں دنیا سے رخصت ہو جائے تو بچہ پل پل تڑپتا ہے,سسکتا ہے , چیختا ہے مگر ماں کی دھڑکن دوبارہ کبھی نصیب نہیں ہوتی۔کوئی سینہ ماں کے سینے کی طرح پرسکون نہیں کر سکتا۔ کوئی آواز ماں کی آواز کی جگہ ہمیں راحت نہیں بخش سکتی۔
قدرت نے ایک پردہ بنایا ہے جس کا نام موت ہے۔اس پردے کے پیچھے جانے والے پھر کبھی نظر نہیں آتے۔اور اس پردے کے آگے کھڑے رہنے والے ہمیشہ ہی جانے والوں کا ماتم کرتے ہیں۔اور بس ایک جھلک دیکھنے کو سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ماں اگر اس پردے کے پیچھے چلی جائے تو پردے کے آگے کھڑے قطار بنائے بچے پل پل تڑپتے ہیں،سسکتے ہیں۔وہ دھڑکن محسوس کرنا چاہتے ہیں۔وہ ماں کی آواز کو سننا چاہتے ہیں۔وہ اپنی باتیں سنانا چاہتے ہیں۔وہ اپنی تکلیف کو ماں کے آنچل میں چھپانا چاہتے ہیں۔وہ اپنی کُل دنیا کو ماں کی ذات میں دیکھنا چاہتے ہیں۔مگر یہ ممکن نہیں رہتا۔قبر کی مٹی کو مٹھی بھر کر ہاتھ میں بھر  کر اپنی بے بسی پر رونے کے سوا کچھ بھی چارہ  نہیں رہتا۔قبر پر پھول ڈال کر پھر ان کی پتیوں کو روتے ہوئے انگلیوں سے مسلتے وقت بچے قبر میں سوئی ماں کو بتا رہے ہوتے ہیں کہ ماں ہم تیرے چلے جانے سے  حالات کے ہاتھوں کچھ اسی طرح مسلے جا رہے ہیں۔

میری اپنی امی سے بہت زیادہ دوستی ہے۔دن رات ایک دوسرے کے سامنے ہوتے ہیں۔باتیں کرتے ہیں لڑتے ہیں ۔پھر محبت کرتے ہیں۔بحث کرتے ہیں۔ایک دوسرے کو تنگ کرتے ہیں۔وہ میرا خیال رکھتی ہیں۔میں انکا خیال رکھنے کی کوشش کرتی رہتی ہوں۔گویا میری زندگی کا ہر دن ان سے شروع ہوتا ہے اور دیر رات کو شب بخیر امی پر ختم ہوتا ہے اگر ایک بار وہ شب بخیر نہ سن سکیں اور جواب نہ دیں تو میں دوبارہ دہراتی ہوں۔وہ اکثر جان بوجھ کر خاموش رہتی ہیں تاکہ میں بولتی جاؤں اور میں بھی بولتی ہی رہتی ہوں پھر بالآخر وہ ہنس کر کہہ دیتی ہیں اچھا میری ماں شب بخیر۔کبھی رات کو یا صبح آنکھ کھلے اور وہ اپنے بستر پر نہ ہوں تو ایک بار میں اٹھ کر بیٹھ جاتی ہوں۔یہ تسلی کرتی ہوں کہ وہ کہاں ہیں اور پھر سو جاتی ہوں۔رات جتنی بار آنکھ کھلے میں ان پر نظر ضرور ڈالتی ہوں۔

اب وہ ماشا اللہ اعتکاف میں ہیں۔انکے اور میرے درمیان ایک پردہ حائل ہے۔وہ پردے کے اس پار ہیں اور میں ادھر پردے کے باہر کھڑی ہوں۔اور اب دو تین دن میں ہی بہت  زیادہ اداس ہونا شروع ہو گئی  ہوں۔جب میں انہیں سحری اور افطاری دیتی ہوں,ان کو چائے بنا کر دیتی ہوں,انکی صورت نہ سہی عکس تو پردے سے نظر آ ہی جاتا ہے۔اکثر وہ تلاوت کرتی ہیں تو آواز بھی سنائی دے جاتی ہے۔وہ اندر کچھ بھی حرکت کرتی ہیں تو آواز آتی ہے جس سے انکا ہونا محسوس ہوتا رہتا ہے۔ ایسی صورت میں مجھے اتنا یقین ہے کہ  عید کا چاند نظر آتے ہی پردہ ہٹ جائے گا اور وہ سامنے ہونگی۔عکس نہیں بلکہ مکمل وجود سامنے ہوگا۔آواز نہیں بلکہ انکے ہلتے ہونٹ,انکی آنکھیں,انکے ہاتھ سب کچھ میرے پاس ہو گا۔میں ایک قدم بڑھا کر انہیں چھو لوں گی۔میں ان کے سینے سے لگ کر پرسکون ہو جاؤں گی۔میں ان کے ہاتھوں پر چہرے پر بوسہ دے کر سکون میں آ جاؤں گی۔میں انکا لمس محسوس کر کے چہک اٹھو گی۔پھر سے رات کو انکو شب بخیر کہہ سکوں گی۔مگر پھر بھی میں بہت اداس ہوں۔اضطراب کا شکار ہوں۔ان سے روبرو نہ ہونا دو تین دن میں مجھے اداس کر گیا۔انکے اعتکاف میں بیٹھتے ہی مجھے لگتا ہے میری آواز کھو گئی  ہے۔میں خاموش ہو گئی  ہوں۔مجھے سننے والا کوئی نہیں۔میں آنکھ کھولتی ہوں تو وہ سامنے نہیں ہوتیں۔مجھے اب نیند ہی نہیں آتی۔آ جائے تو بھی کچھ دیر بعد آنکھ کھلتے ہی مجھے انکی غیر موجودگی انتہائی اداس کر دیتی ہے۔میں بجھ رہی ہوں۔مرجھا رہی ہوں۔میری باتیں میرے اندر دم توڑ رہی ہیں۔میری ذات میں اتھل پتھل ہے ۔ایک طوفان ہے جو تھم نہیں رہا۔ایک صحرا ہے جہاں جدائی کی پیاس کی شدت مجھے ہلکان کر رہی ہے۔ایک ندی ہے جہاں پانی سوکھ رہا ہے۔ایک گلشن ہے جو ویران ہو چلا ہے۔ میں ایسے پردے کے باہر کھڑی ہو ں جس کو کسی بھی لمحے میں جب چاہوں تو گرا کر بھاگ کر ماں کے سینے سے لگ سکتی ہوں۔میں ایسے پردے کے باہر ہوں جو نا امیدی,مایوسی,اور تکلیف کا نہیں ہے۔بلکہ اس پردے کو ہٹانے پر میرا مکمل اختیار ہے۔پھر بھی اداسی میرے وجود پر چھا رہی ہے۔ماں کی انگلیاں جو دن میں دس بار پکڑ کر میں کہتی ہوں آپکی انگلیاں کتنی باریک ہیں اور ناخن کتنے خوبصورت,انکے چہرے کے تاثرات جو میری باتوں پر کبھی مسکراتے ہیں اور کبھی تیوری چڑھاتے ہیں , انکی ہنسی کی کھنک جو میری روح کو تازہ کرتی ہے یہ سب صرف دس دن کے لئے مجھ سے دور ہے اور میں دو دن میں ہی ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہی ہوں۔مجھے یوں محسوس ہوتا ہے ۔کچھ دن کے لئے جس درخت پر میرا گھونسلہ تھا وہ اکھاڑ لیا گیا ہے۔ اور یہ دس دن میں آسمانوں پر بھٹکتی رہوں گی۔ایک لمحہ کو بھی کہیں بیٹھ نہیں سکوں گی میرے پَر مسلسل اڑنے سے تھک کر گرنا شروع ہو جائیں  گے۔اور جب میں مکمل تھک کر گرنے والی ہونگی تو پھر دس دن بعد یہ شجر واپس لگا دیا جائے گا میرا گھونسلہ مجھے مل جائے گا۔

میں اسی شجر پر گنگناؤں گی,چہکتی ہوئی ہواؤں کے ہاتھ سندیسے بھیجوں گی۔مگر پھر بھی سب کچھ نارمل ہوتے ہوئے بھی کتنا عجیب سا لگ رہا ہے۔میری ذات میں کتنی تنہائی ہے, اداسی ہے, ویرانی ہے۔اور یہ سب کچھ محض دس دن کے لئے ہے پھر سب کچھ پہلے سا حسین ہونے والا ہے ۔مگر یہ دس دن انتہائی عجیب گزر رہے ہیں۔
مگر وہ جن کا اب کچھ بھی نارمل نہیں۔جن کی ماں ایسے پردے کے پیچھے ہے جو کبھی ہٹ نہیں سکتا۔جہاں سے عکس تک نظر نہیں آتا۔آواز سنائی نہیں دیتی جہاں کھڑے ہو کر وہ دس دن بعد یہ پردہ ہٹا کر آگے بڑھ کر ماں کے سینے سے نہیں لگ سکتے۔جہاں وہ دس دن بعد کے لئے پرامید نہیں۔ایسے لوگ کس قدر زندہ ہو کر بھی مُردہ ہیں۔بہار ہو کر بھی خزاں ہیں۔دریا ہو کر بھی پیاسے ہیں۔ستارہ ہو کر بھی اندھیرا ہیں۔سیراب ہو کر بھی بنجر ہیں۔

آہ!
جن کی مائیں موت کے پردے کے پیچھے چلی جاتی ہیں۔انکا تو درخت ہمیشہ کے لئے اکھاڑ لیا جاتا ہے۔وہ کبھی پھر اپنا گھونسلہ نہیں حاصل کر سکتے۔ان کے پَر وقت کی آندھی ایک ایک کر کے توڑتی رہے گی۔اور حالات کی ستم ظریفی یہ کہ  وہ پھر بھی مسلسل چلتے رہنے کو اپنے پَر ہر وقت جوڑتے رہیں گے۔جو ہر بار ہی ٹوٹ کر ان کو احساس دلائیں گے کہ  ان کی دنیا اب ماں کے بغیر مکمل اندھیرا ہے۔انکی اڑان پہلے سی نہ رہے گی۔ انکی زندگی پہلے سی نہ رہے گی۔وہ کروٹ بدلیں گے ماں نہ ہو گی۔کامیابی سن کر خوش ہونے کو ماں نہ ہوگی۔پریشانی میں حوصلہ دینے کو ماں نہ ہو گی۔ ہرا بھرا آنگن اجڑ جائے گا۔گھر کی دیواریں چیخیں مارتی ہوئی مکینوں کو خوفزدہ کریں گی۔اس گھر کے مکین ہی نہیں بلکہ دیواریں اور چیزیں بھی بے تاب ہو جائیں گی۔تڑپیں گی۔وہ پھول جو ماں ہاتھوں سے لگا گئی۔وہ پھول بھی اب کھلنے سے انکاری ہو جائے گا۔وہ پرندے جن کو وہ دانہ ڈالتی تھی وہ پرندے بھی اداس ہو کر دانہ کھانا چھوڑ جائیں  گے۔اس گھر کے دروازے ماں کے قدم نہ پا کر ہمیشہ کے لئے اداس ہو جائیں  گے۔
اور اس ماں کے بچے تا حیات ماں کی قبر کو دیکھ کر کہیں گے کاش ہمیں ایک بار نظر آجائیں۔کاش میں مٹی ہٹا کر دیکھ لوں کہیں ماں پر مٹی تو نہیں پڑ گئی۔کاش مجھے ایک بار قبر سے ماں نام لے کر پکار لے۔کاش ایک بار صرف ایک بار۔ کاش!

مگر ہر کاش ٹھکڑا دیا جائے گا۔ہر امید ختم ہو چکی ہو گی۔کچھ ہو گا تو صرف موت کے بعد آنسو اور یہ آنسو لئے بچے ہمیشہ جب ہنسے گے تو ہنستے ہوئے ماں کے نہ ہونے سے رو پڑیں گے
آہ! ماں آخر کیوں مر جاتی ہے۔
اے ماں تو کیوں موت کے پردے کے پیچھے چلی جاتی ہے۔ کے تیرے بچے یہ پردہ ہٹا کر کبھی تیرا دیدار نہیں کر سکتے۔کبھی آواز نہیں سن سکتے۔کبھی عکس نہیں دیکھ سکتے۔کبھی آگے بڑھ کر سینے سے نہیں لگ سکتے۔وہ دھڑکن جو نو مہینے وہ سن کر وہ کوکھ کے اندھیرے سے لڑتے ہیں وہ دھڑکن نہ سن کر بچے ہمیشہ کے لئے بے سکون ہو جائیں گے۔تیرے ہاتھوں کی گرمائش,تیری آنکھوں کی پتلیوں کی حرکت,تیری ہنسی کی کھنک,تیری پر سکون آواز نہ ہونے سے تیرے بچے ہمیشہ تڑپتے رہیں گے ۔ماں تم جہاں ہو کاش اپنے بچوں کے پاس واپس پلٹ آؤ۔کاش
کاش ماں کبھی نہ پردہ کرتی۔کے اسکا پردہ اسکے بچوں پر بہت کرب ناک گزرتا ہے۔
کاش ! ماں کبھی نہ پردہ کرے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *