رویت ہلال اور ہمارا حال۔۔منورحیات

چلیے تیار ہو جائیے۔۔وہی پرانا منظر دیکھنے کے لئے جو ہر سال دہرایا جاتا ہے۔
شعبان کے آخری روز چند جزوی طور پر نابینا،بمشکل اپنی موٹی عینکوں کے عدسوں سے چند فٹ دور تک دیکھ سکنے کی سکت رکھنے والے عمر رسیدہ ہانپتے ،کانپتے اور کھانستے بابوں کو کندھوں پر اٹھا کر چند اونچی عمارات کی چھتوں پر پہنچا دیا جائے گا۔جہاں پاکستان کے خلائی تحقیق کے ادارے  سپارکو کی طرف سے چند پرانی دور بینیں ایستادہ کی جا چکی ہوں گی۔
دوربین خالص سائنسی ایجاد ہے،اور دور بین سے پہلی تاریخوں کا چاند تلاش کرنا ایک خالص سائنسی مظہر کی جانچ کا سائنسی علم۔۔

ظاہر ہے یہ عمل علم فلکیات پر دسترس رکھنے والا کوئی سائنس دان ہی سرانجام دے سکتا ہے۔اس کا منطقی طریقہ تو یہ ہونا چاہیے تھا،کہ فلکیاتی مشاہدہ گاہ میں ،مفتیان ِ کرام کی موجودگی میں،ماہرین فلکیات رویت ہلال کا کام سرانجام دیتے،اور علماء کرام و مفتیان عظام کو وہیں پر اپنی رپورٹ پیش کرتے ہیں۔جس کی بنیاد پر یہ مذہبی رہنما رویت ہلال کا اعلان بعد میں ٹی وی اور ریڈیو پر کر کے ساری قوم کو اس مبارک ساعت کے بارے مطلع کرتے۔

لیکن یہاں تانگہ گھوڑے کے آگے باندھنے کی روایت ہے۔جن احباب نے کبھی کسی سائنسی کتاب کو کھول کر بھی نہ دیکھا ہو،بنیادی سائنسی علوم ،جیسا کہ فزکس اور فلکیات کی الف ب سے بھی نا آشنا ہوں ،بلکہ ان میں سے کچھ تو انہیں شیطانی اور کفریہ علوم قرار دینے سے بھی نہ کتراتے ہوں، وہ بھی شعبان کے آخری روز سر ِ شام ہی دور بینوں سے چمٹے نظر آتے ہیں۔

اس کی مثال ایسے ہی ہے ،جیسا کہ کسی حجام کو آپریشن تھیٹر میں بلا کر اسے کسی مریض کے دل کے آپریشن پر مامور کر دیا جائے۔یا کسی کوچوان کو بوئینگ 777 کے کاک پٹ میں بٹھا کر اسے جہاز اڑانے کا فریضہ سونپ دیا جائے۔
اس لاحاصل مشق کا نتیجہ ہر سال سر پھٹول کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔

ایک طرف جہاں مفتی منیب الرحمٰن جیسے بابے چاند دیکھنے کی تگ و دو میں ابھی اپنی عینکوں کے شیشے صاف کرتے نظر آتے ہیں،وہی دوسری طرف پشاور میں مفتی پوپلزئی صاحب تو جیسے چاند اپنی جیب میں لیے پھرتے ہیں۔ادھر بابے دور بینوں کے پیچھے پہنچے بھی نہیں ہوتے کہ ،مفتی پوپلزئی چاند ہتھیلی پر سجا کر پیش بھی کر دیتے ہیں۔

ایک جانب جہاں مفتی شہاب الدین پوپلزئی عرصہ دراز سے ملک میں دو عیدیں منانے کے یک نکاتی منشور پر عمل پیرا ہیں،وہیں دوسری طرف مفتی منیب الرحمٰن تاحیات رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

مفتی پوپلزئی وہ غازی ہیں جو چاند دیکھنے کی سالانہ جنگ میں ہمیشہ بازی لے جاتے ہیں۔۔جبکہ مفتی منیب الرحمٰن وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کے بیانیاتی حملوں کے باوجود،

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا،
کی عملی تفسیر بن کر اپنے محاذ پر ڈٹے ہوئے ہیں۔۔

حالانکہ وزیر سائنس و ٹیکنالوجی کا موقف کافی معقول تھا،کہ رویت ہلال کا فیصلہ کرنا ماہرین فلکیات کا کام ہے،لیکن ظاہر ہے ہمارے معاشرے میں معقول بات کہنے یا سننے کی گنجائش ہی کتنی ہے،بیچارے اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔

بد قسمتی کی بات تو یہ ہے کہ یہ تمام سرپھٹول صرف رمضان کا چاند دیکھتے ہوئے ہی ہوتی ہے۔باقی مقدس ایّام جیسا کہ حج اور محرم الحرام کے مہینوں کا فیصلہ بلاد عرب میں چاند کی رویت کے مطابق ہی کر لیا جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اب ایک ایسے دور میں جب کہ ساری دنیا سمٹ کر ایک گلوبل ویلیج کی صورت اختیار کر چکی ہے،اور باقی مہینوں کے مذہبی تہواروں کے وقوف پر ہم عرب ممالک سے آئی ہوئی رویت ہلال کو ہی درست مانتے ہیں۔اور حج اور نویں دسویں محرم الحرام پوری دنیا میں ایک ہی دن منائی جاتی ہے،تو رمضان کریم کی شروعات اسی دستور کے مطابق اسی دن کیوں نہیں ہو سکتی۔جس دن مکة المکرمہ میں رمضان المبارک کا اعلان ہو جائے۔

منور حیات
منور حیات
ملتان میں رہائش ہے،مختلف سماجی اور دیگر موضوعات پر بلاگ لکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *