محمد وقاص رشید کی تحاریر

پہلی اُجرت۔۔محمد وقاص رشید

فیض جانی نے کہا آج تو پہلی بار اپنی ساری شاپنگ میں خود کروں گا ۔میں نے کہا ٹھیک ہے بچے جو جو آپ کہیں گے میں لے دونگا۔ مارے خوشی کے گاڑی کی فرنٹ سیٹ سے اس نے اچھل←  مزید پڑھیے

پروفیسر ہود بھائی اور حجاب۔۔محمد وقاص رشید

ایک ہی گھر میں ایک ہی والدین کی اولاد ہوتے ہوئے بھی بہن بھائیوں کی سوچ آپس میں ایک جیسی نہ ہونا ایک عمومی مشاہدہ ہے ، یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں  لیکن وہ ایک خاندان بن کر والدین←  مزید پڑھیے

رہے نام خدا کا۔۔محمد وقاص رشید

گاڑی کے اندر ایک سوگوار سی فضا تھی،کُل چار افراد تھے،پچھلی سیٹ پر ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی، اسکی بیٹی اسکی جھولی میں سر رکھے لیٹی ہوئی تھی،اگلی سیٹ پر اس عورت کا بیٹا تھا  اور اسکا خاوند گاڑی چلا←  مزید پڑھیے

زیاں (روح و دل کو پاش پاش کرتی داستان )تیسرا،آخری حصّہ۔۔محمد وقاص رشید

اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ میرے والد اور دیگر شرکاء کے جاتے ہی قاری اظہر اور اسکے ساتھی نے مجھے بلایا اور کہا کہ کس کی اجازت سے تو وہاں بڑھ بڑھ کر یہودو نصری کی زبان←  مزید پڑھیے

زیاں (روح و دل کو پاش پاش کرتی داستان )دوسرا حصّہ۔۔محمد وقاص رشید

وہ پہلی رات وہاں میرے لیے شدید کربناک تھی  پہلے تو ماں بہت یاد آرہی تھی سوچ رہا تھا کاش ابو نے میرے دوست اسامہ کے ابو کی طرح داڑھی نہ رکھی ہوتی اور اتنے کٹر مذہبی نہ ہوتے تو←  مزید پڑھیے

زیاں (روح و دل کو پاش پاش کرتی ایک داستان) پہلا حصّہ۔۔محمد وقاص رشید

میں جب سرگودھا پڑھتا تھا تو ہمارے محلے میں ایک بچہ رہتا تھا اس کا نام حاشر اور عمر دس سال تھی، پانچویں جماعت کا طالبعلم تھا۔ یوں سمجھیے کہ خدا نے اپنی پیدا کردہ تمام انسانی عظمت کے خصائل←  مزید پڑھیے

رزق۔۔محمد وقاص رشید

بارات تیار تھی زرق برق لباس پہنے مرد و زن چمچماتی گاڑیوں میں بیٹھنے کو تیار تھے،رئیس کہنے لگااوہو میں کتوں کو کھانا دینا بھول گیا۔۔اس نے فریج سے انکا  امپورٹڈ کھانا اور پکا ہوا گوشت نکالااور چھت پر چلا←  مزید پڑھیے

” وصال ” عاشق” علی سدپارہ” اور دیوی “K2″کا آخری مکالمہ  

دیوی۔۔۔ خوش آمدید میرے عاشق مرحبا تہنیت و احترام عاشق۔۔۔ تیری رفعتوں کی خیر۔۔ تیری بلندیوں کو سلام دیوی۔۔۔ میں حسن کی ملکہ، میری فطرت میں زیر ہونا نہیں عاشق۔۔۔میرا عشق تیری قامت کا دیوانہ مجھے نشیبوں سے سیر ہونا←  مزید پڑھیے

رحمتوں کا تہرا قتل۔۔محمد وقاص رشید

وہ ہماری فیکٹری میں ایک ملازم تھا۔ کبھی کبھار اس سے آمنا سامنا ہوتا تو ایک کرختگی سی اس کے چہرے سے عیاں ہوتی جس پر اسکے اس روئے زمین پر بچی کھچی انسانیت کو زندہ درگور کرتی بہیمانہ بربریت←  مزید پڑھیے

ماں کے پیٹ سے ایک خواجہ سرا رُوح کی فریاد۔۔محمد وقاص رشید

اے میرے خدایا اے میرے کبریا میرے خالق میرے ساتھ یہ کیا کِیا دیکھ مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں کیوں اب تک یہ بھی مرا مقسوم نہیں کہ تجھے میں نے تیرا بندہ بن کر مخاطب کرنا ہے یا←  مزید پڑھیے

شعور (ڈرامہ)۔۔محمد وقاص رشید

کردار 1۔  لبرل قبیلہ 2۔  مذہبی قبیلہ 3 ۔بابا شعور 4۔ سردار نظام 5 ۔ جگنو اور تتلیاں 6۔خنزیز پہلا سین۔ ایک گاؤں ہے۔۔گاؤں کا نام ریاست پور ہے۔  اس میں لہلہاتے کھیت ہیں ، پھلوں سے لدے باغات ہیں۔ ←  مزید پڑھیے

اشرف المخلوقات۔۔محمد وقاص رشید

وہ سڑک پر کانپتی ہوئی ٹانگوں کے سنگ ننگے پاؤں چل رہی تھی۔ پیسے بچانے کے لیے اسے پیدل چلنا تھا۔۔۔اگر کسی سواری پر سوار ہوتی تو اسں پر پیٹرول مہنگا ہونے کی وجہ سے زائد کرایہ وصول کیا جاتا۔۔اور←  مزید پڑھیے

سب سے بڑی عریانی ، فحاشی ، بے حیائی اور بے پردگی۔۔محمد وقاص رشید

سانحہ مینارِ پاکستان کے ہنگام ہر دفعہ کی طرح ملک میں لبرل اور مذہبی کی ایک ہیجان خیز بحث جاری ہے۔ ریاست اس بحث سے بہت لطف اندوز ہوتی ہے  کیونکہ اس کا سب سے زیادہ فائدہ اسی کو ہوتا←  مزید پڑھیے

سوکھی روزی ۔۔محمد وقاص رشید

اتوار کا دن تھا, میں چھٹی پر تھا۔۔ خدا نہیں! بازار گیا۔۔۔ تو ایک مبہوت کن منظر سے پالا پڑا۔  یہ مناظر میرا پیچھا کرتے ہیں, ان کو شاید پتا چل گیا کہ میں نابینا ہوں۔ ستو والے بابا جی←  مزید پڑھیے

سانحہ مینارِ پاکستان(2،آخری حصّہ)۔۔محمد وقاص رشید

سانحہءِ مینارِ پاکستان نے اس سماجی ناسور کی نشاندہی کی ہے ،یہ کہنا کہ پاکستان میں عورت کی ہراسانی سے متعلق کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں اور آدم کے بیٹے نے حوا کی بیٹی کے لیے اس سرزمین کو جنت←  مزید پڑھیے

سانحہ مینارِ پاکستان(1)۔۔محمد وقاص رشید

خدا خالقِ کائنات ہے۔ اس نے آسمان پر جنت بنائی پھر اپنا نائب اشرف المخلوقات انسان تخلیق کیا اور جنت کو جنابِ آدم کی رہائش قرار دے دیا۔ ایک حکم عدولی کی وجہ سے آدم کو جنت سے زمین پر←  مزید پڑھیے

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عورت (خلیل الرحمن قمر صاحب کے نام)۔۔محمد وقاص رشید

خلیل الرحمن قمر صاحب آپ درست کہتے ہیں ان کی سوچ ٹھیک نہیں جو کچھ یہ لوگ لکھتے پڑھتے بولتے ہیں وہ حقیقت کے نزدیک نہیں یہ لبرل فیمنسٹ آزاد خیال لوگ یہ سچے پاکستانی بھی نہیں انکے اندر آپ←  مزید پڑھیے

آزادی کی سحر۔۔محمد وقاص رشید

(ہراسانی کے اندوہناک واقعہ میں رکشے میں دونوں خواتین کے درمیان میں بیٹھی بچی کے منظوم تاثرات ) ماں ۔۔ ماں کون ہیں یہ ؟ کون ہیں یہ اور کیا چاہتے ہیں ہم نے انکا کیا بگاڑا ہے یہ کیوں←  مزید پڑھیے

عورت ہونے کا گناہ۔۔محمد وقاص رشید

پہلا سانحہ  مخبر۔۔۔ پاکستانی قوم کی ایک بیٹی سے زیادتی ہوئی ہے۔۔ ملائیت۔۔۔ جینز شرٹ میں ملبوس تھی ؟ مخبر۔۔۔ جی ہاں ملائیت۔۔۔ شلوار قمیض پہنتی ناں،اسی کا قصور ہے!  دوسرا سانحہ  مخبر۔۔۔ملت کی ایک اور بیٹی سے درندگی کا←  مزید پڑھیے

افغانستان! ماضی کے آئینے میں۔۔محمد وقاص رشید

فرد ہو گھرانہ ،ادارہ یا پھر ایک قوم حال کا سفر ،ماضی کے تجربات کی روشنی میں مستقبل کے راستے پر جاری رہتا ہے ۔ یہی انسانی ارتقاء کی سادہ ترین تعریف ہے۔ غورطلب بات یہ ہے کہ تجربات ہمیشہ←  مزید پڑھیے