بدصورت۔۔۔بشریٰ نواز

رشید کی پیدائش پہ اماں، جان کی بازی ہار گئی تو گھر پر جیسے قیامت ٹوٹ پڑی. رشید کی نانی اور دادی    آپس میں بہنیں تھیں. رشید سے بڑا حمید اور پھر مجید ۔۔تین بچوں کو سنبھالنا معمو لی بات نہیں تھی، لیکن پھر بھی تینوں بھائی ،نانی دادی کے شفیق سائے تلے پرورش پانے لگے. ابا معمولی سا ٹھیکدار تھا تاہم آسانی سے گزر  بسر ہورہی تھی۔

رشید چند ماہ کا تھا کہ  اس کو چیچک نے آن دبوچا. مناسب دیکھ بھال نہ  ہونے کی وجہ سے معصوم رشید کی صورت بگڑ کے رہ گئی ، کچھ کسر گہرے رنگ نے پوری کر دی ،بچے جوان اور نانی دادی بہت ضعیف ہو گئیں۔ ایک دن نانی نے بھی ساتھ چھوڑ دیا ،گزرتے وقت نے ٹھیکیدار کے بیٹے تو جوان کر دیے لیکن اس کی زندگی نے وفا نہ  کی، ایک رات ایسا سویا کہ پھر اسے کوئی جگا نہ سکا۔

دادی کو لگا کہ اب لڑکوں کا گھر بسا دینا چاہیے، اس وقت تک  گھر میں دو بہویں آ گئی تھیں ۔۔ دادی کو  اب دن رات رشید کی فکر ستا رہی تھی۔ جس کی بد صورتی کی وجہ سے  کوئی اسے رشتہ دینے کو تیارنہ  تھا ،بھابیوں نے بھی اپنے طور کافی کوشش کی۔ لیکن کہیں بھی بات نہ بن سکی، اِسی فکر میں دادی بھی پریشان رہتیں  اور رات دن رشید کا گھر آباد ہونے کی دعائیں مانگتیں۔ بھائیوں کی بھی کوشش تھی وہ بھی سوچتے کہ لوگ نہ کہیں  کہ بھائی کا گھر نہیں بسا رہے۔

بیوی کی زندگی میں ہی ٹھیکیدار نے دس دس مرلے کے تین پلاٹ لے رکھے تھے ا،یک پلاٹ کو مکمل  کر کے وہ خود رہ رہے تھے باقی دو ابھی  خالی تھے۔
کافی بھاگ دوڑ کا نتیجہ  یہ نکلا کہ  لڑکی والے مالی امداد کے عوض رشتہ دینے کو تیار ہو گئے، حمید اور مجید نے غنیمت جانا اور ایک ہفتے کے اندر اندر  صفیہ رشید کی دلہن بن گئی، دلہن کے گھر میں آنے سے جیسے سارا گھر چاندنی میں نہا گیا، ہر کوئی حیران ہو رہا تھا اتنی خوبصورت دلہن، رشید کی  قسمت پہ اہل محلہ اور رشتےدار حیران ہوئے جا رہے تھے، گلابی  رنگت اور بُھوری  آنکھوں والی جیسے کوئی پری اُتر آئی تھی زمین پر۔

جب رشید نے گھونگٹ الٹایا توجیسے اٹیک آتے آتے بچا.  رضیہ نےجب ایک نظر  رشید کو دیکھا تو بہت بددل ہوئی اور  درشتی سے  بولی۔ مجھے ہاتھ  مت  لگانا۔۔ مجھے واپس چھوڑ کے آؤ ،میں تمہارے پاس نہیں رہ سکتی۔ اور رونے لگ گئی، وہ بھی سمجھ گیا اسے میری صورت پسند نہیں آئی۔۔

رشید شریف آدمی تھا خاموشی سے تکیہ پکڑا اور پاس پڑے صوفے پہ  جاکر لیٹ گیا۔۔اس شرط پر کہ رشید رضیہ کے قریب نہیں آئے گا،رضیہ نے اپنے گھر جانے کا مطالبہ واپس لے لیا۔رشید کی ہر کوشش ہوتی  کہ رضیہ  کو خوش رکھے. اس بات کا پورا خیال رکھتا کہ رضیہ کو کسی بھی چیز کی کمی نہ ہو. جلدی ہی تینوں بھائیوں کے الگ الگ گھر بن گئے، رشید نے  بھی اپنا گھر خوب سجا لیا۔
حمید اور مجید کے  بچے دیکھ کر دادی  کے دل میں  ہوک اٹھتی. اللہ‎ میرے رشید کو بھی اولاد دیدے. بھا بیا ں بھی نظروں سے ٹٹولتیں۔۔ وقت گزرتا رہا ،رشید اپنے وعدے پہ قائم تھا۔

ایک دن رشید کام سے جلدی آ گیا ،اسے بہت بخار تھا ،دوا کے باوجود بخار کم نہیں ہو ر ہاتھا ۔ اگلے روز بھی وہ نڈھال تھا۔۔ رشید کی بھا بیا ں دوبارہ اس کا پتہ کرنے  آئی ہوئی تھیں۔ رضیہ چائے  بنانے با ورچی  خانے میں آئی  تو اس کے کانوں میں  بڑی بھابی کی آواز پڑی۔۔جو کہہ رہی تھیں   کہ   دیکھو ننھی، یہ بہت بیمار ہے اور اولاد بھی  نہیں۔ اس کے بعد یہ مکان میرا ہے، میں ابھی سے بتا رہی ہوں۔ یہ سنتے ہی ننھی  بولی ۔۔۔ کیوں بھابی!تم کیوں لو گی، یہ میرا ہو گا، میں نے تو بہت پہلے سے سوچا ہوا ہے، اولاد ہوتی تو کوئی بات بھی تھی، رشید کے بعد رضیہ یہاں  کسی کونے میں  پڑی رہے گی۔

دونوں بھابیوں کی باتیں سُن کر رضیہ کو شدید صدمہ ہوا، کیونکہ  اس  سب کی  ذمہ دار وہ خود ہی تو تھی، وہ خود سے بہت شرمندہ ہوئی، اسی لمحے اس کے دل نے ایک فیصلہ سنا دیا۔۔ شام کو رشید کی طبیعت قدرے بہتر تھی۔ رضیہ میں ذرا باہر سے ہو کے آ تا ہوں۔ تم  سو جانا ،رشید دروازے تک گیا ،رضیہ سامنے آ گئی۔۔ آپ ذرا جلدی آ جانا یہ نہ ہو کہ دوستوں میں ہی دس بج جائیں۔ تھوڑی دیر بعد رشید گھر آ گیا۔۔ آج بھی رشید کو اٹیک آتے آتے رہ گیا، رضیہ سجی سنوری رشید کے سامنے تھی۔رشید کے آنگن میں بھی اب پھول کھلنے والے تھے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *