سسکتی کہانی۔۔رمشا تبسم

چاند مکمل کالا ہو چکا تھا۔ہر طرف ہَوا سہم کر کھنڈروں کی دیواروں پر الٹی لٹک رہی تھی۔فضا گھٹن  زدہ تھی۔درخت اپنی جڑیں کاٹ کر یہاں سے بھاگنا چاہتے تھے۔ گھونسلوں سے پرندوں کے بچوں کے چیخنے کی آواز ماحول کو وحشت  زدہ کر رہی تھی۔میرا سر کسی زنجیر کی گرفت میں تھا۔میری سوچ کسی کنوئیں میں گر کر خودکشی کر چکی تھی۔میں اپنے پاؤں کاٹ کر کہیں دور پھینک آئی تھی اور پھر بھی میں مسلسل بھاگ رہی تھی۔سمندروں کو پار کیا, میدانوں کو عبور کیا اور اب صحراؤں میں بھٹک رہی تھی۔مگر وہ پھر بھی مسلسل میرے پیچھے تھی۔وہ اپنے وجود سے میرے وجود کو برباد کرنے کو بھاگ رہی تھی اور میں میرے وجود سے اسکے وجود کی بربادی لکھ آئی تھی۔اسکی تکمیل میری بربادی ہے۔اور اسکا ادھورا رہ جانا اسکی بربادی۔ہمیں اپنی اپنی بقاء کی فکر تھی۔ہم میں سے ایک کا فنا ہونا ہی دوسرے کی بقاء کی ضمانت تھا،مگر اب اسکا ادھورا رہ جانا میرے مکمل وجود کو نوچ کر کھانے لگا تھا۔اسکو مکمل ہونا ہے.اسکی ایک ہی خواہش ہے اسکی تکمیل اور میں اسکی تکمیل سے پہلے قلم کو توڑ آئی ہوں۔قلم میں بھرنے کے لئے میں تخیل کا سارا خون نچوڑ چکی تھی۔چاندی کے اوراق کو قلم نے لکھتے ہوئے جلا کر راکھ کر ڈالا۔اس راکھ  کی  چاندنی کی مخملی چادر میں گلہریوں نے جسم پر مَل کر ماتم شروع کر دیا۔دو معصوم ہَنسوں کا جوڑا محبت کی وادی میں اس وحشت سے بے موت ہی مر گیا۔آسمان پر چاند کو بدلیوں نے اپنے تاریک آنچل میں چھپا لیا اور چکور چاند کے چھپتے ہی دیوانی ہو کر آنکھیں بند کر کے زمین کی طرف گر کر خود کشی کر چکی ہے۔ ہوا اب بھی خوف کے عالم میں ایک گھنے درخت کی شاخ پر بیٹھے ایک الّو کے سکیڑے ہوئے پروں میں پناہ لے چکی ہے۔

وہ کہانی اب بھی میرے پیچھے بھاگتے  ہوئے کئی  کہانیوں کو جنم دے رہی تھی۔مگر پھر بھی اسکو لگتا تھا وہ ادھوری ہے۔وہ کہانی کئی کرداروں کو روند آئی  تھی مگر پھر بھی اس کو محسوس ہوتا تھا اذیت منتقل کرنے میں کمی ہے۔

کہانی کے اختتام کے لفظ میرے وجود پر رینگ رہے تھے۔کچھ لفظ میرے ناخنوں کے گوشت میں دھنس کر گھٹن سے مر رہے تھے۔سب کچھ بکھر چکا تھا۔لفظوں کے دل دھڑکنا بند ہو چکے تھے۔احساسات کی آنکھیں بے نور ہو چکی تھی۔جذباتوں کے لمس بے جان ہو چکے تھے۔جملوں کی رگوں سے لہو نچوڑ لیا گیا تھا۔رموزاوقاف بھی خودکشی کر چکے تھے۔حروف تہجی سولی پر لٹک چکی تھی۔کہانی آخری سانس لیتے ہی کفن اوڑھنے والی تھی۔اور کہانی کے کفن اوڑھتے ہی ہر کردار لال چوڑیاں توڑ کر اپنے بازو لہو لہان کرنے والا تھا۔کہانی کے شعور کے ماتھے پر سجی بندی بکھرنا شروع ہو چکی تھی۔کہانی کے لاشعور کی پائل کی چھن چھن کہانی کو سہما رہی تھی۔

جو اختتام ہونا تھا وہ اب انجام ہو چلا ہے۔اور جس کو انجام ہونا تھا وہ اب ابتدا ہو چلی ہے۔ہر طرف لفظوں کی چیخیں بلند ہو رہی تھیں۔اور اب سر جھکا کر کہانی بھی سسک رہی تھی اور ہاتھوں میں منہ چھپا کر میں بھی۔

وہ اپنے اختتام کے لئے میری غلام تھی۔اور میں اپنے آغاز  کے لئے اسکی مرہون منت۔وہ مکمل ہو کر اختتام چاہتی تھی۔اور میں اختتام پا کر مکمل ہونا چاہ رہی تھی۔
جب کچھ نہیں تھا اس وقت بھی یہ کہانی ادھوری تھی اور اب جب سب کچھ ختم ہو رہا ہےکہانی پھر بھی ادھوری ہے۔کہانی کے چہرے پر یادوں کے انمنٹ نقوش موجود ہیں۔اور میری جھریوں میں سفاکیت اب خود تڑپ رہی ہے۔

کھنڈروں میں چاند نے سورج کو بھی دبوچ رکھا ہے۔ستاروں نے سورج کی کرنوں کو اپنے کناروں پر پھندے ڈال کر لٹکا لیا ہے۔پرندوں نے ہر سو ہی گھونسلے توڑ پھینکے ہیں اور صحراؤں میں ریت پر ڈیڑے ڈال لئے ہیں۔آتش نے پانی کو نگل لیا ہے اور آگ کا سینہ اب بھی پیاسا ہے۔پھولوں نے کانٹوں کا تاج پہن کر کلیوں کی رسوائی پر جشن منایا ہے۔بھنورے نے کوئل کی میٹھی کوک کو چیخ میں بدلتے ہی خود کے پَر نوچ پھینکے ہیں۔

اب کہانی سسکتی ہوئی ادھورے رہ جانے کی اذیت سے تڑپ کر مر رہی تھی۔اور میں اپنی تکمیل کے جشن کی بجائے کہانی کا سر گود میں لئے اسکی آخری سانسوں پر ماتم کناں تھی۔

اب میری کہانی مر رہی ہے۔اور میں قلم میں سیاہی بھرتی جا رہی ہوں۔قلم کی بھوک مٹ نہیں رہی اور کہانی کی سانسیں مٹتی جا رہی ہیں۔کہانی کے پاؤں میں پڑی زنجیریں اب قلم کو جکڑ رہی ہیں۔ممکن ہے کہانی اپنی غلامی مرتے وقت قلم میں منتقل کر دے۔اور قلم اپنے اختتام سے ذرا پہلے مجھے غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دے۔

مگر اب میری کہانی مرتی چلی جا رہی ہے۔قلم بھی مر چکی ہے۔انگلیوں سے بہتے لہو سے میں نے کہانی کے ماتھے پر لکھ دیا “تم زندہ رہنے والی ہو” یہ لکھتے ہی کہانی نے میرا سر نگل لیا۔کہانی کی بقاء ہر چیز کو فنا کر گئی۔دو سُرمئی  خرگوش یہ دیکھتے ہی وحشت اور خوف کے عالم میں زمین کھود کر اس میں خود ہی ذندہ دفن ہونے لگے۔ آہ! اداس بُلبل ,بے نور جگنو اور بے رنگ تتلیاں بادِ صبا کو مرثیہِ موت سُنانے لگے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *