شام ، توہین رسالت اور کافر لوگ۔۔افراز اختر

پرانے زمانے کی ایک مزاحیہ کہانی ہے کہ کسی سکھ نے ایک گاؤں میں جاکر دکان کھولی اس دکان سے علاقہ کے مولوی صاحب سودا سلف لینا شروع ہوگئے۔ جب سکھ نے مولوی صاحب سے سودے سلف کے پیسے طلب کیے تو مولوی صاحب نے کہا کہ ابھی تمہیں اس گستاخی کا مزہ چکھاتا ہوں اور مسجد جا کر سپیکر کھولا اور اعلان کیا کہ حضرات فلاں سکھ سے سودا نہ خریدیں کیونکہ وہ وہابی ہوگیا ہے ۔ پھر کیا تھا اس کی دکان پر ویرانی چھاگئی۔ پریشان ہو کر سکھ نے مولوی صاحب کے پاس حاضری دی اور اپنی طرف سے گستاخی کی معافی مانگی اور واجبات نہ طلب کرنے کا وعدہ کیا تو مولوی صاحب نے دوبارہ سپیکر کھولا اور اعلان فرمایا کہ حضرات فلاں سکھ سے سودا لیا کریں کیونکہ اب وہ دوبارہ سکھ ہوگیا ہے  !

یہ کہانی تو ایسے ہی سنا دی بات کرتے ہیں   کچھ ایسے معاملات پر جو آج کل ہر محفل کی زینت ہیں ۔۔

شام!

آج کل شام زیر بحث ہے اور ہمارے لوگ کچھ ایسی تصویریں بھی شئیر کر رہے جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں بلاشبہ شام میں ظلم اور زیادتی ہو رہی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم حقیقت سے ہٹ کر اس کی تصویر پیش کرنا شروع کر دیں پھر ایسا بھی ہوتا ہے کہ پاکستان میں جیسے پی ایس ایل ہو رہا ہے تو لوگ طنز شروع کر دیتے ہیں کہ ان کو شام کا احساس نہیں یا پھر کچھ لوگ،  دیگر   حادثات اور سانحے ،جیسے شام اور پاکستان میں جو واقعات ہوئے ان پر طنز کر کے کہہ رہے ہیں کہ ان پر کیوں زورنہیں  دیا جاتا ۔ اس حوالے سے میری رائے ہے جو غلط بھی ہو سکتی ہے کہ۔۔
ہر حادثے کا دکھ اور افسوس الگ ہوتا ہے آپ ایک حادثے کی وجہ سے یہ نہیں کہہ سکتے ،دوسرا جائز ہے ۔
اس وقت پوری امت مسلمہ ہی میں کہیں کفار کی وجہ سے اور کہیں اپنوں کی وجہ سے ظلم ہو رہا ہے ۔
لیکن موضوع دونوں الگ ہیں ہم کسی ایک کی تکلیف پر دکھ کا اظہار کریں تو طنز دوسرے پر کر دیا جاتا  ہے ،تا کہ اس کے اثر اور شدت کو بھی ختم کر کے بے حس کر دیا جائے ۔
ایسے تو افغانستان بھی ہے ، پھر سعودی اور مڈل ایسٹ میں جو بے  گناہ  پاکستانی قید  میں بند ہیں وہ بھی ہیں ،  کس کس زخم کی بات کریں گے ؟؟

لیکن وہاں  اوریہاں پر ظلم کی نوعیت  مختلف ہے،
وہاں کفار اور ظالمان ہیں اور یہاں معاشرے کی تربیت ہی ایسے انداز میں کی جا رہی ہے جو انتہائی تباہی کی طرف جا رہا ہے ۔
کچھ واقعات متنازع بنا کر آپ  کسی بھی چیز کو جائز  قرار نہیں  دے سکتے ۔

توہین رسالت!

پاکستان میں بہت سے معاملات میں  ایک زاویہ دیکھا جاتا ہے ،اور دوسرا رخ یکسر فراموش کر دیا جاتا ہے۔جیسے عیسائیو ں کے گھر جلائے گئےیہ کہہ  کر انہوں نے قرآن کی بے حرمتی کی بعد میں پتہ  چلا  کہ کوئی ایم این اے وہاں اپنا پلازہ بنانا چاہتا  تھا  ،ایک عیسائی لڑکے اور مولوی صاحب کی لڑکی کے تعلقات تھے اس کو مولوی صاحب نے اپنے پاس بلایا اور کہا میری بیٹی سے دور رہو اس نے کہا یہی بات آپ اپنی بیٹی کو کہیں  ،تو اس بات پر ہاتھا پائی ہوئی جس پر مولوی صاحب نے اس پر الزام لگا دیے اس نے کہا داڑھی رکھ کر جھوٹ بولتے ہیں آپ ۔۔۔۔ تو مولوی صاحب نے مسجد میں اعلان کر دیا کہ اس نے داڑھی کی توہین کی ہے جو کہ سنت رسول ہے لہذا  اس نے توہین رسالت کی ہے پھر ہماری عوام تو جنت کی  انٹری کے لئے بے چین بیٹھی ہے !اس کو مار دیا۔

سیالکوٹ والا واقعہ دو حافظ والا ،جنہیں   مارا گیا، آج تک اس کا درد اور کرب سب محسوس کرتے ہیں ایسا بہت کچھ ہے کہنے کو ، کچھ بھی ہو آپ کسی بھی قتل کو جائز نہیں قرار دے سکتے ۔

کافر قرار دینا!

آج کل اسلام سے نکالنے پر بھی بہت زور و شور سے کام جاری ہے اور اسی محنت کا صلہ ہے کہ پاکستان میں اس وقت مذہب کو نا ماننے والوں کی تعداد تقریباً اسی لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اور امریکہ اور انگلینڈ کے علاوہ پاکستان میں بھی ایسی تنظیمیں وجود میں آ چکی ہیں جو اسلام سے نکالے ہوئے  لوگوں کے تحفظ کے لئے بنائی گئی ہیں  جب عاصمہ جہانگیر کا جنازہ پڑھایا گیا تو اس پر ایک کہرام مچ گیا کہ کیسے پڑھا دیا، یہی کچھ مشال خان کے جنازے پر ہوا۔ اور ایسے ان گنت واقعات ہیں ۔

میں ان تمام علماء سے گزارش کروں گا  ایسے مواقعُ پر ہمارے بزرگوں نے  کیا کِیا تھا وہ بھی دیکھ لیں ۔میں حضرت امام ابو حنیفہ کا قصہ سنا دیتا ہوں کہ ایک بندے نے خودکشی کی تو اس کا جنازہ پڑھانے چلےگئے لوگ ان کے خلاف احتجاج کرنا شروع ہو گئے کہ ایک بندہ حرام موت مرا کافر ہو گیا آپ نے جنازہ کیوں پڑھا ،

آپ نے فرمایا اگر ایک شخص میں %99 کفریہ باتیں ہوں لیکن کلمہ پڑھا ہو تو وہ مسلمان ہے آپ اس کو کافر نہیں قرار دے سکتے باقی جنت اور جہنم کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیں ۔

اور ایک حدیث کا مفہوم ہے جنت میں گناہوں کی سزا کے بعد ایسا مسلمان بھی جائے گا جو فاسق ہو اور اس نے سوائے کلمہ کے کچھ نہ پڑھا ہو ۔
اسلام کا مطالعہ کریں انشاء اللہ پھر لوگوں کو اسلام سے نکالنے سے زیادہ لانے پر آپ کا زور ہو گا ۔

ہم سب کو چاہیے  اسلام کو ہر پہلو سے سمجھیں  ، پھر آپ کو اللہ سے محبت اور اس کے رسولﷺ  سے پیار بھی ہو گا ورنہ ہمارے پاس بھٹکنے کے سوا کوئی چارہ نہیں

افراز اخترایڈوکیٹ
افراز اخترایڈوکیٹ
وکیل ، کالم نگار ، سوشل ایکٹویسٹ، گلوبل پیس ایمبیسڈر ،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *