زندگی کی مسکراہٹ ۔ زندگی (6) ۔۔وہارا امبار

قدیم یونانی فلسفیوں کا کہنا تھا کہ زندگی جادوئی شے ہے۔ یہ ارسطو کا ensoulment کا تصور تھا۔ اسی قسم کا خیال چینی فلسفے میں chi کی صورت میں تھا۔ دنیا کو سمجھنے کے طریقے میں تبدیلی آئی۔ حرکت اور قوت کو میکانیکی بنیادوں پر سمجھنے کا سلسلہ عرب اور فارس کے سکالرز ابن الہیثم اور ابنِ سینا کے دور سے شروع ہوا۔ گلیلییو اور نیوٹن کے بعد رفتار پکڑی اور انیسویں صدی کے آخر تک فزکس کا بنیادی فریم ورک اسٹیبلش ہو چکا تھا۔ حرارت اور روشنی مادے کے ساتھ تعامل کر کے اسے گرم کر سکتی ہے، رنگ تبدیل ہو سکتا ہے، روشنی نکل سکتی ہے۔ گریویٹی اور الیکٹرومیگنٹزم کی قوتیں اثرانداز کس طریقے سے ہوتی ہیں؟ یہ سمجھا جا چکا تھا۔

زندگی کو ایک وقت تک میکانیکی قوتوں سے الگ سمجھا جاتا تھا لیکن یہ ایک غیرتسلی بخش خیال تھا۔ ویسا جیسے گریویٹی کو سمجھے بغیر چاند کو دیکھ کر کہہ دیا جائے کہ یہ کسی غیرمرئی رسی سے لٹکا ہوا ہے۔ ڈیکارٹ نے پہلی بار یہ خیال پیش کیا کہ پودے اور جانور عمدہ مشینیں ہیں۔ جن میں پمپ، پسٹن، کیم شافٹ جیسی اشیاء ہی ہیں اور حرکت کے انہی اصولوں کے تابع ہیں جن کے تابع بے جان اشیاء ہیں۔ جس طریقے سے سٹیم انجن چلتا ہے، جاندار اشیاء کی حرکت بھی انہی کے مثل ہے۔

سٹیم انجن میں مالیکیول حرارت کی وجہ سے پسٹن پر ٹکریں مار کر اس پر قوت لگاتے ہیں اور گیندوں کی طرح ٹکراتے مالیکیولز گئیر، شافٹ، چین اور پہیوں کی مدد سے یہ کسی سمت حرکت کر سکتا ہے۔ کیمیائی پراسس سے حرارت، حرارت سے حرکت۔ اور اس حرکت کے لئے جسمانی سٹرکچر۔ توانائی کا منبع اسی طرح کے ٹکریں مارتے مالیکیول ہیں۔ اور پیچیدہ پراسس ممکن ہوتے ہیں۔ ترتیب اس بنیادی بے ترتیبی سے ابھرتی ہیں۔ یہ بولٹزمین کا پیشکردہ تھرموڈائنامک ویو ہے۔

تو کیا زندگی تھرموڈائنکس کی ایک شاخ ہے؟ کیا پٹری پر بھاگتا بھینسا اور سٹیم انجن، بنیادی طور پر ایک ہی ہیں۔ کیا زندگی کا سپارک، سٹیم انجن کی طرح رینڈم مالیکیولر حرکات ہیں؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک خلیے کو جب طاقتور خورد بینوں سے دیکھا گیا تو اس کے اندرونی سٹرکچرز کی پیچیدگی کا اندازہ ہوا۔ ایک خلیہ ایک ننھی سی مصروف مینوفیکچرنگ فیکٹری ہے۔ یہ کیسے چلتی رہتی ہے؟ ایک وقت میں خیال تھا کہ اس میں کوئی “وائٹل فورس” ہے۔ اور یہ خیال انیسویں صدی کے وسط تک رہا۔ ایک فورس جو زندہ چیزوں میں ہوتی ہے اور جو زندہ نہیں، ان میں نہیں۔ اور ان کی کیمسٹری الگ ہے۔ لیکن پہلی بار نامیاتی پراڈکٹ 1828 میں بنا لی گئی۔ بعد میں لوئیس پاسچر کے تجربات کے بعد یہ معلوم ہو گیا کہ ایسی کوئی پوشیدہ فورس نہیں۔ بائیوکیمسٹری میں کوئی چیز عام کیمسٹری کے قوانین سے مختلف نہیں۔ وائٹلزم رفتہ رفتہ ختم ہوتا گیا اور انیسویں صدی کے آخر میں یہ خیال مکمل طور پر دم توڑ چکا تھا۔ خلیے بائیوکیمیکل بیگ ہیں۔ زندگی تھرموڈائنکس ہے۔

اگلا بڑا مسئلہ ۔۔ جو وراثت اور نئے جاندار کا عقدہ تھا ۔۔ 1953 تک حل ہو گیا جب ڈی این اے کا سٹرکچر معلوم کر لیا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لیوس کیرول کے لکھے ایلس ان ونڈرلینڈ میں ایک کردار چیشائیر بلی ہے جو غائب ہو جاتی ہے لیکن مسکراہٹ چھوڑ جاتی ہے۔ بائیولوجی میں کام کرنے والوں کو کئی بار ویسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب یہ جانتے ہوئے بھی کہ خلیوں میں تھرموڈائنمکس کیسے کام کرتی ہے اور جین کیسے ہر شے کا کوڈ رکھتی ہیں جو خلیہ بناتی ہیں۔ زندگی کا اسرار ایک ویسی ہی مسکراہٹ چھوڑ جاتا ہے۔

ایک مسئلہ ہر خلیے میں ہونے والے بائیوکیمیکل ری ایکشن کی بے انتہا پیچیدگی ہے۔ جب کیمسٹ مصنوعی طور پر امینو ایسڈ تیار کتے ہیں یا شوگر بناتے ہیں تو تقریباً ہمیشہ ایک وقت میں ایک پراڈکٹ بناتے ہیں۔ اور اس کو بڑی احتیاط سے کنٹرول کی گی تجرباتی کنڈیشن میں کیا جاتا ہے۔ حرارت اور اجزاء کی مقدار میں بہت احتیاط برتی جاتی ہے تا کہ سنتھیسز ہو سکے۔ یہ آسان کام نہیں اور خاص بنی فلاسک میں حالات کا کنترول کرنے، کنڈنسر، فلٹریشن کے آلات اور دوسرا کیمیائی آپریٹس درکار ہوتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف جسم کا ہر خلیہ مسلسل ہزاروں مختلف طرح کے بائیوکیمیکل پیدا کر رہا ہے اور اس ری ایکشن چیمبر میں ایک مائیکرولیٹر کے ایک ملین حصہ مائع بھرا ہے۔ یہ سب الگ مختلف نوعیت کے ری ایکشن اکٹھے کیسے ہوتے ہیں؟ اور اس سب مالیکولر ایکشن کے آپس میں تال میل کیسے ہوتی ہے؟ یہ سوال سائنس کے نئے شعبے سسٹمز بائیولوجی کا فوکس ہیں اور یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ سسٹمز بائیولوجی میں ابھی بہت چیزوں کا علم نہیں ہے۔

زندگی کا ایک اور معمہ موت ہے۔ کیمیائی ری ایکشن کی ایک خاصیت یہ ہے کہ ان کو ہمیشہ پلٹایا جا سکتا ہے۔ جب ہم ایک سمت میں ری ایکشن لکھتے ہیں کہ سب سٹریٹ سے پراڈکٹ بنی تو حقیقت میں اس کے برعکس ری ایکشن بھی ہمیشہ ہو رہا ہوتا ہے۔ صرف رفتار کا فرق ہوتا ہے جس کی وجہ سے ایک سمت میں ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ فوسل فیول سے گرین ہاوس گیس بننا بھی ری ایکشن کی حد تک ریورس کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس مردہ خلیے سے زندہ خلیے کا ری ایکشن کبھی دریافت نہیں ہوا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس وقت شاید آپ کہیں کہ سنتھیٹک بائیولوجی کے بارے میں کیا خیال ہے؟ یقیناً اس میں کام کرنے والوں کے پاس زندگی کے اسرار کی کنجی ہو گی۔ کریگ وینٹر کے 2010 کے کام سے اٹھنے والی ہلچل؟ جب انہوں نے مصنوعی زندگی تخلیق کر لی تھی اور دنیا بھر میں ہیڈلائن بنی تھیں۔ یا برطانیہ میں 2019 میں بیکٹیریا تیار کرنے کی خبر؟

جی، یہ کام بلاشبہ بڑا کارنامہ تھے۔ لیکن یہ اس نوعیت کا کام تھا جیسے خوراک جسم کا جزو بنتی ہے۔ اس کام سے بہتر ادویات کی تیاری، زرعی پیداوار میں اضافے یا آلودگی کم کرنے جیسے کام لئے جا سکتے ہیں۔ لیکن زندگی کا بنیادی اسرار ابھی مسکرا رہا ہے۔ ہم بائیوکیمیکل مکس کر سکتے ہیں۔ ان کو گرم کر سکتے ہیں۔ ان میں شعاعیں داخل کر سکتے ہیں۔ بجلی کے جھٹکے سے ان میں حرکت پیدا کر سکتے ہیں لیکن وہ طریقہ جس سے انہیں زندہ خلیوں کا حصہ بنا سکیں؟ وہ طریقہ ابھی بھی ان کیمیکلز کو پہلے سے زندہ خلیوں میں انجیکٹ کر کے ان میں ترمیم کرنا ہے (یا کھا کر اپنے خلیوں کا حصہ بنا لینا ہے)۔

اس کے بارے میں ایک اور نقطہ نظر لینے ہمیں فزکس کے مشہور سائنسدان ارون شروڈنگر کے ستر سال پہلے کے کام کو دیکھنا پڑے گا جب انہوں نے اس سوال پر غور کیا تھا، “زندگی کیا ہے؟”۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شروڈنگر نے اپنے پیپر میں استدلال کیا تھا کہ بڑے آبجیکٹس میں شماریاتی لحاظ سے بڑے اعداد کی وجہ سے ہمیں بے ترتیبی سے ترتیب کا ظہور ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ ایسا چھوٹے آبجیکٹ میں نہیں ہو سکتا۔ ایک بڑا غبارہ اپنا سائز اس لئے برقرار رکھتا ہے کہ اس میں ان گنت مالیکیول ہیں۔ اگرچہ یہ خود بے ہنگم طریقے سے حرکت کرتے ہیں لیکن بڑے اعداد کے قانون کی وجہ سے یہ مستحکم ہے۔ بہت ہی چھوٹا غبارہ رینڈم وجوہات کی بنا پر حجم برقرار نہیں رکھ سکتا۔ یہ سکڑے اور پھیلے گا۔ کلاسیکل فزکس کے شماریاتی قوانین کی حد اس وجہ سے ہے۔ اور یہ وجہ ہے کہ کلاسیکل قوانین اس وقت قابلِ اعتبار طریقے سے کام کرتے ہیں جب ذرات بہت سے ہوں۔

کیا زندگی کلاسیکل فزکس سے ابھر سکتی ہے؟ جب شروڈنگر نے اس سوال پر غور کیا تو ان کا اندازہ تھا کہ زندگی کی صرف تھرموڈائننامکس کی بنیاد پر وضاحت نہیں کی جا سکتی۔ کیونکہ بائیولوجیکل مشینوں میں سے کچھ اس قدر چھوٹی ہیں کہ اس سطح پر کلاسیکل قوانین فٹ نہیں ہوتے۔ ان کی پیش کردہ ایک مثال وراثت کی تھی۔ شروڈنگر کا خیال تھا کہ زندگی ایک کوانٹم فینامینا ہے جو ہوا میں اڑ سکتا ہے، دو یا چار ٹانگوں پر بھاگ سکتا ہے، سمندر میں تیر سکتا ہے، مٹی سے اگ سکتا ہے اور یہ مضمون پڑھ سکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شروڈنگر کے پیپر کے بعد زندگی کے عوامل میں بہت اہم دریافتیں ہوئیں۔ انہوں نے زندگی کو میکانیکی بنیادوں پر سمجھنے میں بہت مدد کی۔ مالیکیولر بائیولوجی، جین کلوننگ، جینیاتی انجینرنگ، جینوم سیکونسنگ میں ہونے والی بڑی پیشرفت میں کوانٹم مکینکس کی ضرورت نہیں محسوس ہوئی تھی۔ اور اگرچہ کبھی کبھار اس دنیا میں جھانک لیا جاتا لیکن بڑی حد تک یہ خیال نظرانداز کر دیا گیا تھا۔

شروڈنگر کے کام پر سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ کوانٹم حالت گرم، گیلے اور مصروف مالیکیولر ماحول میں برقرار نہیں رہ سکتیں۔ ایم آر آئی کے طاقتور مقناطیس یا بہت سرد ماحول کے بغیر کوانٹم حالت برقرار نہیں رہے گی جس کا فائدہ اٹھایا جا سکے۔

جورڈن نے ایمپلی فیکیشن کا خیال پیش کیا تھا جبکہ شروڈنگر نے ترتیب سے ترتیب کا۔ شروڈنگر کا کہنا تھا کہ زندگی کا تفصیلی سٹرکچر اس پیمانے تک لے کر جاتا ہے جو کوانٹم مکینیکل ہے اور یہی وجہ ہے کہ زندگی سپیشل ہے۔ شروڈنگر کے پیپر سے ستر برس بعد آج ہم اس جگہ پر ہیں جہاں ان کا پیش کیا گیا خیال اب واپس مین سٹریم سائنس میں آ چکا ہے۔

کیا زندگی کی یہ باقی رہ جانے والے مسکراہٹ کوانٹم مکینکل ہے؟ اس کے لئے ایک سوال گہرائی میں دیکھ لیتے ہیں “گوشت چولہے پر اتنی دیر سے کیوں گلتا ہے؟”۔

(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *