وبا کے دنوں میں ڈائری ” کا اقتباس۔۔رمشا تبسم

شہر میں جب ہر سُو وبا پھیلی ہے۔ہر کوئی موت کی آغوش میں نہ ہوتے ہوئے بھی موت کے بُت کو پاش پاش کرنا چاہتا ہے۔سورج کی کرنیں بھی اب وبا کے خوف سے زمین کو چھونے سے ڈر رہی ہیں۔چاند کی چاندنی ہر رات وبا کے خوف سے کسی بدلی کی اوٹ میں چھپی رہتی ہیں۔ ہوائیں بھی ٹھکانہ بدلنے کو پَر تول رہی ہیں۔شہر میں موجود آوازیں اب خاموش ہوتی جا رہی ہیں۔گلیوں میں کھیلتے بچے گُم سُم ہیں۔سناٹے خوشیوں کو نگل کر ہر سُو وبا کے سنگ پھیل رہے ہیں۔ہر کوئی اپنی ہی آہٹ سے گھبرا کر رستہ بدل رہا ہے۔ہر لمس زہر زدہ محسوس ہو رہا ہے۔ماں کی آغوش اور محبوب کا پہلو بھی وبا زدہ سی ہے۔کھڑکی پر بیٹھی باہر کی خاموشی سے بوجھل ہوتی وہ خود سے مخاطب تھی۔۔
“بھلا ماں کی آغوش اور محبوب کا پہلو بھی وبا زدہ ہوتا ہے ؟” انجانی سی آواز تھی جس پر وہ متوجہ ہوئی۔
“ہاں ہوتی ہے ۔وبا کے دنوں میں ہر چیز وبا زدہ ہوتی ہے۔جانتے ہو قدرت بھی وبا زدہ محسوس ہوتی ہے؟” وہ پُرسکون تھی۔
“خدارا؟ کیسی باتیں ہیں یہ ،اب قدرت بھی بھلا وبا زدہ ہوتی ہے؟حیرت ہر سو پھیل رہی تھی
“گر میری بات پر یقین نہیں تو مجھ سے مخاطب کیوں ہو؟ غصے سے جواب دے کر وہ واپس کھڑکی سے باہر پھیلی وبا سے ٹھہرئی ہوئی فضا کو دیکھ کر اداس ہو رہی تھی۔
“معذرت۔۔معذرت ۔بتاؤ تو ذرا میری پیاری قدرت کے وبا زدہ ہونے سے کیا مراد ہے؟”تجسس کے بادل چھا رہے تھے۔
“قدرت کیا ہے؟دیکھی ہے کبھی؟نہیں نا۔
محسوس کی ہے ؟وہ پُرجوش تھی، پھر بولی
“ظاہر ہے کی ہو گی۔کبھی پھول میں,کبھی خوشبو میں,کبھی دریا کے بہتے پانی میں,کبھی ساغر میں تیرتی مچھلیوں میں,کبھی کوئل کی سریلی کوک میں,کبھی بہاروں کی رنگینی میں,ہرنی کی کالی آنکھوں میں,اور تو اور محبوب کی زلفوں کی ملائمت میں,محبوب کے لمس کی خوشبو میں” اس کا قہقہہ بلند ہوا
“دوسری طرف بیزاری عروج پر تھی
“تو بولو وبا کے دنوں میں ان سب میں قدرت ہوتے ہوئے بھی چھونے کی جسارت کر سکتے ہو؟پھول کو خوشبو کی خاطر ناک سے لگا سکتے ہو؟ کوئل کی کوک سننے کو وبا کے دنوں میں گھروں کے پردے ہٹا کر سننے کی کوشش کر سکتے ہو؟ساغر میں مچھلیوں کے رقص دیکھنے کو اتر سکتے ہو؟بہاروں کی شوق اور چنچل رنگینیاں دیکھنے کو باغوں میں قیام کر سکتے ہو؟۔بلکہ چھوڑو۔ ۔یہ بتاؤ محبوب کے لمس کی حسرت,محبوب کے زلفوں کے سائے تک رسائی ہوتے ہوئے بھی چھونے کی جسارت کر سکتے ہو ۔نہیں نا تو ہوئی ناں  قدرت بھی وبا زدہ۔؟
“مکمل حاموشی”ماحول میں پھیلا وبا سے سناٹا ،اسکے خود کے وجود میں اتر رہا تھا۔

“سنو پیاری! ایسے میں تمہیں موت سے ڈر لگتا ہے؟”آواز میں اداسی چھا رہی تھی۔
“نہیں۔بالکل نہیں” وہ مسکرا کر دھیمے سے گویا ہوئی
“اس لئے نہیں کہ موت بہت معمولی چیز ہے۔بیشک موت ایک تلخ حقیقت ہے۔جسکی آغوش میں ہم جانا ہی نہیں چاہتے۔مگر نہ جانے کیوں موت سے اب ڈر ہی نہیں لگتا”
“کس چیز سے ڈر لگتا ہے پھر ۔؟”حیرت زدہ آواز گونجی
“وحشت سے ڈر لگتا ہے۔”
“وحشت کیا ہے؟”بھنویں سکیڑتے ہوئے کوئی آواز پوچھ رہی تھی
“آئسولیشن وحشت ہے۔تنہا ہو جانا وحشت ہے
تنہائی وحشت ہے۔وبا کو اپنے وجود میں اتار کر دنیا سے ترکِ تعلق ہونا وحشت ہے۔اور ہاں رات بھی وحشت ہے۔”پہلی بار وہ لرزتے جسم سے بول رہی تھ۔کھڑکی کے باہر ہر چیز ساکت تھی۔
“اس لئے نہیں کہ میں بزدل ہوں”۔ اس نے پردے کھڑکی کے آگے کرتے ہوئے کمرے کی تاریکی کو خود میں اتارنا شروع کر دیا
” بلکہ اس لئے کہ  آئسولیشن تنہائی ہے۔ تنہائی تاریکی ہے۔اور تاریکی وحشت ہے۔اور وحشت مجھے ہمیشہ خوفزدہ کرتی ہے۔ ”
وہ تنہا کبھی رہی نہیں۔کبھی  سکول جاتے وقت امی بس اتنا کہتیں  ،چابی ماموں کے  گھر ہو گی، میں گھر نہیں ہونگی تو ، ماموں کے  گھر چابی لینے جاتے تو چابی کے ساتھ نانا ابو بھی اسکے ساتھ ہی تشریف لے آتے۔پھر جب تک امی نہ آتی وہ اسکے ساتھ موجود رہتے۔وقت گزرتا گیا اور کبھی ایسا ہوتا کہ بس اس نے گھر میں اکیلا ہونا ہوتا تو نانا ابو اپنی مکمل ڈیوٹی دیتے۔ نانا ابو کو آنے میں اگر ذرا سی دیر ہو جاتی تو وہ سہم کر صحن میں سیڑھیوں پر بیٹھ جاتی اس لئے کہ شاید آسمان کے نیچے وہ تنہائی محسوس نہیں کرتی تھی۔آسمان پر موحود نیلا رنگ اور اس نیلے رنگ کی روشنی اسکو تنہائی کے خوف سے نکال دیتی تھی ۔اسے تنہا رہنے سے عجیب سی وحشت ہوتی تھی۔۔پھر اگر رات کو گھر میں سب موجود ہوتے مگر پھر بھی ہمیشہ ایک عجیب سا ڈر اسکے دل میں موجود رہتا۔آسما ں کا نیلا رنگ سیاہ ہوتے ہی روشنی بھی سیاہ ہو جاتی۔جیسے اب ہر سُو وبا کی سیاہی پھیل رہی ہے۔ اور وہ ڈر صرف ایک شخص کے آتے ہی ختم ہو جاتا اور وہ تھے اسکے بابا جانی۔ یوں جیسے واقعی ہی اسے احساس ہوتا کہ اب دنیا جہاں کی آفت بھی آ گئی  تو اس کو تو کم سے کم کچھ نہیں ہو گا کیونکہ اسکے بابا جانی سب سے پہلے اسے ہی بچائیں گے۔یہ آخری جملہ ہوتا جو ہر رات سونے سے پہلے اسکے ذہن میں گھوم رہا ہوتا اور وہ پرسکون ہو کر نیند کی وادی میں گم ہو جاتی۔پھر رات کی سیاہی اور تنہائی خوف پیدا نہیں کرتی تھی۔ نیند بھی ایک طرح کی آئسولیشن ہے آپ ہوتے ہو آپ کے خواب ہوتے ہیں اور بس خاموشی۔۔

سات سال کی عمر میں اسکے دادا جان کی موت ہوئی تو یہ پہلی موت تھی جو اس نے کسی اپنے کی دیکھی۔پہلی بار اسے احساس ہوا کہ موت واقعی کتابوں میں الفاظ میں موجود نہیں ہوتی بلکہ حقیقت ۔رات گہری ہو رہی تھی۔سناٹے چھا رہے تھے جنازے کے آس پاس سب موجود تھے۔رو رہے تھے۔چیخ رہے تھے۔مگر وہ بچی تھی خاموش ہوتی تو پہلی نظر آسمان پر پڑتی۔اور آسمان پر چھایا اندھیرا وحشت لئے اس بچی کو مزید وحشت ذدہ کر رہا تھا۔وہ گھر کا دروازہ کھول کر باہر نکل کر سامنے جاتی اور سامنے بیٹھے اپنے بابا جانی سے بار بار پوچھتی صبح کب ہو گی؟اسکو نیلا رنگ دیکھنا تھا۔وہ رنگ حو روشنی کی علامت تھا۔اور وہی رنگ اب سب کی نظروں سے چھپتا جا رہا ہے۔ہر کوئی گھر میں وبا سے خوفزدہ ہو کر نیلے رنگ سے منہ موڑ کر چھپ گیا ہے۔

اس کے بابا جانی اس کے منہ پر پیار سے ہاتھ پھیرتے اور کہتے بس صبح ہونے ہی لگی ہے۔تقریباً سو سے ذیادہ بار اس رات اُس بچی نے صبح کا پوچھا تھا۔وہ اِس بات سے بے خبر تھی کے جس شخص سے صبح کے اجالے کا پوچھ رہی تھی اسکی تو زندگی میں مکمل اندھیرا ہو چکا مگر وہ شخص پھر بھی بچی کے روشنی کے سوال پر ہمت سے جواب دیتا ہوا آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا اور ہاتھ ملتا جا رہا تھا۔
شاید جب سب کچھ ہاتھ سے نکل جائے۔کسی چیز پر اختیار نہ رہے تو انسان بے بسی میں صرف ہاتھ ملتا ہے۔۔کہ شاید ایسے ہاتھوں کو ملنے سے گزرا ہوا وقت ہاتھوں کی لکیروں میں واپس سما جائے۔اور ناکامی کی صورت میں انسان آسمان کی طرف نظریں گاڑھ لیتا ہے۔کہ شائد وہاں کوئی امید کی کرن پھوٹ جائے۔کوئی پردہ ہٹ جائے اور پردہ ہٹتے ہی ہر سُو پہلے سا سب کچھ ہو جائے۔مگر موت کی وبا جب کسی کو اپنی گرفت میں جکڑ لے تو وہ شخص قبر میں آئسولیٹڈ ہو جاتا ہے۔اور پیچھے رہ جانے والے دنیا میں مکمل ہجوم کے درمیان ہی آئسولیشن اختیار کئے ساری عمر گزار دیتے ہیں۔
“قبر بھی آئسولیشن ہے؟”آواز میں خوف لرز رہا تھا
“ہاں۔قبر بھی آئسولیشن ہے۔قبر تنہائی ہے تاریک ہے۔اور کہا نا میں نے تم سے پہلے بھی کہ تنہائی وحشت ہے “آواز میں یقینی کی لہر بے یقینی کی سماعتوں کو چیر رہی تھی

وہ آسمان پر روشنی کی ایک لکیر دیکھنے کو بے چین تھی۔رات کی وحشت اسے سہما رہی تھی۔ارد گرد بند گھر,بند دوکانیں,گھروں میں سوئے بچے,خالی سڑکیں ویران گلیاں ,آسمان کی تاریکی, گھر کے اندر پھیلتی عجیب سی خاموشی۔وہ خاموشی جو بہت آنسو بہانے کے بعد آنسووں کے خشک ہونے پر چھا جاتی ہے۔مکمل ہُو کا عالم۔جیسے کسی کے سانس لینے کی بھی آواز نہ آ رہی ہو۔صرف کچھ موجود تھا تو گھڑی کی ٹِک ٹِک۔ گھڑی کے گھوڑے مسلسل دوڑ رہے تھے۔وقت کی رفتار غم کی خاموشی کو توڑ رہی تھی۔مگر وقت پھر بھی تھم چکا تھا۔ گھڑیاں مسلسل وقت کو گزارنے کی تگ و دو میں مصروف تھیں۔مگر وقت تو کہیں دور ڈرا اور سہما بیٹھ گیا تھا۔۔آسمان کی تاریکی قائم تھی۔وحشت قائم تھی۔کوئی ہم عمر موجود نہیں تھا۔ وہ مزید سمٹ کر بیٹھ گئی ۔۔ بڑے بزرگ سب رو رو کر خاموش ہو چکے تھے۔سب بُت بن چکے تھے۔خاموش بُت کے جیسے تنہائی بھی اب بُت بن رہی تھی۔
“تنہائی کے بُت ہوتے ہیں؟”

وہ یہ جانتی نہیں تھی مگر اس رات وہ تھی اور اسکے پاس ایک بُت تھا اسکی تنہائی کا بُت۔وہ باتیں کر رہی تھی۔تنہائی خاموش تھی۔وہ چیخ رہی تھی۔تنہائی پھر بھی اسکو تھام نہیں رہی تھی۔وہ خوفزدہ تھی مگر تنہائی اسکو بانہوں میں نہیں لے رہی تھی وہ سمٹ کر بیٹھ رہی تھی اور تنہائی اسکا ہاتھ تھام کر دلاسہ نہیں دے رہی تھی۔تنہائی کا بُت واقعی ہی بُت تھا۔جس میں کوئی حرکت نہیں تھی۔
اور وہ سب کے ہوتے ہوئے بھی اپنی تنہائ کے بُت کے ساتھ تنہا تھی۔جیسے وہ کسی بند کمرے میں قید ہو تنہا ہو اور ڈر رہی ہو۔مگر وہ تو سب کے درمیان موجود تھی ایک ایسی تنہائی کے ساتھ جیسے وہ ایک خلاء میں ہوں۔ایسی خلاء کہ قدموں تلے بھی تاریکی ہے اور آسمان۔۔۔ آسمان پر روشنی کی لکیر موجود نہیں تھی۔
“روشنی کی لکیر بھی ہوتی ہے؟”
ہاں ہوتی ہے۔روشنی کی لکیر بالکل مدھم سی۔جو نا امیدی کی لکیر کو چیر کر باہر آتی ہے۔وہ تھک کر زمین پر نا امید ہو کر بیٹھ گئی اور منہ آسمان کی طرف اٹھا لیا اس امید سے کہ اب بس روشنی نہیں نکلنے والی اب شاید ہمیشہ تاریکی رہے گی۔اب شائد ہمیشہ ہی اندھیرے کی وحشت رہے گی۔اب نیلا روشن آسمان ہمیشہ ہی نظروں سے اوجھل رہے گا۔وبا نے بھی تو اب سب کچھ نظروں سے اوجھل کر دیا ہے۔کوئی اپنے وبا ذدہ کو دیکھ نہیں سکتا۔سُن نہیں سکتا۔آخری دیدار نہیں کر سکتا۔آخری بار چھو کر بوسہ نہیں دے سکتا۔اسکو دلاسہ نہیں دے سکتا۔۔
بالکل اسی طرح اب شاید سب کے ہوتے ہوئے بھی سب تنہا رہیں گے۔آئسولیٹڈ رہیں گے۔اب کچھ تھا تو وہ اور تنہائی کا بُت جس کو نہ وہ تھام رہی تھی اور نہ وہ اسے تھام رہا تھا۔۔مگر یک دم اس نے دیکھی۔ وہ لکیر آسمان پر جس نے رات کی وحشت کو چیر کر اپنا راستہ بنایا اور آسمان پر پھیلنے لگی۔ایسے پھیلی کے تنہائی کا بُت پاش پاش ہو گیا۔دھواں بن آسمان کی طرف اڑتا شروع ہو گیا۔نیلا رنگ ٹھنڈک لئے آسمان پر پھیلنا شروع ہوا ۔اسکا دل سکون میں آنا شروع ہو گیا۔گھروں کے دروازے کھلنا شروع ہو گئے۔سڑک آباد ہونے لگی۔دکانیں کھل گئی ۔گلیوں میں چہل پہل ہو گئی۔ مگر وہ وہیں بیٹھی رہی۔ساری رات جس روشنی کا انتظار کیا اسکے آتے ہی وہ بھول بیٹھی کے انتظار کس بات کا تھا؟
اسے تنہائی کے بُت سے ڈر تھا تو اب اجالے میں کسی نئے بُت کو تراش کر پھر سے خاموش تھی؟
کیا ہم ہر لمحے کسی نہ کسی بُت کو تراش لیتے ہیں؟
ہاں شاید تراش لیتے ہیں۔کبھی خوشی کا بُت کبھی غم کا۔کبھی اداسی کا،کبھی تنہائی کا،کبھی محبت کا،کبھی نفرت کا،کبھی الجھن کا،کبھی وحشت کا،کبھی۔۔۔کبھی شاید اپنا بھی؟
“کوئی اپنا بھی بُت تراشتا ہے؟”

ہاں تراشتا ہے۔جب ہر بُت ہوا ہو جائے تو کچھ باقی نہیں رہتا صرف کچھ رہتا ہے تو اپنا وجود اور اپنے اس وجود کو سہارا دینے کو ہم اپنا ایک بُت تراش لیتے ہیں۔اس کو سنوارتے ہیں۔سجاتے ہیں۔باتیں کرتے ہیں۔ہنستے کھیلتے ہیں۔مگر وہ تنہائی کے بُت کے پاش پاش ہوتے ہی اپنا بُت تراشنے سے قاصر تھی۔وہ اسکو سنوارنے سے قاصر تھی۔وہ روشنی کی لکیر دیکھ کر کچھ بھی تراشنا بھول گئی  تھی۔

رات کی تنہائی کی وحشت کے بادل چھٹ گئے تو گھر کے اندر سے روتی آوازوں کی وحشت نے اسے گھیر لیا۔گھڑی کی ٹک ٹک ختم ہو گئی ۔شاید وقت اپنی منزل پر پہنچ چکا تھا۔اسی لئے اب وقت بھی خاموش تھا۔گھڑی کے گھوڑے رات کی تنہائی کو اڑا لے گئے اور دن کی رونق کو بھی روند چکے تھے۔اب روشنی میں بھی وحشت تھی۔.روشنی میں بھی تنہائی ہی تھی۔ اب پھر وہ روشنی سے تنہائی کا بت تراش رہی تھی ۔اور تراشتے ہوئے اسکے ہاتھوں کو روشنی کی لکیریں زخمی کر رہی تھی۔اور وہ زمین پر اوندھے منہ پڑی تھی۔ہر چیز سے بے خبر ۔شائد اب وہ خوابوں میں کسی بُت کو تراشنے والی تھی
“خوابوں میں بھی بت ہوتے ہیں؟”

ہاں۔اور یہی بت تنہائی میں ہر ایک کو تراشنے ہوتے ہیں۔آئسولیشن میں ہر کوئی, کوئی نہ کوئی بت تراشتا ہے اور وہ خوابوں کی تنہائی میں اب سب کے بت تراش کر ان کو بانہوں میں بھرنے والی تھی۔
“سنو پیاری! وبا کے دنوں میں تنہا رہتے ہوئے تم بھی کوئی بُت تراشنے والی ہو؟تم بھی کسی سے بات کرنے کو کوئی وجود اپنے جیسا تراشنے والی ہو؟”

“تراشنے والی مطلب؟ہو نا تم احمق۔میں تو تراش چکی۔میں تو اس سے کئی باتیں کر چکی ہوں. ” زور دار قہقہہ بلند ہوا اور وبا کے بادل کچھ لمحے کی لئے حیرت زدہ تھے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 3 تبصرے برائے تحریر ”وبا کے دنوں میں ڈائری ” کا اقتباس۔۔رمشا تبسم

  1. بسم اللہ الرحمن الرحیم
    السلام علیکم !
    رمشا جی !آپ کی تحریر کے ایک ایک لفظ سے وحشت ٹپک رہی ہے ۔۔۔ وبا کی وحشت ۔۔۔۔۔۔ . وبا کے ب نے وفا کے ف کو شکست سے دوچار کر دیا ہے یہی وجہ ہے کہ آخری سانس تک ساتھ نبھانے کا وعدہ کرنے والوں نے ہاتھ چھڑانے کاارادہ کر لیا ہے۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔وبا کی وحشت ودہشت نے آئسولیشن پر مجبور کر دیا ہے ۔۔۔۔۔۔ آپ نے رمشا جی سچ کہا کہ قدرت بھی وبا زدہ ہو چکی ہے ۔۔۔۔ ہوا کے جھونکے جو محبت کی تھپکیاں دیتے محسوس ہوتے تھے۔۔۔ اب وبا کاخوف ان سے بچنےکی تدابیر سوچتا ہے اللہ ارحم الراحمین ہم سب کو مغفرت عطا کرے اور حفظ واماں میں رکھے آمین۔۔۔۔

      1. شکریہ ۔۔۔۔۔ الفاظ کی تعریف کا ۔۔۔۔ بس دل کی آواز اور الفاظ کےساتھ پر ہی قلم اُُُٹھا لیتے ہیں ۔۔۔۔۔ ایک بار پھر شکریہ حوصلہ افزائی کا

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *