وہ جو تاریک راہوں میں مارے گئے۔۔۔عامر عثمان عادل

تحصیل ہیڈ کوارٹر ہاسپٹل کے وسیع لان پہ شام کے سائے چھا چکے تھے ہر سو سناٹا اور گہرا سکوت طاری تھا ،ڈاکٹر صاحب مردہ خانے سے باہر نکلے کافی دور پیدل چل کر ایمرجنسی میں  اپنے دفتر پہنچے تو ان کے وجود سے اٹھتے  ہوئے  تعفن کے بھبھوکے دماغ ماوف کر دینے والے تھے ،یہ بساند ایک متعفن لاش کے پوسٹ مارٹم کے نتیجے میں ان کے ملبوس میں آن بسی تھی ،ویرانے سے ملنے والی یہ لاش کم از کم چھ سات روز پرانی تھی ،جو بری طرح مسخ ہو چکی تھی ،کیڑوں سے کھایا ہوا تن سوختہ ناقابل شناخت ہو چکا تھا اور اس سے اٹھنے والی بدبو اس قدر شدید تھی جسے برداشت کرنا کسی زندہ انسان کے بس سے باہر تھا۔

اور میں اس لمحے پوسٹ مارٹم پر مامور عملے کے بارے سوچ رہا تھا، کمال کا ضبط اور حوصلہ ہوتا ہے ان کا، آئے روز نجانے کتنے بے جان لاشوں کی چیر پھاڑ بڑے دل گردے کا کام ہے ،لیکن خاص طور پر کسی ایسے تن مُردہ کا پوسٹ مارٹم کرنا جو کئی روز پرانی ہو، جس سے اٹھنے والی سڑاند کتنے ہی فاصلے تک پاس آنے نہ دے اور ایسی حالت جبکہ خون کے رشتے بھی پاس کھڑے ہونے سے گھبرانے لگیں تو پھر آفرین ہے عملے پر جو اس سارے عمل کو اپنا فرض منصبی سمجھ کر نبھاتے ہیں۔
مردہ خانے کے باہر مقتول کا سگا بھائی ، ماموں، بہن اور دیگر اہل خانہ کے ہمراہ پولیس اہلکار کھڑے تھے۔

کیسا دلدوز صبر آزما مرحلہ ہوتا ہے اس سے بڑی قیامت اور کیا ٹوٹتی ہے اس بدنصیب گھرانے پہ جس کے پیارے کو قتل کر دیا جاتا ہے یا اُس کی لاش کسی ویرانے سے  ملتی    ہے اور اس کے تجہیز و تکفین سے پہلے گھنٹوں پوسٹ مارٹم کی اذیت سے دوچار ہوتے رشتہ دار انتظار کی سولی پہ لٹکے ہوتے ہیں۔
بند کمرے میں ان کی آنکھوں کے تارے کا سارا وجود تار تار کیا جاتا ہے اور باہر کھڑے رشتوں کے دل پہ نشتر چل رہے ہوتے ہیں۔

مجھے پولیس والے نے بتایا کہ مقتول کی بیوی کا اصرار تھا کہ اسے اس کے سہاگ کا چہرہ دکھایا جائے ہم نے بہت ٹالا مگر جب اس کی ضد کے آگے کوئی  چارہ نہ رہا اور جونہی اس کے سامنے اس کے سرتاج کا مسخ شدہ چہرہ کیا وہ چکرا کے پیچھے گر پڑی،اور اس سے اگلا لمحہ میرے ہوش کھونے کا تھا، جونہی پولیس والے نے اپنے موبائل فون میں مقتول کی فائل فوٹو میرے سامنے کھولی مجھے یوں لگا دل بند ہو جائے گا کیسا حسن تھا اس نوجوان کا ،کیا شخصیت کا بانکپن تھا، کیسا دلاور تھا، یہ بچیوں کا باپ، کسی کا سہاگ ،بہنوں کا لاڈلا ویر، ماں باپ کے بڑھاپے کی لاٹھی، بھائیوں کا مان، دوستوں کی شان اور آج کس حالت میں یہ ہاسپٹل لایا گیا کہ گوری رنگت اور مردانہ وجاہت کی جھلک والا چہرہ اس قدر خستہ حالی کا شکار تھا جسے دیکھ کر ہی خوف آئے۔
نجانے کب سے یہ ویرانے میں پڑا تھا کس قدر تشدد کیا گیا اس پر ،دمِ آخر اس نے کتنے واسطے دئیے ہوں گے مارنے والوں کو ۔ کتنی آوازیں دی ہوں گی اس نے اپنے پیاروں کو، نجانے کیا گزری ہوگی اس پہ۔۔۔

کیا، کیوں، کیسے، یہ سارے سوال اپنی جگہ ۔۔ہو سکتا ہے اس کا کوئی  قصور بھی ہو۔۔لیکن جب سے اس کی تصویر دیکھی ہے دل سے ہوک اٹھتی ہے کہ یارو دعا کرو کسی ماں کا لال کسی بچے کا باپ، کسی سہاگن کا سہاگ ،کسی بہن کا ویر، اس بری طرح سے ویرانے میں مار کے نہ پھینک دیا جائے کہ پہچان مشکل ہو جائے، دعا کرو ایسی موت خدا کسی دشمن کو بھی نہ دے،ہاں اپنے رب سے یہ دعا بھی ضرور مانگا کرو کہ یا الہی ایسے عبرت والے انجام سے بچا لے ،خاتمہ ایمان پہ ہو ،دمِ مرگ کلمہ نصیب ہو جائے ۔آمین

عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل ،کھاریاں سے سابق ایم پی اے رہ چکے ہیں تین پشتوں سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں لکھنے پڑھنے سے خاص شغف ہے استاد کالم نگار تجزیہ کار اینکر پرسن سوشل ایکٹوسٹ رائٹرز کلب کھاریاں کے صدر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *