• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ایک خط جو پوسٹ نہ ہو سکا : رمشا تبسم کی ڈائری “خاک نشین” سے خودکلامی کی اذیت کا اقتباس

ایک خط جو پوسٹ نہ ہو سکا : رمشا تبسم کی ڈائری “خاک نشین” سے خودکلامی کی اذیت کا اقتباس

میں جانتی ہوں میں بہت بولتی ہوں۔ جب ہم ساتھ ہوتے تب بھی اور جب بہت دور ہوتے اُس وقت بھی شائد خیالات میں صرف میں ہی بول رہی ہوتی تھی۔ تم نے کہا تھا میں بولتی ہوں تو الفاظ میرے ہونٹوں سے پھسل کر تمہارا تعاقب کرتے ہوئے رقص کرتے ہیں۔اور تمہیں ہمیشہ ہی میرے لفظوں سے سریلی دھنیں نکلتی محسوس ہوتی ہیں۔اور تم ان دھنوں میں خود کو کسی اور ہی دنیا میں محسوس کرتے ہوئے رقصم ہوتے ہو۔مگر اب مجھے معلوم ہے وہ سُر سنگیت یہ آواز کا حُسن اور یہ سحر بالکل ہی تمہیں عذاب لگتا ہے۔اس لئے نہیں کے تمہیں مجھ سے محبت نہیں رہی۔بلکہ اس لئے کے میرے لفظوں کے امبار جو تمہارے ذہن میں لگ چکے ہیں ان کے بوجھ سے اب تم بوجھل سے ہوتے چلے جا رہے ہو۔
میں جانتی ہوں کے جب میں بولتی ہوں تو تمہارے پاس سامعین بننے کے سوا کوئی راستہ نہیں رہتا تھا۔میں یہ بھی مانتی ہوں کے اکثر کسی ایک ہی واقعہ کو بار بار تمہیں سنانے بیٹھ جاتی تھی۔اور تم بھی اسی لئے سننے بیٹھ جاتے کے نہ سُن کر تم میرے شکوے سننا نہیں چاہتے تھے۔
مجھے معلوم ہے ہر بار اپنی ہی کہے جانا تمہاری باتوں کو مار دیتا ہے ۔میرے اظہار تمہارے خیالات کو نگل جاتے ہیں۔میرے شکوے تمہارے شکووں کو مار دیتے ہیں۔میرے دکھ تمہارے دکھوں کو تمہاری سوچ میں دفن کرتے جاتے ہیں۔میری بے بسی تمہاری بے بسی کو اور بے بس کردیتی ہے۔میرا خوف تمہارے خوف کو مزید خوفزدہ کر دیتا ہے۔میرے اندیشے تمہارے اندیشوں کو سہما دیتے ہیں۔
جب سے تم میری نظروں میں سمائے ہو میں نے تمہاری بینائی چھینے کے ساتھ ساتھ تم سے بولنے کی قوت بھی چھین لی ہے۔بلکہ یوں ہی سمجھ لو کے میرا صرف بولنا ہی تمہیں قوت گویائی سے محروم کرتا گیا۔اب تم بول سکتے ہو مگر خاموش ہو۔میری آواز نے تمہاری آواز کو بے وقعت کر دیا ہے۔
جب سے تم سے دل لگایا ہے تمہارا دل ہی قابو کر لیا ہے۔اب تم کچھ بھی نہیں۔رفتہ رفتہ تم پر اور تمہارے ارد گرد صرف میں ہی ہوں۔میری ہی آواز ہے۔میرا ہی وجود ہے۔ایسا بھی کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کے تمہارے گرد اب صرف میری باتوں کا ہالہ ہے ۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کے تمہارے وجود کو اپنی محبت کے حصار میں لے کر روشن کرتی۔مگر ہوا کچھ یوں کے تم میری باتوں کے جال میں پھنس کر بالکل مکڑی کے جال میں پھنسے کیڑے کی مانند ہو۔جو چاہ کر بھی وہاں سے نکل نہیں سکتا اور رفتہ رفتہ ختم ہو جاتا ہے۔تم بھی اسی طرح میری آواز کے جال میں پھنس کر ختم ہوتے جا رہے ہو۔میں محسوس کرنا چاہوں کے تمہاری آواز کیسی ہے تو یقین جانو تمہاری آواز ہی بھول بیٹھی ہوں۔مجھے یاد پڑتا ہے جب تم نے پہلی بار کہا تھا میں تم سے محبت کرتا ہوں اس وقت تمہاری آواز سات سروں میں آٹھواں اضافہ معلوم ہوئی تھی جیسے دھنک کے سات رنگوں میں آٹھواں رنگ میرے چہرے پر پھیلا ہوا محبت کا رنگ تھا۔تمہاری آواز تمہارے حلق سے کم اور آنکھوں سے مجھ تک پہنچتی تھی اور مجھے بھی سننے کے لئے کانوں کی نہیں بلکہ دل کی ضرورت ہوا کرتی تھی۔تمہاری پلکیں یہ کہتے ہوئے کے میں تم سے محبت کرتا ہوں سات بار جھپکی تھی ۔گویا یہ سات بار جو پلکیں جھپکی تھی تم نے یوں لگا جیسے کائنات نے محبت کے اظہار کو نئی سات زبانیں سیکھ لی ہیں۔
مگر اب تم خاموش ہو۔اور جانتے ہو تمہاری خاموشی کی مسلسل چیخیں میری سماعت کو برباد کر رہی ہیں۔ کیونکہ خاموشی ہی در حقیقت بھیانک چیخ ہوتی ہے۔وہ چیخ جو تمہارے خاموش دل سے نکل نہ سکی مگر میرے چیختے دماغ کی نسیں پھاڑ کر اب اس کو مفلوج کر رہی ہے۔بہتر ہے تم ان چیخوں کا گلا گھونٹ کر ان کو خاموش کروا دوں اور کچھ بول پڑو ورنہ تمہیں خاموش کروانے کا فسوں مجھے اب جینے نہیں دیتا۔
اے میرے صاحبِ روح, کچھ بولو کچھ الفاظ کہو شکوہ ہی سہی مگر اپنی آواز کی خیرات عطا کرو ۔وہ لفظ بولو جو میرے لفظوں نے اپنے بوجھ تلے دبا دیئے ۔آج ہر بوجھ کو اتار کر اسلئے بولو کے تمہاری مجرم اپنے جرم کا اعتراف کر چکی ہے۔اس کو سزا سنا کر عذاب سے رہا کر دو ۔تمہاری سزا میری جزا بن جائے گی۔اور اگر تم خاموش رہے تو یہ رہائی در حقیقت مجھے افسوس کے اندھیرے زندان میں تمہاری بے بسی کی زنجیروں میں جکڑ کر تمہاری اداسی کے ناگ سے ڈسواتی رہے گی۔

میرے پیارے !
مگر میں جانتی ہوں میں کسی رحم کی مستحق ہی نہیں۔کیونکہ میں نے تمہیں تم سے چھین کر خود کا بھی نہ ہونے دیا۔میں نے تمہیں محبت کا احساس دلا کر جو محبت کا بیج تمہارے دل میں بویا اس بیج سے اگنے والے پیڑِ محبت کے نیچے نہ تمہیں قیام کرنے دیا نہ خود کیا۔جو چاہت اپنی آنکھوں سے تمہاری آنکھوں میں بھری اس کو انگارے میں بدل کر خود بھی راکھ ہو گئی  اور تمہیں بھی جلا دیا۔
مگر آج اقرارِ محبت کرنے والی تم سے اقرار جرم بھی کرتی ہے۔وہ جرم جن کی سزا دنیا کا کوئی قانون نہیں دیتا مگر محبت کی دنیا میں یہ جرم توہینِ محبت کے زمرے میں آتے ہیں اور توہین محبت کی سزا محبت کا چِھن جانا ہے۔اور یہ سزا اب مزید جھیلنا میرے لئے آسان نہیں۔مجھے محبت کی گرفت میں قید کر کے اس زندانِ ہجر سے نکال لو۔
میرے پیارے !
میں ہمیشہ تم سے الجھ کر خود بھی شرمندہ سی ہو جاتی تھی۔ہمیشہ ہی بحث کے بعد خود سے نظریں ملا نہیں سکتی تھی ۔ہمیشہ ہی تم سے سوال جواب کرنے کے بعد اپنے تمام جوابات کو اپنے ہی قدموں تلے روند دیتی تھی۔میں شدید الجھن میں ہوتی تھی تو دنیا کی روشنی میں بھی دیکھنے سے قاصر رہتی ۔قوت سماعت ہونے کے باوجود بھی سننے سے قاصر رہتی ۔عقل و شعور بس نام کا رہ جاتا ۔ ہزار کوشش کرتی کے کسی بھی طرح سے اتنا نہ الجھوں کے الجھن کے دھاگے ایک طرف مجھے ادھیڑنا شروع کر دیں اور دوسری طرف تمہاری ذات کو۔ میں تو تمہیں ادھیڑنا نہیں چاہتی تھی بلکہ تم کو بُننا چاہتی تھی۔ اپنی محبت سے ,اپنی توجہ سے, اپنے وجود میں موجود تمہاری محبت کے سکون سے, اپنے دل میں موجود تم سے عشق سے۔مگر ہمیشہ بُننے کی بجائے تمہیں اور خود کو ادھیڑ بیٹھتی۔
پھر اتنی دور جہاں سے نہ میں تمہیں دیکھ سکتی نہ تم مجھے ۔ہم دونوں اپنے ادھڑے ہوئے وجود کو لئے سسکتے رہتے ۔گھٹتے رہتے ۔اور اسی طرح تڑپتے ہوئے خود سے لپٹ کر میں روتی رہتی تھی۔اور تم بے بسی کی مورت بنے اپنے سامنے میرا بکھرا ہوا وجود بھی دیکھ رہے ہوتے تھے اور اُسی لمحے اپنے بکھرے ہوئے وجود سے مزید نفرت بھی کر رہے ہوتے تھے۔ اور سوچ کے گہرے سمندر میں بے بسی کی سیپ بنے تم سوچتے رہتے کے کاش تم سب کچھ ٹھیک کر لیتے۔کے کاش تم مجھے یوں بکھرنے نہ دیتے۔
تمہارے پاس صرف کاش رہ جاتا تھا۔اور میں بہت آرام سے ہر آس کو روند دیتی تھی۔
میں جانتی ہوں میرا یہ پاگل پن تمہیں رفتہ رفتہ کھا گیا۔ جس لمحے مجھے تمہارے لئے سکون بننا تھا۔جس وقت تمہاری خوشی ہونا چاہئے تھا۔ جس وقت ہمیں محبت کی داستانیں بُننی تھیں۔جس وقت ہمیں محبت کے اظہار کے لئے مختلف طریقے ڈھونڈنے تھے۔وہ تمام وقت میری بے یقینی کی نذر ہوتا گیا۔وہ وقت میری بے سکونی نگلتی گئی ۔
میں جانتی ہوں تمہیں بھی بے یقینی کی آندھی کا اتنا ہی سامنا تھا جس طرح مجھے تھا۔ تمہیں بھی مستقبل ایک بلیک ہول لگ رہا تھا۔ جدائی کا خوف تمہیں بھی تھا۔اور ایسے میں یہی میرے تمام خوف تمہارا ہر خوف دگنا کر دیتے۔تم خود کے خوف سے بھی لڑ رہے ہوتے اور میرے خوف سے بھی ۔تمہارا خوف تو شائد تم اپنی سوچ اور سمجھ سے کچھ دیر میں ختم کر لیتے۔مگر میرا خوف کسی صورت نہ ختم ہوتا تھا اور نہ تمہیں سکون ملتا تھا ۔اس خوف کو مات دینے کو تم لمحہ لمحہ لڑتے اپنے آپ سے لڑتے رہے۔لمحہ لمحہ الجھتے رہے کبھی اپنے دل سے اور کبھی سوچ سے مگر ہمیشہ ناکام رہتے۔اور پھر بکھر جاتے۔
جانتے ہو صاحبِ من !
کہ تمہارے وجود میں موجود بے یقینی یا مستقبل کا خوف یا ڈر یا جدائی کا خوف تمہارا نہیں ہے۔میرا منتقل کیا ہوا ہے۔میں سوچوں کے مینار تعمیر کرتی ہوں۔ان میناروں پر بے یقینی کا رنگ کرتی ہوں۔مستقبل کے خوف کے یہ مینار تمہاری ذات میں بناتی جاتی ہوں اور تم انکا بوجھ اٹھاتے چلے جا رہے ہو اور کبھی شکوہ نہیں کرتے۔کبھی اعتراض نہیں کرتے۔کبھی میرا یہ منتقل کیا گیا خوف تم جھٹکتے نہیں کبھی یہ میری اذیت کو نفرت سے پھینکتے نہیں۔بلکہ ان سے بھی اتنی محبت کرتے ہو جتنی کے مجھ سے۔
میں اعتراف کرنا چاہتی ہوں میرے پیارے !
کے میں کہیں نہ کہیں تمہاری مجرم ہوں۔تمہیں بے فکری سے اچانک فکر میں مبتلا کرنے پر معذرت چاہتی ہوں۔تم اس اذیت کے حقدار نہ تھے۔
اپنی گنہگار کو معاف کر کے پھر سے بارش کے قطروں کی مالا بنا لاؤ۔پھر سے تتلیوں کے پروں کا تاج بنا لاؤ پھر سے پھولوں کے رنگوں کا لباس بنا لاؤ۔پھر سے دھنک کے رنگوں کی چُنری بنا لاؤ۔ آؤ پھر سے عُہدِ محبت میں نئے عہد کریں ۔

فقط
تمہاری مجرم!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *