محبت شیشے سی۔۔رمشا تبسم

پاؤں تک لمبے کالے فراک میں آہستہ سے چلتی ہوئی وہ کھڑکی کے پاس رُک کر چاند کو  دیکھنے لگی۔چاند کی روشنی میں اسکے چہرے پر پڑی انتظار کی لکیریں واضح تھیں۔اسکے چہرے پر بکھری زلفیں ہوا سے لہرا رہی تھیں اور وہ آسمان پہ نظریں جمائیں کچھ سوچنے میں مصروف تھی۔یکدم ہوا نے کھڑکی کو بند کرنے کی کوشش کی، تو اس نے ہاتھ کا سہارا دے کر کھڑکی کو روک کر ہاتھ میں پہنا ایک گنگن کھڑی کے نیچے اٹکا دیا ،تاکہ کھڑکی بند نہ ہو، اور کمرے میں چودہویں کے چاند کی روشنی موجود رہے۔وہ دبے قدموں واپس مڑ،اُس کا وجود بوجھل تھا ۔صدیوں کی تھکاوٹ چہرے سے زیادہ چال سے محسوس ہو رہی تھی۔اُس کا دوپٹہ کندھے سے سرک کر نیچے پاؤں میں گر چکا تھا۔پاؤں میں پہنی پائل کی آواز کمرے کی خاموشی میں واحد خلل نہیں تھی بلکہ اسکی بے ربط سانسیں اور تیز دھڑکتا دل بھی اِس اندھیرے کمرے کی خاموشی کو توڑ رہا تھا۔چلتے ہوئے رُک کر اُس نے گہرا سانس لیا اور گھٹنوں کے بل نیچے بیٹھ گئی ۔بالوں کی ایک لٹ کو انگلی پر گھما کر چھوڑا تو وہ بل کھاتے ہوئے اسکے رخساروں سے ہوتی ہوئی تھوڑی پر آ کر رک گئی ۔اس نے ہلکا سا سر کو جھٹکا دے کر بالوں کو پھر سے لہرایا اور دونوں ہاتھ نیچے رکھ کر مدہوش نگاہوں سے دیکھنے لگی۔ اور پھر اُس کو ہاتھ سے چھو کر مخاطب ہوئی۔۔

“میں تمہیں چھو کر زندہ تو کر لوں مگر میں جانتی ہوں تم زندہ ہو کر مجھ سے پھر بے پرواہ ہو جاؤ  گے۔ بے پرواہی تو آ گہی سے زیادہ خطرناک ہے۔جانتے ہو کیوں؟
کیونکہ آگہی تو صرف شعور کی حدود میں داخل ہونے کے لئے لاشعور کی دیواریں گراتی ہے۔اور بے پرواہی تخلیلاتی رقص کو مات دے کر شعور کا ہر مینار گرا دیتی ہے اور کچھ باقی رہتا ہے تو صرف لاشعور میں موجود ایک وہم۔وہ وہم جوبار بار احساس دلاتا ہے کے میں کچھ بھی تو نہیں ہوں تمہارے لئے۔ وہم یا شاید حقیقت مگر حقیقت تو وہم سے بھی  زیادہ تکلیف دہ ہے۔جیسے یہ حقیقت کہ  میں ہر پل موجود نہ ہو کر بھی تمہارے گرد موجود رہتی تھی۔اور تم موجود ہو کر بھی نہیں ہوتے تھے۔اور جیسے اب یہ حقیقت کہ  تم موجود ہوتے ہو مگر اب میں ہی کہیں موجود نہیں رہی”۔

وہ بازو اُس کے اوپر رکھ کر اس طرح لیٹ گئی  جیسے کوئی طویل عرصہ سراب کے پیچھے بھاگنے کے بعد سراب کا سراغ لگا کر سکون سے سو جاتا ہے۔لیٹتے ہی اس کی زلفیں اسکی پشت پر پہرہ دینے لگیں  اور آنکھوں کا کاجل بہتا ہوا لبوں تک آ گیا۔۔وہ پھر مخاطب ہوئی۔۔۔۔
“چھوڑو یہ سب باتیں۔ اب چونکہ تم میرے پاس ہو اور صرف میرے رحم و کرم پر تو اب بھلا کیسا شکوہ کیسی شکایت ؟
بھلا کسی کو حاصل کر کے بھی شکایت کی جاتی ہے؟کسی کو مکمل اپنی گرفت میں لے کر بھی شکوہ کیا جاتا ہے؟
نہیں۔ ذرا سا بھی نہیں۔۔شکوہ تو لاحاصل سے ہوتا ہے اور تم تو میری زیست کا واحد حاصل ہو۔
تمہارے ماتھے کو اپنے گلابی لبوں کا بوسہ جو بار بار دے رہی ہوں، اس لئے نہیں کہ  تمہیں اسکی چاہ ہے۔بلکہ ا س لئے کہ  مجھے حسرت ہے۔اور حسرتیں جب ایک طویل عرصہ  تک ادھوری رہ جائیں تو بانجھ ہو جاتی ہیں۔اور پھرجب کبھی کرشمہ ہو کہ  حسرتوں کی کوکھ بھر جائے تو یونہی اپنی چاہت لٹائی جاتی ہے۔تو ہو نا تم خوش نصیب کہ  میری حسرتوں کی کوکھ بھرتے ہی تم پر اپنی محبت لٹائے جا رہی ہوں۔

یہ جو تمہارے ماتھے پر بکھرے کچھ بال ہیں نا، یقین مانو  ہوا سے جب ذرا سا ہلتے تھے تو محسوس ہوتا ہے ہوائیں گنگنا رہی ہیں۔اور یہ جو تمہارے نچلے ہونٹ کی لکیر کے دائیں جانب دو تِل ایک دوسرے سے فاصلے پر کھڑے ہیں تو ایسےمحسوس ہوتا ہے کہ  ہمارے دل ہیں۔ ایک میرا دل جس کے بالکل نیچے تمہارا دل ۔اور ان دو دلوں پر حکمرانی کرتی تمہاری شرارتی ہنسی۔جو ان دو دِلوں میں حرکت پیدا کرتی ہے تو لگتا ہے کہکشاں کے دو روشن ستارے ہماری محبت کے دیدار کو آئے کھڑے ہیں۔

مگر میرے پیارے! میں نے جب تمہیں دیکھ کر جینا شروع کیا۔تم اُس وقت مجھ پر مکمل مر مٹنے کا فیصلہ کر چکے تھے۔میری زندگی کا نیا آغاز در حقیقت تمہارا موت کی طرف سفر شروع کر چکا تھا۔ اب میں زندہ ہوں مگر مردہ سی اور تُم مُردہ ہو مگر زندہ سے”۔

یہ کہتے ہی وہ کھڑی ہوئی اور چلتے ہوئے دوسری طرف آئی۔ بازو پھیلا کر گہرا سانس لیا۔۔۔
“میں اب تمہارے قدموں میں کھڑی ہوں۔۔خاک ہونے کو،مگر آج میں تمہیں خود میں ہر صورت ضم کر لوں گی۔تم کو مکمل خود میں اتار لوں گی۔تمہارے لمس کے سرور سے اپنی خواہشوں کی آبیاری کروں گی”۔

چاند بدلی کے پیچھے کبھی چھپتا تو کمرہ مکمل تاریکی میں ڈوب جاتا۔ہوا کمرے میں داخل ہو کر اسکے چہرے پر بکھری زلفوں میں عجیب لرزہ طاری کیے ہوئے تھی۔گہرا سانس لے کر اس نے آنکھیں بند کیں  اور آہستہ سے خود کو نیچے محبوب کے وجود کی طرف گرا دیا ۔گرتے وقت اسکی پلکوں سے لٹک رہے آنسو پہلے گر کر اسکے محبوب کا وجود پاک کرنے کی سعی کرتے محسوس ہو رہے تھے۔

اچانک کمرے میں کانچ ٹوٹنے کی زور دار آواز سے باہر درخت پر بیٹھے پنچھی چیخنے لگے۔چاند نے بدلی کے پیچھے سے نکل کر کمرے میں روشنی کی۔زمین پر موجود قد آور شیشہ مکمل ٹوٹ چکا تھا۔اُس شیشے پر پڑا ہوا اُسکا کالے لباس میں وجود بھی اب مکمل کرچی کرچی تھا۔شیشے پر بنی تصویر کے ہونٹ کا ایک حصہ اُس کے ہونٹوں میں پیوست تھا اور کانپتے ہوئے ہونٹوں سے اب مسلسل خون بہہ رہا تھا ۔بکھرے ہوئے شیشے میں بنی تصویر جو ٹکڑے ٹکڑے ہو چکی تھی اب لہو سے مکمل رنگی جا   چکی تھی۔اسکی مدہوش آنکھیں شیشے پر بنی  محبوب کی زلفوں کی تصویر کے ٹکڑوں سے زخمی تھیں ۔

چاند نے واپس بدلی کی اوٹ میں منہ چھپا لیا۔اندھیرا اب مکمل اُجالے کو مار چکا تھا۔اور وہ مردہ سی شیشے کے محبوب سے  لپٹ کر کسی اور دنیا میں سفر شروع کر چکی تھی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *